تاریخ ہندملی مسائل

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ: مبارک جدوجہد کے 45 سال (دوسری قسط)

شاہ اجمل فاروق ندوی

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے وجودِ مسعود کے پینتالیس سال کو چار ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

۱۔ دورِ اول:
پہلا دور دس سال پر محیط ہے۔ اس دور کا آغاز ۷؍اپریل ۱۹۷۳ سے ہوا اور اختتام ۱۷؍جولائی ۱۹۸۳ کو ہوا۔ ۱۹۷۳ میں مولانا قاری محمد طیب قاسمی کو بورڈ کا پہلا صدر منتخب کیا گیا۔ اپنی وفات تک وہی صدر منتخب ہوتے رہے۔ مولانا سید منت اﷲ رحمانی جنرل سکریٹری کی حیثیت سے ان کے دست راست بنے رہے۔ ۱۹۸۳ میں قاری صاحب کی وفات کے ساتھ بورڈ کا دورِ اوّل ختم ہوگیا۔

۲۔ دورِ ثانی:

مولانا قاری محمد طیب قاسمی کی وفات کے بعد ۲۸؍دسمبر ۱۹۸۳ کو مدراس میں بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندوی کو بورڈ کا دوسرا صدر مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد مولانا بھی بار بار صدر منتخب ہوتے رہے۔ بالآخر ۳۱؍دسمبر ۱۹۹۹ کو ان کی وفات ہوگئی۔ بورڈ کا یہ دوسرا دور سولہ برسوں پر محیط ہے۔ اس دور میں مولاناسید منت اﷲ رحمانی کی وفات کے بعد مولانا سید نظام الدین کو بورڈ کا جنرل سکریٹری مقرر کیا گیا۔

۳۔ دورِ ثالث:

بورڈ کا تیسرا دور سب سے مختصر ہے۔ مولانا علی میاں ندوی کی وفات کے بعد ۲۳؍اپریل ۲۰۰۰ کو لکھنؤ میں منعقدہ اجلاس میں مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کو بورڈ کا تیسرا صدر منتخب کرلیا گیا۔ قاضی صاحب کی عمر تو زیادہ نہ تھی، لیکن وہ مختلف مہلک بیماریوں میں گھرے ہوئے تھے۔ ان ہی بیماریوں سے جوجھتے ہوئے وہ بہ طور صدر ڈھائی سال گزار کر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اُن کے دور میں بھی مولانا سید نظام الدین جنرل سکریٹری کے فرائض انجام دیتے رہے۔

۴۔ دورِ رابع:

قاضی صاحب کی وفات کے بعد ۲۳؍جون ۲۰۰۲ کو حیدرآباد میں اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس اجلاس میں بالاتفاق مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی، صدرِ رابع منتخب ہوئے۔ صدرِ رابع کے عہدے کے لیے سید محمد رابع کا انتخاب عین فطری تھا۔ اس کے بعد سے مولانا بار بار صدر منتخب ہوتے رہے اور الحمدﷲ تا حال ملت کی قیادت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں ۔ اس دور کے تیرہ برس مولانا سید نظام الدین ہی جنرل سکریٹری رہے۔ ۲۰۱۵ میں ان کی وفات کے بعد مولانا سید محمد ولی رحمانی کو جنرل سکریٹری منتخب کیا گیا۔ الحمدﷲ یہ چوتھا بھی دور پوری سرگرمی کے ساتھ جاری ہے۔

ابتدائی تین ادوار کے نائب صدور

تنظیمی ڈھانچے کے ذیل میں یہ بات ذکر کی جاچکی ہے کہ بورڈ میں مختلف مکاتب فکر کی نمائندگی کے لیے کچھ نائب صدور ہوتے ہیں ۔ موجودہ نائب صدور کے اسماء گرامی بھی بیان کیے جاچکے ہیں ۔ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اُن شخصیات کا تذکرہ بھی کر دیا جائے، جو ابتدائی تین ادوار میں بورڈ کے نائب صدر کے عہدے پر فائز رہیں ، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ بورڈ کو ہر دور میں تمام مسالک کی اہم ترین قیادتوں کا اعتماد و تعاون حاصل رہا ہے۔ اُن بزرگوں کے اسماء گرامی یہ ہیں :

