اجتماعی فرائض کے متعلق اسلام کی اعلیٰ تعلیم

افسوس ہے کہ دنیا کے کم نظر گیانیوں  نے اجتماعی شرافت کے اس بلند معیار اور اجتماعی زندگی کے اس اعلیٰ نصب العین کو سمجھنے کی کوشش نہیں  کی اور اگر کسی نے کوشش کی بھی تو اس کی نظر کچھ زیادہ دور تک نہیں  جاسکی۔ یہ لوگ افراد کے اخلاقی فرائض پر جب بحث کرتے ہیں  تو انسانیت ہی کے نہیں  بلکہ عالم مادی کے ذرے ذرے کے حقوق بھی گنا جاتے ہیں ، مگر جب اجتماعی زندگی کا سوال سامنے آتا ہے تو انسانیت کے وسیع تخیل کیلئے ان کے دماغ تنگ ہوجاتے ہیں  اور اجتماعی فرائض کو قومیت یا وطنیّت کے ایک محدود دائرے میں  سمیٹ کر وہ اس قوم پرستی یا وطن پرستی کی بنیاد ڈال دیتے ہیں  جو تھوڑے سے تغیر کے بعد آسانی کے ساتھ قومی و وطنی عصبیت کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ یہ تنگ نظری ہی در اصل انسانیت کی اس غیر طبعی تقسیم کی ذمہ دار ہے جس کی بدولت ایک نسل یا ایک زبان یا ایک قومیت رکھنے والے انسان اپنے دوسرے ابنائے نوع کو دائرۂ انسانیت سے خارج سمجھتے ہیں  اور ان کے حقوق کو سمجھنا اور ادا کرنا تو درکنا ر ان کو پامال کرنے میں  بھی انھیں  اخلاق و شرافت کا کچھ ٹوٹا نظر نہیں  آتا۔

 قرآن مجید نے اپنے ارشاد اخرجت للناس سے در اصل انسانیت کی اسی غیر طبعی تقسیم کو منسوخ کیا ہے۔ اس نے اجتماعی شرافت کے اس بلند معیار کو پیش کرکے عالم گیر خدمت انسانی کے اس اعلیٰ نصب العین کی طرف امت مسلمہ کی رہنمائی کی ہے جو ہر قسم کے امتیازات سے بالاتر ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ایک حق پرست قوم کی فرض شناسی کیلئے قومیت کا میدان بہت تنگ ہے، وہ ایک نسل یا ایک زبان یا ایک ملک کی قید بھی برداشت نہیں  کرسکتی، اس کیلئے خشکی و تری کی حد بندیاں  اور سمتوں  اور جہتوں  کی تقسیمیں  بھی بے معنی ہیں  کہ ایشیا اور یورپ یا شرق و غرب کا امتیاز اس کے ادائے فرض میں  حائل ہوسکے، اس کے نزدیک تو تمام انسان اور آدمؑ کے تمام بیٹے بیٹیاں  برابر ہیں ، اس لئے ان سب کی خدمت کرنا یعنی ان سب کو نیکی کا حکم کرنا اور سب کو بدی سے روکنا اور شر سے بچانا، اس کا فرض ہے۔ اس اعلیٰ تعلیم کو اس نے مختلف موثر پیرایوں  میں  پیش کیا ہے اور تنگ خیالی کے طلسم کو توڑ کر فرض شناسی کے ایک وسیع عالم کی راہیں  کھول دی ہیں ، چنانچہ دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:

 ’’اس طرح ہم نے تم کو ایک اعلیٰ و اشرف گروہ بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں  پر (حق کے) گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو‘‘ (البقرہ:143)۔

 اور اسی مضمون کی تشریح سورۂ حج میں  اس طرح کی گئی ہے:

  ’’اور اللہ کی راہ میں  ایسا جہاد کرو جو جہاد کرنے کا حق ہے۔ اس نے تم کو اسی کام کیلئے چن لیا ہے اور تم پر دین کے دائرہ میں  کوئی تنگی نہیں  رکھی۔ یہ وہی ملت ہے جو تمہارے باپ ابراہیمؑ کی تھی۔ اللہ نے تمہارا نام اس سے پہلے بھی اور اس کتاب میں  بھی مسلم (اطاعت گزار) رکھا ہے تاکہ رسول تم پر گواہ اور تم دنیا کے لوگوں  پر گواہ ہو، پس نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ کے راستہ پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہو‘‘ (الحج:78)۔

