تاریخ ہندہندوستان

88سالہ تاریخ میں صوبہ جموں کے مسلم طبقہ کوعدالت عالیہ میں نمائندگی نہیں ملی!

الطاف حسین جنجوعہ

صوبہ جموں کی 40 فیصد مسلم آبادی کو آج تک جموں وکشمیر ہائی کورٹ میں نمائندگی نہیں ملی ہے۔ ہائی کورٹ کی88سالہ تاریخ میں صوبہ جموں کے کسی مسلم وکیل کو جج نہیں بنایاگیاہے۔ موجودہ چیف جسٹس جموں وکشمیر ہائی کورٹ بدر دریز احمد کی سربراہی والے  Collegium کی طرف سے اڈوکیٹ وسیم صادق نرگال کانام پینل میں شامل کئے جانے سے صوبہ جموں کے مسلم طبقہ کو اُمید جاگی ہے کہ شاہد اب کی بار انہیں عدالت عالیہ میں نمائندگی ملے۔ اب تک کی تاریخ میں جموں وکشمیر ہائی کورٹ میں صوبہ جموں سے مسلم اور سکھ طبقہ کو کبھی نمائندگی نہیں ملی ہے۔ اب تک ہائی کورٹ میں جج تعینات ہونے والوں کی زیادہ تعداد کشمیری مسلم، کشمیری پنڈت اور جموں کے ہند ؤ طبقہ سے رہی ہے۔ جسٹس تاشی ربستان پہلا ایسا جج ہے جس کو خطہ لداخ سے مارچ 2013 میں چنا گیاتھا۔

جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے اب تک ہوئے 33 چیف جسٹس میں 11مسلم چیف جسٹس ہوئے ہیں جن میں سے 3یعنی میاں جلال الدین (1978-80)، مفتی بہا الدین(1983) اور بشیر احمد بشیر(2007) کشمیری مسلم تھے جبکہ باقی 8ہندوستان کی دیگر ریاستوں سے رہے ہیں ۔ ملک کی واحد مسلم اکثریتی ریاست جموں وکشمیر کی 88سالہ تاریخ میں مسلم جج چیف جسٹس کے عہدہ پر 3سال سے کم مدت کے لئے فائض رہے ہیں ۔ میاں جلال الدین واحمد کشمیرمسلم تھے جوکہ ایک سال سے زائد عرصہ تک جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے۔ وہ اس عہدہ پر15افروری1978سے 22فروری1980تک رہے۔ جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے اب تک ہوئے74ججوں میں سے 27مسلم جج ہوئے ہیں جن میں سے 23کا تعلق وادی کشمیر سے رہاہے جبکہ باقی سارے ہندوستان کی مختلف ریاستوں سے لائے گئے۔ جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے تین سکھ جج بھی ہوئے اور تینوں کا تعلق پنجاب ریاست سے تھا، ان میں ایس ایس کنگ(1989-93)، ٹی ایس ڈوبیہ(1997-2003)اور جسٹس وریندر سنگھ(2007-2014)شامل ہیں ۔صوبہ جموں سے ہندو طبقہ سے بڑی تعداد میں وکیل نہ صرف جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے جج رہے، چیف جسٹس بھی بنے بلکہ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس بھی رہے اور کئی عدالت عظمیٰ کے ججوں کے طور بھی اپنی خدمات انجام دیں ۔

صوبہ جموں میں مسلم آبادی قریب40فیصد ہے ۔جموں وکشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن جموں میں 3400کے قریب وکلاء میں کم وپیش700مسلم وکلا ہیں لیکن ان میں سے کسی کو ابھی تک ہائی کورٹ کا جج بننے کا موقع نہیں ملا۔ صوبہ جموں کے 10اضلاع میں سے 5اضلاع میں 50فیصد سے زیادہ مسلم آبادی ہے جن میں راجوری، پونچھ، کشتواڑ، ڈوڈہ اور رام بن شامل ہیں ۔ ریاسی میں سال2011کی مردم شمار ی کے مطابق مسلم آبادی49.66 % او راوھم پور ضلع میں 11فیصد ہے۔سکھ وکلاء کی تعدادجموں وکشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن میں 10فیصد ہے کو بھی نمائندگی نہیں ملی۔ ذرائع کے مطابق قانون، قواعد وضوابط کے تحت ایسا کہیں بھی نہیں کہ جج اور چیف جسٹس کو نسلی، علاقائی، مذہبی، لسانی، اور تمدنی شناخت کی بنا پر تعینات کیاجائے، اس میں صرف اس کی اہلیت وقابلیت دیکھنی ہوتی ہے لیکن یہاں پر ہمیشہ متعدد پریشرگروپوں اور نئی دہلی میں مسند اقتدار حکمرانون کی مداخلت سے ججوں کی تعیناتیاں مذہبی اور علاقائی بنیاد وں پر ہوتی آئی ہیں ۔اس حوالہ سے مرکزی حکومت کشمیری پنڈتوں پر خاصی مہربان رہی ہے۔اگر ذرائع کی مانیں توسال 2008میں کشمیری پنڈت کو نمائندگی دینے اور ان کی تسلی کے لئے راشٹرپتی بھون نئی دہلی سے آئی ہدایات پر چند ہی ماہ میں سنیل ہالی کو جموں وکشمیر ہائی کورٹ کا جج تعینات کیاگیا۔سال 2013میں وکیل تاشی ربستان کی بھی جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے بطورجج تعیناتی بھی خطہ لداخ سے سیاسی اور مذہبی قیادت کی طرف سے نئی دہلی پر دباؤ قائم کئے جانے کے نتیجہ میں ہوئی تھی لیکن ایسی مہم نے اب تک کبھی بھی کام نہیں کیا جب جموں خطہ سے تعلق رکھنے والے وکلاء کیCollegiumکی طرف سے سفارش کی گئی۔