حلقۂ دیوبندسے: مولانا ابوالسعود احمد (امیر شریعت)، حلقۂبریلی سے: مولانا مفتی محمد برہان الحق جبل پوری (خلیفۂ اعلیٰ حضرتؒ )، مولانا مظفر حسین کچھوچھوی (کچھوچھہ شریف)، مولانا شاہ سید محمد محمد حسینی (سجادہ نشین درگاہ بندہ نواز، گلبرگہ)، شیعہ حلقے سے: مولانا سید کلب عابد مجتہد (لکھنؤ)، اہل حدیث حلقے سے: مولانا ڈاکٹر سید عبدالحفیظ سلفی اور مولانا مختار احمد ندوی(امراء جماعت اہل حدیث ہند)، حلقۂ جماعت اسلامی سے: مولانا ابواللیث ندوی، مولانا محمد یوسف، مولانا سراج الحسن ( امراء جماعت اسلامی ہند)۔

خدمات

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی خدمات کادائرہ بہت وسیع ہے۔ کچھ خدمات تو وہیں ، جو مختلف ادوار کے ساتھ خاص ہیں ۔ یعنی مختلف ذمے داران نے اپنے اپنے زمانے کی ضرورتوں کے لحاظ سے وہ خدمات انجام دیں ۔ جب کہ کچھ خدمات ایسی ہیں ، جو مجموعی یا مشترکہ نوعیت کی ہیں ۔ یعنی یہ وہ خدمات ہیں ، جو بورڈ نے اپنے پینتالیس سالہ دور مجموعی طور پر انجام دیں ۔ ان کا تعلق کسی خاص دور سے نہیں ۔ بل کہ یہ بورڈ کے قیام کے پہلے دن سے آج تک کے عرصے کی مشترکہ و متحدہ خدمات ہیں :

۱۔ اتحادِ امت

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے قیام کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا کہ مسلمان اپنے مختلف فیہ مسائل سے اوپر اٹھ کر متحد ہوسکتا ہے۔ اس اتحاد کی بنیاد قرآن و سنت کے وہ احکام ہیں ، جن میں کوئی اختلاف نہیں ۔ اﷲ کے فضل سے پہلے دن سے لے کر آج تک بورڈ میں شیعہ سنی، بریلوی دیوبندی، حنفی شافعی، مقلد غیرمقلد اور بوہرے سب شامل ہیں ۔ ان کے علاوہ تنظیموں اور جماعتوں میں بھی کوئی قابل ذکر جماعت ایسی نہیں ، جس سے وابستہ افراد بورڈ کے عہدے دار یا رکن نہ ہوں ۔ ۱۹۷۲ میں ممبئی کے اجلاس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہندستان کی پوری اسلامی تاریخ میں ایسا اتحاد اور ایسا عظیم الشان متحدہ و مشترکہ مجموعہ کبھی دیکھنے میں نہیں آیاتھا۔ سچ یہ ہے کہ تمام مکاتب فکر کو تحفظ شریعت کے لیے اُن کے دائروں سے نکال کر ایک اسٹیج پر جمع کردینا، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا ایسا کارنامہ ہے، جو اکیلا ہی اس کی اہمیت و افادیت ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔

