ملی مسائل

آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے

عبدالغفار صدیقی

اپریل ۲۰۱۷ء میں ایک ریسرچ اکیڈمی کے تعارف کے سلسلے میں اتر پردیش کے 52 بڑے مدارس کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ مدارس کے علاوہ 16 ڈگری کالجز اور 3 یونیورسٹیوں میں بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ ان مدارس میں سبھی مکاتب فکر کے ادارے شامل ہیں۔ مدارس کو دیکھ کر اور وہاں طلبہ و اساتذہ سے ملاقات کے بعد جو احساسات میرے دل و دماغ پر مرتسم ہوئے سوچا کہ ان کو ضبط تحریر میں لے آیا جائے تاکہ قارئین بھی مستفید ہوجائیں۔

ہمارے اسلاف نے مدارس کا قیام جن حالات میں کیا تھا وہ ناگفتہ بہ تھے، زیادہ تر مدارس برٹش سرکار میں قائم کیے گئے۔ اسلام کی اشاعت، مسلمانوں کاانگریزی تہذیب سے تحفظ اور ملت کے مستقبل کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنا جیسے مقاصد ان کے پیش نظر رہے اپنے وقت اور حالات کے لحاظ سے انھوں نے جو کچھ کیا وہ لائق تکریم ہے اور ان کے لیے صدقۂ جاریہ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں ان کاوشوں کا بھرپور اجر عطا فرمائے۔

مدارس کی شاندار عمارات کو دیکھ کر یہ مقولہ جو اکثر ہمارے قائدین کی زبان پر رہتا ہے کہ ’’مدارس اسلام کے قلعے ہیں ‘‘ تصویر کی شکل میں میرے سامنے آیا۔ یہ عمارتیں اپنی بلندی، پائیداری اور فن تعمیر کی بدولت مسلمانوں کی بلند فکری اور وسعت نظری کی گواہ ہیں۔ ان تعمیرات میں جدید اضافہ بھی کسی نہ کسی حد تک ان صفات کا حامل ہے۔ اس کے باوجود یہ عمارتیں طلبہ کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر تنگئ داماں کی شکایت کررہی ہیں۔

اساتذہ کے لیے طلبہ کا عجز وانکسار، سعادت مندی،  اطاعت گذاری کی صفات اب صرف اور صرف مدارس میں ہی رہ گئی ہیں۔ کالج اور یونیورسٹیوں میں تو صرف ’’پوروجوں ‘‘ کے قصے ہی تک یہ چیزیں محدود ہیں۔ ماڈرن ایجوکیشن میں تو ان قدروں کے لیے کوئی ’’استھان‘‘ نہیں ہے۔مدارس میں آج بھی طلبہ اپنے اساتذہ کے آگے چلنے کا تصور نہیں کرتے، ان کی جوتیاں سیدھی کرنے کے لیے دوڑتے ہیں ، ان کے سامنے اتنی پست آواز سے باتیں کرتے ہیں کہ ثقل سماعت کے شکار اساتذہ تو کچھ کا کچھ سمجھ جاتے ہیں او راس وقت بے چارے طلبہ اپنی پست آواز پرپچھتاتے ہیں۔ اساتذہ بھی طلبہ کے لیے ایک مشفق اور محسن کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی ضروریات کا خیال، ان کی تعلیم و تربیت کی فکر ان کو ہر وقت بے چین رکھتی ہے۔

’’سادگی‘‘ بھی مدارس میں اپنی روح کے ساتھ زندہ ہے۔ یہ سادگی مدارس کے ہر باب میں اپنا پرتو دکھاتی ہے۔ طرز تعمیر اپنی تمام فنی خوبیوں کے باوجودگی کا مرقع ہے۔طلبہ کا لباس تہبند، کرتا، پاجامہ اور ٹوپی ہے۔اکثر بچوں کے پیروں میں کم قیمت چپل، کھانا انتہائی سادہ ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ مدارس میں بچوں کو دو روٹی دو بوٹی ملتی ہے۔ یوپی سرکار نے بوٹیاں چھین لیں ، اب دال روٹی ہی رہ گئی۔ مشرقی یوپی کے مدارس میں چاول کا اضافہ، بعض مدارس میں ناشتہ ندارد، بیشتر میں ناشتہ صرف چنا یا دلیہ۔ چند مدارس کو چھوڑ کر ڈائننگ ہال سے محرومی، رہائش گاہیں ضروری لوازمات سے مبرا، درجات چٹائی اور تپائی پر منحصر۔ ان تمام میں اساتذہ برابر کے شریک۔ اس سادگی کو دیکھ کر دنیا کے جدید یے حماقت و دقیانوسیت کے طعنوں سے نوازتے ہیں۔

