ہندوستان

۔۔۔تو بی جے پی پر پابندی لگ جانی چاہئے!

پچھلے دنوں وزیر اعظم مودی جی نے کینیا کی راجدھانی میں ایک یونیورسٹی کے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’نفرت اور تشدد کے مبلغ پوری سوسائٹی کے لئے خطرہ ہیں‘ حالانکہ بات بہت پتے کی ہے لیکن ادھوری بھی ہے اور نئی بھی نہیں ہے ۔ادھوری اس طرح کہ صرف نفرت کے مبلغین ہی سوسائٹی کے لئے خطرہ نہیں ہیں بلکہ ان کی پذیرائی کرنے والے ،ان کی حمایت کر نے والے ،ان کی نفرت انگیزیوں پر خاموش رہنے والے اور ان کی نفرت انگیزیوں کو اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لئے استعمال کر نے والے بھی سوسائٹی کے لئے خطرہ ہیں۔اور نئی اس طرح نہیں کہ یہی بات پوری مسلم قوم کئی سالوں سے کہتی آرہی ہے کہ نفرت کے نظریات اور تقاریر تحاریر اور بیان بازیوں کے ذریعہ ان کی تبلیغ بھلے ہی کسی خاص مذہبی لسانی علاقائی اور سماجی گروپ کے خلاف ہو جیسا کہ ہمارے ملک میں مسلمانوں کے خلاف اور انہیں سیاسی سماجی اور معاشی نقصان پہنچا نے کے لئے کیا جاتا ہے وہ اصل میںپوری سوسائٹی اور پورے ملک کے لئے خطرہ ہے کہ اس سے عوام کے ذہن میں نفرت پیدا ہوتی ہے اور اگر یہ سلسلہ بلا روک ٹوک ایسے ہی چلتا رہاتو تشدد عوام کی فطرت اور نفسیات بن جاتاہے اور پھر وہ اپنی اس پر تشدد نفسیات کی تسکین کے لئے دوست اور دشمن میں تمیز نہیں کرتی ۔ گو کہ نفرت کی تبلیغ ہمارے ملک میں مسلمانوں کے خلاف ہے لیکن کیا اس سے کئی ذاتوں اور برادریوں میں بٹی ہوئی غیر مسلم اکثریت محفوظ رہے گی ؟ ہمارے ملک کاماضی اس بات کا گواہ ہے نفرت کے مبلغین نے ہمارے سوسائٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے ملک میں بد ترین فسادات اور نسل کشی کے واقعات ہوئے جن میں گجرات فسادات بھی شامل ہیں ۔اور ہم مسلمان اس ضمن اس لئے بھی بہت حساس ہیں کہ نفرت کی تبلیغ کی وجہ سے ہونے والے تقریباً سبھی فسادات کا نشانہ مسلمان ہی رہے ۔خوشی کی بات ہے کہ وزیر اعظم کو ان عناصر کی وجہ سے سوسائٹی کو لاحق خطرے کا احساس ہے سو ہم امید کرتے ہیں کہ مودی جی بہ حیثیت وزیر اعظم اس خطرے سے بخوبی نمٹنے کے انتظامات کریں گے ۔ اب سوال یہ ہے کہ نفرت کے یہ مبلغین کون ہیں اور انہیں کہاں ڈھونڈا جائے ؟اور یہ کہ مودی جی نے بھی یہ بات کس کے لئے کہی؟ حالانکہ مودی جی نے اس بات کو کسی نام کے ساتھ خاص نہیں کیا لیکن سیاسی مبصرین کا ماننا ہے اوربہت زیادی قرین قیاس بھی یہی ہے کہ ان کا اشارہ پچھلے دنوں ڈھاکہ میں ہوئے دہشت گرداناحملے کے بعدبنگلہ دیش کے ایک اخبار کی غلط نیوز کی وجہ سے (جس کے لئے خود اس اخبار نے معافی مانگی ہے ) میڈیا ٹرائیل کی زد میںآ ئے اسلامی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک ہیں ۔ اورمودی حکومت نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بیانات ،تحریروں اور ان کی تنظیم کو ملنے والی غیر ملکی امداد وغیرہ کی تحقیق شروع کروادی ہے جو اگر غیر جانبداری سے کی گئی تو اس سے سارا معاملہ صاف ہو جائیگا ۔