ملی مسائل

ارتدادکی خاموش لہر: چند اہم قابل توجہ پہلو

اگراس جانب سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی اورفوری اقدامات نہیں کئے گئے توآئندہ کے حالات بہت بھیانک ثابت ہوسکتے ہیں۔

منورسلطان ندوی

گذشتہ دنوں مسلم لڑکیوں کے غیرمسلم لڑکوں سے شادی کے متعددواقعات پیش آئے ہیں، یہ واقعات انتہائی تکلیف ہیں، یہ جہاں ملت کے لئے بدنماداغ ہیں وہیں خاندان کے سرپرستوں، نوجوانوں اورملت کے لئے فکرمندرہنے والے ملی رہنمائوں کے سامنے بھی بہت سے سوالات کھڑے کررہے ہیں، ان واقعات پرٹھنڈے دل سے سوچنا ضروری ہے، یہ بہت ہی خطرناک سگنل ہے، اگراس جانب سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی اورفوری اقدامات نہیں کئے گئے توآئندہ کے حالات بہت بھیانک ثابت ہوسکتے ہیں۔

ان واقعات سے صاف محسوس ہوتاہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے، غیروں نے مسلمانوں کے ایک کمزورپہلوپرکاری ضرب لگانے کامنصوبہ بنایاہے اوروہ اس میں کسی حدتک کامیاب نظرآرہے ہیں، جس طرح ریوڑسے بچھڑے بکرے کاشکاربھیڑکے لئے بہت آسان ہوتا ہے، اسی طرح دین سے ناواقف اوردینی ماحول سے دور نوجوان لڑکیوں کے لئے ذہین اور ہوشیارصیادکے بجھائے ہوئے جال میں پھنسنابلکہ ان کے کھودے ہوئے کنویں میں گرنا آسان ہوتاہے، اس وقت انہیں احساس بھی نہیں ہوتاکہ وہ اپنی سب سے قیمتی متاع یعنی ایمان کومحبت نام کی جس کوڑی کے عوض بیچ رہی ہیں، چنددنوں بعدانہیں وہ کوڑی بھی ہاتھ نہیں آئے گی، بلکہ انہیں جس ذہنی اورنفسیاتی کرب اورتکلیف سے گزرناہوگااس کااندازہ بھی انہیں نہیں ہے۔

اس وقت سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ کس طرح نئی نسل کی لڑکیوں کواس بچھائے ہوئے جال سے واقف کرایاجائے، نئی نسل تک پہونچنے کے لئے نئے ذرائع کا سہارا لینا ضروری ہے، اس کام میں دینی مزاج رکھنے والی سہیلیاں اہم کرداراداکرسکتی ہیں، سہیلیاں اپنی بہنوں کو غیروں کے ہاتھ میں جانے سے آسانی سے روک سکتی ہیں، کہ بڑے بوڑھوں کی باتیں آج کی نئی جنریشن کی سمجھ میں کہاں آتی ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ کالج میں پڑھنے والی باشعور لڑکیوں کی اس جانب رہنمائی کی جائے، تاکہ وہ اپنی زبان میں اپنی بہنوں کوسمجھاسکیں۔

ان واقعات نے تربیتی نظام پرسب سے بڑاسوالیہ نشان لگایاہے، اوریہ حقیقت ہے کہ موجودہ وقت میں زیادہ تروالدین اورخاندان کے سرپرستوں نے اس پہلو کو بھلاہی دیا ہے، اچھے اسکول کی تلاش اورپرکشش پروفیشن کی چاہت ذہنوں پراس قدرسوارہے کہ اس کے سواء کچھ نظرہی نہیں آتا، اورنیم پر کریلاچڑھایہ کہ آزاد ی کے نام پربچوں کوشتربے مہار چھوڑ دیا جاتا ہے، وہ کیاکرتے ہیں ؟ان کی سرگرمیاں کیاہیں ؟وہ کب کہاں جاتے ہیں ؟ رات میں گھرکب واپس آتے ہیں ؟ان کااٹھنا بیٹھنا کس طرح کے دوستوں کے ساتھ ہوتاہے؟ یہ باتیں تواب دقیانوسی سے آگے پتھرکے زمانہ کے بات سمجھتی جاتی ہے، حالانکہ تربیت کا تانا بانا انہی بنیادوں پرقائم ہیں، جن گھروں میں والدین اپنے بچوں کی نگرانی کرتے ہیں، اورتعلیم کے ساتھ ان کی ذہنی اورفکری تربیت کابھی انتظام کرتےہیں ان گھروں کے بچے تعلیم کے ساتھ شرافت، اورادب وتہذیب میں بھی نمایاں وممتازہوتے ہیں۔

