ملی مسائل

اتحاد ہی زندگی ہے

اعلیٰ حضرت امام اہل سنت احمد رضا خان صاحب کے پوتے محترم مولانا توقیر رضا خان صاحب قابل صد مبارکباد ہیں کہ انہوں نے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اوردیگر ذمہ داران سے ملاقات کر کے امت کے دو بڑے اور اہم دھڑوں میں اتحاد کی کوششوں کی عملی پہل کی اور اس طرح اسلام دشمنوں مسلم دشمنوں مسلمانوں میں مسلکی اور جماعتی انتشار کے لئے سازشیں رچنے والوں اور خود مسلمانوں میں موجود ان کے اعلائے کار منافقوں کے منھ پر زناٹے دار طمانچہ رسید کیا۔ خبروں کے مطابق مولانا نے اپنی ملاقات کے بعد یہ اعلان کیا کہ’ ہم ملت کے حق میں کبھی بھی تفرقہ کا شکار نہیں ہوں گے ،بریلوی اور دیوبندی کے نام پر ہمیں کوئی لڑا نہیں سکتا، ہم بریلوی اور دیوبندی کے نام پر آپس میں لڑ کر دوسروں کو ہمارے اتحاد میں سیندھ لگانے نہیں دیں گے ۔‘ یہ بہ ظاہر ایک چھوٹی سی ملاقات ہے لیکن ایک بہت بڑے اور انتہائی اہم اور اشد ضروری کام کی شروعات ہے پوری امت مسلمہ کی طرف سے اس کی پذیرائی کی جانی چاہئے اوراس عمل میں دیگر جماعتوں گروہوں اور مسالک کو بھی شامل کیا جانا چاہئے اور سب نے مل کر اس عملی کوشش کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانا چاہئے کہ وقت کی اہم ترین اور ناگزیر ترین ضرورت ہے کہ اس کے بغیر مسلمانوں کی دینی اور ملی بقا اور با وقار زندگی ممکن نہیں ۔ آج ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا میں ملت اسلامیہ کا جائزہ یہ بتاتا ہے کہ ہم نہ کہیں آزاد ہیں،نہ کہیں حکمران حقیقی ہیں ،نہ کہیں چین وامن ہمیں نصیب ہے اور نہ کہیں مادی و دنیاوی ترقی کی معراج ہی ہمیں میسر ہے۔ہم جہاں کہیں بھی ہیں شدید بد امنی اور خوف و ہراس کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔گو کہ ہمارے خود مختاراسلامی ممالک بھی دنیا کے نقشہ پر موجود ہیں لیکن سوائے چند کے ان کی خود مختاری بھی مذاق ہے وہاں کے حکمراں دنیا کی بڑی طاقتوں(جو اسلام دشمن ہیں ) کے غلام ہیں اور دنیا کی تمام بڑی طاقتیں اپنے چھوٹے موٹے اور کمزوراتحادیوں کے ساتھ مل کر اپنے اپنے مذاہب عقائداور نظریات کے شدید اختلافات کے باوجود باہم متحد ہوکر مختلف طریقوں سے براہ راست یا حیلوں بہانوں سے یا دوستی اور امداد کے خوشنما فریب کے ذریعہ امت مسلمہ پر ایسی ٹوٹی پڑ رہی ہیں جیسے بھوکے دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔اور اس سب کی وجہ یہ ہے کہ ہم اسلام دین اللہ سے بہت دور ہو چکے ہیں ہم مسلمان ضرور ہیں لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دین سے منحرف ۔اور اسی لئے ہم میں اتحاد نہیں،ہم مسلک گروہ اور جماعت کے انتہائی شدید اور عدیم المثال افتراق اور انتشار کا شکار ہیں۔فرقہ واریت کا ناسور ہمارے اندر اتنی گہرائی تک سرایت کر گیا ہے کہ ہم مسلمان آپس میں اتنے بٹے گئے ہیں کہ اب کہیں مسلمان ہی نظر نہیں آ تے ۔مسلمانیت کا دعویٰ تو سب کا ہے لیکن ہر ایک کی مسلمانیت کے ساتھ کسی نہ کسی مسلک جماعت یا فرقہ کا سابقہ یا لاحقہ ضرور لگا ہوا ہے ۔ اب مسلمان اسلام سے نہیں بلکہ انہی مسالک جماعتوں یا فرقوں سے پہنچانے جانے کو ترجیح دیتے ہیں اور اس پر فخر بھی جتاتے ہیں اور عموماً ایسا اس لئے نہیں ہوتا کہ یہ دکھایا جائے کہ ہم اس مسلک یا جماعت کے مخلص پیروکار ہیں بلکہ اس لئے ہوتا ہے کہ دوسروں کا رد ظاہر کیا جائے ان کی مسلمانیت کومشکوک کیا جائے یا ان کی تکفیر کی جائے ۔ ہماری مسلکی اور جماعتی تفریق اس قدر شدید ہوگئی ہے کہ سوائے چند کے تمام گروہ اپنے علاوہ دوسری جماعتوں مسلکوں اور فرقوں کو مسلمانوں میں شمار ہی نہیں کرتے بلکہ ایسے لوگوں کا سماجی اور معاشی بائیکاٹ کرتے ہوئے غیر مسلموں کو ان پر ترجیح دیتے ہیں ۔جبکہ ہمیں ’پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جانے ‘کا حکم دیا گیا ہے۔ہمیں ایک جسم کی مانند ہوجانے کا حکم دیا گیا ہے کہ’ اگر اس کے کسی بھی حصہ کو تکلیف پہنچے تو پورا جسم بخار زدہ ہو جاتا ہے۔‘ہمیں اس طرح متحد ہونے کا حکم دیا گیا ہے کہ’ بنیان مرصوص ‘ ہو جائیں۔ہمیں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے اور تفرقہ میں نہ پڑنے کا حکم دیا گیا ۔ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ’ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں‘ کیونکہ ایسا کرنے سے ’تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی‘۔ اور اگر ہم خلوص دل سے اپنا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری ہوا اکھڑ چکی اوراگر ہم مسلمل اسی حالت میں رہیں اور اب بھی متحد نہ ہوئے تو ہم صفحہء ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ جائیں گے۔ مسلمانوں میں اتحاد کی اصل صورت یہ ہے کہ ہم قرآن اور اسوہء رسول ﷺ کی قوی مضبوط اور مستحکم بنیاد پر متحد ہوجائیں۔آپسی تنازعات کو قرآن و سنت نبوی ﷺ کے مطابق حل کرلیں اپنے عقائد و اعمال اور افکار و نظریات میں قرآن و حدیث کے مطابق یکسانیت و اتحاد پیدا کرلیں ایسا کر نے سے ہمارے اندر وہ اتحاد پیدا ہوگاجو لازوال بھی ہوگا اور اس قدر مضبوط و مستحکم بھی کہ کفر و طاغوت اور اللہ و مسلمانوں کے دشمنوں کے طوفان بھی اس کا کچھ بگاڑ نہیں پائیں گے ۔لیکن اگر ایسا نہیں ہو سکتا اور مسلمانیت کا دعویٰ کر نے والے ہم لوگ قرآن و سنت رسول ﷺ کے مطابق اپنے اعمال و عقائد میں یکسانیت اور اتحاد نہیں پیدا کرسکتے تو اتنا تو کسی بھی صورت کرنا ہی چاہئے کہ سب مسالک فرقے اور جماعتیں اپنے اختلافات کے باوجود کم از کم سیاسی سماجی اور معاشی اعتبار سے متحد ہوں اور ایک دوسرے کے پشتی بان بنیں گوکہ اس اتحاد کے مستحکم ہونے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی لیکن اسی سے مستحکم اتحاد کی شروعات ہو سکتی ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے اپنے مسالک اور جماعتوں کی فکری اور عملی سطح پر قائم رہتے ہوئے ایکدوسرے سے خلوص ہمدردی اور یگانگت کا اظہار کریں ، اختلافی مسائل سے اجتناب کریں کسی اختلاف کو انا کا مسئلہ بناتے ہوئے ایکدوسرے کے مقابل نہ کھڑے ہوں ۔ دوسرے مسالک اور جماعتوں کی تکفیرتو دور کی بات ہے زبان و قلم سے ان پر طعن و تشنیع بھی نہ کریں،اسی طرح مسلک اور جماعتوں کے نام پر نفرت پھیلانے والوں کو اجتماعی طور پر سختی سے روکا جائے ۔ائما ئے مساجد اپنی شعلہ بیان تقاریر کا رخ اصلاح اور تعمیر کی طرف موڑیں اور اس میں اگر اپنے مسلک کی تعلیمات کو عام کیا جائے تو دوسرے مسالک اور جماعتوں کو برا بھلا نہ کہیں بلکہ اپنے مسلک اور عقیدے پر قائم رہتے ہوئے دوسرے مسالک اور جماعت والوں سے اظہار یک جہتی بھی کریں اور اتحاد کی تعلیم بھی دیں اس کے علاوہ مختلف جماعتوں کی طرف سے اصلاح معاشرہ کے مشترک اجلاس اور اجتماعات منعقد کئے جائیں تاکہ عام مسلمانوں میں افتراق و انتشارکی بجائے اتحاد و اتفاق کا پیغام جائے اور ہمارے دشمنوں کو بھی معلوم ہو کہ مسلمان اک متحد قوت ہیں جسے توڑنا آسان نہیں ۔ یہ کام مشکل تھا لیکن اب مولانا توقیر رضا خان صاحب نے دارالعلوم دیوبند جاکر اور دارالعلوم کے ذمہ داران نے ان کا پر تپاک استقبال کر کے یہ بتا دیا ہے کہ یہ کام مشکل ہو سکتا ہے نا ممکن نہیں۔ خود ہم مسلمانوں میں سے بہت سے اغیار کے باج گزار ،قوم کے دلال اور منافق اور فرقہ پرستی کے زنگ میں آلودہ دماغ والے کچھ لوگ اس اتحاد کی راہ کو مسدود کرنے کی جان توڑ کوشش کریں گے امت مسلمہ میں ہمیشہ ایسے لوگ رہے ہیں اور خاص طور سے ہندوستان میں ان آستین کے سانپوں سے ہمیں ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچا ہے اب اتحاد بین المسلمین کے لئے ہمیں ان لوگوں سے الجھے بغیر امت کو آپسی اختلاف انتشار اور افتراق کے نقصانات اور امت میں اس طرح کے اختلافات بھڑکانے کی بین الاقوامی اور ملکی سازشوں کونیز ان نقصانات سے بچنے میں اور ان سازشوں کو ناکام کرنے میں اتحاد و اتفاق کی اہمیت ،ضرورت اور اسکے فوائد امت کے سامنے اجاگر کرنے چاہئے اور اس کے عملی اظہار کی انتھک کوشش بھی کر نی چاہئے ۔ ہمیں یقین ہے کہ امت کی اکثریت اتحاد کی حامی ہے اور جب یہ اکثریت عملی اتحاد کی طرف بڑھے گی تو امت کو اختلاف اور تفرقہ کے جال میں پھنسانے والے منافقین کو خود ہی راہ سے ہٹنا پڑیگا ۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ اتحاد اسلئے بھی ضروری ہو گیا ہے ہم ہندوستان میں کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود سماجی سیاسی اور تعلیمی اور معاشی شعبہ میں سب سے پست ہیں اور اب اغیارکی طرف سے ہمیں مزید پستی میں دھکیل کر پوری طرح بے وقعت کر نے کے لئے ہمارے کچھ گروہوں کو بڑھاوا دے کر بقیہ مسالک اور نظریات کے حمای مسلمانوں کے خلاف کھڑے کرنے اور مسلمانوں کی تقسیم کو مزید بھڑکانے کا انتہائی مذموم کام بہت منظم طریقہ سے کیا جارہا ہے۔ اس سازش کو سمجھنا اور اس کو ناکام کرنا پوری امت محمدیہ کی ذمہ داری ہے اور اس کے لئے آپسی تنازعات کو طاق پر رکھ کر باہم متحد ہوجانا نا گزیر ہے اگر اس وقت ہم ایسا کرنے میں ناکام ہو گئے تو مزید ذلت و رسوائی ہی ہمارا مقدر ہوگی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Close