اجتماعی فرائض کے متعلق اسلام کی اعلیٰ تعلیم (2)

 اپنی بھلائی پر قناعت کرکے دوسروں  کی بھلائی نہ چاہنا اور اپنے سے بدی کو دور کرکے مطمئن ہوجانا اور دوسروں  کو اس سے بچانے کی کوشش نہ کرنا سب سے بڑی خود غرضی اور سب سے بڑی انانیت ہے۔ لیکن یہ صرف خود غرضی ہی نہیں  بلکہ  خودکشی بھی ہے۔ انسان ایک متمدن ہستی ہے۔ وہ جماعت سے الگ ہوکر زندگی نہیں  بسر کرسکتا۔ اس کی بھلائی اور برائی سب کچھ اجتماعی ہے۔ جماعت بری ہوگی تو اس کی برائی سے وہ بھی نہ بچ سکے گا۔ اگر ایک شہر میں  عام طور پر غلاظت پھیلی ہوئی ہو اور اس سے وبا پھوٹ پڑے تو ہوا کی خرابی صرف اسی شخص کو ہلاک نہ کرے گی جس کے گھر میں  غلاظت موجود ہو بلکہ وہ صاف ستھرا، روز نہانے والا، روز گھر کو صاف کرنے والا، اور حفظانِ صحت کا پورا لحاظ رکھنے والا آدمی بھی اس سے متاثر ہوگا جو اس شہر میں  رہتا ہو۔ اسی طرح اگر کسی بستی کا عام اخلاق بگڑا ہوا ہو اور وہاں  کے لوگ عموماً بدکار ہوں  تو اس پر جو تباہی نازل ہوگی وہ صرف بدکاروں  ہی تک محدود نہ رہے گی بلکہ ان چند نیکوں کاروں  کی عزت و شرافت پر بھی اس کی زد پہنچے گی جو اس بستی میں  مقیم ہو۔ وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً (انفال:25) کے یہی معنی ہیں  کہ کسی بستی کی عام تباہی سے صرف بدکار ہی تباہ نہیں  ہوتے بلکہ نیکو کار بھی اس کی لپیٹ میں  آجاتے ہیں۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مضمون کو ایک حدیث میں  نہایت وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے:

’’اللہ عام لوگوں  پر خاص لوگوں  کے عمل کے باعث اس وقت تک عذاب نازل نہیں  کرتا جب تک ان میں  یہ عیب پیدا نہ ہوجائے کہ اپنے سامنے برے اعمال ہوتے دیکھیں  اور انھیں  روکنے کی قدرت رکھتے ہوں  مگر نہ روکیں۔  جب وہ ایسا کرنے لگتے ہیں  تو پھر اللہ عام اور خاص سب پر عذاب نازل کرتا ہے‘‘ (مسند احمد)۔

 پس امر بالمعرو ف و نہی عن المنکر صرف دوسروں  ہی کی خدمت نہیں  بلکہ اپنی خدمت بھی ہے اور درحقیقت مجموعی بہتری میں  اپنی بہتری چاہنے کی دانش مندانہ حکمت عملی کا دوسرا نام ہے۔

 حیات اجتماعی میں  امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا درجہ۔  پھر یہی وہ چیز ہے جس پر اجتماعی فلاح وبہبود کا دار و مدار ہے جو ایک قوم اور ایک جماعت کو ہلاکت میں  مبتلا ہونے سے بچاتی ہے، جس کے بغیر انسانیت کی حفاظت نہیں  کی جاسکتی۔ جب تک ایک قوم میں  یہ اسپرٹ موجود رہتی ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کو نیکی کا حکم کرنے اور بدی سے روکنے کا اہتمام کریں  یا کم از کم اس قوم میں  ایک جماعت ہی ایسی موجود رہے جو اس فرض کو مستعدی کے ساتھ انجام دیتی رہی ہے تو وہ قوم کبھی تباہ نہیں  ہوسکتی، لیکن اگر یہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اسپرٹ اس میں  سے نکل جائے اور اس میں  کوئی جماعت بھی ایسی نہ رہے جو اس فرض کو انجام دینے والی ہو تو رفتہ رفتہ بدی کا شیطان اس پر مسلط ہوجاتا ہے اور آخر وہ اخلاقی و روحانی اور مادی تباہی کے گڑھے میں  ایسے گرتی ہے کہ ابھر نہیں  سکتی۔ اسی حقیقت کو قرآن مجید میں  یوں  بیان کیا گیا ہے:

 ’’پس کیوں  نہ تم سے پہلے کی قوموں  میں  (جن پر عذاب نازل ہوا) ایسے نیکو کار لوگ اٹھے جو انھیں  زمین میں  فساد پھیلانے سے روکتے؟ ایسے لوگ بہت تھوڑے تھے جنھیں  ہم نے ان میں  سے بچالیا، ورنہ سارے ہی ظالم لوگ ان لذتوں  کے پیچھے پڑے رہے جن کے سامان انھیں  عطا کئے گئے تھے اور وہ بڑے خطاکار تھے، سو تیرا رب ظالم نہیں  ہے کہ بستیوں  کو یونہی ہلاک کر دے؛ حالانکہ ان کے باشندے نیکوکار ہوں ‘‘(ہود:116-117)۔

 ایک دوسری جگہ بنی اسرائیل کے مبتلائے لعنت ہونے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ : ’’بنی اسرائیل میں  سے کفر کرنے والے لوگوں  پر داؤدؑ اور عیسیٰؑ ابن مریمؑ کی زبان سے لعنت کی گئی تھی، کیونکہ انھوں  نے نافرمانی کی اور وہ حد سے بڑھ جاتے تھے، وہ ایک دوسرے کو ان بری باتوں  سے نہ روکتے تھے جو وہ کیا کرتے تھے اور یہ بہت بری بات تھی جو وہ کرتے تھے‘‘۔

 اس آیت کی تفسیر میں  امام احمد، ترمذی، ابو داؤد اور ابن ماجہ رحمہم اللہ نے جو احادیث نقل کی میں  ان سب میں  تھوڑے اختلاف کے ساتھ یہ بیان کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل میں  پہلا نقص جو پیدا ہوا وہ یہ تھا کہ ان کے دلوں  سے برائی کی نفرت دور ہوگئی تھی اور وہ جھوٹی روا داری پیدا ہوگئی تھی جو برائی کو برداشت کرتے کرتے خود برائی میں  مبتلا ہوجانے پر انسان کو آمادہ کر دیتی ہے۔ یعنی جب ان میں  کا ایک آدمی دوسرے سے ملتا تو کہتا کہ اے شخص اللہ سے ڈر اور یہ فعل چھوڑ دے جو تو کرتا ہے کیونکہ یہ تیرے لئے جائز نہیں  ہے، مگر دوسرے دن جب اس سے ملتا تو اسی کا ہم پیالہ و ہم نوالہ اور ہم نشین بننے سے کوئی چیز اسے باز نہ رکھتی۔ آخر ان پر ایک دوسرے کی برائی کا اثر پڑگیا اور ان کے ضمیرہ مردہ ہوگئے، ضرب اللہ قلوب بعضھم ببعض۔ جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے تو دفعتہ لیٹے لیٹے اٹھ بیٹھے اور جوش میں  آکر فرمایا:

 ’’اس کی قسم؛ جس کے ہاتھ میں  میری جان ہے، تمھیں  لازم ہے کہ نیکی کا حکم کرو اور برائی سے روکو اور بدکار کا ہاتھ پکڑلو اور اسے حق کی طرف موڑ دو، ورنہ اللہ تمہارے دلوں  پر بھی ایک دوسرے کا اثر ڈال دے گا یا تم پر بھی اسی طرح لعنت کرے کا جس طرح ان لوگوں  پر کی تھی‘‘۔

 اسی مثال پر تمام دنیا کو بھی قیاس کرلینا چاہئے۔ جس طرح ایک قوم کی فلاح وبہبود اور نجات کا انحصار امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی عملی روح پرہے ، اسی طرح تمام عالم انسانی کی نجات و فلاح بھی اسی چیز پر منحصر ہے۔ دنیا میں  کم از کم ایک گروہ ایسا ضرور ہونا چاہئے جو بدکاروں  کا ہاتھ پکڑنے والا، بدی کو روکنے والا اور نیکو کاری کا حکم دینے والا ہو، اللہ کی طرف سے اس کی زمین پر گوا ہو، لوگوں  کی دیکھ بھال کرتا رہے، شرارت کے عناصر کو قابو میں  رکھے، انصاف قائم کرے اور بدی کو کبھی سر نکالنے کا موقع نہ دے۔ اللہ کی مخلوق کو عام تباہی سے بچانے اور اس کی زمین کو شر و فساد اور ظلم و زیادتی سے محفوظ رکھنے کیلئے ایسے گروہ کا وجود نہایت ضروری ہے:

’’اور تم میں  ایک گروہ ایسا ضرور ہونا چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے اور بدی سے روکے‘‘ (آل عمران: 104)۔