آج کے دورمیں کسی قوم بالخصوص مسلمانوں کے لئے صرف یہ دیکھناکافی نہیں ہے کہ اسکول بہت اچھاہے اورتعلیم اچھی ہوتی ہے، بلکہ اس اسکول کی عمومی فضابھی دیکھناضروری ہے، ذہنی بگاڑکی شروعات زیادہ تراسکول وکالج کے آزادانہ ماحول سے ہوتی ہے، بہت سے تعلیمی اداروں کاماحول اخلاقی لحاظ سے انتہائی خراب ہوتاہے، اسکول کے اساتذہ وذمہ داران خود آزادانہ ماحول کے پروردہ ہوتے ہیں اس لئے وہ جدیدثقافت اورترقی یافتہ تمدن کے نام پر اسی طرح کے ماحول کوباقی رکھنابلکہ اسے فروغ دیناچاہتے ہیں، اورلڑکے لڑکیوں کے درمیان بے تکلفی اور آپسی دوستی کوخاموش طریقے سے بڑھاوادیتے ہیں، اس لئے سرپرستوں کیلئے ضروری ہے کہ اپنے بچوں کواسکول میں داخلہ دلاتے وقت اسکول کے ماحول کے بارے میں بھی معلومات کریں، الحادکے ساتھ اچھی تعلیم دینے سے ہزارگنابہترہے کہ انہیں ایسے اداروں میں تعلیم دلائی جائے جہاں ان کاایمان محفوظ رہے۔

مسلم معاشرہ کاایک بڑامسئلہ یہ بھی ہے کہ مختلف اسباب کی بناپربہت سی لڑکیاں شادی کی عمرہونے کے بعدبھی شادی کے انتظارمیں بیٹھی رہتی ہیں، ظاہرہے کہ سماج کی طرف سے بے توجہی کی وجہ سے ایسی لڑکیوں کے ذہنوں میں اپنوں کے تئیں نفرت اورسماج سے بغاوت کا جذبہ پیداہوناامکان سے خارج نہیں ہے، خاموش ذہنی اذیت سے گزرنے والی ایسی لڑکیاں ردعمل کے جذبہ میں غیروں کااستقبال کریں تواس میں ان کاقصورکم اوراپنوں کا قصور زیادہ دکھائی دیتاہے، اس صورت حال کے بڑے ذمہ دارہمارے نوجوان ہیں جو چندے آفتاب اورچندے ماہتاب سے کم پرراضی نہیں ہوتے، اورخود کچھ نہ ہونے کے باجود بہت کچھ حاصل کرنے کاخواب دیکھتے رہتے ہیں، ایسی لڑکیوں کی شادی کی فکرکرناسماج کے سربرآوردہ افراداورخصوصانوجوانوں کی ذمہ داری ہے، جب تک یہ صورت حال باقی رہے گی طوفان کا امکان باقی رہے گا۔

اورسب سے اہم بات یہ ہے کہ آج مذہب سے رشتہ بہت کمزورہوگیاہے، ایمان کی اہمیت دلوں میں بہت گھٹ گئی ہے، اوراب معاملہ تویہاں تک پہونچ چکاہے کہ بہت سے افراد خودکوماڈرن ثابت کرنے یاسیکولرظاہرکرنے کی خاطرمسلمان کہلانے میں بھی شرم محسوس کرنے لگے ہیں، اس سے زیادہ اسلام کی بے توقیری اورکیاہوسکتی ہے، جب دل میں اسلام کی عظمت میں نہ ہو، ایمان جیسی عظیم نعمت کااحساس ختم ہوجائے، ہم یہ بھول جائیں کہ ہم پہلے مسلمان ہیں بعدمیں کچھ اورتوایسی صورت میں خیرکی توقع کہاں باقی رہ جاتی ہے۔

اسکول وکالج کی بچیوں کی دینی تربیت کے لئے ہفتہ وارتربیتی کلاسس کااہتمام بھی نہایت ضروری ہیں، اس کے ذریعہ ہی ایسی بچیوں کی صحیح ذہن سازی ممکن ہوسکتی ہے، اور انہیں اسلام کی بنیادوں کوواقف کرایاجاسکتاہے، دینی تعلیم کے لئے قائم اداروں، ملی تنظیموں  اور مسلمانوں کے زیرنگرانی چلنے والے عصری اداروں کواس جانب توجہ دیناچاہئے۔

آج عام مسلمانوں اورخاص کرنئی نسل کے متزلزل ایمان اورکچھے دھاگے کی طرح کمزورعقیدہ کومضبوط کرناسب سے بڑاکام ہے، یہی وقت کی پکار ہے اورحالات کاتقاضہ ہے، لہذااس جانب سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، اگرایمان سلامت نہیں رہاتوساری ملی سرگرمیاں اورکاوشیں بے سودہیں۔ الامان الامان!!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

منور سلطان ندوی

رفیق، دارالافتاء ندوۃ العلماء لکھنؤ

متعلقہ

Close