۲۔ احساسِ تحفظ

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے قیام کے فوراً بعد سے مسلم پرسنل لا کے معاملے میں پوری سرگرمی دکھانی شروع کردی۔ ہمارے پرسنل لا پر کوئی بھی حملہ ہوا، تو بورڈ امت مسلمہ ہندیہ اور اس فتنے کے درمیان آہنی دیوار بن کر حائل ہوگیا۔ بورڈ کے قیام سے پہلے فرقہ پرست عناصر وقتاً فوقتاً مسلم پرسنل لا کو منسوخ کرنے اور مختلف طریقوں سے شریعت اسلامی میں مداخلت کرنے کی بے دھڑک کوششیں کرتے رہتے تھے۔ مسلمان مختلف خانوں میں منقسم ہونے کی وجہ سے شریعت میں مداخلت کی کوششوں کو ناکام نہیں بناپاتے تھے۔ بورڈ کے قیام سے مسلمانوں کو ایک مضبوط حصار مل گیا اور فرقہ پرستوں کے منصوبوں پر پانی پھر نے لگا۔ اب انھیں اپنے ناپاک ارادوں کی راہ میں ایک آہنی دیوار نظر آنے لگی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پرسنل لا کا تحفظ بھی ہوا اور مسلمانوں میں پرسنل لا کے متعلق احساسِ تحفظ بھی پیدا ہوا۔ یہ اطمینان ہوگیا کہ کوئی مسئلہ درپیش ہوگا، تو ان شاء اﷲ بورڈ نمٹ لے گا۔ یہ احساسِ تحفظ بڑی عظیم نعمت ہے۔ اس سے بے شمار خیر جنم لیتا ہے۔ عام مسلمانوں کے دل و دماغ میں شریعتِ مطہرہ کے متعلق یہ احساس تحفظ پیدا کرنا بورڈ کا دوسرا عظیم کارنامہ ہے۔

۳۔ نفاذِ شریعت

ہندستان ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے۔ یہاں کا دستور تمام مذاہب کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ اس لیے اس سرزمین پر مسلمانوں کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ زندگی کے تمام شعبوں میں شریعت مطہرہ کو نافذ کر سکیں ۔ لیکن یہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ممکن حد تک شریعت کو نافذ کرنے کی کوشش کرے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے دارالقضا ء یا اسلامی عدالتوں کا نظام چلایا۔ الحمد للہ اس وقت ملک میں پچاس سے زائد اسلامی عدالتیں بورڈ کی نگرانی میں چل رہی ہیں ۔ باتوفیق مسلمان اپنے مسائل کو سرکاری عدالتوں میں لے جانے کے بجائے دارالقضاء میں لے جاتے ہیں اور شریعت کی روشنی میں معاملات کا تصفیہ کراتے ہیں ۔ اسلامی عدالتوں کا یہ مبارک سلسلہ اسلام دشمن طاقتوں کو اتنا ناگوار ہوتا ہے کہ وہ اس نظام کو ختم کرنے کے لیے کئی مرتبہ عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا چکے ہیں ، لیکن ہمیشہ ناکامی ہی اُن کا مقدر بنی ہے۔

۴۔ تحفظ شریعت

تحفظ شریعت آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام کا بنیادی مقصد ہے۔ بورڈ نے اس مقصد کے حصول کے لیے مختلف کوششیں جاری رکھیں ۔ سابق ججوں اور ماہر وکلاکی ایک ٹیم بنائی، جو ملک کی عدالتوں اور سرکاری دفاتر کے شریعت مخالف اقدامات پر پوری نظر رکھتی ہے۔ عام فہم لٹریچر کی اشاعت کی۔ اعلیٰ علمی طرز پر سے قوانین اسلامی کی تدوین کی۔ پارلیمنٹ کے شریعت مخالف بلوں کی مخالفت کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے۔ نچلی عدالتوں سے لے کر عدالت عظمیٰ تک معاملات کی پیروی کی۔ کانفرنسوں ، سمی ناروں ، مذاکروں اور ورک شاپس کا نعقاد کیا۔ مسلمان مردوں اور عورتوں کو شریعت کا علم دینے کے لیے اصلاح معاشرہ اور تفہیم شریعت کی کام یاب مہم چلائیں ۔ غرض یہ کہ بورڈ نے تحفظ شریعت کے لیے ہر وہ طریقہ اختیار کیا، جسے ایک سیکولر ملک میں اختیار کیا جاسکتا ہے۔ اپنے اس مقصد میں بورڈ کو کس حد تک کام یابی ملی، اس کا کچھ تذکرہ آگے آ رہا ہے۔
آئیے! اب مختلف ادوار کے لحاظ سے بورڈ کی خدمات کا جائزہ لیتے ہیں ۔