 پس امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی حقیقت صرف یہی نہیں  ہے کہ وہ فی نفسہٖ ایک اچھی چیز ہے اور ہمدردی بنی نوع کا ایک پاکیزہ جذبہ ہے، بلکہ درحقیقت وہ نظام تمدن کو فساد سے محفوظ رکھنے کی ایک بہترین اور ناگزیر تدبیر ہے اور ایک خدمت ہے جو دنیا میں  امن قائم کرنے، دنیا کو شریف انسانوں  کی بستی کے قابل بنانے اور دنیا والوں  کو حیوانیت کے درجہ سے انسانیت کاملہ کے درجہ تک پہنچانے کیلئے اللہ نے ایک بین الاقوامی گروہ کے سپرد کی ہے اور یقینا انسانیت کی اس سے بڑی خدمت اور کوئی نہیں  ہوسکتی۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرق: یہ عالمگیر انسانی خدمت جو بین الاقوامی مسلم جماعت کے سپرد کی گئی ہے دو اجزا پر مشتمل ہے، ایک امر بالمعروف، دوسرے نہی عن المنکر۔ ان دونوں  کا مقصود و مدعا اگر چہ ایک ہی ہے؛ یعنی آدمی کو انسان بنانا، لیکن دونوں  کے مدارج مختلف ہیں ، اس لئے دونوں  کے طریقوں  میں  بھی اختلاف ہے۔ آئندہ مباحث کو سمجھنے کیلئے اس اختلاف کو سمجھ لینا ضروری ہے۔

 علم الاخلاق میں  انسان کے فرائض کو دو حصوں  پر تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک وہ فرائض جن کے کرنے کا اس سے مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔ دوسرے وہ فرائض جن کا کرنا نہ کرنا خود اس کی مرضی پر موقوف ہے۔ سوسائٹی کا ایک اچھا رکن بننے کیلئے انسان کا کم سے کم فرض یہ ہے کہ وہ برے کاموں  سے بچے، دوسروں  کے حقوق نہ چھینے، دوسروں  پر ظلم نہ کرے، دوسروں  کے امن و اطمینان میں  خلل نہ ڈالے اور ایسے اعمال سے پرہیز کرے جو اس کے وجود کو سوسائٹی کیلئے نقصاندہ یا غیر مفید بناتے ہوں۔  ان فرائض کو ادا کرنے کا ہر سوسائٹی اپنے ہر رکن سے مطالبہ کرتی ہے، اور اگر وہ انھیں  ادا نہ کرے تو اس کیلئے ضروری ہوجاتا ہے کہ ان کے ادا کرنے پر اسے مجبور کرے۔ فرائض کی دوسری قسم وہ ہے جو فضائل اخلاق سے تعلق رکھتی ہے، جنھیں  کرنے سے انسان سوسائٹی کا ایک معزز اور اعلیٰ درجہ کا رکن بن سکتا ہے۔ مثلاً خدا اور بندوں  کے حقوق پہچاننا اور انھیں  ادا کرنا، خود نیک بننا اور دوسروں  کو نیک بنانا، اپنے خاندان اور اپنی قوم اور اپنے ابنائے نوع کی خدمت کرنا اور حق کی حمایت و حفاظت کرنا وغیرہ۔  اس دوسری قسم کے فرائض کو انجام دینے کیلئے انسانی شعور کی تکمیل ضروری ہے۔ کوئی شخص انھیں  اس وقت تک ادا نہیں  کرسکتا جب تک کہ وہ ان کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھ نہ لے اور اس کے نفس میں  اتنی پاکیزگی پیدا نہ ہوجائے کہ آپ سے آپ انھیں  ادا کرنے پر آمادہ ہو۔ اس لئے یہ فرائض جبری نہیں  بلکہ اختیاری ہیں  اور انسان کی اپنی مرضی پر منحصر ہے کہ خواہ معزز اور اعلیٰ درجہ کا انسان بنے یا نہ بنے، اگر چہ ایک سوسائٹی کا اخلاقی نظام ایسا ہی ہونا چاہئے کہ اس کے افراد میں  اعلیٰ درجہ پر پہنچنے کی خواہش طبعاً پیدا ہو۔

 امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فرق بھی تقریباً اسی تقسیم پر مبنی ہے۔ آدمی کو حیوانیت کے درجہ سے نکال کر انسانیت کی سطح پر لانا اور اسے انسانی سوسائٹی کا ایک غیر مفید اور نقصان دہ رکن بننے سے روکنا نہی عن المنکر سے تعلق رکھتا ہے۔ اور اس کو انسانیت کی سطح سے اٹھاکر انسانیت کاملہ کے درجہ میں  لے جانا اور اسے انسانی سوسائٹی کا ایک مفید اور معزز رکن بنانا امر بالمعروف سے متعلق ہے۔ امر بالمعروف، نہی عن المنکر سے افضل ہے۔ لیکن ترتیب کے اعتبار سے نہی عن المنکر پہلے ہے اور امر بالمعروف بعد میں ، جس طرح ایک کسان کا اصل مقصد اناج پیدا کرنا ہے، لیکن اس کیلئے بیج ڈالنے سے پہلے ہل چلا کر زمین کو نرم کر دینا ضروری ہے، اسی طرح اسلام کا اصل مقصد تو انسان کو انسان اعلیٰ بنانا ہے، مگر معروف کا بیج ڈالنے سے پہلے اس کی فطرت کو منکر سے پاک کرکے ہموار کر دینا ضروری ہے۔

