ملی مسائل

اسلام کا قانون طلاق

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

شوہراور بیوی کے تعلقات بعض اوقات اس نہج تک پہنچ جاتے ہیں کہ انکا باہمی اکٹھے رہنا ممکن نہیں رہتا۔ایسے میں بجائے اس کے کہ انہیں زبردستی اکٹھا رہنے پر مجبور کیا جائے جس کے نتیجے میں وہ ذہنی دباؤ کاشکار ہوں یاباہمی رنجش انہیں جان چھڑانے کے لیے کسی ناخوشگوارنتائج تک پہنچاپائے یاان کے رشتہ دار اپنے فریق کے حق میں برسرپیکارہوجائیں یا کسی بھی اور قسم کی بدمزگی سے بچنے کے لیے اسلام نے ایک بہت شاندار قانون عطا کیا ہے جس کے تحت بڑی خاموشی سے اور بڑی مصلحت سے دونوں کے درمیان تفریق واقع ہو جاتی ہے اورتمام معاملات بڑی خوش اسلوبی سے طے پاجاتے ہیں۔یہ قانون اسلام کاقانون طلاق ہے۔یہ اتنا آسان فہم قانون ہے کہ کوئی بھی سادہ ساانسان جو بہت پڑھالکھا نہ بھی ہو اس قانون کو آسانی سے سمجھ سکتاہے۔
شریعت اسلامیہ نے پسند کیاہے کہ شادی کے بندھن میں بندھنے والے ہم پلہ خاندانوں سے تعلق رکھتے ہوں۔اس امر کو اصطلاح میں ’’کفو‘‘کہتے ہیں۔تعلیمی میدان ہویا خاندانی وجاہت اور مالی حیثیت ہو یاحسب و نسب ،اگر دونوں خاندان برابر کی سطح کے ہوں گے تو زن و شو میں سے کسی کواحساس کمتری یا احساس برتری نہ ہوپائے گااور حسن سلوک کی ٹھنڈی چھاؤں میں آنے والی نسل بڑی آسودگی و راحت سے پرورش پائے گی۔بصورت دیگر فریقین میں اگر بہت زیادہ تفاوت ہوتو ممکن ہے جذبات کی موجودگی تک توباہمی محبت جیسے تیسے جاری رہے لیکن عملی زندگی کی تلخیوں سے جب زوجیت کی مٹھاس ماندپڑنے لگے گی تو خاندانی تفاوت بہت سی دوسری شکلوں میں نمودار ہو کر زندگی میں زہر گھولنے لگے گا۔زوجین اگر پھر بھی حالات سے سمجھوتہ کر لیں گے توبھی ننھیال اور ددھیال کابہت زیادہ فرق اولاد کے ذہن اور انکی نفسیات پر ایسے گہرے نقوش چھوڑے گا کہ ساری عمر وہ ایک نہ ختم ہونے والی ذہنی کشمکش میں ہی مبتلا رہیں گے۔
شریعت اسلامیہ نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ جدائی کی صورت کسی طرح بھی نہ بننے پائے اور فریقین کم سے کم شرائط پر بھی کسی طرح اکٹھے ہی رہ لیں۔ایک حدیث نبوی ﷺ کے مطابق جائز امور میں سے اﷲ تعالی کو سب سے زیادہ ناپسند طلاق ہی ہے۔شریعت نے صلح،رجوع اور عقد ثانی تک کے ممکنہ راستے تجویزکیے ہیں تاکہ علیحدگی کاراستہ بہرطور روکا جاسکے ۔اس کے باوجود بھی بعض اوقات جب کوئی سبیل میسر نہ ہو تو جدائی کے ذریعے فریقین کوعلیحدہ کر دیاجاتا ہے تاکہ وہ ذہنی سکون پاسکیں اور چاہیں تو اگلے نکاح کاانتظام کرسکیں۔طلاق کی تکمیل کے بعد فریقین باہم اسی طرح نامحرم ہوجاتے ہیں جیسے نکاح سے قبل تھے،پردہ واجب ہوجاتاہے اور حقوق الزوجین معطل ہوجاتے ہیں۔جہاں تک اولاد کا معاملہ ہے تویہ الک قانونی بحث ہے لیکن چاہتے یانہ چاہتے ہوئے بھی فریقین اولاد کے معاملے میں ان کے نفع و ضررمیں شریک ضرور ہوتے ہیں۔
