ملی مسائل

اجتماعی یا جماعتی زندگی کیوں ضرور ی ہے؟

 عبدالعزیز

 جماعت فرد کی ضد ہے۔ فرد کے مجموعہ یا اشتراک باہمی سے جماعت کا وجود عمل میں آتا ہے۔ فرد کے مقابلے میں جماعت یا اجتماعیت کی اہمیت اور افادیت مسلم ہے۔ علامہ اقبال نے جو حقیقت میں روح دین کے آشنا تھے اجتماعیت یا جماعت کی حقیقت کو اپنے الفاظ میں نہایت بہتر طریقہ سے سمجھایا ہے۔

آبرو باقی تیری ملت کی جمعیت سے تھی

جب یہ جمعیت گئی دنیا میں رسوا تو ہوا

اپنی اصلیت پر قائم تھا تو جمعیت بھی تھی

چھوڑ کر گل کو پریشاں کاروانِ بو ہوا

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج دریا میں ہے اور بیرون دریا کچھ نہیں

علامہ اقبال نے یہاں ملت سے مراد جماعت یا اجتماعیت لیا ہے۔ اسی لئے کہا ہے کہ جو موج دریا میں ہوتی ہے وہی رواں دواں ہوتی ہے۔ دریا سے باہر اس کی روانی، گیرائی و گہرائی باقی نہیں رہتی۔ ایک قطرہ دریا میں ڈال دیجئے تو وہ قطرہ دریا بن جاتا ہے۔ ایک قطرہ دریا سے باہر نکالئے تو وہ کچھ بھی نہیں رہتا۔ اس کی روانی ختم ہوجاتی ہے۔ قطرہ دریا میں ہے تو زندگی ہے، دریا سے باہر ہے تو بے وقعت ہے بلکہ موت ہے۔ اسی طرح فرد جماعت کا جز ہوتا ہے  تو تازہ دم رہتا ہے لیکن جب جماعت سے باہر ہوتا ہے تو مثل مردہ ہوجاتا ہے۔

 قرآن مجید میں جابجا اجتماعیت اور جماعت کی اہمیت سمجھائی گئی ہے۔ ایک ساتھ رہنے، مل جل کر رہنے، شیر و شکر بنے رہنے پر زور دیا گیا، تفرقہ و انتشار سے بچنے اور دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ پیغمبر موجود ہوتا ہے تو وہ اپنی جماعت کا رہنما اور ہادی ہوتا ہے۔ پیغمبر کی جماعت سے جو باہر ہوا وہ کافر کہلاتا ہے۔ پیغمبر کے بعد اس کے پیروؤں کی جماعت ہوتی ہے، اس جماعت کا ایک امیر یا خلیفہ ہوتا ہے جسے امیر المومنین یا خلیفۃ المسلمین کہا جاتا ہے۔ یہ الجماعت یعنی The Party  کہلاتی ہے۔ اس سے بھی جو دور ہوجاتا ہے وہ کافر کہلاتا ہے۔ اس کے بعد جو دور آتا ہے بادشاہت کا یا زبردستی کی حکومتوں کا تو اس میں ملت کا یا الجماعت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے مگر اس منتشر ملت میں بھی جماعت کی افادیت، اہمیت اور ضرورت باقی رہتی ہے، ختم نہیں ہوتی ۔ سورہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ۔ ’’تم بہترین امت ہو (تم بہترین جماعت ہو) جو انسانوں کیلئے برپا کی گئی ہے جو نیکی کا حکم دیتی ہے اور برائی سے روکتی ہے، اللہ پر یقین رکھتی ہے‘‘  (آیت 110) ۔

 اسی سورہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے : وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَ یَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (114)۔ ’’اور دیکھو ضروری ہے کہ تم میں ایک جماعت ایسی ہو جو بھلائی کی باتوں کی طرف دعوت دینے والی ہو۔ نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے، بلاشبہ ایسے لوگ فلاح پانے والے ہیں ‘‘۔

 اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جماعت کی ضرورت اور اہمیت پر نہ صرف زور دیا ہے بلکہ ضروری قرار دیا ہے۔ آپؐ فرماتے ہیں کہ میں تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں جن کا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے۔ سننے کا، اطاعت کرنے (سمع و طاعت)، جہاد کرنے کا، ہجرت کا اور جماعت کا‘‘ (راوی حضرت حارث اشعریؓ، حوالہ ترمذی)۔

 ’’تم پر لازم ہے کہ جماعت کا دامن مضبوطی سے تھامے رہو اور تم پر لازم ہے کہ تفرقہ و انتشار سے دور رہو‘‘ (راوی حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حوالہ ترمذی)۔

 جید عالم دین اور مفتی حضرت مولانا سید احمد عروج قادریؒ فرماتے ہیں کہ ان دو حدیثوں سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں پر جماعتی زندگی بسر کرنے اور اپنے سربراہ (امیر) کے احکام سننا اور اطاعت کرنا فرض ہے۔ یہ محض مستحب و مستحسن چیز نہیں ہے بلکہ مسلمانوں پر اسے لازم قرار دیا گیا ہے۔

 جماعت سے الگ ہوجانا اور امیر جماعت کی نافرمانی کرنا اسلام کے منافی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

 ’’حضرت حارث اشعریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلا شبہ جو شخص جماعت سے بالشت بھر بھی الگ ہوگیا، کوئی شک نہیں کہ اس نے اسلام کا حلقہ اپنی گردن سے نکال پھینکا اِلّا یہ کہ وہ پھر جماعت میں واپس آجائے‘‘ (ترمذی باب الادب، باب مثل الصلوٰۃ) ۔

