ملی مسائل

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کیا چاہتی ہے؟

پیش کردہ: عبدالعزیز

منشور

(1 مقدمہ : آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اپنی زندگی کے پچاس سال مکمل ہونے پر نہایت تزک و احتشام سے اللہ کے فضل و کرم سے جشن منایا۔ 1964ء میں اپنے قیام سے یہ تنظیم چند در چند نشیب و فراز سے گزری ہے۔ اس پچاس سالہ سفر میں اس کو بندگان خدا کا تعاون بھی ملا، ہمدردیاں بھی حاصل رہیں۔ ساتھ ہی بعض گوشوں سے مخالفتوں کا ظہور بھی ہوتا رہا۔ قیام کی پچاس سالہ مدت کی تکمیل کے موقع پر مشاورت اپنے محترم بانیان خصوصاً ڈاکٹر سید محمود، مولانا ابواللیث ندوی، مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، مولانا منظور نعمانی، محمد اسمٰعیل ایم پی، مفتی عتیق الرحمن عثمانی اور مولانا محمد مسلم صاحبان کی فکر و نظر، عزم و حوصلہ اور مساعی جمیلہ کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ مشاورت ملی کاز کیلئے سرگرم ان تمام تنظیموں اور افراد کی بھی ممنون ہے جن کا مشاورت کو تعاون حاصل رہا، خصوصاً جمعیۃ علماء ہند، جماعت اسلامی ہند، مرکزی جمعیت اہلحدیث، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور آل انڈیا ملی کونشل کی رہنمائی اور تعاون کا شکریہ ادا کرتی ہے۔ مشاورت ان تمام دیگر تنظیموں اور سماجی کارکنوں کے تعاون کیلئے بھی شکریہ ادا کرتی ہے جو انسانی و شہری حقوق اور اقلیتوں کی بہبود کیلئے سرگرم عمل ہیں اور ہمارے مختلف پروگراموں میں شریک رہے ہیں۔
(2 بین الاقوامی اور آئینی پس منظر: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور اور اقلیتوں کے حقوق پر یو این جنرل اسمبلی کی 1993ء کی قرار داد سے تحریک پاکر اقلیتوں کے حقوق کے سلسلے میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت۔
– حکومت ہند سے مطالبہ کرتی ہے کہ بعجلت اذیت رسانی کے خلاف بین الاقوامی معاہدہ کی توثیق کرے اور اس کو نافذ کرے۔
– تحریک آزادی کے شاندار ورثہ اور آئین ہند میں درج شہری حقوق اور اقلیتوں کیلئے تحفظات سے حوصلہ پاکر مشاورت ان کی روشنی میں مسلم اقلیت کی موجودہ صورت حال، ان کو درپیش مسائل اور ان کے اسباب پر توجہ دلاتی ہے جو مستقل طور سے تقریباً پورے ملک میں، ملک کی تقسیم کے بعد سے در پیش ہیں۔ جن کی بدولت ان میں مایوسی، پست ہمتی، خلفشار اور بے بسی کا شدید احساس در آیا ہے۔ یہ انتہائی ضروری ہے تاکہ ان کے اندر از سر نو قومی اتحاد و یکجہتی میں اعتماد کی بحالی، عقیدے کے تحفظ اور مادر وطن سے وابستگی کے ساتھ متحرک اور مستحکم ہو۔
مشاورت نے امن اور عدم تشدد کی حکمت عملی کو ترجیح دی ہے۔ وہ ہر طرح کی شدت پسندی، عسکریت پسندی اور تعصب کو مسترد کرتی ہے۔ اس نے ہر طرح کی ناانصافی، عدم مساوات، عدم تناسب کے خلاف اور دائرۂ امن کو بڑھانے کی جدوجہد کی ہے۔ بہت سے تنازعات کو بات چیت یا عدالتی مداخلت سے حل کرانے کی راہ اختیار کی ہے۔
(3 جمہوریت کی اصلاح: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت جمہوریت کیلئے۔
– تجویز کرتی ہے کہ موجودہ انتخابی نظام کو جس میں سب سے زیادہ ووٹ پانے والا کامیاب قرار دے دیا جاتا ہے، بدلا جائے اور متناسب نمائندگی کے طریقہ کار کو اختیار کیا جائے تاکہ ہر قابل لحاظ گروہ کو اپنی آبادی کے تناسب سے تمام منتخب اداروں میں نمائندگی حاصل ہو۔
– رائے دہندگان کو ترغیب دیتی ہے کہ اپنے حلقۂ انتخاب میں ایسے صاف ذہن امیدوار کے حق میں ووٹ دیں جس کی کامیابی امکانات زیادہ ہوں، چاہے ذات اور مذہب اس کی کچھ بھی کیوں نہ ہو۔
