ہندوستان

آزادی کے 70 برسوں کی حقیقت

دیکھتے ہی دیکھتے ہندوستان کی آزادی کو 70 برس گزرگئے ۔ ان ستر برسوں کی سیاست کا تجزیہ کیجئے تو ایسے کئی مقام آئے جب آزادی، سیکولرزم اور جمہوریت جیسے الفاظ پر دھول کی پرتیں جمتی ہوئی محسوس ہوئیں — لیکن آندھی اور طوفان کے گزرنے کے بعد یہ غیرمعمولی الفاظ حرکت کرتے ہوئے ہمارے حوصلے اور اعتبار کو دوبارہ بحال کردیتے۔

مزید پڑھیں >>

یوم آزادی: نیشنل ازم اور مسلمان

مسلمانوں کے اندر ایک سب سے بری عادت یہ ہے کہ وہ بہت جلد مشتعل اور جذباتی ہوجاتے ہیں اور یہ بات باطل طاقتیں بہتر طور پر جانتی ہیں اسی حربہ کو استعمال کرتے ہوئے وہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے ہیں تاکہ مسلمان مشتعل ہوکر کوئی ایسا اقدام کردیں جو دستور کے خلاف ہو.

مزید پڑھیں >>

  مسلمان دیش بھکت کیو ں ہونے لگے ؟

ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ آزادی کی جنگ کے فیصلہ کُن دور میں اور آزادی کے بعد ایک طویل مدّت تک آر۔ایس ۔ایس ۔یا ہندو مہاسبھا کی ایسی کچھ توسیع نہیں تھی کہ ہندستانی مسلمانوں کے خلاف وہ کوئی ملک گیر مہم چلا لیں اور انھیں مکمل طور پراس میں کامیابی مل سکے۔ایسے تمام منافرت کے کا م کانگریس نے خود ہی کیے۔آلِ احمد سرور نے آزادی کے بعد اترپردیش میں گووند بلبھ پنت کے دور کو یادکرتے ہوئے لکھا ہے کہ فرقہ پرست جماعتوں کا انھیں اس طرح سے تعاون حاصل تھا کہ ان کے خلاف نہرو بھی کچھ نہیں کر سکتے تھے۔

مزید پڑھیں >>

جشن آزادی کا مقصد اور ہماری ذمہ داری

حریت وآزادی ،ایک بیش بہا نعمت،قدرت کا انمول تحفہ اورجینےکا اصل احساس ہے،اس کے برعکس غلامی وعبودیت ایک فطری برائی، کربناک اذیت اور خوفناک زنجیر ہے؛ جس میں زندگی بدسے بدترہو جاتی ہے،جائز اختیارات تک سلب کرلیےجاتےہیں اورانسان زندہ لاش بن کررہ جاتاہے؛یہی وجہ ہےکہ بنی نوع انسانی کےساتھ ساتھ حیوانات بھی اپنی اپنی بساط کے مطابق غلامی کی زنجیروں کو توڑنے اور آزاد فضاء میں سانس لینے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

یہ ملک حقیقی آزادی کی تلاش میں ہے!

ہمارے ملک کو آزاد ہوئے70 سال گزرچکے ہیں ۔ آزادی کا کارواں 15 اگسٹ 1974ء کو 14۔15 اگست کی درمیانی رات کے بارہ بجے اپنی منزل پر پہنچ گیا ،جب پورا ہندوستان محو ِخواب تھا تو ہندوستان کا مقد رجاگ گیا اور ہندوستانی وقت کے مطابق ٹھیک بارہ بجے آل انڈیا ریڈیو سے ہندوستان کی آزادی کا اعلان ہوگیا۔خوشی ومسرت کے شادیانے بجائے گئے اور ظلم وستم کے ایک نہایت تاریک اور سیاہ دور کا خاتمہ ہوا ۔

مزید پڑھیں >>

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا؟

اُترپردیش حکومت کی طرف سے ان مدارس کو جو اُن کے ٹکڑوں پر پل رہے ہیں یوم آزادی کے متعلق جو حکم دیا ہے وہ ایسا ہی ہے جیسے اپنے غلاموں اور نوکروں کو دیا جاتا ہے۔ عربی فارسی بورڈ اس وقت بھی تھا جب ملک پر انگریزوں کی حکومت تھی اور ان مدارس سے ہی فارغ ہوکر نکلنے والے سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں اُردو فارسی کے استاذ مقرر ہوتے تھے۔

مزید پڑھیں >>

کیا یہی آزادی ہے؟

انگریزوں نے جس بیج کو ملک کے ہندو مسلمانوں کے درمیان بویا تھا ، آج وہ تناور درخت کی شکل اختیار کرچکا ہے، مہاتما گاندھی کو مارنے والے گوڈسے کے پیرو کار ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو مٹانے پر تلے ہیں ،غلط واقعات و روایات من گھڑت باتوں کے ذریعہ نوجوان نسل کے ذہنوں میں نفرت کی آگ بھڑکائ جارہی ہے ، اور انہیں اس بات پر اکسانے کی کوشش کی جاری ہے کہ یہ ملک صرف تمہارا ہے۔

مزید پڑھیں >>

حامد انصاری کی بے باکی: آئینہ اُن کو دکھایا تو برا مان گئے

  نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کی الوداعیہ تقریر کو سن کر سنگھ پریوار کے لوگ نیچے سے لے کر اوپر تک سبھی چراغ پا ہوگئے۔ ایسا پریوار جو اقلیتوں خاص طور سے مسلم اقلیت کا پیدائشی دشمن ہو، کوئی بھی چھوٹا ہو یا بڑا اس حق میں ہمدردی کے دو بول بولے گا تو اقلیت دشمن پریوار کا اعلیٰ سے ادنیٰ تک کو چوٹ لگے گی کیونکہ یہ پریوار مسلم اقلیت کے حق میں ایک لفظ بھی سننا گوارا نہیں کرتا۔

مزید پڑھیں >>

آرٹیکل 341: نا انصافی کے 67 سال

ہر سال کی طرح امسال بھی 10 اگست کوملک کے مختلف خطے میں مسلم سیاسی جماعتوں اور ملّی تنظیموں کی جانب سے آرٹیکل 341 پر عائد مذہبی پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ لیکن سوال یہ ہیکہ یہ آرٹیکل 341 کیا ہے؟ اور ہر سال ملک کی مسلم سیاسی جماعتوں اور ملّی تنظٰیموں کی جانب سے اس دن ’یوم سیاہ ‘ یعنی کالا دن کیوں منایا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

یہ 60 اموات سوال ہیں، پر کہاں پوچھیں یہ سوال؟

گورکھپور کے ہسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے 5 دن میں ہوئی 60 بچوں کی موت کا واقعہ پر ملک كھول اٹھا ہے. ہر کوئی حکومت سے سوال پوچھنا چاہتا ہے. اس لچر نظام میں مکمل تبدیلی چاہتا ہے. سوالات، الزام، غصے اور جذبات کے درمیان اصلیت یہ ہے کہ ان بچوں کی موت میں میرا، آپ کا، ہم سب کا ہاتھ ہے. ہم نے اپنے آپ سے، ایک دوسرے سے سوال پوچھنے کے سب سے اہم حق کو چھین لیا ہے.

مزید پڑھیں >>