ملی مسائل

ارتداد کی آندھی سے اپنی بہن بیٹیوں کو کیسے بچائیں؟

 مسئلۂ ارتداد کے حل کے لیے سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اپنے گھروں میں اسلامی احکامات کا نفاذ کریں۔

کامران غنی صبا

یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت مسلم بچیوں کو پیار محبت کے نام پرورغلایا جا رہا ہے۔ ہندو شدت پسند جماعتیں اس کے لیے باضابطہ طور پر لڑکوں کو ٹریننگ دے رہی ہیں۔ 14 اگست 2018ء کو ’’راجستھان پتریکا‘‘ میں ایک رپورٹ شائع کی گئی ہے جس کا عنوان ہے ’’ مسلم لڑکیوں سے شادی کرنے پر ملیں گے، ڈھائی لاکھ روپے اور چھ مہینے تک کھانا پینا فری‘‘ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’’بھارت ہندو یووا مورچہ‘‘ مسلم لڑکیوں سے شادی کرنے والے ہندو نوجوانوں کو نہ صرف یہ کہ انعام و اکرام سے نوازے گا بلکہ انہیں تحفظ بھی فراہم کرے گا۔یہی خبر اسی تاریخ کو ’’جن ستا‘‘ اور دوسرے ہندی اخبارات میں بھی شائع ہوئی ہے۔چونکہ یہ کام بہت ہی منظم اور منصوبہ بند طریقے سے ہو رہا ہے اس لیے اس کے خاطر خواہ نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ حالیہ چند دنوں میں کئی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں کالج، یونیورسٹی میں پڑھنے والی مسلم بچی کو پیار محبت کا جھانسا دے کر باضابطہ طور پر ہندو بنایا گیا ہے۔

یہ مسئلہ انتہائی سنگین ہے۔ ہر روز ارتداد کے نت نئے معاملے سامنے آ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا مسلم لڑکیوں کے ارتداد کی کہانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ ایسی ایسی تصویریں موصول ہوتی ہیں کہ اپنی بہنوں کی زندگی کو تباہ و برباد ہوتا ہوا دیکھ کر دل خون کے آنسو رونے پر مجبور ہوتا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم اب تک ہوش کے ناخن لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ملی ادارے اس فتنے کی سرکوبی کے لیے سنجیدہ نظر نہیں آ رہے ہیں۔ کچھ لوگ اس مسئلے کی حساسیت اور اس کے خوف ناک نتائج کو سمجھ بھی رہے ہیں تو ان کی طرف سے جذباتی باتیں زیادہ ہو رہی ہیں۔ مثلاً سوشل میڈیا پر اس طرح کے پیغامات وائرل کیے جا رہے ہیں کہ بچیوں کو کالج، یونیورسٹی نہ بھیجا جائے۔ انہیں موبائل اور اسمارٹ فون سے دور رکھا جائے۔ان کی نقل و حرکت پر سخت نظر رکھی جائے۔ انہیں گھر سے اکیلے باہر نہ جانے دیا جائے۔ وغیرہ۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ مرض کی تشخیص کے بعد اس طرح کی ’’دوائوں ‘‘سے ’’ری ایکشن‘‘ کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔ ’’پابندی‘‘ مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ اکثر دفعہ ’بڑھتا ہے اور ذوقِ گنہ یاں سزا کے بعد‘‘والی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، اور یہی ہو بھی رہا ہے۔