ان دونوں  آیات کو جو ایک دوسرے کی تشریح و تفسیر کرتی ہیں  ملاکر پڑھو تو یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ یہاں  بھی مسلمانوں  کی زندگی کا مقصد اسی عالم گیر خدمت انسانی کو بتایا ہے۔ فرمایا کہ تم ایک بہترین گروہ ہو جسے افراط و تفریط سے ہٹاکر عدل و توسط کی راہ پر قائم کیا گیا ہے۔ تمہیں  اللہ نے خاص اس کام کیلئے منتخب فرمایا ہے کہ اپنے قول اور عمل سے حق کی شہادت دو اور دنیا میں  صداقت کے گواہ بن کر رہو، تاکہ زندگی کے ہر پہلو میں  تمہاری زبان اور تمہارے طرزِ عمل سے دنیا کو معلوم ہو کہ حق کیا ہے، راستی کسے کہتے ہیں ، انصاف کے کیا معنی ہیں  اور بھلائی کس چیز کا نام ہے۔ یہی شہادتِ حق تمہاری زندگی کا مقصد ہے اور اسی کیلئے تم کو مسلم (یعنی خدا کے فرماں  بردار گروہ ) کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ تمہارے اس دین میں  کوئی تنگی نہیں  ہے بلکہ اس کا دائرہ اتنا وسیع رکھا گیا ہے کہ نسل، رنگ، زبان، قومیت اور وطنیت کی قیود اس کی برکتوں  کو عام ہونے سے باز نہیں  رکھ سکتیں۔  اس میں  کوئی چھوت چھات، یا وَرْن آشرم کی قید نہیں  ہے، نہ اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں  یا اسمٰعیل کے بھٹکے ہوئے اونٹوں  کی کوئی تخصیص ہے۔ ہر وہ انسان جو اصولِ اسلام کو قبول کرے، خواہ کسی نسل اور کسی قوم کا ہو اور کسی ملک کا باشندہ ہو تمہارے اس دین میں  برابری کے ساتھ شامل ہوسکتا ہے اور اسی طرح وہ خدمت جو تمہارے سپرد کی گئی ہے اس کا دائرہ بھی کسی ایک ملک یا قوم تک محدود نہیں  ہے بلکہ تمہیں  ساری انسانیت کیلئے گواہ ِحق بن کر رہنا ہے۔

  پھر ایک دوسرے طریقہ سے اسی مضمون کو یوں  ادا کیا گیا ہے: ’’یہ وہی لوگ ہیں  کہ اگر ہم ان کو زمین میں  طاقت بخشیں  تو وہ نماز قائم کریں  گے، زکوٰۃ دیں  گے، نیکی کا حکم کریں  گے اور بدی کو روکیں  گے‘‘ (الحج:41)۔

