ملی مسائل

اختلافات اپنے منطقی انجام تک کیوں نہیں پہنچ پاتے؟

کتنی صدیاں گزرگئیں مگر آج تک یہ مسئلہ وہیں کا وہیں ہے جہاں پہلے دن تھا۔

ابوفہد

حالانکہ میں بھی ایک مسلک کے ساتھ جیتا ہوں..مگر سچی بات یہ ہے کہ کسی بھی مسلک سے محض عملی، جذباتی اور فدویانہ وابستگی کے ساتھجیتے اور رہتے ہوئے، مکمل آزادی کے ساتھ کوئی بھی تحقیقی عمل تقریبا نا ممکن ہے… یہ ناممکن ہے کہ کسی مسلک کے ساتھ میری فدویانہ اورجذباتی وابستگی بھی ہو اورمیں پھر بھی مسلک کے خلاف جاکر سوچوں… کم از کم ماضی قریب کی ہماری تاریخ یہی باور کرواتی ہے۔

اوراسی لیے ایسا ہے کہ ہمارے یہاں بعض معمولی مسائل میں پچھلے پانچ سو سالوں سے اختلافات چلے آتے ہیں اورباوجود اس کے کہ دنیا میں سائنسی رجحانات فروغ پارہے ہیں، لوگ ترقی کررہے ہیں، ہمارے یہاں ان مسائل میں وقت کے ساتھ ساتھ مزید پیچیدگیاں پیدا ہوتی چلی جارہی ہیں۔ بجائے اس کے کہ پانچ صدی کی طویل مدت میں ہم ان مسائل میں کسی منطقی تجزئے تک پہنچ جاتے اور کوئی حتمی فیصلہ کرلیتے،یا پھر یہ کہ انہیں ہمیشہ کے لیے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیتے، ہم ان میں مزید الجھتے جارہے ہیں۔ اور مشکل تو یہ بھی ہے کہ ہم اپنے بعد والی نسلوں کے لیے بھی یہ بیکار کی بحثیں چھوڑے جارہے ہیں۔ جب ہمارے بچے جوان ہوں گے تووہ پھر سے جزوی مسائل میں تحقیق فرمائیں گے اوراپنی جان گھلائیں گے۔ اور پھر ان کے بعد ان کی نسل بھی ۔ اور نتیجہ ان کے ہاتھ بھی نہیں لگے گا۔ پہلے دن جو اختلاف قائم ہوا تھا آخری دن تک وہی اختلاف قائم رہے گا۔  کیونکہ علم کسی بھی پیڑھی کو وراثت میں منتقل نہیں ہوتا ۔ جس طرح ایک باپ ابجد سے سیکھنا شروع کرتا ہے اسی طرح اس کا بیٹا بھی ابجد سے سیکھنا شروع کرتا ہے، کوئی بھی باپ اپنے بیٹے کو منقولہ وغیر منقولہ جائداد کی طرح اپنا سارا کا سارا علم منتقل نہیں کرسکتا۔ نہ ہی ایک نسل دوسری نسل سے علم اس طرح حاصل کرتی ہے۔ اور اسی لیے ایسا ہے کہ  دن اور رات کی طرح اور پانی کی طرح  کسب علم کی بھی سائکلنگ ہے۔ اور جب ایسا ہے تو ہمیں آگے بڑھنے کا کوئی دوسرا راستہ تلاش کرنا ہوگا، نہیں تو ہم ایک ہی جگہ کھڑے کھڑے زندگی کی سائکل کے پہیوں کو گھماتے رہیں گے  اور اس کا راستہ یہی ہے کہ ہم اپنے نزاعی مسائل  میں جتنی جلد ممکن ہوسکے کسی حتمی تصفیے تک پہنچ جائیں تا کہ نئے مسائل کی طرف بھر پور توجہ کرسکیں۔

ہمارے یہاں ایک مصیبت اور بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم میں سے  اگر کوئی  شخص یا جماعت ان اختلافات کو ختم کرنے کے لیے اٹھتی ہے تو خود اپنے اور امت کے عجیب سے مزاج کے نتیجے میں خود اس کی کاوش بھی ایک الگ مسلک پر منتہی ہوتی ہے ۔ کتنی عجیب بات ہے کہ  اتحاد کی دعوت لے کر اٹھتے ہیں اور خود متفرق ہوجاتے ہیں ۔اختلافات کو ختم کرنے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور ایک نیافرقہ بنا کر کھڑا کردیتے ہیں۔ ماضی میں ایسی کئی تحریکیں اٹھیں جو ابتداء میں صرف ایک تحریک تھیں مگر انتہا ہوتے ہوتے وہ بھی ایک مسلک پر جا کر منتہی ہوئیں۔ لہذا یہ بالکل طے شدہ بات ہے کہ آج اگر کچھ لوگ مسالک کو ختم کرنے کے لیے اٹھیں گے تو مستقبل میں ان کی کاوش ایک نئے فرقے یا مسلک پر جاکر منتہی ہوگی۔