  میں چونکہ طلبہ و طالبات سے بہت زیادہ قریب ہوں اس لیے مجھے اندازہ ہے کہ طالبات خاص طور سے نوجوان لڑکیوں کو اپنی سوسائٹی سے بہت ساری شکایتیں ہیں جس کا برملا اظہار وہ نہیں کر پاتی ہیں۔ چنانچہ جب کبھی حالات ان کے موافق ہوتے ہیں یا انہیں کوئی ’’بیک گرائونڈ سپورٹ‘‘ ملتا ہے تو ان کی شکایتیں ’بغاوت‘ کا روپ اختیار کر لیتی ہیں۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ ہماری سوسائٹی میں خواتین اور طالبات کے ساتھ امتیازی برتائو کیا جاتا ہے۔ کیا یہ درست نہیں کہ لڑکے دن دن بھر گھر سے باہر رہتے ہیں، دوستوں سے ساتھ مٹر گشتیاں کرتے ہیں، فلمیں دیکھتے ہیں، مہنگے اسمارٹ فون رکھتے ہیں لیکن ان سب کے باوجود ہمیں ان کی زیادہ فکر نہیں ہوتی۔ اس کے برخلاف خواتین اور بچیاں مقررہ وقت سے کچھ منٹ زیادہ گھر سے باہر رہ جائیں تو ہماری پیشانیوں پر بل پڑنے لگتے ہیں۔ لڑکے فون پر گھنٹوں کسی سے بات کریں، کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن لڑکی اپنی کسی دوست سے زیادہ دیر بات کر لے تو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھی جانے لگتی ہے۔ اس امتیازی رویے کو ختم کیے بغیر ہم اپنے گھر کی بہن بیٹیوں کو اپنے اعتماد میں نہیں لے سکتے۔ اس لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اپنے گھر میں بیٹے اور بیٹیوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کریں۔

 لڑکیوں میں بے راہ روی کی سب سے بڑی وجہ دینی شعور کا فقدان ہے۔ عام طور سے لڑکیاں دینی تعلیم کے نام پر قرآن پاک اور اس کے ترجمے سے زیادہ کچھ نہیں جانتیں۔ فقہی شعور تو تقریباً صفر ہوتا ہے۔ لڑکے تو پھر بھی جمعہ کے خطابات، دروس ِقرآن و حدیث کی محفلوں اورکئی مواقع پر علما و مقررین کی زبانی بہت کچھ جان جاتے ہیں۔ ملی اداروں کی سرگرمیاں بھی عام طور سے مَردوں میں زیادہ نظر آتی ہیں۔ جماعت اسلامی کی خواتین ونگ میں کچھ پڑھی لکھی خواتین ضرور ہیں لیکن ان کی دسترس ہندوستان کی تمام خواتین اور طالبات تک نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تحریکی سطح پر خواتین بالخصوص کالج اور یونیورسٹیز کی طالبات میں دینی شعور بیدار کیا جائے۔ یہ کام مَرد حضرات نہیں کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے خواتین اور طالبات کو ہی تیار کرنا ہوگا کیوں کہ خواتین اورطالبات کے مسائل اوران کی نفسیاتی کیفیتوں کو وہی بہتر سمجھ سکتی ہیں۔ ہندوستان میں کئی بڑے ملی ادارے ہیں۔ جن میں جماعت اسلامی ہند، جمیعت اہل حدیث، مسلم پرسنل لا بورڈ، امارت شرعیہ، رضا اکیڈمی، ایس آئی او،جمعیۃ العلماء ہند، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت،آل انڈیا سنی کانفرنس وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان اداروں میں ’’شعبۂ خواتین ‘‘ اور ’’شعبۂ طالبات‘‘ کا قیام بھی عمل میں آنا چاہیے۔ جن اداروں میں پہلے سے یہ شعبے موجود ہیں انہیں چاہیے کہ وہ ملک گیر سطح پر خواتین اور طالبات کے شعبوں کو متحرک کریں۔ طالبات کی تربیت کے لیے تربیتی پروگرامس اور ورک شاپس وغیرہ منعقد کیے جائیں۔ طالبات میں بیداری لانے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا بھی لیا جا سکتا ہے کیوں کہ کالج، یونیورسٹیز کی بیشتر طالبات سوشل میڈیا سے جڑی ہوئی ہیں۔

 مسئلۂ ارتداد کے حل کے لیے سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اپنے گھروں میں اسلامی احکامات کا نفاذ کریں۔ لڑکے اور لڑکیوں کی تربیت بچپن سے ہی اس نہج پر کی جائے کہ سن شعور تک پہنچتے پہنچتے وہ اسلام کے بنیادی احکامات کو علمی، عقلی، منطقی، سائنسی اور نفسیاتی نقطۂ نظر سے اچھی طرح سمجھ لیں اور ان کے دل میں یہ بات راسخ ہو جائے کہ اسلام ہی واحد ایسا نظام ہے جس میں دین و دنیا دونوں کی کامیابی کا راز مضمر ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

کامران غنی صبا

اعزازی مدیر اردو نیٹ جاپان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close