یہاں  ’الناس‘(لوگ) کے بجائے ’الارض‘ (زمین) کا لفظ استعمال کیا اور مسلمانوں  کی طاقت و قوت کا فائدہ یہ بتایا کہ وہ زمین میں  خدا کی بندگی کو فروغ دیں  گے، نیکی کا پرچار کریں  گے اور بدی کو مٹائیں  گے۔ اس سے بھی یہی بتانا مقصود ہے کہ مسلمانوں  کا کام صرف عرب یا صرف عجم یا صرف ایشیا یا صرف مشرق کیلئے نہیں  ہے بلکہ تمام دنیا کیلئے ہے۔ انھیں  زمین کے چپہ چپہ اور گوشہ گوشہ میں  پہنچنا چاہئے۔ معمورۂ ارضی کے ہر دشت و جبل اور بحرو بر میں  نیکی کا جھنڈا لئے ہوئے بدی کے لشکروں  کا تعاقب کرنا چاہئے اور اگر دنیا کا کوئی ایک کونہ بھی ایسا باقی رہ گیا ہو جہاں  منکر (یعنی برائی) موجود ہوتو وہاں  پہنچ کر اس کو مٹانا اور معروف (نیکی) کو اس کی جگہ قائم کرنا چاہئے۔ اللہ کا کسی خاص ملک یا خاص نسل سے رشتہ نہیں  ہے بلکہ وہ اپنی تمام مخلوق کا یکساں  خالق ہے اور سب سے یکساں  خالقیت کا تعلق رکھتا ہے۔ اس لئے وہ کسی خاص ملک میں  فتنہ و فساد پھیلنے کو برا نہیں  سمجھتا بلکہ زمین میں  خواہ کسی جگہ بھی فساد ہو اس کیلئے یکساں  ناراضی کا موجب ہوتا ہے؛ چنانچہ قرآن مجید میں  فساد فی العرب یا فتنہ فی العجم کہیں  نہیں  آیا بلکہ ہر جگہ ارض کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ پس وہ اپنے لشکر حق یعنی امت مسلمہ کی خدمت کو قومیت و نسل کی حدود میں  مقید نہیں  کرتا بلکہ اس رحمت کو تمام روئے زمین کے بسنے والوں  کیلئے عام کرتا ہے۔

 امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی حقیقت : اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں  کے خیر اُمت ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ صرف اپنی ذات کی خدمت کیلئے پیدا نہیں  ہوئے ہیں  بلکہ تمام انسانیت کی خدمت ان کا مقصد وجود ہے۔ وہ قوم پرستی یا وطن پرستی کیلئے نہیں  اٹھائے گئے ہیں  بلکہ یہ عین فطرتِ اسلام ہی کا تقاضا ہے کہ وہ خادمِ انسانیت بن کر رہیں۔

 اب دیکھنا چاہئے کہ مسلمانوں  کی وہ اصلی خدمت جس کو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے جامع الفاظ میں  بیان کیا گیا ہے کس قسم کی خدمت ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے۔

 ’’معروف‘‘ لغت میں  اس چیز کو کہتے ہیں  جو جانی پہچانی ہو اور اصطلاحاً ا س سے مراد ہر وہ فعل لیا جاتا ہے جس سے عقل صحیح آشنا ہو، جس کی خوبی کو فطرتِ سلیمہ جانتی اور سمجھتی ہو اور جسے دیکھ کر ہر انسان کا دل گواہی دے کہ واقعی یہ بھلائی ہے۔ اس کے بالمقابل ’’منکر‘‘ کا لفظ ہے جو عربی لغت میں  اَنجانی اور نامانوس چیز کیلئے بولا جاتا ہے اور اصطلاحاً اس کا اطلاق اس فعل پر ہوتا ہے جس کو فطرتِ سلیمہ پسند نہ کرتی ہو، عقل صحیح جس کی برائی کا حکم لگائے اور عام انسان جسے ناپسندیدہ سمجھتے ہوں۔  ایمانداری، سچائی، راست بازی، پرہیز گاری، فرض شناسی، ضعیفوں  کی حمایت، مصیبت زدوں  سے ہمدردی، مظلوموں  کی مدد،  محتاجوں  کی اعانت، عدل و انصاف کا قیام، خدا اور بندوں  کے اور خود اپنے حقوق کو سمجھنا اور انھیں  ادا کرنا، یہ اور ایسے ہی دوسرے اخلاقی فضائل معروف ہیں  اور ان پر خود عمل کرنے اور دوسروں  کو آمادہ کرنے کا نام ’امر بالمعروف‘ ہے۔ اس کے بعد خیانت، بدکاری، دروغ بافی، فتنہ پردازی، فساد انگیزی، بے انصافی، اپنے حدود سے تجاوز کرنا، دوسروں  کے حق مارنا، باطل کی حمایت کرنا، حق و صداقت کو دبانا، کمزوروں  اور ضعیفوں  کو ستانا، یہ اور ایسے ہی دوسرے تمام خلافِ انسانیت، خلافِ عقل اور خلافِ فطرت اعمال ’منکر‘ ہیں  اور ان سے خود احتراز کرنا اور دوسروں  کو باز رکھنا نہیں  عن المنکرہے۔