دورِ اوّل کی اہم خدمات

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام کے بعد اس کے پہلے صدر مولانا قاری محمد طیب قاسمی منتخب کیے گئے تھے۔ یہ ۱۹۷۲ کا زمانہ تھا۔ اسی سال پارلیمنٹ میں لے پالک بل پیش کیا گیا تھا۔ ہندوؤں کے لیے اس سلسلے میں ایک قانون ۱۹۵۲ میں بنایا جاچکا تھا۔ ۱۹۷۲ کا لے پالک بل کسی مذہب کے لیے خاص نہ تھا۔ اس کے تحت تمام مذاہب کے پیروکار آتے تھے۔ اسلامی شریعت کے لحاظ سے لے پالک یا منہ بولے بیٹے کو سگے بیٹے والے اختیارات نہیں مل سکتے۔ چنانچہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس مسئلے پر سخت ایکشن لیا۔ بورڈ نے تحریک چلائی اور اپنا نقطۂ نظر حکومت کے سامنے پیش کیا۔ بالآخر ۱۹۷۸ میں حکومت نے یہ بل واپس لے لیا۔ پھر ۱۹۸۰ میں دوبارہ بل پیش کیا گیا تو بورڈ کے ردّعمل پر مسلمانوں کو اس قانون سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا۔

جون ۱۹۷۵ میں اس وقت کی وزیر اعظم اندراگاندھی نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔ کسی کو زبان کھولنے اور قلم ہلانے کی اجازت نہ تھی۔ ان نازک حالات میں اندرا گاندھی کے بیٹے سنجے گاندھی کے اشارے پر جبری نس بندی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس فتنے کا نشانہ بالخصوص مسلمان تھے۔ ایسے نازک حالات میں بورڈ نے پوری جرأت و ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دارالسلطنت دہلی میں مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد کیا۔ پوری بے باکی کے ساتھ اعلان کیا گیا کہ نس بندی حرام ہے۔ مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ عام حالات میں نس بندی کرائیں ۔ اپنے اس اعلان کو ہزاروں کی تعداد میں چھپواکر ملک بھر میں عام کیا گیا۔ بورڈ کی اس جرأت کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں ظالم ماں بیٹے سوائے خون کا گھونٹ پینے کے کچھ نہ کرسکے۔

۱۹۷۸ میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کے ایک فیصلے کے مطابق حکومت کو اس بات کا حق دے دیا گیا تھا کہ وہ جہاں چاہے مفادِ عامہ کی وجہ سے عبادت گاہوں اور قبرستانوں کی زمین گھیر لے۔ اس فیصلے کے آتے ہی لکھنؤ کی دو مسجدوں ، ایک قبرستان اور جے پور کی ایک مسجد کو میونسپل کارپوریشن نے ایکوائر کرلیا۔ اس خطرناک فیصلے کے خلاف بورڈ نے تحریک چلائی۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں سے ملک کر سخت احتجاج کیا۔ جس کے نتیجے میں یوپی اور راجستھان کی حکومتوں نے ایسی زمینیں ایکوائر کرنے کے احکامات واپس لے لیے۔

۱۹۸۰ میں جناب وینکٹ رمن (سابق صدر جمہوریہ ہند) نے مرکزی وزیر خزانہ کی حیثیت سے انکم ٹیکس کے قوانین میں کچھ تبدیلیاں کیں ۔ ان ترمیموں کے بعد اوقاف پر یہ لازم ہوگیا تھا کہ وہ اپنی تمام غیرمنقولہ جائے دادیں فروخت کریں اور ان سے حاصل ہونے والی رقم بینکوں میں جمع کرائیں یا سرکاری یا نیم سرکاری اداروں کی سیکیورٹی میں لگادیں ۔ اس کا منفی اثر یہ پڑ رہا تھا کہ مسلم اوقاف اپنے ائمہ، خطباء اور دیگر مسلم خدمت گاروں کو سود کی رقم سے مشاہرہ دینے پر مجبور ہوتے۔ جب کہ اسلام میں سود کا لینا دینا حرام ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا۔ بار بار کے احتجاج اور نمائندگی کے بعد آخرکار یہ ترمیم واپس لے لی گئی۔