 اسلام ہر شخص کو معروف کی طرف دعوت دیتا ہے اور انسان کو اس کی خوبیاں  دکھاکر اسے اختیار کرنے پر آمادہ کرتا ہے، لیکن منکر ایک پردہ ہے جو آدمی کی آنکھ کو معروف کا پرتو قبول کرنے کے قابل نہیں  رہنے دیتا۔ اس لئے منکر کے پردہ کو ہر ممکن طریقہ سے چاک کرنا اور اس کے زنگ کو ہر ممکن طریقہ سے کھرچ دینا سب سے پہلے اور ضروری تدبیر ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی شخص معروف کی دعوت دیتا قبول کرے تو اس کیلئے فضائل اخلاق کا ایک بڑا حصہ اختیاری نہیں  رہتا، لازمی ہوجاتا ہے؛ کیونکہ انسانیت کاملہ کے درجہ میں  پہنچ کر اس کیلئے وہ آسانیاں  باقی نہیں  رہ سکتیں  جو انسانیت محضہ کے درجہ میں  اسے حاصل تھیں ، لیکن اگر یہ زنگ چھوٹ جانے کے بعد اور یہ پردہ اٹھ جانے کے بعد بھی کوئی آنکھ معروف کا جمال نہ دیکھے اور کوئی قلب اس کا پرتو قبول نہ کرے تو اسلام اسے صرف منکر سے روکنے پر اکتفا کرتا ہے اور آگے اس کا معاملہ اس کے اپنے ضمیر پر چھوڑ دیتا ہے۔

 ایک دوسری حیثیت سے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فرق اس پر مبنی ہے جو خود اسلام کی دو مختلف حیثیتوں  کے درمیان ہے۔ اسلام ایک حیثیت میں  تو محض دعوت ہے، نیکی اور تقویٰ کی جانب اور دوسری حیثیت میں  وہ اللہ کا قانون ہے، تمام دنیا کیلئے۔ جب کوئی شخص اسلام قبول کرلیتا ہے تو اس کیلئے یہ دونوں  حیثیتیں  جمع ہوجاتی ہیں  اور دعوت کی دفعات بھی اس کے حق میں  قانون کی دفعات بن جاتی ہیں ، مگر اسلام قبول نہ کرنے کی صورت میں  دعوت الگ رہتی ہے اور قانون الگ۔ دعوت کا منشا یہ ہے کہ انسان اس منصب خلافت کا اہل بن جائے جو اللہ نے اسے زمین پر بھیجتے وقت سپرد کیا تھا اور ان ذمہ داریوں  کو پورا کرے جو خلیفۃ اللہ فی الارض کی حیثیت سے اس پر عائد ہوتی ہیں۔  قانون کا منشا یہ ہے کہ انسان اگر منصب خلافت کی خدمات کو انجام نہ دے تو کم از کم فساد و خونریزی تو نہ کرے جس کا طعنہ فرشتوں  نے اس کو دیا تھا۔ اگر وہ اشرف المخلوقات نہ بنے تو کم از کم ارذل المخلوقات تو نہ بن جائے۔ اگر وہ دنیا کو نیکی و تقویٰ سے روشن نہ کرے تو کم از کم بدی و شرارت سے اس کے امن و سکون کو غارت تو نہ کرے۔ پہلی چیز باطن کی روشنی اور طبیعت کی صلاحیت پر منحصر ہے جو ظاہر ہے کہ مارے کوٹے سے پیدا نہیں  ہوتی، لیکن دوسر ی چیز حدود کی تعیین اور نگہداشت سے تعلق رکھتی ہے جس کا پاس و لحاظ کرنے پر اس کی سرکش طبیعت کو صرف وعظ و تلقین ہی سے آمادہ نہیں  کیا جاسکتا بلکہ بعض حالات میں  اسے مجبور کرنے کیلئے قوت کا استعمال بھی ضروری ہوتا ہے۔

تحریر: مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ… ترتیب: عبدالعزیز


گجرات فائلس: پس پردہ حقائق کا انکشاف

⋆ عبد العزیز

عبد العزیز

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

حضورﷺ کی تشکیل ِریاست کی فکری اور عملی بنیادیں (پانچوی قسط)

ترتیب:عبدالعزیز اس موقف کی وضاحت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے بہتر طور پر اس …

تبصرہ کیجیے