اس میں  خود نیک بننا اور بدی سے پرہیز کرنا مقدم رکھا گیا ہے اور نیک بنانا اور بدی سے روکنا موخر، جیسا کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے پہلے اقاموا الصلوٰۃ و اٰتواالزکوٰۃ کا ذکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ نیک بنانے سے پہلے نیک بننا ضروری ہے؛ لیکن جس طرح اپنا پیٹ بھرنے سے دوسرے کا پیٹ بھرنا زیادہ افضل ہے، اسی طرح فضیلت کے اعتبار سے نیکی کو پھیلانے اور بدی کو روکنے کا درجہ بھی نیک بننے اور بد ی کو ترک کرنے سے زیادہ ہے، کیونکہ ایک اپنی خدمت ہے اور دوسری اپنے ابنائے نوع کی خدمت۔ ایک محض انسانیت کے درجہ میں  ہے اور دوسری انسانیت کاملہ کے درجہ میں۔  نیکی پر خود عمل کرنا اور بدی سے خود پرہیز کرنا یقینا ایک اچھی صفت ہے اور ایک شریف آدمی کا شیوہ، مگر شرافت کا کمال اور بزرگی کا اعلیٰ درجہ اس وقت تک کسی انسان کو نصیب نہیں  ہوسکتا جب تک وہ دوسرے لوگوں  کو بھی نیکو کار بنانے اور بدکاری سے روکنے کی کوشش نہ کرے۔

  انسان کی فطرت ہے کہ اگر اسے کوئی چیز ناپسند ہوتی ہے تو اسے چھوڑ دیتا ہے۔ اگر ناپسندی سے ایک درجہ بڑھ کر نفرت ہوتی ہے تو اسے دیکھنا یا سننا بھی برداشت نہیں  کرسکتا۔ اگر نفرت سے ایک درجہ بڑھ کر دشمنی ہوجاتی ہے تو وہ اسے مٹانے کے درپے ہوجاتا ہے۔ اور اگر دشمنی سے بڑھ کر اس کے دل میں  بغض و عناد کے شدید جذبات پیدا ہوجاتے ہیں  تو پھر وہ اس کے مٹانے کو اپنی زندگی کا مشن بنالیتا ہے اور اس طرح ہاتھ دھوکر اس کے پیچھے پڑجاتا ہے کہ جب تک اسے صفحہ ہستی سے محو نہ کردے چین نہیں  لیتا۔ اسی طرح جب وہ کسی چیز کو پسند کرتا ہے تو خود اختیار کرلیتا ہے۔ جب محبت کرتا ہے تو آنکھوں  سے اس کو دیکھنے اور کانوں  سے اس کا ذکر سننے میں  مسرت محسوس کرتا ہے۔ جب محبت سے بڑھ کر عشق کا درجہ آتا ہے تو چاہتا ہے کہ دنیا کے ذرہ ذرہ میں  اسی کا جمال ہو اور زندگی کا کوئی لمحہ بھی اس کے غیر کو دیکھنے اور غیر کا ذکر سننے اور غیر کا تصور کرنے میں  ضائع نہ ہو۔ پھر اگر یہ عشق فدائیت کی حد تک بڑھ جائے تو وہ اپنی زندگی کو اسی کی خدمت کیلئے وقف کر دیتا ہے اور اپنی جان و مال، عیش و آرام، عزت و آبرو، غرض سب کچھ اس پر نثار کر دیتا ہے۔ پس امر بالمعروف جس چیز کا نام ہے وہ در اصل نیکی سے انتہائی شیفتگی اور والہانہ عشق ہے، اور نہی عن المنکر سے جس چیز کو تعبیر کیا گیا ہے وہ در اصل بدی سے انتہائی بغض و عناد ہے۔ معروف کا حکم دینے والا صرف نیک ہی نہیں  ہوتا بلکہ نیکی کا عاشق اور فدائی ہوتا ہے اور منکر سے روکنے والا صرف بدی سے محترز ہی نہیں  ہوتا بلکہ اس کا دشمن اور اس کے خون کا پیاسا ہوتا ہے۔