دور ثانی کی اہم خدمات

۱۹۸۶ میں شاہ بانو کیس پیش آیا۔ نیو سی آر پی سی کی دفعہ ۱۲۵ میں یہ بات کہی گئی تھی کہ طلاق کے بعد جب تک مطلقہ کا دوسرا نکاح نہ ہوجائے، اُسے پہلا شوہر نفقہ دیتا رہے گا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے مطالبے پر دفعہ ۱۲۷ کا اضافہ کیا گیا۔ اس دفعہ کے مطابق طلاق دینے والا شوہر اگر واجبات ادا کردے تو نفقہ منسوخ ہوجاتا ہے۔ اس دفعہ سے دفعہ ۱۲۵ کا برا اثر کچھ کم ہو رہا تھا۔ لیکن مختلف عدالتوں کے غلط فیصلوں نے اس اثر کو بھی ختم کردیا۔ چناں چہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے زبردست ملک گیر مہم چلائی۔ ایڈووکیٹ محمد عبدالرحیم قریشی کے مطابق :

’’آزاد ہندستان کی تاریخ میں اس سے پہلے ایسا کوئی پروگرام نہیں ہوا اور ایسی کوئی مہم نہیں چلی، جس میں قصبات اور دیہات تک کے مسلمانوں نے حصہ لیا ہو اور جس میں مسلمانوں کے تمام طبقات اور مسالک شانہ بہ شانہ ساتھ رہے ہوں ۔ کئی قصبات میں عمر رسیدہ اصحاب نے یہ کہا کہ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ مسلمانوں میں ایک بے داری پیدا ہوئی اور شریعت کے تحفظ کے لیے ان میں عزم و حوصلہ پیدا ہوا۔‘‘ (سہ ماہی خبرنامہ بورڈ، شمارہ: جنوری تا جون ۲۰۰۵، ص:۲۴)

چنانچہ ۶؍مئی ۱۹۸۶ کو ’’قانون حقوق مسلم مطلقہ بل‘‘ پاس ہوا۔ یہ بورڈ کی بڑی کام یابی تھی۔ لیکن افسوس کہ اس قانون کے بعض الفاظ و تعبیرات سے فائدہ اٹھاکر عدالتیں اب بھی شریعت مخالف فیصلے کردیتی ہیں ۔ اس کی اصلاح کی جدوجہد جاری ہے۔

