ہندوستان

2019ء کی تیاری

اُن کے ’یرقانی آقاؤں ‘ اور’ قارونی سر پرستوں ‘ نے اُنہیں سمجھا رکھا ہے کہ  جیسے بھی ہو 2019 کا الکشن جیتو، پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرو اور دستور کی غریب دوست، عوام دوست، اور اقلیت  دوست  دفعات کو بدل ڈالو اور بنیادی حقوق  پر دستوری قدغن لگاؤ تاکہ تم اپنے ’مَنُووَاد‘ کے مزے لوٹ سکو اور ہم اپنے  عالمی صہیونی قارونوں کی طرح لمبے عرصے تک عیش کر سکیں !

مزید پڑھیں >>

سرکاری اسکولوں کی نجکاری کی سفارش: نیتی آیوگ کی بد نیتی!

موجودہ حکومت جس نے منصوبہ بندی کمیشن جس کو نہرو نے بنایا تھا کو نیتی آیوگ میں تبدیل کردیا تھا۔ مودی حکومت کو نام تبدیل کرنے اور پرانے منصوبوں کو نیا نام دینے کی سنک سوار ہے۔ اس کی شروعات منصوبہ بندی کمیشن کو نیتی آیوگ میں تبدیل کرنے سے ہوئی تھی۔ موجودہ مودی حکومت کو تاریخ میں کسی اچھے نام سے یاد رکھا جائے یا نہیں لیکن ناموں کی تبدیلی، نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے غیر دانشمندانہ اور عوام مخالف کاموں اور منصوں کیلئے ضرور یاد رکھا جائے گا۔

مزید پڑھیں >>

کانگریس کی’ہندوتوا‘ سیاست

یہ سیاست سرو دھرم سنبھاؤ کے لئے ہے تو ٹھیک ہے لیکن اگر یہ ’ہندوتوا ‘،’ نرم ہندوتوا‘ یا’ سیکولر ہندوتوا ‘ کی سیاست ہے جسکا گمان غالب ہے تو سمجھئے کہ کم از کم کانگریس کے لئے تو یہ مزید ناکامیوں کی ضمانت ہے کیونکہ وہ اس شدت سے ہندوتوا سیاست نہیں کر سکتے جس شدت سے بی جے پی کرتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

جمہوریت کے دعویدار!

ہندوستان جیسے جُمہوری اور سیکولر ملک میں جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے صدیوں سے رہتے آئے ہیں اور ہندوستان کے تہذیبی تنوع، رنگا رنگی، دل کشی اور کثرت میں وحدت اور وسیع النظری کا نمونہ پیش کرتے ہیں ، محض امریکہ اور یورپ کی خوشنودی؛ بلکہ خوشامد میں اس ملک کو برباد اور اور اس کے وجود کو کھوکھلا کرکے اپنے مقاصد کا اڈہ بنانے چاہتے ہیں حالانکہ اسے غیرفطری اور نامعقول طریقہ پر لے جانے کی کوشش کرنا، جہاں دستور ہند کے خلاف ہے، وہیں ہندوستان کی تاریخی وتہذیبی روایت اور تقاضائے انسانیت کے بھی خلاف ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہندوستان میں مسلم میڈیا کا مستقبل؟

کسی نے تقریباً چھ مہینے پہلے اپریل کے مہینے؟میں ہمیں یہ اطلاع دی تھی کہ این ڈی ٹی وی چینل بند ہونے کے کگار پر ہے۔ میں نے پوچھا اس کی وجہ تو کہنے لگے کہ جب سے بی جے پی حکومت آئی ہے اس کے سرکاری اشتہارات کو بہت ہی کم کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے این ڈی ٹی وی کے عملہ کو تین مہینے سے تنخواہیں نہیں دی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