اسی لیے ایسا ہے کہ ہمارے  یہاں اس طرح مسلک پیدا ہورہے ہیں جس طرح برسات میں خودرو پودے اگا کرتے ہیں۔ یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ خود مسالک کو ختم کرنے کی دعوت لے کر اٹھنے والا بھی ایک الگ اور نئے مسلک پر جاکرٹہر جاتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے یہاں ’قوت نافذہ‘ یعنی حضرت عمرؓ کے کوڑے والی قوت نہیں ہے۔ اگر یہ ہوتی تو ہر دن ایک نیامسلک پیدا نہیں ہوتا۔ اور اب تو کئی ایسے مسالک بھی وجود میں آگئے ہیں جو اسلام میں سرے سے اس قوتِ نافذہ یعنی اسلامی حکومت کے ہی خلاف ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ اس قوت کے نہ ہونے کی وجہ سے کتنی بیماریاں پھیلتی ہیں۔ آج ہر ملک کے پاس ایک قانون کے علاوہ عدالت بھی ہے اورپارلیمنٹ بھی۔ تب ہی جاکر وہ اس لائق ہوپایا ہے کہ لوگوں کے مسائل کا تصفیہ کرسکے اور لوگوں کو آپس میں جوڑ کر رکھ سکے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے گرچہ صرف دو چیزوں کا تذکرہ کیا قرآن اور سنت  کا۔ آپ ﷺ نے  فرمایا کہ میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم ان کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رہوگے تب تک تم گمراہ نہیں ہوگے۔ آپ ﷺ نے ایک تیسری چیز کا تذکرہ یہاں نہیں کیا مگر دوسری جگہوں پر اس کا تذکرہ کیا۔ قرآن میں بھی الوالامر کے نام سے اس کا تذکرہ موجود ہے اور حدیث میں امام کے نام سے موجود ہے۔ قرآن وحدیث؛ جن کو ایک دستور کی حیثیت حاصل ہے جب تک ان کے نفاذ کے لیے دومزید ادارے نہیں ہوں گے ایک عدلیہ اور ایک پارلیمینٹ تب تک لوگ قرآن وحدیث سے مسائل کے استبناط میں اسی طرح الگ الگ راہوں پر چلیں گے اور ہمیشہ لڑتے جھگڑتے رہیں گے۔خدا بھلا کرے ان لوگوں کا جوقرآن وحدیث کے بعد انتظامی امورسے متعلق مزید ان دو اداروں کی ضرورت کو سرے سے خارج کرتے ہیں۔ کتاب اللہ اورسنت رسول اللہﷺ کے ساتھ ساتھ ان دواداروں کا وجود بھی ضروری ہے یعنی عدلیہ اورقوت نافذہ یعنی ریاست ۔اب مشکل تو یہ بھی ہے کہ لوگ اس میں بھی کبھی نہ ختم ہونے والا اختلاف پیدا کرلیں گے کہ عدلیہ اور حکومت کسی طرح کی ہونی چاہئے۔ اور ایک زمانے سے لڑبھی رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ ہمارے یہاں ہر چیز اور ہر بات میں اختلاف پیدا ہوتا ہے مگر وہ کسی بھی منطقی انجام کو نہیں پہنچتا۔ آپ ذرا سوچیں کہ لوگ حضرت عمر کے زمانے کے کچھ ہی بعد کے زمانے سے لے کر 8اور20 تراویح پر لڑ رہے ہیں۔ کتنی صدیاں گزرگئیں مگر آج تک یہ مسئلہ وہیں کا وہیں ہے جہاں پہلے دن تھا۔ ہمیں یہ جاننا ہی ہوگا کہ آخر ہمارے یہاں وہ کونسی ذہنیت مزاج یا عناصر ہیں جو ہمیں ایک معمولی سی مسئلے میں کسی منطقی انجام تک نہیں پہونچے دیتے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close