طلاق کی دو بڑی قسمیں ہیں،طلاق سنت اور طلاق بدعت۔طلاق سنت سے مرادطلاق دینے کا وہ طریقہ جوشارع نے پسند کیا ہے۔طلاق سنت ایک سیدھاسادہ اورآسان طریقہ ہے ،اس سے قانونی پیچیدگیاں پیدا نہیں ہوتیں اورزوجین کے دوبارہ ملنے کے امکانات بھی باقی رہتے ہیں جس کوکہ قرآن مجید نے بہت زیادہ پسند کیاہے۔طلاق سنت کی پھر دو قسمیں ہیں ایک طلاق احسن اور دوسری طلاق حسن۔طلاق احسن یہ ہے کہ جب زوجہ غسل کر کے پاک ہوجائے تو اسکے پاس گئے بغیرسادہ سے الفاظ میں اسے ایک طلاق دے دی جائے،بہت سادہ الفاظ یہی ہیں کہ’’ آپ کو ایک طلاق‘‘۔اس طرح زوجہ کی عدت شروع ہو جائے گی جوتین طہروں تک رہی گی۔عدت کے دوران زوجہ اپنے شوہر کے گھر ہی رہے گی۔یہ طلاق ،طلاق رجعی ہوگی جس کا مطلب یہ ہے کہ عدت کے دوران کسی بھی وقت شوہر اپنی طلاق سے رجوع کر سکتا ہے یعنی اپنے الفاظ واپس لے سکتاہے ،رجوع کے لیے زوجہ کی رضامندی شرط نہیں ۔اگر شوہر رجوع کر لے تو طلاق کا اثر زائل ہوجائے گا اور زوجین دوبارہ اپنی زندگی ہنسی خوشی بسر کر سکتے ہیں۔اگر شوہر رجوع نہیں کرتاتوعدت ختم ہوتے ہی یعنی تیسراطہر ختم ہوتے ہی طلاق مکمل ہوجائے گی۔اس طرح طلاق رجعی عدت ختم ہونے کے بعدطلاق بائن بن جائے گی ۔طلاق بائن میں شوہررجوع نہیں کر سکتا،تاہم فریقین دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں جس کے لیے عورت کی رضامندی شرط ہے۔
طلاق سنت کی دوسری قسم ،طلاق حسن،یہ ہے کہ تین طہروں میں زوجہ کو ایک ایک طلاق دی جائے۔پہلے طہر میں پہلی طلاق،دوسرے طہر میں دوسری طلاق ۔دوسری طلاق کے بعد تک بھی رجوع ہو سکتا ہے یعنی شوہر چاہے تواپنے الفاظ واپس لے کر تعلق زن و شودوبارہ قائم کر لے ۔لیکن اگر شوہر رجوع نہیں کرتا تو پھر تیسرے طہر میں تیسری اور آخری طلاق دے دے۔تیسری طلاق کے بعد فریقین باہم نامحرم ہوجائیں گے۔تین طلاقوں کے بعد طلاق اب طلاق مغلظہ ہو جائے گی۔یاد رہے کہ نکاح کے بعد شوہر کے پاس تین طلاقوں کا ہی اختیار ہوتا ہے۔فرض کریں وہ ایک بار طلاق دے کرعدت کے دوران رجوع کر لیتا ہے تو اب اس کے پاس دو طلاقوں کا اختیار رہ گیا۔دوسری بار پھر وہ غصے میں آکر طلاق دے دیتا ہے اور پھر عدت کے دوران رجوع کر لیتا ہے تو اب کی بار شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار رہ گیا ہے۔پھر وہ کسی بات پر مشتعل ہوکرتیسری بار طلاق دے دیتا ہے تواسکی آخری طلاق ہو گی جو کہ طلاق مغلظہ کہلاتی ہے۔طلاق مغلظہ کا مطلب یہ ہے کہ اب شوہر رجوع بھی نہیں کر سکتا اور فریقین باہم نکاح بھی نہیں کر سکتے۔اب خاتون عدت ختم ہونے کے بعد اگلا نکاح کر سکتی ہے۔کسی وجہ سے اگر خاتون کو وہاں سے بھی طلاق ہو جائے تو پھر وہ اپنے پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے اس اتفاقی امر کو حلالہ کہتے ہیں۔
طلاق کی دوسری بڑی قسم طلاق بدعت ہے۔اس قسم کی طلاق کو شریعت نے سخت ناپسند کیا ہے ۔تاہم اس ناپسندیدگی کے باوجود بھی یہ طلاق واقع ہوجاتی ہے۔طلاق بدعت کی بھی مزید دو قسمیں ہیں۔طلاق بدعت بلحاظ وقت،یعنی غلط وقت میں طلاق دینا۔یہ غلط وقت کوئی بھی ہوسکتا ہے مثلاََ غصے کے عالم میں طلاق دے دینا،کسی رنجیدگی پر فوری ردعمل کے طور پر طلاق دے دینایاایسے طہر میں طلاق دینا جس میں شوہر اپنی بیوی سے صحبت کر چکا ہو،یا ایام ماہواری میں طلاق دے دینا یا پھر دوران حمل طلاق دے دینا وغیرہ۔ایسے اوقات میں طلاق دے کر اس سے رجوع کر لینا بہتر ہے لیکن رجوع نہ بھی کیاجائے توطلاق بہرحال واقع ہو جاتی ہے اور اسکے اثرات شروع ہوجاتے ہیں۔