ہندوستان

امرناتھ یاترا پر حملہ: چند سوال

پچھلے 24سالوں سے مسلسل حادثات ہونا چہ معنی دارد ؟ پورا کشمیر تکلیف کا اظہار کررہا ہے،پھر قاتل کون تھے ؟کہاں سے آئے تھے اور کہاں گئے ؟سندیپ شرما کی گرفتاری بھی بہت سے سوالات کو جنم دیتی ہے۔اے ٹی ایس نے اس سے کیا دریافت کیا ؟میڈیا اس کے جرائم کو چھوڑ کر مذہبی معاملات پر بحث کرچکا ہے، اس کے مسلمان ہونے کے دعوے کرچکا ہے۔

مزید پڑھیں >>

GST اور جموں و کشمیر کے صنعت کار

جموں وکشمیر میں اشیا و خدمات ٹیکس(GST)کے اطلاق کے لئے احتجاج، مظاہرے، دھرنے اور ہڑ تا ل کرنے والے جموں کے صنعت کار وں پر اب یہ حقیقت آشکارا ہو ئی ہے کہ ریاست میں صنعتوں کو مراعات ختم ہو نے والی ہیں جس کے بعد ان کے ہوش اڑ گئے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

 ہے یوں بھی زیاں اور یوں بھی زیاں!

مجھے توایسا نہیں لگتا،مجھے تویہ لگتاہے کہ ایسا سماج بنانے میں انتہاپسندسیاسی ومذہبی فکرکے علمبرداروں کی ایک لمبی، دوررس، گہری اور نتیجہ خیزمنصوبہ بندی کارول ہے،یہ وہ لوگ ہیں ،جومختلف مذاہب کے ماننے والوں میں ،مختلف ملکوں میں اور مختلف زمان و مکان میں ہمیشہ پائے جاتے رہے ہیں ۔سترسال قبل ہزارسال سے ایک ساتھ رہنے والے ہندوستانی عوام کے ایک جتھے کودوسرے جتھے سے بھڑاکرہندوستان کے سینے پرآری ترچھی لکیریں کھینچی گئیں اور تب سے ان میں اضافوں کا عمل مسلسل جاری ہے،دیکھئے کہاں جاکرتھمے!

مزید پڑھیں >>

 آئی بی کو پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ بنایا جائے

پیش نظریہ تھا کہ دہشت گردی کے مقابلے کے نام پر جوکچھ ہورہا ہے ا س کی حقیقی تصویرعوام کے سامنے لائی جائے۔ میں یہ نشاندہی کرنا چاہتا ہوں کہ ٹاڈا اور پوٹا قوانین کے تحت جتنے کیس درج ہوئے ان میں سے صرف دو فیصد  سے کم میں میں ہی ملزمان کو سزائیں ہوئی ہیں ،باقی سب باعزت بری ہوئے۔ یہی صورت اب یو اے پی اے  قانون کے تحت درج معاملات کی بھی ہے۔ اکثرملزم دس دس، بارہ بارہ سال اوریہاں تک کہ بائیس سال جیلوں میں قید رہ کر باعزت بری ہوئے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

زعفرانی خانہ جنگی: یہ انتقام ہے یا احتجاج ہے؟ 

یوگی ادیتیہ ناتھ کی حکومت کاابھی  40 واں بھی نہیں ہوا تھا کہ سہارنپور کا فساد پھوٹ پڑا جس نے دلتو ں کو  ٹھاکروں کے خلاف متحد کرکے بی جے پی سے دور کردیا اور سیکڑہ پورا  ہوتے ہوتے دیگر پسماندہ ذاتوں اور براہمنوں کے درمیان لڑائی لگ گئی ۔ اس طرح براہمن ، راجپوت، پسماندہ اور دلت اتحاد ڈھاک کے پات کی مانند بکھر گیا ۔ یوگی ادیتیہ ناتھ کی تاجپوشی کے 100ویں  دن جو کچھ ہوا وہ بالکل فلمی تھا بلکہ اگر اس کا منظر نامہ سلیم جاوید بھی لکھتے تو ایسا دلچسپ اور سنسنی خیز  نہ ہوتا۔ ان واقعات نے80  کی دہائی کے فلمساز ارجن ہنگو رانی یاد تازہ کردی ۔ وہ بہت باصلاحیت  فنکار نہیں تھا لیکن ہر فن مولیٰ  تھا ۔ فلمسازی کے علاوہ ہدایتکاری  کے فرائض بھی انجام دیتا  اور بوقت  ضرورت منظر نامہ لکھ مارتا لیکن اس کی فلمیں باکس آفس پر خوب کماتی تھیں بالکل مودی جی کی طرح جونہ دانشور ہیں اور نہ  رہنما ئی کی خاص صفات کے حامل  ہیں لیکن  کبھی نیتا بن کر اپنے ساتھیوں کو ڈراتے ہیں تو کبھی ابھینتا بن کر رائے دہندگان کا دل بہلاتے ہیں ۔ کبھی قہقہہ لگاتے ہیں تو کبھی آنسو بہاتے ہیں اوراپنی تمام تر نااہلی کے باوجود ای وی ایم پر خوب دھوم مچاتے ہیں.