(4 تشدد کی روک تھام: آل انڈیا مجلس مشاورت سماج میں امن و استحکام کیلئے اور بغیر کسی رخنہ کے مادر وطن کی ترقی کیلئے سرکار کو متوجہ کراتی ہے کہ وہ کسی فرقہ کو نکو بنانے، ہراساں کرنے، اس کی بے عزتی کرنے اور کسی پر بے بنیاد الزام تراشی کرنے، اشتعال پھیلانے اور تحقیر آمیز بیانات دے کر سماج میں کشیدگی پیدا کرنے والوں اور گاؤں و محلوں میں کمزور طبقوں کو سماج سے کاٹنے کی کوششوں کو سختی سے روکے۔ اس طرح کی تفرقہ بازی سے قوم کی ترقی میں رکاوٹ پڑتی ہے۔
– مشاورت حکومت کو متوجہ کرتی ہے کہ وہ تمام فرقوں کی عزت و آبرو اور ان کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ متواتر رونما ہونے والے گروہی اور فرقہ وارانہ تصادمات، فسادات اور منافرت پھیلانے والے بیانات کو روکنے اور خطاکاروں کو سخت سزا دینے کیلئے بلا تاخیر ایک جامع قانون بنائے اور متاثرین کی حفاظت اور فسادات کو کنٹرول کرنے کیلئے حساس مقامات پر ملی جلی فورسز کو تعینات کیا جائے، جن کی نفری میں تمام فرقوں کے افسر اور عملہ شامل ہیں۔
– مشاورت حکومت سے اس بات کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتی ہے کہ ’’امن اور قانون کی محافظ فورسز کو، جن میں کمزور طبقات کے افراد بہت ہی کم ہوتے ہیں، قانون شکنی اور مجرمانہ سرگرمیوں سے تحفظ فراہم نہ کیا جائے۔ اس طرح کے برتاؤ سے عوام میں اضطراب پھیلتا ہے اور قوم کی تعمیر و ترقی کے عمل پر زد پڑتی ہے نیز ذہنی عسکریت پسندی اور آئینی و قانونی تحفظات کے اصولوں سے چشم پوشی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
– مشاورت مطالبہ کرتی ہے کہ سیکولر جمہوریت کے تقاضے کو پورا کرنے کیلئے سال میں کم از کم ایک بار قومی یک جہتی کونسل کی میٹنگ ہو اور پارلیمنٹ میں سال میں کم از کم ایک دن فرقہ ورانہ صورت حال پر غور و فکر اور مباحثہ ہو۔
– مشاورت مطالبہ کرتی ہے کہ جسٹس لبراہن کمیشن اور جسٹس سری کرشنا کمیشن کی سفارشات کو نافذ کیا جائے۔
(5 مذہبی آزادی کا فروغ: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ایک مرتبہ پھر اپنے اس موقف کا اعادہ کرتی ہے کہ ہمارے مادر وطن جیسے معاشرے میں، جس میں مختلف عقائد اور مذاہب کے پیروکار بستے ہیں، آئین میں مذکور مذہبی آزادی کا پوری طرح احترام کیا جائے اور کسی بھی طرح کے براہ راست یا بالواسطہ جبری تبدیلیِ مذہب، شادی بیاہ، پیدائش اور وراثت وغیرہ سے متعلق کسی بھی فرقہ کے مذہبی عائلی قوانین میں اور ان کی مذہبی تعلیم کے نظام میں کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہئے۔ کسی کی مذہبی علامات، مقدس کتابوں اور مقامات پر کوئی حملہ نہیں ہونا چاہئے۔
(6 تعلیم کا فروغ: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت سب کیلئے مفت اور لازمی تعلیم کے تحت پرائمری کلاس سے آگے تک معیاری اور جامع تعلیم کیلئے:
– تجویز کرتی ہے کہ تعلیم کے بجٹ میں قومی آمدنی کے کم از کم چھ فیصد کے بقدر اضافہ کیا جائے۔
– مطالبہ کرتی ہے کہ پرائمری کی سطح پر بغیر کسی شرط، تمام فرقوں اور گروہوں کے بچوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم کا بندوبست کیا جائے اور اسکول سطح تک تمام کلاسوں میں مادری زبان کو ایک لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے۔
– تجویز کرتی ہے کہ سیکنڈری درجات، تکنیکی اور پیشہ ورانہ کورسوں اور یونیورسٹیوں میں تمام گروہوں کے طلباء کو ان کی آبادی کے تناسب میں داخل دیئے جائیں۔
– مطالبہ کرتی ہے کہ آل انڈیا ریڈیو اور دور درشن کے مراکز پر تمام لسانی اقلیتوں کو، جو ان علاقوں میں رہتی ہیں جن میں اس سنٹر کے پروگرام سنے جاتے ہیں، متناسب نمائندگی دی جائے۔
(7 سب کے لئے ریزرویشن:
– آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت حکومت سے درخواست کرتی ہے کہ 1950ء کے صدارتی حکم سے مذہبی تفریق کو ختم کیا جائے۔
