ہندوستان

افراضل کے قتل جیسی نفرت کی کھیتی کون کررہاہے؟ 

صوبہ راجستھان میں ہندوانتہاپسندوں نے بے رحمی کے ساتھ ایک مسلمان مزدور کو کلہاڑیوں کے مسلسل وار کرکے قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو آگ لگادی، اپنی سفاکیت اورحیوان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے قاتلوں نے اس سارے واقعے کی ویڈیو ریکارڈ کرکے واٹس ایپ کے ذریعے وائرل بھی کردی۔ واقعے کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد علاقے میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی، یہ ایک سیاسی چالاکی ہے جس کے ذریعے وسندھراراجے حکو مت اپنی حیوانیت پردے ڈالنے کی ناپاک کوشش کر رہی ہے جب کہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کلیدی مجرم کو گرفتار کرلیاہے۔

مزید پڑھیں >>

وہ نیچ جس کا سارے فسانے میں ذکر نہ تھا

گجرات کی انتخابی مہم کو دیکھ کر یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہاں  وزیراعلیٰ کی ذمہ داری کس پر ہے اور  ملک کا وزیر اعظم کون ہے؟  پردھان سیوک نے ازخود اپنے آپ کو وزیراعلیٰ بنا  لیا ہے اور اس طرح ہاتھ پیر مار رہے ہیں گویا ان کی کرسی خطرے میں  ہے۔  پنجاب میں کانگریسی وزیراعلیٰ سےجس طرح کوئی فرق نہیں پڑا اسی طرح گجرات میں بھی کانگریس کے  اقتدار سنبھال لینے پر بھی  ان کی کرسی محفوظ رہے گی لیکن مودی جی جانتے ہیں کہ اگر گجرات میں راہل نے پٹخنی دے دی تو ؁۲۰۱۹ میں وہ بہ آسانی چت ہو جائیں گے۔  یہی سبب ہے کہ پہلے تو گجرات کا وکاس پاگل ہوا اور اب اس کے باپ پر جنون سوار ہوگیا۔

مزید پڑھیں >>

 یہ کیسی تصویر بن رہی ہے!

موجودہ حالات میں میڈیا کا کردار وہ نہیں رہ گیا ہے جس کی ضرورت تھی اورجہاں اسے مضبوطی سے کاربند رہنا چاہیئے تھا۔ حالات حاضرہ کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ہندوستانی سیاست انتہائی برے دور سے گزر رہی ہے جہاں نہ تو سیاسی رہنما اپنے فرائض درست طور سے انجام دے رہے ہیں نہ ہی میڈیا  اپنا کردار صحیح ڈھنگ سے نبھارہا ہےجسے جمہوریت کا چوتھا ستون تسلیم کیا گیا ہے۔اب ظاہر ہے کہ ایسے میں اس گلستاں کی کیسی  تصویر بنے گی جس کی ہر شاخ پر فسادی،  مطلبی اور خود غرضوں کا مکمل قبضہ ہوچکا ہے.

مزید پڑھیں >>

گئو رکشا کو تین طلاق

لاوارث گایوں کا  معاملہ اس قدر سنگین ہوگیا ہے کہ مدھیہ پردیش اسمبلی کو اس پر بحث کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس بحث میں جو تجاویز پیش کی گئی  تھیں انہیں سن کر تو بیل بھی  شرماجائے۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی مرلی دھر پاٹیدارنے ایک ایسا قانون بنانے پر زور دیا جس کے تحت غریبی کے خط سے نیچے زندگی گزارنے والوں کو سرکاری سہولیات دیتے وقت کم ازکم ایک لاوارث گائے کو پالنے کا پابند کیا جائے۔ یہ عجیب تماشہ ہے کہ  گئوماتا کے نام پر ووٹ  نیتا لے مگر  اس کی پرورش کی ذمہ داری غریب جنتا کے سر تھوپ دی جائے۔ پاٹیدار نے ۴۷۲ ایکڑ زمین پر چراہ گاہ بنائی ہے جس میں ۵۰۰۰ گائیں چر سکتی ہیں مگر اسے اندیشہ  ہے کہ اس کا اعلان ہوجانے پر لوگ اپنی ۴۰ تا ۵۰ ہزار گائیں وہاں چھوڑ جائیں گے۔