 ایک دوسرا جذبہ جس پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی بنیاد قائم ہے حب ِانسانیت اور ہمدردی بنی نوع کا جذبہ ہے۔ خود غرض آدمی کو اللہ جو نعمت دیتا ہے اس میں  وہ اکیلا رہنا چاہتا ہے، دوسرے کو اس میں  شریک نہیں  کرتا۔ اسی طرح کوئی مصیبت اس کی اپنی ذات پر آئے تو وہ اسے دفع کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر دوسروں  کو مصیبت میں  دیکھ کر ان کی مدد نہیں  کرتا۔ بخلاف اس کے جو شخص ہمدرد اور محب انسانیت ہو وہ اپنی راحت میں  سب کو شریک کرتا ہے، اپنی نعمتیں  سب پر بانٹتا ہے اور دوسرے کو درد و مصیبت میں  دیکھ کر اسی طرح بیتاب ہوجاتا ہے جس طرح خود اپنے لئے ہوسکتا ہے۔ اس خود غرضی و ہمدردی کو ہم عموماً محسوسات اور مادّیات کے عالم تک محدود سمجھتے ہیں ، لیکن اخلاق و روحانیت کے عالم میں  ان صفات کا مقابلہ زیادہ سختی کے ساتھ ہوتا ہے اور چونکہ انسان کی مادی بھلائی اور برائی اس کی اخلاقی و روحانی زندگی کے تابع ہوتی ہے اس لئے ان صفات کا اصلی مقابلہ حقیقتاً اسی عالم میں  ہوتا ہے۔ ایک سچا ہمدردِ بنی نوع اور محب انسانیت خود نیک بن جانے پر قانع نہیں  ہوسکتا جب تک وہ اپنی انسانی برادری کے دوسرے افراد کو بھی بدی کے پنجہ سے چھڑا کر نیکی کا راستہ نہ دکھائے اسے اطمینان نصیب نہیں  ہوتا۔ اس کی روح اپنے دوسرے بھائی کو بدی میں  مبتلا دیکھ کر بے چین ہوجاتی ہے۔ وہ دوسرے انسان کو نیکی کے لباس سے عاری دیکھ کر بیقرار ہوجاتا ہے، جیسے کوئی ماں  اپنے بچے کو سردی میں  سکڑتے دیکھ کر بے قرار ہوجایا کرتی ہے۔ اس کو جب کسی چیز کی اچھائی معلوم ہوجاتی ہے تو اس کا جی چاہتا ہے کہ سارے انسان اس سے فائدہ اٹھائیں ، اور جب وہ کسی چیز کی برائی جان لیتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ اس کے چنگل میں  ایک شخص بھی گرفتار نہ رہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ ایک چیز اگر اچھی ہے تو وہ صرف میرے ہی لئے اچھی نہیں  ہے بلکہ ہر انسان کیلئے اچھی ہے اور میرا فرض ہے کہ اس کو آدم علیہ السلام کے ہر بیٹے اور بیٹی تک پہنچا ؤں۔  دوسری چیز اگر فی الحقیقت بری ہے تو وہ صرف میرے ہی لئے بری نہیں  ہے بلکہ سب کیلئے اس کی برائی یکساں  ہے اور لوگوں  کو اس سے بچانا میرا فرض ہے۔ اپنی بھلائی پر قناعت کرکے دوسروں  کی بھلائی نہ چاہنا اور اپنے سے بدی کو دور کرکے مطمئن ہوجانا اور دوسروں  کو اس سے بچانے کی کوشش نہ کرنا سب سے بڑی خود غرضی اور سب سے بڑی انانیت ہے۔

تحریر: مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ… ترتیب: عبدالعزیز


گجرات فائلس: پس پردہ حقائق کا انکشاف

⋆ عبد العزیز

عبد العزیز

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

حضورﷺ کی تشکیل ِریاست کی فکری اور عملی بنیادیں (پانچوی قسط)

ترتیب:عبدالعزیز اس موقف کی وضاحت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے بہتر طور پر اس …

تبصرہ کیجیے