اگر یہ مان لیا جائے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک واقعی نفرت کا پرچار کرتے ہیں تو بھی حکومت کی یہ کارروائی مشکوک غیر مخلص اور مسلم مخالف ہی قرار پائے گی کیونکہ ملک میں نفرت کے پرچارک تو بہت سے ہیں لیکن ان کے خلاف اس طرح کی کوئی کارروائی ابھی تک کہیں نظر نہیں آئی ، مسلم مخالف نفرت کی تبلیغ کر نے میں سب سے آگے تو خود مودی جی کی پارٹی بی جے پی اور اس کی نظریاتی اساس آر ایس ایس سے جڑی دوسری تنظیمیں ہیں جن کے لیڈران وقفے وقفے سے مسلمانوں کے خلاف نفرت کا پرچار کرتے رہتے ہیں ۔یوں تو یہ سلسلہ آزادی کے بعد ہی سے چلتا آرہا ہے حکومتوں نے اپنے سیاسی فوائد کے لئے جسکی خاموش پذیرائی کی لیکن اب مودی سرکار آنے کے بعد سے اس میں غیر معمولی ابال دیکھنے میں آیا ہے اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں وہ افراد بھی ملوث ہیں جو تو خود مودی جی کے کابینی رفقاء ہیں یاپارلمنٹ میں میں ان کی پارٹی کے نمائندے یا ان کی پارٹی کے اراکین۔ یعنی نفرت کے پرچارک  کون ہیں انہیں ڈھونڈنے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ یہ عناصرکچھ ڈھکے چھپے نہیں ہیں بلکہ اب مودی جی کے وزیر اعظم بننے کے بعد تو یہ اور ڈھیٹ ہو گئے ہیں ،کھل کر سامنے آگئے ہیںعلی اعلان اور بار بار نفرت کی تبلیغ کر رہے ہیں ۔اور ویسے بھی فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کے ذریعہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کی تبلیغ اور بی جے پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں ،اور بی جے پی آج جس مقام پر ہے وہ بھی دراصل اسی فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی خاص طور سے مسلم مخالفت کی ہی دین ہے وگرنہ ابتداء میں تو لوک سبھا میں بی جے پی کی صرف دو سیٹیں ہوا کرتی تھیں لیکن رام مندر تحریک میں بی جے پی کے فعال کردار ادا کرنے اور اس وقت اس کے دگج لال کرشن اڈوانی کے رتھ یاترا کے بعد بی جے دو سیٹوں سے آگے بڑھ کر ایکدم ۸۴ سیٹوں پر پہنچ گئی تھی اور ۱۹۹۲ میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد۱۹۹۶ اور ۱۹۹۸ میں ہوئے انتخابات میں بی جے پی لوک سبھا میںسب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی اور مختلف اتحادیوں کے ساتھ مل کے حکومت سازی میں بھی کامیاب ہو گئی تھی۔بی جے پی کی ’ہندوتوا‘ یعنی مسلم مخالف سیاست کی وجہ سے یہ ہوا کہ ملک عوامی سطح پر ہندو اور غیر ہندو کے دو خانوں میں پوری شدت کے ساتھ بٹ گیا ، دونوں فرقوں کے درمیان موجود خلیج پہلے کے مقابلے بہت زیادہ بڑھ گئی ،مذہب کو بنیاد بنا کر مختلف حساس اشو پیدا کئے جا تے رہے اور عوام کے اذہان میں فرقہ واریت کا زہر بھرا جاتا رہا یہاں تک کہ تقریباََ سبھی سرکاری ادارے فرقہ وارانہ تعصب کے زیر اثر آ گئے ۔ اور سبھی سیاسی پارٹیاں اپنے سیاسی فوائد کے حصول کے لئے یہی سیاست اپنانے پر مجبور ہوئیں،اس کے علاوہ کئی مذہبی تنظیمیں معرض وجود میں آ گئیں اور ملکی آئین اور قانون کو بالائے طاق رکھ کر تشدد کی سیاست کر نے لگیں۔مودی جی بھی جو وزارت عظمیٰ کی گدی پر براجمان ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں تو اس کی بھی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ خود ہندوتوا سیاست کا چکمتا ہوا ستارہ ہیں لوک سبھا انتخابات سے پہلے ملک اور پوری دنیا میں ان کی شہرت گجرات مسلم کش فسادات کی وجہ سے ہی ہوئی تھی اس دوران فسادات میں ملوث ہونے یا ڈھیل دینے یا فسادیوں کو سہلوتیں فراہم کر نے کے جتنے الزامات ان پر لگے وہ فرقہ وارانہ طور پرحساس عوام کے اتنے ہی ہیرو بنتے گئے انہوں نے بہت منصوبہ بندی اورکامیاب حکمت عملی کے ساتھ ترقی اورگڈ گورننس کا نعرہ لگا کر اپنے روایتی ووٹ بنک کے علاوہ ان لوگوں کو بھی اپنی طرف کھینچ لیا جنہیں مذہب یا ہندو راشٹر سے زیادہ ترقی اور خوشحالی کی فکر ہے اور جو کانگریس کی اتحادی حکموت کے گھپلوں گھوٹالوں اورکرپشن سے نالاں تھے ،اور اب مودی سرکار آ نے کے بعدسے مودی جی کے ترقی کے شور کے ساتھ ہندو شدت پسندوں کی زبان درازیوں میں جو بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ہمیں تو لگتا ہیکہ یہ بھی ایک حکمت عملی کے تحت ہو رہا ہے تاکہ صرف ترقی اور خوشحالی کے نعرے کی وجہ سے وہ ہندو ووٹ بنک بی جے پی سے نہ ہٹ جائے جس کو اشتعال انگیزی کی لت لگی ہوئی ہے ہمیں لگتا ہے کہ اس ووٹ بنک کو مست رکھنے کے لئے ہی اسے مسلم مخالف یا عیسائی مخالف اشتعال انگیزی کا ڈوز پلایا جا رہاہے۔ اور یہ سب مودی جی کی ایما پر یا ان کی اجازت سے ہی ہورہا ہے ، کیونکہ پہلے مودی جی اس طرح کے واقعات پرمسلسل خاموش رہے اور پھر ان کے خلاف بولے بھی تو صرف بولے کوئی عملی کار کردگی ابھی تک نہیں دکھائی۔اور اس کی امید بھی نہیں ہے ۔ ہم مسلمانوں کو ’انصاف کے علمبردار بننے کا حکم دیا گیا ہے چاہے اس کی زدہمارے رے قریب ترین رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو ‘ سو ہم ذاکر نائیک کی بے جا حمایت نہیں کرتے اگر ڈاکٹر صاحب واقعی ’نفرت ‘ کی تبلیغ کرتے ہیں اور ان کے بیانات ملکی آئین و قانون سے ٹکراتے ہیں تو ہم ان کے خلاف کارروائی کی حمایت کریں گے لیکن صاحب ہمارا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بیانات میں قابل گرفت مواد ڈھونڈنے سے پہلے ان لوگوں پر قانون کا شکنجہ کسا جائے جن کے بیانات میں قابل گرفت موادسے بھرے پڑے ہیں جنہیں ڈھونڈنے کی بھی ضرورت نہیں۔ مودی جی نے مذکورہ بات بھلے ہی ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بارے میں کہی ہو لیکن ان کا نام نہ لے کر اسے سبھی کے لئے عام کردیا ہے ۔تو اب عزت مآب وزیر اعظم کی اس ’عام بات ‘ کے تحت نفرت کی تبلیغ کرنے والی بی بی جے پی پر پابندی لگ جانی چاہئے۔

(dr.abidurrehman@gmail.com)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Close