مسلم قیادت: ہندوستان کے تناظر میں

مسلمانوں کی کسی واقعی قیادت کے ابھرنے کو مختلف سیاسی گروہ پسند نہیں کریں گے اس لیے کہ اس وقت مسلمان ان کے آسان شکار ہیں۔ مسلمان ملک گیر ملی مسائل کے حل کے لیے سیاسی پارٹیوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان سے سودے بازی کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسلمان آبادیوں کے مقامی مسائل کے حل کے لیے بھی وہ سیاسی پارٹیوں کا سہارا ڈھونڈتے ہیں اور اس سلسلے میں پارٹیوں میں شمولیت اختیار کرتے ہیں اور ان کی تائید و حمایت کرتے ہیں۔ یہ سارا طریقِ کار اسلامی اجتماعیت کی جڑ کاٹ دینے والا ہے اور اس رویے کو جاری رکھتے ہوئے نہ کبھی کوئی مسلمان قیادت ابھر سکتی ہے، نہ مسلمان منظم ہوسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

آر ایس ایس انگریزوں کا وارث!

بھارت میں دنگے فسادات برپا کرنے میں اس تنظیم کا نام سر فہرت ہے۔ 1927ء کا ناگپور فساد ان میں اہم اور اول ہے۔ 1948ء کو اس تنظیم کے ایک رکن ناتھورام ونائک گوڑسے نے مہاتما گاندھی کو قتل کر دیا۔ 1969ء کو احمد آباد فساد ، 1971ء کو تلشیری فساد اور 1979ء کو بہار کے جمشید پور فرقہ وارانہ فساد میں ملوث رہی۔ 6 دسمبر 1992ء کو اس تنظیم کے اراکین (کارسیوک) نے بابری مسجد میں گھس کر اس کو منہدم کر دی۔

مزید پڑھیں >>

چمن میں اختلافِ رنگ و بو سے بات بنتی ہے!

جو لوگ اس ملک میں اس مخصوص ذہنیت سے نبرد آزما ہیں وہ اول درجہ میں کمیونسٹ ، سیکولرسٹ اور ڈیمو کریٹس ہیں ۔ اس لڑائی میں یہ سب سے آگے ہیں اور یہ اپنی جان کو جوکھم میں ڈال کر لڑ رہے سر بکف اور شمشیر بکف ہیں ۔ اسی لئے اس مخصوص ذہنیت کے لوگ ان کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں ۔ سیاسی میدانوں ، تعلیمی اداروں اور سڑکوں پر جسے Hit Street کہتے ہیں ، سب میدانوں میں ان کے خلاف اترے ہوئے ہیں ۔ کانگریس ایک سیاسی جماعت ہے۔ اس مخصوص ذہنیت کی زندگی کانگریس کی موت ہے اور کانگریس کی زندگی اس مخصوص ذہنیت کی موت ہے۔

مزید پڑھیں >>

مدارس: امید کی آخری کرن!

اسلامی مدارس اور دینی درس گاہوں کا اصل موضوع کتاب الٰہی وسنت رسول ہے۔ انھیں کی تعلیم و تدریس، افہام وتفہیم، تعمیل واتباع اور تبلیغ واشاعت مدارس عربیہ دینیہ کا مقصود اصلی ہے۔ بالفاظ دیگر یہ تعلیمی وتربیتی ادارے علوم شریعت کے نقیب،اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائض نبوت تلاوت قرآن، تعلیم کتاب اور تفہیم حکمت وسنت کے وارث وامین ہیں۔

مزید پڑھیں >>

سنگھ پریوار کے عزئم یا مونگیری لال کے سپنے!

اس میں کوئی شک نہیں کہ سنگھ پریوار نے پچھلے سو برسوں میں قابل ذکر  کامیابی حاصل کی ہے لیکن وہ یہ بھول گئے ہیں کہ ڈونالڈ ٹرمپوں ،نریندر مودیوں ،نیتن یا ہوؤں  جیسے فرعونوں اور اڈانیوں  نیز امبانیوں جیسے ملکی و غیر ملکی قارونوں کی  ظاہری بالادستی  اور مظالم کی عالمگیریت کے باوجود دنیا ظلم ،تعصب اور نسل پرستی کی طرف نہیں  سماجی انصاف اور حقوق انسانی کی بحالی کی طرف بڑھ رہی ہے !

مزید پڑھیں >>