طلاق بدعت کی دوسری قسم طلاق بدعت بلحاظ تعداد ہے۔ایک وقت میں ایک سے زائد طلاقیں دے دینا ،سینکڑوں طلاقیں دے دینا،یا لاتعداد طلاقیں دے دیناوغیرہ گویا اپنی جہالت کا ثبوت دے دینا ہے۔تاہم ایک طلاق دینے سے ایک ہی طلاق واقع ہوگی،دو طلاقوں سے دو واقع ہوں گی اور تین یا تین سے زائد طلاقیں دے دینے سے تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی اور یہ بیک وقت طلاق مغلظہ بن جائے گی۔اگر چہ کچھ نقطہ نظر اس سے مختلف بھی ہیں لیکن جمہور اسی رائے پر ہی جمع ہیں کہ ایک ہی وقت میں تین یا تین سے زائد طلاقیں دے دینے پر طلاق مغلظہ کے احکامات صادر ہوجاتے ہیں۔
سب کو جمع کیاجائے توطلاق کی تین بڑی بڑی قسمیں بن جائیں گی،طلاق رجعی جس میں دوران عدت شوہر رجوع کرسکتا ہے،طلاق بائن جس کے بعد نکاح ہوسکتا ہے اور طلاق مغلظہ جس کے بعد نکاح بھی نہیں ہوسکتا سوائے اس کے کہ وہ عورت اگلے نکاح کے بعد بھی طلاق یافتہ ہوجائے اورپھر پہلے والے شوہر سے نکاح کرلے۔ان اقسام میں سے شوہر طلاق کی کسی قسم کانام لے کر بیوی کو طلاق دیتا ہے تو وہی طلاق ہی واقع ہوگی اور اسی کے اثرات جاری ہوں گے۔کسی بھی زوجہ سے صحبت کیے بغیر طلاق رجعی نہیں دی جاسکتی،یعنی جس زوجہ سے صحبت نہ کی گئی ہواس کو ملنے والی طلاق ،طلاق بائن ہوگی اور اسکا شوہر رجوع نہیں کر سکے گاہاں البتہ تین سے کم طلاقیں ہیں تونکاح ثانی ہو سکتا ہے وہ بھی عورت کی مرضی سے۔طلاق کااختیار کسی کو بھی دیا جاسکتا ہے جیسے وکیل کے ذریعے طلاق دینایا کوئی مرد اپنی بیوی کو بھی یہ اختیار دے سکتا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کی طرف سے اپنے آپ کو طلاق دے دے ۔فریقین باہمی رضامندی سے بھی طلاق کے ذریعے جدا ہوسکتے ہیں اس طرح کی طلاق ’’مبارات‘‘کہلاتی ہے۔طلاق چونکہ مرد کا حق ہے اس لیے مرد کا مسلمان،عاقل اور بالغ ہونا شرط ہے۔نابالغ،مجنوں،خوابیدہ،پاگل،سرسام زدہ اور مدہوش شخص کی طلاق واقع نہ ہوگی۔زن و شو کی جدائی کا اتنا اس قدر آسان فہم اور مکمل قانون دنیا کی کسی اور دستاویز میں نہیں ہے۔
عرف عام میں طلاق کو ناپسند کیاجاتا ہے لیکن چونکہ یہ رحمۃ اللعالمین ﷺ کالایا ہوا قانون ہے اس لیے اس میں خیر کے بھی کئی پہلو موجود ہیں۔ایک خاندان میں بڑی بہن کی بیماری اس قدر طویل ہوئی کہ چھوٹی کو،جس کے ابھی بچے نہیں تھے ،اپنا شوہر چھوڑ کر کچھ ماہ کے لیے بڑی کے ہاں آنا پڑا۔چارپانچ ماہ کے بعد بڑی کاانتقال ہوگیا۔خاندان کے بڑے بوڑھے مل بیٹھے اور فیصلہ کیا ان چارپانچ ماہ میں چونکہ بڑی کے بچے اپنی خالہ سے مانوس ہوچکے ہیں اس لیے اسے اپنے شوہر سے ’’طلاق‘‘دلواکر بہنوئی سے نکاح کروادیاجائے۔چھوٹی کے شوہرکو اتنی رقم اداکردی گئی کہ وہ اپنا دوسرانکاح کر سکے چنانچہ اس نے اپنی بیوی کو ’’طلاق‘‘دے دی اورعدت کے بعدچھوٹی کانکاح اسکے رنڈوے بہنوئی سے کر دیاگیا۔اس طرح جہاں طلاق سے بہت سے گھرانے اجڑتے ہیں وہاں طلاق سے ہی ایک اجڑاہواگھر دوبارہ آبادہو گیا ۔(یو این این)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ڈاکٹر ساجد خاکوانی پاکستان کے نامور کالم نگارہیں۔

متعلقہ

Close