مزید پڑھیں >>

بھیڑ کی غنڈہ گردی: ہم کیا کریں؟

یہ بات اپنے ذہنوں میں اچھی طرح بٹھالیں کہ بزدلی کی موت مرنا دانش مندی نہیں ہے اور اللہ اور اس کے رسول کو یہ پسند نہیں ہے _ اگر خدا نخواستہ ہم کبھی ایسے حالات میں گھر جائیں تو غنڈوں سے ہمیں رحم کی بھیک نہیں مانگنی ہے ، بلکہ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے _ اگر مقابلہ کرتے ہوئے ہماری جان چلی جائے تو ہم شہادت کے درجے پر فائز ہوں گے _

مزید پڑھیں >>

ہندو پاکستان؟

جب بااقتدار لوگ عوام کے مذہبی یا کسی بھی نظریاتی جذبات کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کرتے ہیں اور ان جذبات کو انتہا پسندی تک لے جانے والی تنظیموں کو سہولیات بہم پہنچاتے ہیں تو اس انتہا پسندی میں اضافہ ہوتا ہے اور جب یہ انتہا پسندی عوام کے بڑے حصہ کی حمایت حاصل کرلیتی ہے تو پھر اپنے سر پرستوں کو بھی نہیں چھوڑتی انھیںبھی راستے سے ہٹانے میں نہیں ہچکچاتی جنھوں نے اس کی آبیاری کی۔

مزید پڑھیں >>

بھیڑ، درندگی اور سیاست

یہ حقیقت ہے کہ ناٹ ان مائی نیم کا پیغام، آہستہ آہستہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے دلوگوں تک پہنچنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہی ہمارے ہندوستان کی اصل طاقت ہے۔ سماجی، معاشرتی اورتہذیبی سطح پر ہماری جڑیں اتنی پختہ اورمضبوط ہیں کہ دنیا کی کوئی بھی شر پسند طاقت ہمارے اتحاد کا شیرازہ نہیں بکھیر سکتی۔

مزید پڑھیں >>

بہار میں ہندستانی سیاست کا نیا دنگل

 بہار کی حکومت سازی میں نتیش کمار کو کم سیٹوں کے باوجود وزارتِ اعلا کی کرسی ملی۔ اس میں انھیں فائدہ تھا اس لیے وہ بہ خوشی تیار رہے۔ مگر لالو پرساد یادو کی مقبولیت اور سیاسی گرفت سے نتیش کمار کو ہمیشہ خطرہ رہتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے خلاف چھوٹے موٹے سوالات پر بیان دے کر ایک دوسرے کو احساس کراتے رہتے ہیں کہ یہ ساتھ ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ لالو یادو کے لیے یہ مسئلہ ہے کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے پچیس برس سے زیادہ دنوں سے دور ہیں ۔ کانگریس مخالف سیاسی منچ میں لالو یادو کی حیثیت 1990 ء سے ہی مرکزی طور پر تسلیم شدہ ہے۔ اس لیے ان کے اِدھر اُدھر ہونے کا سوال کم ہے۔ شاید اسی لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کی ساری جانچ ایجنسیاں اور بہار کے بھاجپا لیڈران بھی نتیش کمار کے بجاے لالو اور ان کے بیٹوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ نتیش کمار کے پاس ہمیشہ یہ راستہ ہے کہ وہ لالو کا ساتھ چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی سے مل کر یا باہر سے مدد لے کر سرکار بنالیں۔ بھاجپا کا مفاد یہ ہے کہ بہار کی سرکار ٹوٹے گی تو لالو کمزور ہوں گے اور ملک گیر سطح پر 2019ء کے انتخاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف مہم چلا پانے میں وہ پچھڑ جائیں گے۔

مزید پڑھیں >>

بھیڑ کے ذریعے قتل کا انسداد کیسے؟

 آج کل ہندوستان میں بھیڑ کی غنڈہ گردی جاری ہے _ اسے انگریزی میں Mob Lynching کہا جا رہا ہے _ آئے دن ملک کے مختلف حصوں میں ایسے واقعات پیش آرہے ہیں کہ منظّم بھیڑ لاٹھی ڈنڈوں ، لوہے کے راڈ اور چُھروں سے لیس ہوکر نکلتی ہے اور کسی نہتّے کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیتی ہے _ عموماً اس کا شکار مسلمان ہو رہے ہیں ، بوڑھے بھی ، ادھیڑ عمر کے بھی اور نوجوان بھی _

مزید پڑھیں >>