مزید پڑھیں >>

حصار جبر میں زندہ بدن جلائے گئے

وطن عزیز میں پہلے سڑکوں اور پلوں کے نام بدلے جاتے تھے۔ اس کے بعد اسٹیشنوں اور ہوائی اڈوں کے نام بدلنے لگے۔ بات آگے بڑھی تو شہروں اور ضلعوں کے نام بدلے یہاں تک کے اڑیسہ جیسے صوبوں تک کے نام بدل دیا گیا لیکن اب وقت آگیا ہے اس ملک کا نام ہندوستان سے  بدل کر درندستان  رکھ دیا جائے۔ راجستھان کے  ضلع راجسمند میں  شمبھولال ریگر نامی درندے کے ذریعہ ۴۸ سالہ  بے قصور  بنگالی مزدور محمد افرازل  کی شہادت اور قاتل کے ذریعہ اس کی تشہیر  کے بعد اب  یہ سرزمین مہذب انسانوں کی بستی کہلانے کی حقدار نہیں رہی۔ یہاں  سے  رام بھکتوں نے عدل و انصاف کو بن باس پر روانہ کردیا   ہے اور چہار جانب جنگل  کا قانون نافذ ہوگیا ہے  بلکہ جنگل راج  میں بھی ایسی درندگی کا مظاہرہ نہیں  ہوتا۔

مزید پڑھیں >>

عالمی یوم انسداد بدعنوانی اور ملک کی بدعنوانیاں

9 دسمبر کی تاریخ نہ صرف سماجی معیشت کے لئے بلکہ ملک کی خوشحالی اور ترقی کے لئے کافی اہم ہے کہ اگر حکومت، ملک کے اندر بہت تیزی سے پھیل رہی بدعنوانیوں کے انسداد پر مثبت رویہ اختیار کرتی ہے، تو بہت ممکن ہے کہ کرپشن کے سلسلے میں ہر سال جاری ہونے والی مختلف فہرستوں میں ہمارے ملک کا نام ڈھوندنے سے بھی نہ ملے اور ہم فخریہ اس بات کا اعلان کر سکیں کہ ہمارا ملک بدعنوانیوں سے پاک ہے۔ کاش ایسا ہو۔

مزید پڑھیں >>

امن: انصاف و محبت کی زمین سے ہی اگتا ہے! 

سیاسی زوال کے بدترین داؤں پیچ اور ہوس اقتدار کے نشے میں چور سیاسی جماعتوں کی بے جا دست اندازیوں کے باوجود عدلیہ  نہ صرف اپنی شبیہ صاف ستھری رکھنے میں کامیاب ہے بلکہ بروقت مناسب اورمنصفانہ فیصلوں سے ان شرپسند لیڈران کا ناطقہ بھی بند کررکھا ہے اور انتظامیہ کی غفلت کا اضافی بار بھی سنبھالےہوئےہے۔

مزید پڑھیں >>

لاقانونیت کے دور میں ’یوم قانون‘ کا انعقاد!

یہی کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی مفادات  اور ووٹ کی سیاست کے لئے یوم جمہوریہ کے ساتھ ساتھ یوم آئین کے منانے سے آئین کا تقدس اور اہمیت میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اگر واقئی اس کی عظمت اور تقدس کے خواہش مند ہیں تو عوام کے حقوق کا تحفظ، انسانی اقدار اور اس  کی سا  لمیت کے تحفظ  پر توجہ دیں ، تبھی آئین کے تقدسی چشمے کے نکلنے کے آثار رونما ہونگے۔

مزید پڑھیں >>

طلبہ کا ردّعمل کیا اشارہ دے رہا ہے!

محسوس ایسا ہوتا ہے کہ اب وقت بدل رہا ہے۔نوجوان طبقہ اور ریاست کے دیگر افرادوگروہ حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ایک پلیٹ فارم بی جے پی خلاف منظم ہو چکا ہے۔ جس میں دلت بھی ہیں،پٹیل برادری بھی ہے،دیگر پسماندہ طبقات بھی ہیں اور عام شہری بھی ۔وہیں گجرات سنٹرل یونی ورسٹی کے یونین نتائج نے ایک اشارہ تو واضح طور پر دے دیا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ای وی ایم مشین کیا کردار ادا کرتی ہے؟ نیز گجراتی لوگ اسمبلی الیکشن میں کس پارٹی کو کامیابی کا سہرا پہناتے ہیں !

مزید پڑھیں >>

انتہا پسندی کی راہ پر معاشرہ 

ہندوستان کا موجودہ سماج تیزی سے شدت پسندی اور مذہبی جنون کی طرف بڑھ رہاہے۔ ایسا سماج جہاں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ خواہ وہ سیاست مدار ہو یا مذہبی مقدس افراد۔ہر طرف انتہا پسندی کا عروج ہے۔ ایسا سماج وجود میں آچکاہے جو اپنے نظریات و افکار کو جبراَ تسلیم کرانے یا اپنی سوچ کے خلاف سوچنے والے افراد کو زندہ رہنے کا حق نہیں دیتے۔ اسکی بنیادی وجہ ہمارے معاشرہ میں ’’عدم برداشت ‘‘ کا بڑھتا ہوا رجحان رواداری کاختم ہوتا ہوا ماحول ہے۔

مزید پڑھیں >>