 حضرت ابوہریرہؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا: ’’جس شخص نے امیر کی اطاعت رد کر دی اور جماعت سے الگ ہوگیا، پھر مرگیا، وہ جاہلیت کی موت مرا‘‘ (مسلم کتاب الامارۃ، باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین…) ۔

 حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص امیر میں کوئی ایسی بات دیکھے جو اسے ناگوار ہو تو اس کو صبر کرنا چاہئے کیونکہ جو شخص ’جماعت‘ سے بالشت بھر بھی الگ ہوجاتا ہے پھر مرجاتا ہے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوتی ہے‘‘ (بخاری کتاب الاحکام، باب السمع والطاعۃ للامام مالم تکن معصیۃ و مسلم کتاب الامارۃ)۔

 ان تین حدیثوں نے اس بات میں کوئی شک باقی نہیں چھوڑا کہ مسلمان پر جماعتی زندگی اور جماعت کے امیر کی اطاعت فرض ہے۔ اور اس درجے کا فرض ہے کہ اگر کسی نے جماعتی زندگی ترک کر دی اور اپنے امیر کی اطاعت سے منحرف ہوگیا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے خود اسلام کا حلقہ اپنی گردن سے نکال پھینکا۔ علاحدگی کے ساتھ، بالشت بھر کی قید بڑھاکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت کے ساتھ جڑے رہنے کی فرضیت و اہمیت کو اس کی انتہائی حد تک پہنچا دیا ہے یعنی بالکل علاحدہ ہوجانا تو بڑی بات ہے۔ کسی شخص کا بالشت بھر بھی علاحدہ ہوجانا منافی اسلام ہے۔ اسلامی نظم و اجتماعیت کے فرض ہونے کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوگی؟

 تیسری حدیث میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے امیر میں کوئی ایسی بات دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو اس کو صبر کرنا چاہئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص محض اس بنا پر کہ امیر جماعت کی کوئی بات اسے پسند نہیں ہے۔ جماعت سے علاحدگی اور امیر کی اطاعت سے انحراف اختیار نہ کرے۔

اگر کوئی مسلمان اسلامی اجتماعیت سے الگ ہوکر زندگی بسر کر ے اور اسلامی جماعت کے امیر کی اطاعت کا عہد ہی نہ کرے تو نہ اس کی زندگی اسلامی زندگی ہوگی اور نہ اس کی موت اسلامی موت ہوگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

 حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے امیر کی اطاعت ترک کردی وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اپنے بچاؤ کیلئے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی اور جو شخص اس حال میں مر گیا کہ اس کی گردن میں امیر کی بیعت کا قلاوہ نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا‘‘ (مسلم کتاب الامارۃ باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین عند ظہور الفتن)۔

 اس حدیث میں دونوں باتیں جمع کر دی گئی ہیں یعنی اگر کوئی شخص اسلامی جماعت میں داخل تھا اس کے بعد امیر کی اطاعت سے منحرف ہوگیا تو یہ فعل بھی قابل مواخذہ ہے۔ اور اگر کسی شخص نے جماعتی زندگی اختیار ہی نہ کی اور کسی اسلامی جماعت کے امیر کی اطاعت کا عہد ہی نہ کیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔

 اسلام سفر کی عارضی حالت میں بھی یہ گوارا نہیں کرسکتا کہ مسلمانوں کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا گروہ بھی غیر منظم اور منتشر رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: حضرت ابو سعی خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تین افراد سفر پر نکلیں تو انھیں چاہئے کہ کسی ایک کو اپنا امیر بنالیں ‘‘ (ابو داؤد کتاب الجہاد، باب فی القوم یسافرون یومرون احدہم)۔

 حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’جو شخص اس جماعت کو جبکہ وہ متحد ہے منتشر کرنا چاہے اس پر تلوار چلاؤ خواہ وہ کوئی بھی ہو‘‘ (مسلم کتاب الامارہ، باب حکم من فرق امر المسلمین وہو مجتمع)۔

 اس حدیث سے بھی اسلامی اجتماعیت کی اہمیت پوری طرح واضح ہوتی ہے۔

 اسلامی اجتماعیت اور غیر اسلامی اجتماعیت میں فرق۔

(الف)   وہ رشتہ جو مسلمان افراد کو اسلامی جماعت بناتا اور انھیں تفرقہ و انتشار سے بچاتا ہے۔ اللہ کا دین ہے ۔

 وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعاً وَّ لَا تَفَرَّقُوْا ۔ (آل عمران:103)۔ ’’اللہ کی رسّی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور ٹکڑے ٹکڑے نہ ہوجاؤ‘‘۔

’’اللہ کی رسی‘‘ سے مراد اللہ کا بھیجا ہوا دین اسلام ہے۔ جس طرح رسی، متعدد چیزوں کے درمیان شیرازہ بندی اور انھیں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کرتی ہے۔ اسی طرح اللہ کا دین مسلمانوں کی شیرازہ بندی کرتا اور انھیں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔ اللہ کے دین پر عمل اور اس کی اشاعت و اقامت ہی وہ مقصد ہے جس سے اسلامی اجتماعیت پیدا ہوتی ہے۔ اگر کوئی جماعت اس مقصد کیلئے نہ بنی ہو تو وہ اسلامی اجتماعیت نہیں ہے‘‘۔

 بعض لوگ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان کی پسند کی کوئی جماعت نہیں ہے تو وہ کیسے اس میں شامل ہوں ۔ ان کیلئے راہ فرار نہیں ہے بلکہ ان پر خود جماعت بنانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے تاکہ وہ غیر جماعتی زندگی سے بچ سکیں اور اسلامی زندگی گزار سکیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close