اب تک جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے Collegiumنے متعدد مواقعوں پر جموں سے مسلم وکلاء کے نام ہائی کورٹ ججوں کے لئے Recommendکئے لیکن ان کی تعیناتی عمل میں نہ آسکی۔ اب تک سرکردہ فوجداری مقدامات کے وکیل مرحوم غلام نبی گونی  اور ان کے فرزند اور سابقہ ایڈوکیٹ جنرل محمد اسلم گونی کے  علاوہ سابقہ ایڈوکیٹ جنرل مرحوم شبیر حسین سلاریہ کی سفارش کی تھی لیکن سیاست سے ان کی وابستگیاں ہونے کی وجہ سے تعیناتی عمل میں نہ آسکی۔ سال 2012میں جموں وکشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو دورہ جموں پر ایک میمورنڈم پیش کیاتھا جس میں صوبہ جموں کے مسلموں کو بھی ہائی کورٹ میں نمائندگی دینے کی بات کہی گئی تھی لیکن 2013میں تعینات کئے گئے علی محمد ماگرے، دھیرج سنگھ ٹھاکر ، تاشی ربستان اور جنک راج کوتوال کے علاوہ سال2016میں ، بی ایس والیہ ،راما لنگم اور الوک آرادے کو تعینات کیاگیا مگر مسلم نے جگہ نہ پائی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے ججوں کی تعیناتی کے لئے 5ناموں کاپینل تیار کیا ہے جس میں ایک طویل عرصہ بعد پھر ایک مسلم وکیل کو شامل کیاگیاہے۔ اس پینل میں 4وکلاء جن میں سے دو جموں اور کشمیر صوبہ سے ہیں جبکہ ایک سنیئر جوڈیشل افسر شامل ہے۔ وکلا میں نذیر احمد بیگ، ایس اے مکرو ،وسیم صادق نرگال، سندو شرما اور رشید علی ڈار شامل ہیں ۔رشید علی ڈار اِس وقت پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سری نگر تعینات ہیں ۔ ایڈوکیٹ سندھو شرما جموں وکشمیر ہائی کورٹ جموں ونگ میں اسسٹنٹ سالیسٹر جنرل آف انڈیا ہیں ، وہ ریاست سے پہلی خاتون وکیل بھی ہیں جواسسٹنٹ سالیسٹر جنرل آف انڈیا تعینات کی گئی ہیں ۔

ایڈوکیٹ وسیم صادق نرگال اس وقت سنیئر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ہیں جنہوں نے ہائی کورٹ جموں ونگ میں ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل(محکمہ داخلہ)کے طور پر کام کیا ہے۔ ایس اے مکر و، سرینگر ہائی کورٹ ونگ میں اسسٹنٹ سالیسٹر جنرل آف انڈیا رہ چکے ہیں ۔ذرائع کے مطابق نذیر احمد بیگ کی دوسری مرتبہ ہائی کورٹ کولیجم نے سفارش کی ہے۔ اس سے قبل جنوری 2014میں اس وقت کے چیف جسٹس ایم ایم کمار نے بھی،نذیراحمدکے نام کی سفارش کی تھی لیکن فائنل لسٹ میں وہ جگہ نہیں پاسکے تھے۔ یاد رہے کہ جموں وکشمیر ہائی کورٹ میں چیف جسٹس سمیت کل ججوں کی منظور شدہ تعداد17ہے جس میں اس وقت 12 ہیں ہی، جن میں جسٹس آر سدھاکر، جسٹس محمدیعقوب میر، جسٹس آلوک ارادھے، جسٹس علی محمد ماگرے، جسٹس دھیرج سنگھ ٹھاکر، جسٹس تاشی ربستان، جسٹس جنک راج کوتوال، جسٹس باواسنگھ والیہ، جسٹس سنجیو کمار شکلا، جسٹس ایم کے ہانجور اور جسٹس سنجے کمار گپتا اور چیف جسٹس بدر دریز احمدشامل ہیں۔

خیال رہے کہ رواں برس کے جون ماہ میں مرکزی وزارت قانون نے نوٹیفکیشن نمبرK 13021/01/2016-US.II جاری کے تحت جموں وکشمیر ہائی کورٹ میں سنجیو کمار شکلا، مہراج کرشن ہانجوا اور سنجے کمار گپتا ہائی کورٹ کے جج تعیناتی عمل میں لائی تھی۔اس پینل کی چیف جسٹس آف انڈیا اور مرکزی وزارت قانون وانصاف باریک بینی سے چھان بین کرے گا، ان کے پیشہ ور ٹریک ریکارڈ کو مختلف ذاویوں سے جانچا پرکھاجائیگا جس کے بعد ان کی بطور ہائی کورٹ جج تعیناتی پرعدالت عظمیٰ کے 2سرکردہ جسٹس کے صلاح ومشورہ کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا مہرثبت کریں گے۔

مزید دکھائیں

الطاف حسین جنجوعہ

مضمون نگار پیشہ سے صحافی اور وکیل ہیں۔

متعلقہ

Close