ہندوستان

نقیب امن ڈاكٹر ذاكر نائك پر شكیل شمسی كے الزامات کی حقیقت – پہلی قسط

دین اسلام كے عظیم داعی، دھارمك گرنتھوں كے گیانی، تقابل ادیان كے مایہ ناز عالم، كتب سماویہ كے ماہر، عظیم مناظر ومقرر، نقیب امن، سرزمین ہند كے سچے سپوت اور محب وطن ڈاكٹر ذاكر نائك پچھلے كئی دنوں سے ایك بار پھر الیكٹرانك وپرنٹ میڈیا كی سرخیوں میں ہیں۔ آرایس ایس وسنگھ، یہودی وعیسائی لابی، كمیونسٹ وملحدین اور اسلام دشمن عناصر تو شروع سے ہی ان كی مخالفت كررتے ہیں، كچھ بریلوی وشیعہ تنظمیں اور شخصیات بھی موقع بہ موقع ان اعداء اسلام كی ہمنوائی كرتی رہی ہیں، البتہ بنگلہ دیش كے حالیہ دل دہلانے والے دہشت گردانہ كارروائی كے بعد جس طریقہ سے انہیں بدنام كرنے كا ننگا ناچ كیا گیا، وہ نہایت افسوسناك ہے، اس بار تمام حدوں كو پار كرتے ہوئے ان كو بدنام كرنے كےلیے جو كچھ كیا جارہا ہے وہ مارے گھٹںا پھوٹے سر” كے مترادف ہے۔ ایسا لگ رہا ہے كہ پوری میڈیا بك گئی ہے یا سب نے زرد صحافت كو فروغ دینےكی قسم كھالی ہے، انہیں زرد وادی كے شہسواروں میں ایك نام شكیل شمسی صاحب جیسے باشعور صحافی كا بھی ہے،انہوں نے ان كے تئیں اپنے جن خیالات كا اظہار كیا ہے وہ ہر غیرت مند انسان كے قلب وذہن كو جھنجھوڑنے والا ہے، مجھے نہیں معلوم كے جاگرن گروپ كے دباؤ میں انہوں نے ایسا لكھا ہے یا اپنی شیعہ نوازی میں یا مودی حكومت سے داد تحسین حاصل كرنے كے لیے، بہر حال آزاد ہندوستان میں ہر شخص كو اپنی رائے كے اظہار كا پورا حق ہے، لیكن انہیں تردید میں لكھی جانے والی تحریروں كو بھی پڑھنا چاہیے اور اپنی غلطیوں كی اصلاح كرنی چاہیے۔ فیس بك یا ٹوئٹر سے دم دبا كر نہیں بھاگنا چآہیے جیسا كہ اشرف علی بستوی صاحب ذكر كررہے تھے۔ میں نے كوشش كی ہے كہ ان كی طرف سے پیش كیے جانے والے الزامات كا مدلل جواب پیش كروں۔ جناب شمسی نے ویكیپیڈیا كے حوالے سے لكھا ہے كہ وہ ایك خاص طبقہ كے لوگ كی پسند ہے۔ یہ وہ اعتراضات ہے جسے مخالفین نے ان كی دعوت كے دائرہ كو محدود كرنے كے لیے ان پر تھوپ دیا ہے، اس الزام كا وہ خود اپنی تقریروں میں كئی بار رد كرچكے ہیں، وہ خود كو اہل حدیث، وہابی، دیوبندی، بریلوی اور شیعہ كسی مكتب فكر سے نہیں جوڑتے اور نہ ہی اس تفریق كی حمایت كرتے ہیں بلكہ سارے مسلمانوں كو تاجدار مدنی كے لائے ہوئے دین دین اسلام كی دعوت دیتے ہیں، جس پر خلفاء اربعہ اور صحابہ وتابعین گامزن تھے اور جس میں اس طرح كی كوئی تفریق نہیں تھی۔ اور ظاہر ہے وہ غیرمسلموں میں دعوت كا كام زیادہ كرتے ہیں، اگر وہ مسلك كی بھی دعوت دینے لگیں تو اسلام كا كلمہ پڑھانے كے ساتھ حلقہ بگوش اسلام ہونے والے كو انہیں مسلك كا بھی كلمہ پڑھانا ہوگا یا كسی خاص مسلك كا پٹہ اس نومسلم كے گلے میں ڈالنا ہوگا، جو اسلام كی تبلیغ واشاعت كی راہ میں ایك بڑا روڑا ثابت ہوگا۔ ڈاكٹر ذاكر نائك كی مقبولیت كا عالم یہ ہےكہ آج سے ایك سال قبل تك انہیں اسی لاكھ لوگ فیس بك پر لائك كرچكے تھے اور اس وقت تك وہ پوری دنیامیں كسی مذہبی رہنما كو لائك كی گئی تعداد كے معاملہ میں نمبر ایك پر تھے، اب تو یہ تعداد كروڑ تجاوز كرگئی ہے اور سمندر كے سیلاب كی طرح لوگ انہیں لائك كرنے لگے ہیں، پھر بھی اگر شمسی بضد ہیں كہ وہ ایك خاص طبقہ كے لوگوں كی پسند ہیں تو انہیں اپنی عینك بدلنی چاہیے۔ شمسی كا دوسرا اعتراض یہ ہے كہ وہ "اچھا ذہن پانے كے باوجود صالح فكر نہیں پاسكے” كم ازكم شمسی نے یہ تو مانا كہ وہ اچھے ذہن كے حامل انسان ہیں، اور اچھے ذہن والا ہی اچھی فكر كو اپںاتا ہے، ویسے ایك اسلام مخالف David Davies نے بھی ان پر اسی طرح كا الزام لگا كر انہیں برطانیہ كے كیرڈف میں ہونے والی كانفرنس كو روكنے كی كوشش كی تھی، لیكن پھر مسلمانوں كی كوششوں كے بعد ان كا یہ پروگرام اپنے طے شدہ وقت میں ہوا اور اس پروگرام كی مناسبت سے خود كیرڈف كونسل نے بیان دیا كہ ان كے افكار میں تشدد نہیں ہے” دیكھیے "Row over Islamic preacher”. South Wales Echo. 16 August 2006. Retrieved 7 August 2011. Archived 7 August 2011. شمسی صاحب كا ایك اعتراض یہ بھی ہے كہ ڈاكٹر ذاكر نائك تبلیغ اسلام كے نام پر دوسرے مسلك كے عقائد پر حملہ كرتے ہیں، پہلی بات تو یہ ہےكہ وہ مسلك كی بات ہی نہیں كرتے ان كے عقائد پر حملہ كرنا تو دور كی بات ہے، وہ تو دوسرے ادیان ومذاہب اور ان كے ماننے والوں كا احترام كرتے ہیں، وہ تو ”آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آو جو ہم میں تم میں برابر ہے” ( آل عمران 64) كےمطابق دوسرے مذاہب كے ماننے والوں كو بھی ڈائیلوگ كی دعوت دیتے ہیں، وہ كیسے دوسرے مسلك كے لوگوں كو گالیاں دے سكتے ہیں، یا ان كے عقیدہ پر حملہ كرسكتے ہیں، تكفیر كرنے كی عادت تو شیعہ بھائیوں كی ہے یا بریلوی بھائیوں كی جو دوسرے مسلك سے تعلق ركھنے والے مدفون مردوں كو بھی قبرستان سے نكال كر پھینك دینے كا فتوی جاری كرتے ہیں اور دوسرے مسلك كے مردوں كی نماز جنازہ پڑھنے یا پڑھانے پر دائرہ اسلام سے خروج كا فتوی لگا دیتے ہیں، انہیں كافر قرار دیتے ہیں اور بغیر تجدید ایمان كیے انہیں اسلام میں داخل ہونے كی اجازت نہیں دیتے۔ ان كا ایك اعتراض یہ بھی ہے كہ وہ ہندؤوں كے دیوی دیوتاؤں كا مذاق اڑاتے ہیں، یہ شمسی صاحب كا وہی اعتراض ہے جو مشركین مكہ كا اللہ كے رسول پر تھا، سیرت كی كتابیں جن سے بھری پڑی ہیں، جس كے الزام میں حضرت ابراہیم كو آگ میں جھونك دیا گیا، جس كے پاداش میں تاجدار مدنی پر كئی مرتبہ جان لیوا حملہ ہوا، اگر اس نبوی مشن كی ترویج واشاعت میں آپ كو برائی نظر آرہی ہے تو آپ كو ایك مرتبہ ضرور اپنی رائے پر نظر ثانی كرنی چاہیے، جہاں تك دوسروں كے مذاہب پر بات كرتے ہوئے اسلوب اختیار كرنے كا معاملہ ہےتو وہ ذاكر صاحب كے یہاں نہایت ہی معروضی اور علمی وشیریں ہوتا ہے، آپ ہرایك كو سوال كی مكمل آزادی دیتے ہیں ، ہندوؤں كے سوالوں كو پہلے لیتے ہیں، آپ كی انہیں خوبیوں سے متاثر ہوكر ست گرو شنكر اچاریہ كا اعتراف ملاحظہ فرمائیں https://web.facebook.com/shares/view?id=1160375610671789&overlay=1&notif_t=story_reshare&notif_id=1468095318287508 والفضل ماشہد بہ الآعداء ( خوبی تو یہ ہےكہ دشمن بھی گواہی دے” شمسی دے یا نہ دے) شمسی كے دو اعتراض وہ ہیں جو اعدائے اسلام كی جانب سے ان پر لگائے جارہے ہیں، جنہیں شمسی نےكاپی پیسٹ كیا ہے۔ جن میں مسلمانوں كو سماج مخالف عناصر كو دہشت زدہ كرنے كے لیے دہشت گرد بننے اور امریكہ كو دھمكانے والوں كی حمایت كرنے كے سلسلے میں ہے۔ خود ڈاكٹر ذاكر نائك صاحب نے ان دونوں اعتراضات كا تفشی بخش جواب دے دیا ہے، اس سلسلے میں ان كا آفیشیل یوٹیوب پیج ملاحظہ فرمائیں۔ شمسی صاحب كو اس بات سے بھی تكلیف ہے كہ جب 2012 میں ان كے ٹی وی چینل پر پابندی لگی تو كچھ لوگ اس كی مخالفت كرنے لگے، شمسی صاحب ایك جمہوری ملك میں تو یہ آزادی سب كو ہونی چاہیے اور اگر كسی نے اپنے بنیادی جمہوری حق كا استعمال كرتے ہوئے پابندی كی مخالفت كی تو آپ كے پیٹ میں درد كیوں؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ظل الرحمن تیمی

مضمون نگار امام محمد بن سعود یونیورسٹی، ریاض میں اسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور ان دنوں مسجد الحرام مکۃ المکرمہ میں امام حرم کے خطبات کی ترجمانی نیز مکہ میں اردو ریڈیو کی نشریات پر مامور ہیں۔ آپ نئی دہلی میں اپنی طرز کے پہلے اسکول رحیق گلوبل اسكول کے مینیجنگ ڈائریكٹر بھی ہیں جس میں ملت کے نونہالوں کوجدید ٹکنالوجی کے ذریعے عصری و دینی تعلیم سے آراستہ کیا جاتا ہے۔

متعلقہ

Close