ہندوستان

 بجٹ 2018: ہزار شکر کہ مایوس کردیا تونے

  اس سرکار نے بجٹ میں بلند بانگ دعویٰ تو کردیئے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سرکاری خزانے میں رقم کہاں سے آئے گی ؟  حکومت نے یہ تسلیم کیا ہے جی ایس ٹی کے سبب سرکاری آمدنی میں ۵۰ ہزار کروڈ کی کمی ہوگی۔ اس کے علاوہ  جاتے جاتے سرکار نے اپنے خیرخواہ سرمایہ داروں کی خوشنودی کے لیے ۲۵۰ کروڈ سے زیادہ کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں پر ٹیکس ۳۰ فیصد سے گھٹا کر ۲۵ فیصد کردیا۔ بڑے سرمایہ دار ممکن ہے  اس بچت میں سے بی جے پی کو انتخابی سال کے اندر دل کھول کر چندہ دیں لیکن سرکاری خزانے کا ۷ ہزار کروڈ خسارہ ہوجائے گا۔ ایسے میں فلاح و بہبودکے لیے رقم کہاں سے آئیگی؟

مزید پڑھیں >>

بجٹ 2018: مجھے رونے کی بیماری نہیں ہے!

بجٹ اجلاس کے افتتاح سے قبل صدر مملکت اور وزیراعظم نے اس دوران تین طلاق کے بل کی منظوری پر زور دیا۔ بڑے بڑے ماہرین چکرا گئے کہ آخر معیشت کا تین طلاق سے کیا تعلق ؟لیکن سیاسی مبصرین کو یہ گتھی سلجھانے میں چنداں دقت محسوس  نہیں ہوئی۔ اس مسئلہ  سےبی جے پی کی پانچوں انگلیاں گھی  اور سرکڑاھائی میں ہے۔ اس میں اگر کانگریس گرم جوشی  دکھاتی  ہے تو بی جے پی ہندو رائے دہندگان کو یقین دلاتی ہے کہ دیکھو کانگریس مسلم نواز ہونے کے سبب تمہاری دشمن ہے اس لیے ہمیں ووٹ دو۔ کانگریس اگر سردمہری کا مظاہرہ کرے تو دیگر مسلم رہنما کانگریس کو مسلم دشمن قرار دیتے  ہیں جس میں بی جے پی کا بلاواسطہ فائدہ ہے۔ کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدھارمیہ بی جے پی اور ایم آئی ایم کے تال میل پر فکرمندی ظاہر  کرچکے ہیں۔ تین طلاق کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اگر اس غیر اہم موضوع  پر بحث میں اجلاس کا زیادہ تر وقت رف ہوجائے تو بی جے پی بجٹ بغیر کسی تنقید و مخالفت کے بہ آسانی پاس ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں >>

سہراب الدین انکاونٹر معاملہ اور حکومت و عدالت کا رویہ

یہ انکاونٹر اس وقت ہوا تھا جب امت شاہ گجرات کے وزیر داخلہ تھے۔ اس معاملے میں ان کو جیل بھی ہوئی تھی اور انھیں گجرات سے تڑی پار بھی کر دیا گیا تھا۔ وہ بہت دنوں تک گجرات نہیں جا سکے تھے۔ عدالت نے ان پر یہ پابندی اس لیے لگائی تھی کہ وہ گواہوں کو متاثر نہ کر سکیں۔

مزید پڑھیں >>

کہاں یہ قافلہ ٔ بے مہار ٹھہرے گا

صدر صاحب نے وزیراعظم کی اس تجویز کا بھی ذکر کیا جو اس وقت ان کے اوپر چھائی ہوئی ہے کہ ایک ملک ایک الیکشن اس کے بارے میں وہ جو بیان کرتے ہیں وہ سب ان کا اپنا طریقہ ہے ورنہ 1967 ء کے بعد پچاس سال سے یہی ہورہا ہے کہ پارلیمنٹ کا الیکشن الگ اور صوبوں کے اپنے اپنے وقت پر ہوتے ہیں ۔ ہم نے پارلیمنٹ کے الیکشن میں بھی حصہ لیا ہے اور صوبوں کے الیکشن میں بھی۔ اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ سارا کام اتنے دنوں ٹھپ رہتا ہے اس لئے مودی جی سے پہلے وہ الیکشن تھے اور اب وہ جنگ بن گئے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