مدارس اسلامیہ میں طلبہ کی تعداد سو پچاس سے لے کر ہزاروں تک پہنچتی ہے۔ 90% طلبہ کا سارا خرچ مدارس برداشت کرتے ہیں اور جو اپنا خرچ دیتے بھی ہیں تو بہت معمولی۔ آج کے اس دور میں جب کہ ایک شخص کو اپنے دوچار بچوں کی تین وقت کی روٹی کے لیے ہزار جتن کرنے پڑتے ہیں یہ مدارس سینکڑوں اور ہزاروں بچوں کے خورد و نوش،  حمام، بیت الخلا، آرام گاہوں تک کا انتظام کرتے ہیں۔ تینوں وقت کھانے کا اہتمام دیکھ کر اللہ کی رزاقیت پر ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مدارس کا مہمان خانہ بھی مہمان کو خواہ وہ اس کو جانتا ہو یا نہ جانتاہو اپنے بازو میں سمیٹ لیتا ہے۔ ایک مدرسہ میں ہم ایک بجے پہنچے، طلبہ کی چھٹی ہوچکی تھی، اساتذہ آرام میں تھے، نماز ظہر کے بعد پھر درجات لگنے تھے۔ ناظم مہمان خانہ نے ہمیں مہمان خانہ میں پہنچایا، ہم سے کھانے کے لیے اصرار کیا۔ اس وقت بھوک نہیں لگ رہی تھی، ہم نے معذرت کرلی۔ ڈھائی بجے ناظم صاحب سے ملاقات ہوئی، انھوں نے معلوم کیا کہ کب تشریف آوری ہوئی، بتایا گیا کہ ایک بجے۔ پوچھا کھانا کھالیا؟ ہم نے کہا اس وقت بالکل بھوک نہیں تھی۔ مہمان خانہ کے انچارج نے بہت اصرار کیا تھا، ہم نے معذرت کرلی تھی، کہنے لگے وہ تو ٹھیک ہے۔ لیکن اب آپ پہلے کھانا کھائیں گے تب بات ہوگی، جب تک آپ کھانا نہیں کھائیں گے، کوئی بات نہیں ہوگی۔ اب ہمیں بھی بھوک لگ چکی تھی۔ مدرسہ کی دال اور روٹی جس خلوص و محبت کے ساتھ پیش کی گئی اس کی لذت آج تک محسوس ہوتی ہے۔

مدارس اپنی ان خوبیوں کے ساتھ اور بھی بہت سی خوبیاں رکھتے ہیں۔ البتہ بدلتے حالات اور گزرتے زمانے کے ساتھ ساتھ مدارس کو تبدیلیاں کرنی چاہئے تھیں وہ نظر نہیں آئیں۔ اس پر اہل مدارس فکر مند بھی نظر آئے۔امید ہے کہ بہت جلد یہ تبدیلیاں نظر آئیں گی۔ البتہ دو واقعات میرے ساتھ ایسے ہوئے جس نے مجھے احساس کرایا کہ یہ فارغین مدارس نہ اسلام کی حفاظت کرسکتے ہیں نہ ملت کی قیادت۔ ان دونوں واقعات کا انطباق اگرچہ تمام مدارس پر نہیں ہوتا لیکن 95% مدارس کی یہی تصویر ہے۔

ایک مدرسہ جو ایک سو بارہ سال قدیم ہے، فضیلت تک تعلیم کا نظم ہے، وہاں فضیلت کے طلبہ سے گفتگو کاموقع ملا، انھیں اپنے ادارے کا تعارف کرایا گیا۔ پھر میں نے کہا کہ فارم داخلہ آپ میل (Mail) بھی کرسکتے ہیں ،  طلبہ میرا منہ دیکھنے لگے۔ میں نے کہا کہ آپ میل کرنا جانتے ہیں ، انھوں نے نفی میں سرہلادیا اور بتایا کہ ہم لوگ کمپیوٹر کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہیں۔ پھر میں نے انہیں بتایا کہ ٹیسٹ Test کی تاریخیں اخبارات میں بھی شائع ہوں گی، آپ اخبارات کا مطالعہ تو کرتے ہوں گے؟ میرے برابر میں اس درجے کے استاد جو شیخ التفسیر تھے، تشریف فرماتھے، انھوں نے فرمایا یہاں اخبارات کا مطالعہ ’ممنوع‘ ہے۔ میری زبان سے انا للہ وانا الیہ راجعون نکل گیا۔ میں نے عرض کیا کہ مولانا محترم یہ فضیلت کے طلبہ ہیں ، یہ شعبان کا مہینہ ہے اور پندرہ دن بعد یہ طلبہ سند فضیلت حاصل کریں گے۔ جو اس بات کی ضمانت و علامت ہوگی کہ اب یہ طلبہ ملت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں۔ مولانا محترم ہمارے مستقبل کے ان رہنماؤں کو تو ہمارے حالات کا پتہ ہی نہیں ہے، دشمنوں اور اغیار کے ناموں سے بھی یہ لوگ ناواقف ہیں کجا کہ ان کی سازشوں سے واقف ہوں۔ یہ لوگ تو آج سے چودہ سو برس پہلے کے مکہ ومدینہ کے حالات سے واقف ہیں ، ابو جہل وابو لہب کی حرکتوں سے واقف ہیں۔ یہ بے خبر لوگ ہماری کیا رہنمائی فرمائیں گے؟ ظاہرہے اس کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا۔

