ہندوستان

آسان نہیں ہے کانگریس کیلئے گجرات فتح کرنا!

ریاستی حکومت نے ہمیشہ ہندوتوا کو ترقی سے جوڑ کرعوام کے سامنے پیش کیا ہے جو گجرات کے غیر سیکولرووٹروں کی پسند بھی ہے۔ بی جے پی اوروزیر اعظم نریندر مودی ووٹروں کو یقین دلانے میں کامیاب رہے ہیں کہ کانگریس ہندومخالف جماعت ہے جو مسلمانوں کے فائدے کے لئے کام کرتی ہے۔ گزشتہ انتخابات میں بی جے پی نے بڑی کامیابی کے ساتھ اس منصوبہ کا استعمال کیا تھا۔ گجرات میں مسلمانوں کے تئیں ہندوؤں میں نفرت واضح طور پر نظر آتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

وہی قاتل، وہی منصف، عدالت اس کی، وہ شاہد  

گجرات میں بی جے پی  کے ستارے جیسے ہی گردش میں آئے امیت شاہ کو دن میں  تارے نظر آنے لگے۔ جئے شاہ کے معاملے تو عدالت پر دباو ڈال کر کسی طرح رفع دفع کردیا  گیالیکن جریدہ کاروان کے  بیباک صحافی نرنجن ٹاکلے نے  امیت شاہ کی نیند اڑا دی۔سہراب الدین مبینہ انکاؤنٹر کی سماعت کرنے والے سی بی آئی جج برج گوپال ہرکشن لویا کی موت پر  شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ  سے اس کا قتل ِ ناحق ہونا  اظہر من الشمس ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہندوستان کا میڈیا اتنا ڈرپوک کیسے ہوگیا

ہندوستان کا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پوری طرح سے حکومت کا غلام بن چکا ہے چار مہینے کی جدوجہد کے بعد جو پورے ملک کے ہزاروں کسان اپنے پروگرام کے مطابق 20  نومبر کو رام لیلا میدان پہونچ گئے تب بھی پورے دن ہم نے ہر چینل پر چاہا کہ کہیں ان کی جھلک نظر آئے جو ملک کی جان ہیں لیکن ہر چینل پر پدماوتی اور رانی کے تابعدار کسی نہ کسی شہر میں ہنگامہ کرتے نظر آئے یا راجپوت لیڈر جان کی بازی لگاکر اس فلم کو روکتے ہوئے دکھائے گئے۔

مزید پڑھیں >>

نیشنل کانفرنس: بچہ بچہ جانتا ہے کہ درد کیا ہے کشمیر کا

آج نیشنل کانفرنس لوگوں کو اپنی باتوں سے پھسلانے کی ایک بار پھر کوشش کر رہی ہے تاکہ وہ برسراقتدار ہو سکے لیکن لوگ آج ان کی ڈرامہ بازی اور مسخرے پن سے اچھی طرح واقف ہیں اور جو کم قلیل اب بھی ان کے گیت گاتے ہیں انہیں بھی اس چیز کا خیال کرنا چاہیے کہ آج تک اس پارٹی نے اصل معنوں میں کشمیر اور کشمیریوں کو کیا دیا۔

مزید پڑھیں >>

کشمیر مذاکرات: وقت گزاری کا بہترین مشغلہ!

2016 ء میں برپا ہونے والی عوامی احتجاجی مہم کے بعد عوامی جذبات اور حریت پسندی کے جذبے کو طاقت کے ذریعے سے دبانے کی بھارتی پالیسی میں اب بظاہر تبدیلی محسوس ہورہی ہے۔ حال ہی میں بھارت کی مرکزی سرکار کی طرف سے آئی بی کے سابق سربراہ دنیشور شرما کو ریاست جموں و کشمیر کے لئے مذاکرات کار نامزد کیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے متعلق مختلف حلقوں میں مختلف النّوع تجزیے اور اندازے لگائے جارہے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

مرے قبیلہ کا ہر فرد قتل گاہ میں ہے!