کاس گنج:جمہوریت شرمسار

جمہوریت خطرے میں پڑجائے گی اور فائدہ تو مٹھی بھر لوگوں کا، غور کیجئے آپ کو اکرم حبیب بن کر محبت پھیلانی ہے، یا چند روپیوں کی خاطر نفرت کا بازار گرم کرنا ہے، فیصلہ آپ کے ہاتھ ہے، جمہوریت کے محافظ بن جائیے، یا اس کے قتل کی سازش میں حصہ دار۔

مزید پڑھیں >>

30 جنوری: آج ایک مخصوص نظریہ کی حکومت نے گاندھی کو مار ڈالا 

گاندھی کے نظریات و افکار کی ایک دنیا معترف ہے .ایک وقت تھا جب ان نظریات نے عالمی سیاست کو متاثر کیا ..پھر ہم ایک ایسے عھد سے وابستہ ہو گئے جہاں ان نظریات کی چنداں ضرورت نہ تھی .گاندھی کے عھد میں بھی پہلی اور دوسری جنگ عظیم نے انسانی معاشرہ اور تھذیب و ثقافت کو داغدار کیا لیکن جنگ اور تشدد سے پیدا شدہ تباہیوں سے گاندھی نے یہ سیکھا کہ آزادی کے لئے عدم تشدد کا فلسفہ لے کر آ گئے اور حکومت برطانیہ کے ساتھ عالمی سیاست کو بھی حیران ہونا پڑا کہ وہ قیادت کی اس نیی رسم سے واقف نہیں تھی .

مزید پڑھیں >>

مسلمانوں کی حمایت میں کھڑا ہونا گاندھی جی کو مہنگا پڑا

ہم وہی مسلمان ہیں، جنہوں نے تمارے سردار، شیوا جی مہاراج کو مغل بادشاہ اورنگ زیب کی قید سے چھڑایا تھا‘، تب کہیں جاکر سردار پٹیل کو شرم آئی اور انہوں نے میوات کے مسلمانوں کی حفاظت کے لیے دہلی سے گورکھا رجمنٹ کو وہاں بھیجا اور سکھ رجمنٹ کو وہاں سے ہٹایا، جس پر متعصب ہونے کا الزام تھا۔

مزید پڑھیں >>

داووس میں پردھان جی: لڑکھڑائے، ہچکچائے اور شرمائے بہت

دیکھو جی کلن ہمارے پردھان سیوک کانگریسیوں کی طرح پاکھنڈی نہیں ہیں کہ اندر کچھ اور باہر کچھ ۔ انہوں نے ساری دنیا کے سامنے بلاخوف و خطر اپنے من کی بات بیان کردی اور تم تو جانتے ہی ہو وہ کسی سے نہیں ڈرتے۔اپنے آپ سے بھی نہیں ۔اس لیے دنیا کو مٹانے کی بات کہہ دی تو کون سی بڑی بات ہے؟ جارج ڈبلیو بش نے بھی تو کہا تھا کہ ہم پاکستان کو کھنڈر بنادیں گے۔

مزید پڑھیں >>

عورت اور ہندوستانی تہذیب کے کھوکلے دعوے!

کہتے ہیں تہذیب و ثقافت، محض چند رسوم و رواج اور افکار وخیالات کے مجموعے کا نام نہیں ہے، بلکہ تہذیب و تمدن میں حقیقی طور پر مذہبی عنصر غالب ہے۔ کسی بھی تہذیب میں پائے جانے والے نظریات و خیالات او راس میں موجود رسوم ورواج کا سلسلہ، کسی نہ کسی طرح مذہب سے ضرور ملتا ہے۔ اس بحث سے قطع نظر کہ وہ رسوم و رواج مذہب کی نظر میں صحیح ہیں یا غلط، ہمارے ارد گرد ہونے والے رسوم ورواج نسل در نسل چلے آرہے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

اکثیریت؟

مودی جی کے تین ساڑھے تین سالہ دار حکومت میں وہ نوبت آچکی ہے۔ آج سول سوسائٹی کا کوئی جز محفوظ نہیں ہے ایک طرف مسلمانوں کا خون پیتے پیتے آدمخور طاقتور ہو چکے ہین تو دوسری طرف وطن عزیز کی دیگر اقوام مسلمانوں کا خون بہتے دیکھ کر اس درجہ بے حس ہوچکی ہیں کہ اب جبکہ وہی کچھ ان کے ساتھ ہو رہا ہے توبھی وہی۔ زمیں جنبد بہ جنبد گل محمد والا معاملہ درپیش ہے۔

مزید پڑھیں >>