بابری مسجد کا مسئلہ ایک عرصے سے ملک کے لیے ناسور بنا ہوا ہے۔ اس مسئلے کو لے کر ہر دور میں سیاست دانوں نے اپنے اپنے مفادات کی خاطر انصاف کا خون کیا اور ملک کو تباہی کے غار میں دھکیلا ہے۔ ۱۹۴۸ میں بابری مسجد میں کچھ مورتیاں رکھ دی گئی تھیں ۔ ۱۹۸۶ میں ناجائز طور پر مسجد کا تالا کھلوایا گیا اور مورتیوں کی پوجا شروع کی گئی۔ بابری مسجد کی بازیابی کے لیے کئی کمیٹیاں قائم ہوئیں ، لیکن اپنی بے اثری، محدودیت اور امت میں عدم اعتماد کی وجہ سے وہ کوئی اثر نہ دکھا سکیں ۔ دوسری طرف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ پر عوامی دباؤ بڑھتا گیا کہ بورڈ اس مسئلے کو اپنے ہاتھ میں لے لے۔ یہ مسئلہ اصولی طور پر پرسنل لا کے دائرے میں نہیں آتا تھا۔ اس لیے بورڈ کو تردد تھا۔ لیکن جب مسجد کے بقاء کا مسئلہ درپیش ہوگیا تو بورڈ نے ایک کمیٹی بنادی اور اس کمیٹی کو اپنے ماتحت رکھا۔ اس سے پہلے ۳؍دسمبر ۱۹۹۰ کو بورڈ نے اپنے عاملہ کے اجلاس کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ یہ جگہ ہمیشہ کے لیے مسجد ہے۔ اس کی حیثیت تبدیل نہیں کی جاسکتی۔ اس کے بعد ۶؍دسمبر ۱۹۹۲ کو بابری مسجد کی شہادت کے بعد بورڈ نے ایک کمیٹی بناکر معاملہ اپنے ہاتھ میں لیا۔ ہائی کورٹ میں بورڈ کی مذکورہ کمیٹی ہی بابری مسجد کا مقدمہ لڑتی رہی ہے۔
مسلم پرسنل لاکے بیشتر مسائل کا تعلق خواتین سے ہے۔ دوسری طرف مسلم خواتین کا حال یہ ہے کہ وہ ان مسائل سے تقریباً ناواقف ہیں ۔ لہٰذا بورڈ نے خواتین کو باشعور بنانے کی طرف توجہ کی۔ ۱۹۸۹ کے کان پور اجلاس میں ’’مسلم خواتین سیل‘‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور اُس سال ۱۹۸۹ کو ’’خواتین کے سال‘‘ کے طور پر منایا گیا۔

دورِ ثالث کی اہم خدمات

پیچھے یہ بات عرض کی جاچکی ہے کہ بورڈ کے تیسرے صدر مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کو اﷲ تعالیٰ نے عمر بھی طویل نہیں دی اور بورڈ کی صدارت کی مدت بھی بہت مختصر رہی۔ صدر بننے کے بعد جتنی زندگی رہی، اس کا بڑا وقت مہلک امراض سے لڑتے ہوئے اسپتالوں میں گزرا۔ اس لیے ان کے مختصر دور میں کوئی قابل ذکر خدمت انجام نہیں دی جاسکی۔ البتہ ایک کارنامے نے ان کے دور کو علمی لحاظ سے دقیع بنادیا۔ وہ کارنامہ ہے ’’مجموعۂ قوانین اسلامی‘‘ کی اشاعت۔

عرصے سے قوانین اسلامی کے ایسے مجموعے کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی، جس میں دفعات کے انداز میں عائلی قوانین بیان کیے گئے ہوں ۔ چناں چہ مولانا منت اﷲ رحمانی نے یہ کام بورڈ کے دورِ اوّل ہی سے اپنی نگرانی میں علماء و انش واران کی ایک ٹیم سے کرانا شروع کردیا تھا۔ دوسرے دور کے آخر یعنی ۱۹۹۹ میں اس کی ترتیب مکمل بھی ہوگئی تھی۔ لیکن یہ شرف بورڈ کے صدرِ ثالث قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کے حصے میں لکھا تھا کہ ان کے مختصر دور میں یہ مجموعہ اشاعت پذیر ہو۔ چناں چہ بورڈ کے دورِ ثالث میں اس پر نظر ثانی وغیرہ کا کام مکمل ہوا اور ۱۹؍اگست ۲۰۰۱ کو قاضی صاحب نے اس کا اجراء کیا۔ خود قاضی صاحب کے بہ قول:

’’ہندستان میں تدوین فقہ کے سلسلے میں فتاویٰ عالم گیری کے بعدیہ ہندستان میں دوسری اجتماعی کوشش ہے۔‘‘(سہ ماہی خبرنامہ بورڈ، شمارہ: جنوری تا جون ۲۰۰۵، ص:۲۶)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

شاہ اجمل فاروق ندوی

انچارج اردو سیکشن انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز، نئی دہلی، چیف ایڈیٹر ماہنامہ المؤمنات، لکھنؤ و ایڈیٹر ماہنامہ تسنیم، نئی دہلی

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close