ہندوستان

آدھار سے اموات تک

ان اموات نے آدھار کی بِلا ضرورت اہمیت اور غیر ضروری افادیت کے نتیجے میں جہاں حکومت کے ہوش اُڑادئیے وہیں آدھار کو ہر معاملے میں لازمی قرار دینے پر سوالات کے انبار اکھٹے کر دئیے ہیں ۔ کیا اناج مہنگا اور ہماری جانیں اس قدر سستی ہوچکی ہیں یا دل بے حس اور ظالم ہوچکے ہیں ؟کیا موت اس قدرآسان ہوچکی ہیں یا غربت ایک گناہ اور غریبی ایک طعنہ بن چکی ہیں ؟کیا ایک کارڈ کی اہمیت بڑھ گئیہیں یا انسانیت نے دَم توڑ دیا ہے؟سوالات بہت ہیں لیکن۔ ۔ ۔

مزید پڑھیں >>

میں کیا کروں مرے زخمِ یقیں نہیں جاتے!

خیر ایک ناکام مذاکرات کار سے کسی قابل تنفیذ تجاویز کی امید نہیں کی جاسکتی بالخصوص ایک ایسے آدمی سے جو آئی بی کا سربراہ رہا ہو کیوں کہ وہ انسانی بنیادوں پر معاملات کو دیکھنے کی بصیرت سے محروم ہوجاتے ہیں اس لئےمیں صرف اتنی امید رکھوں گا کہ دنیشور شرما بیج بہاڑا کے اس باغ میں حاضری ضرور دیں گے جو اس وقت کرکٹ کھیلنے والے معصوم بچوں کی قبرگاہ ہےاور جن کے ورثا کو 24 سال بعد بھی کوئی انصاف نہیں ملا ہے۔

مزید پڑھیں >>

بڑھتی ہوئی شہرکاری کے چیلنجز اور ہماری ذمہ داریاں

شہروں میں بے تحاشہ بڑھتی ہوئی آبادی کا ناقابل برداشت بوجھ اور ہرسو قائم کل کارخانوں کے مسموم دھوئیں، سڑکوں پر فضاء کا سینہ چاک کرکے دندناتی گاڑیوں اور مسلسل بڑھتی ہوئی انڈسٹریزکے نتیجے میں ماحولیاتی اورصوتی آلو دگی نے انسانی زندگی کے لیے کئی سنگین مسئلے کھڑے کر دیے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ آلودگی ہوا اور پانی میں ہی پائی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے آئے دن شہری معاشرے میں متعدی اور وبائی بیماریاں حملہ آور ہوجاتی ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

سرمایہ داروں کی جنگ زر گری اور حکمراں کی ساحری !

مسلسل بڑھتی ہوئی غریبی و امیری کی درمیانی خلیج،  کمی کے بجائے بےروزگاری میں اضافہ، غیر مفید علم کی لائی ہوئی غیر نافع ترقی کے نتیجے میں ہوا، زمین اور پانی کی  قاتل  آلودگی، بھکمری،  سودی قرض کےبوجھ تلے دبے ہوئے کسانوں کی خود کشی، وغیرہ کے حقیقی زمینی انسانی مسائل کی طرف سے عام آدمی کی توجہ ہٹانے کے لیے یہ باطل قارونی نظام  جو ہتھ کنڈے اپناتا ہے وہی وطن عزیز میں نام نہاد گؤ رکشا اور لو جہاد وغیرہ کے نام پر ہورہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

مولانا انظر شاہ کی رہائی: لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی

مولانا انظر شاہ قاسمی کے باعزت بری ہونے کی اطلاع جونہی شوسیل میڈیا پر عام ہوئی مسلم حلقوں اور ملک کے انصاف پسند شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، مولانا کی رہائی کے لیے پیروی کرنے والی ملک کی عظیم وقدیم تنظیم جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی کے بشمول مختلف تنظیموں، عمائدین اور مذہبی وسماجی شخصیات نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا، مولانا سید ا رشد مدنی نے فیصلہ پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ فرقہ پرست انتظامیہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے ان پر کتنے ہی جھوٹے مقدمات قائم کرلے، لیکن ہمیشہ سچائی کی جیت ہوتی ہے

مزید پڑھیں >>

اسلامیات کا مطالعہ: موجودہ ہندستان میں

 علوم اسلامی کے ارتقاء میں ہندستان کا کردار متعدد ناحیوں سے بحث و تحقیق کا موضوع بن چکا ہے۔ اس موضوع پر بھی تحقیقات ہوچکی ہیں کہ ہندستان کے ارتقاء میں اسلامی علوم نے کیا کردار نبھایا۔ جب ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں اور حق کرتے ہیں کہ اسلام اپنے اندر ہر دور کا ساتھ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، تو یہ بحث خود بہ خود اپنے انجام تک پہنچ جاتی ہے کہ اسلامی علوم نے ملک کی ترقی میں اہم رول ادا کیا ہوگا۔

مزید پڑھیں >>

جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے

یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اخلاق کے گھر میں جو گوشت فریج میں رکھا تھا وہ اور جو پک رہا تھا وہ بکرے کا گوشت تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جن کی ضمانت ہوگئی ہے ان سے وہاں کے ایم ایل اے کوئی رابطے نہ رکھتے کیونکہ انہوں نے ایک ایسے آدمی کو قتل کیا ہے جس نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ بقرعید کا تہوار منا رہا تھا۔

مزید پڑھیں >>

ہندستان کی براہمنیت

یوں توبراہمنوں کے مطابق انکے دیوتائوں کی تعداد چالیس کروڑ ہے یعنی دیوتائوں کی تعداد پجاریوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے اور گائے ان دیوتائوں کی سردار ہے  ہندو مت کے پیروکار اگر جانور وں مثلا ناگ، ہنومان اور بندروں کی پرستش کرتے ہیں تو وہ درختوں ، پتھروں ، دریائوں کے سنگم، منبع، سورج، چاند، اور انگنت دوسری چیزوں کی پوجا بھی کرتے ہیں مزید یہ کہ وہ علم، موت، دولت وغرہ کو بتوں کی شکل دیتے ہیں اور انہیں دیوتا مان کر انکی پوجا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

جو جتنا چاہے لوٹ لے اس ملک کو!

ہندوستان کی آزادی کے فورا بعد ہی بدعنوانیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا,بدعنوانی کے خاتمے کے لیے 21دسمبر 1963 کو پارلیمینٹ میں بحث ہوئی جس میں ڈاکٹر رام منوہر لوہیا نے کھلے لفظوں میں کہا تھا کہ ہندوستان میں سیاست اور تجارت کے تعلقات اتنے بد عنوان ہو گئے ہیں دنیا کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا.

مزید پڑھیں >>

نئی متنازعہ حج پالیسی: دین میں مداخلت کا ایک اور شوشہ

 محرم اسے کہتے ہیں جس سے عمر بھرکبھی بھی کسی حال میں نکاح درست نہ ہو۔ جیسے باپ، بھائی، بیٹا، چچا، ماموں وغیرہ اور جس سے کبھی بھی نکاح درست ہو، جیسے جیٹھ، دیور یا ماموں پھوپھی کا لڑکا یا خالہ کا بیٹا اور بہنوئی یہ لوگ محرم نہیں ہیں،  ان کے ساتھ سفر حج یا کوئی دوسرا سفر جائز نہیں ہے۔ جب ان لوگوں کے ساتھ سفر جائز نہیں تو یہ لوگ بالکل رشتہ دار نہیں، ان کے ہمراہ سفر کیسے جائز ہوسکتا ہے؟

مزید پڑھیں >>