مدرسہ کے ایک طالب علم سے ملاقات ہوئی، یہ مدرسہ ہمارے اہل سنت بھائیوں کا تھا۔ میں نے اس بچے سے معلوم کیا کہ دیوبندی اور سنی میں کیا فرق ہے؟ کہنے لگا بہت بڑا فرق ہے۔ دیوبندی کافر ہیں ،وہ رسول کو نہیں مانتے۔ میں نے کہا یہ بات تمھیں کس نے بتائی کہ دیوبندی رسول کو نہیں مانتے، کہنے لگا ہماری کتابوں میں لکھی ہے، ہمارے اساتذہ بھی بتاتے ہیں۔ میں نے کہا کیا کوئی اتحاد کا راستا نکل سکتا ہے۔ وہ بولا بالکل نہیں ، ہمارا ان سے کیسے اتحاد ہوسکتا ہے، ان کے پیچھے تو ہماری نماز تک نہیں ہوتی۔ یہ ایک طالب علم دیگرکے ایک چاول کی طرح ہے،ا س مکتب فکر کے بھی ہزاروں مدارس ہیں جہاں لاکھوں بچے پڑھتے ہیں اور دیوبندی فکر کے بھی ہزاروں مدارس ہیں ، جہاں لاکھوں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ غیر سنی مدارس میں بریلوی حضرات کو کافر نہیں تومشرک ضرور کہا جاتا ہے۔ کہیں یہ لفظ مقلدین کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ادیان باطلہ کے عنوان پر مسالک کی تکفیر و تذلیل کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ظاہر ہے اس ماحول اور اس نصاب تعلیم کے خواندہ و فارغین سے آپ کیا امید کرسکتے ہیں۔ وہ رام لعل سے روابط پر تو نکیر نہیں کرتے لیکن غیر مسلک سے ہر طرح کے تعلق کو گناہ سمجھتے ہیں۔

مجھے امید ہے کہ میری اس تلخ نوائی کو ارباب مدارس و اہل حل وعقد گوارہ فرمائیں گے اور دونوں واقعات کی روشنی میں ملک کے موجودہ حالات،  جو مستقبل کابھی پتہ دے رہے ہیں اپنا جائزہ لے کر کوئی لائحہ عمل مرتب فرمائیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. مدرسہ کا مہتمم عام مذہبی لوگوں سے پیسہ ٫مدرسے، کے طلبہ کے نام پرلیتا ہے۔مگر عیاشی خود کرتا ہے، گاڑی لیتا ہے، اچھے کھانے کھاتا ہے، مدرسے کے تمام مالی وسائل پر قابض ہوتا ہے۔ وہ خود مدرسے میں پکا ہوا کھانا نہیں کھاتا۔پھر ہدیہ کےنام پر الگ سے پیسے بٹورتا ہے ۔اتنا کم ظرف اور حریص ہوتا ہے کہ اپنے بیٹے کو مدرسہ کا آئندہ مہتمم ہونے کےلئے تیار کرتا ہے، جو اس کے مرنے کےبعد مدرسہ کا مہتمم بنتا ہے۔لیکن اس بدمعاشی حریص کے خلاف مدرسہ کے طلبہ کبھی آواز بلند نہیں کرتے۔یہ بےچارے بے شعور پہلے مہتمم پھر اس کے بیٹے کے خادم ہوتے ہیں۔ان جانور نما غلاموں کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔
    مدرسہ کا کوئی استاد یا مہتمم کسی لڑکے یا بچے سے جنسی زیادتی کرے تو اس کے خلاف بھی یہ آواز بلند نہیں کرتے بلکہ اپنے فرقے کی بدنامی کے خوف سے خاموش رہتے ہیں۔ان کے اندر سے عزت نفس تک ختم کردی جاتی ہے، جب بھی مہتمم کا موڈ خراب ہوا کسی کوبھی مدرسہ سے نکال دیا کوئی پوچھنے والا نہیں۔
    یہ بے شعور طلبہ اپنے حقوق سے واقف ہی نہیں ہوتے
    یہ بے شعور لوگ مدارس کے مہتمم کی عیاشی کو بھی دین ہی کی خدمت سمجھتے ہیں۔مدارس پر قابض چند خاندانوں کے غلام بن جاتے ہیں۔
    یہ مطالبہ اور سوچ تک نہیں رکھتے کہ دیگر تعلیمی اداروں کی طرح مدرسہ کا مہتمم بھی ریٹائرڈ ہو۔مدرسہ میں بھی کوئی میرٹ سسٹم ہو۔مہتمم پر کوئی چیک اینڈ بیلنس ہو۔ان کو تیار ہی ایسے ماحول میں کیا جاتا ہے کہ انہیں مدرسے کے مہتمم کاخادم بننا ہے۔ پھر ایسے گدھے عالم بن کر دین کو رسوا ہی کرتے ہیں

متعلقہ

Close