کیا مرنے والے ہندوستانی نہیں تھے کیا انھوں نے ہندوستانی قانون سے بغاوت کی تھی کیا وہ بھارت ماتا کے بیٹے نہیں تھے ؟!آخر ان سے جینے کا حق کیوں چھین لیا گیا۔ آج ہندوستانی مسلمان حیران و پریشان چوراہے پر کھڑا ہے اور یہ چوراہا بھی اس کے لئے محفوظ نہیں کون جانے کب گئو دہشت گردوں کی جنونی بھیڑ آ کر گھیر لے اور گائے کے نام پر قتل ہونے والوں میں ایک مسلمان کا اور اضافہ ہو جائے۔ !

مزید پڑھیں >>

یہاں تو معرکہ ہوگا! مقابلہ کیسا؟

بات چیت سے اب کچھ حل ہونے والا نہیں۔ جس طرح انہوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بابری مسجد کو شہید کیا تھا ٹھیک اسی طرح بنابھی سکتے ہیں۔ بقول سادھوی رتمبھرا مرکز میں مودی ہیں یوپی میں یوگی ہیں اوراس کے باجود اگر رام مندر تعمیر نہیں کرسکے تو پھر کب کریں گے۔ بذریعہ جوروجبر اگر آپ رام مندر تعمیر کرسکتے ہیں تو شوق سے کرلیں لیکن اس کے لئے آگ کا دریا تیر کرکے جانا ہوگااور نہیں تو پھر اب سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں۔

مزید پڑھیں >>

مبارک ہو ! مسئلہ کشمیر حل ہونے کو ہے

یہ وقت ہی فیصلہ کرے گا لیکن یہ واضح ہے کہ اس بار مسئلہ کشمیر حل ہو ہی جائے گا۔ حل ایسا جس سے یا تو سارے کشمیری ذہنی طور ہندو بن جائیں گے یا ان کے لیے مزید مصائب ومشکلات اور ماردھاڑ کی نئی حکمت عملی ترتیب دی جائے گا۔بقول دنیشور شرما کے کہ ’’وادی کے پہلا دورہ ۶؍نومبر کو کر یں گے جس دوران وہ چار دن وادی اور دو دن جموں میں گزاریں گے اور وادی کی مذہبی، سیاسی، تجارتی ودیگر سماجی وغیرہ تنظیموں سے بات چیت کریں گے اور اس کے ساتھ ہی طلبہ تنظیموں سے سے بھی رابطہ کریں گے۔ گویا یہ صاف اعلان ہے کہ وادی میں چند ماہ کے بعد کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے…!

مزید پڑھیں >>

راہل پہلے ماضی کو پڑھیں پھر فیصلہ کریں

اس وقت کانگریس کی پوزیشن وہ نہیں ہے کہ وہ بی جے پی سے مقابلہ کررہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ کانگریس کے ایک لیڈر تھے انہوں نے بھی ایک مہینہ پہلے راجیہ سبھا الیکشن کے موقع پر استعفیٰ دے دیا تھا۔ اب وہاں کوئی ایسا لیڈر نہیں ہے کہ اگر پارٹی جیت جائے تو اس کے گلے میں مالا ڈال کر اسے مکھ منتری بنایا جائے پارٹی سے استعفیٰ نہ دیا ہوتا تو شنکر سنگھ واگھیلا ایسے ضرور تھے۔

مزید پڑھیں >>

اندھوں کا مقبرہ، شاہی بیان اور سچ کو دفن کرنے کی تیاری 

سچ کو دفن کرنے کی خبر چھتیس گڑھ سے آی ہے .سینئر صحافی ونود ورما کو انکے گھر غازی آباد سے اس لئے گرفتار کیا گیا کہ انکے پاس چھتیس گڑھ حکومت کے وزیر راجیش مونت کی سیکس سی ڈی تھی .یہاں بھی اندھی نگری چوپٹ راجا کی مثال دی جا سکتی ہے، جس نے جرم کیا، اسے مسیحا بنایا جا رہا ہے .

مزید پڑھیں >>