– سرکار سے مطالبہ کرتی ہے کہ تمام ممکنہ ذرائع سے کوشش کرے کہ تمام فرقوں کو قومی آمدنی، تعلیم اور روزگار کے مواقع عمومی بہبود کے پروگراموں میں متناسب حصہ مل سکے۔
– مشاورت یہ مطالبہ بھی کرتی ہے کہ تمام فرقوں کو بغیر کسی مقررہ فیصد حد بندی کے تمام سرکاری ملازمتوں اور ہر سطح کے منتخب قومی، ریاستی یا مقامی اداروں میں ان کی آبادی کے تناسب سے نمائندگی دی جائے۔ ریزرویشن سے عدم استحقاق کے ضابطے سب کیلئے بلا تفریق مذہب یکساں رکھے جائیں۔
– مشاورت قومی ترقی کے فوائد تمام محروم طبقات تک منصفانہ طور سے پہنچانے کیلئے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ دیہات سے لے کر اوپر تک ہر سطح پر تعلیم، صفائی ستھرائی، خدمات صحت، سڑکوں، بجلی، پینے کے لائق پانی، رہائش وغیرہ کی سہولتوں میں برابر فائدہ پہنچانے اور قومی آمدنی میں ان کو برابر کا شریک کرنے کیلئے ترقی کے ثمرات کی منصفانہ تقسیم کی جائے اور ریاستوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے مرکز سے وسائل کا متناسب اجراء کیا جائے۔
– زیر التوا مقدمات کو جلد از جلد نمٹانے کیلئے یہ تجویز پیش کرتی ہے کہ آل انڈیا جوڈیشیل کمیشن اور ایک علاحدہ یونین جوڈیشیل سروس کمیشن قائم کئے جائیں۔
(8 قومی مفاہمت کی صورت گری:
– آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کا منصوبہ ہے کہ قومی آہنگی، کثرت میں وحدت، تمام مختلف الخیال گروپوں میں باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دینے اور پر امن بقائے باہم کی صورت گری کیلئے تمام ملی اور ہم خیال دیگر تنظیموں اور افراد کی سالانہ کانفرنسوں کا انعقاد کیا جائے۔
– اس اعتراف کے ساتھ کہ قومی تعمیر کا کام صرف ریاست کی ہی نہیں بلکہ سب کی ذمہ داری ہے، اس کام میں تمام صاف ذہن افراد، اداروں، تعصب سے پاک تنظیموں اور سبھی فرقوں کے نمائندوں کو شامل کیا جائے۔
(9 عالمی منظر نامہ: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کو اس بات کا یقین ہے کہ سرکار اور عوام کا ہدف اس سے کم نہیں ہونا چاہئے کہ ہم اپنے مادر وطن کو دنیا کے سامنے ایک نمونہ کے طور پر پیش کریں تاکہ سیاسی، اقتصادی اور سماجی طور سے ایک نئے عالمی نظام کیلئے راہ ہموار ہوسکے۔ ایسا نظام عالم جو ہر طرح کی عسکریت پسندی، دہشت گردی، جنگ جوئیت، مسلح تصادمات، بھوک اور افلاس، ناخواندگی،جہالت، تباہ کن اسلحہ کے انباروں سے پاک ہو، جس میں علم و معرفت اور ٹکنالوجی سب کی ساجھی ملکیت ہو اور جس میں ہنر مندی کی دولت سب کیلئے عام ہو۔
– مشاورت مختلف ممالک اور عوام میں نابرابری کو کم کرنے کیلئے ایک عالمی ترقیاتی ٹیکسز کی تجویز پیش کرتی ہے جس سے تمام ممالک میں دوستانہ رشتے قائم ہوں۔ خاص طور سے اپنے اس برصغیر میں ترقیاتی تجربات کا تبادلہ ہو اور دنیا میں کہیں بھی اگر کسی گروہ کا استحصال ہو رہا ہو تو اس کا خاتمہ کیا جائے نیز بیرونی قبضوں اور براہ راست یا بلا واسطہ داخلی یا خارجی سامراجیت ختم ہو۔
(10 اﷲ سے نصرت کی دعا: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اپنے مستقبل کے مشن کی کامیابی اور کامرانی کیلئے، اپنی کوششوں میں اخلاص اور لگن کیلئے نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے رہنمائی اور نصرت کی دعا کرتی ہے۔ اے باری تعالیٰ ان کوششوں سے ہمارا مقصد اور ہدف اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے ملک میں، ہمارے خطے میں اور پوری دنیا میں امن و سلامتی کا بول بالا ہو، زور زبردستی اور دہشت پسندی کا خاتمہ ہو جس کو اسلام سے منسوب کرنے کی شرارت کی جارہی ہے، خدایا تیرے بندوں کو ورغلایا جارہا ہے۔ اے اللہ! ہماری مدد فرما اور ہماری رہنمائی فرما۔ آمین!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close