ملی مسائل

اسلام کی صحیح تصویر پیش کیجیے!

حافظ جاوید اختر بھارتی

مذہب اسلام دنیا کے تمام مذاہب میں سب سے عظیم الشان اور سب سے باوقار مذہب ہے مذہب اسلام ذرہ برابر بھی ناانصافی اور حق تلفی کی اجازت نہیں دیتا اور دہشت گردی و خونریزی کی بھی اجازت نہیں دیتا مذہب اسلام امن و سلامتی کا سرچشمہ ہے مہذب معاشرے میں حقوق نسواں کا تصور اسلام کی ہی دین ہے مذہب اسلام حقوق العباد کو بہت اہمیت دیتا ہے یہاں تک کہ ایک بندے کا دوسرے بندے کے ساتھ کوئی معاملہ ہے تو جب تک بندہ اسے درگزر نہیں کریگا تو اللہ بھی اسے معاف نہیں کرے گا جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مذہب اسلام کے قوانین بہت سخت ہیں تو وہ اسلام کی تعلیمات سے ناواقف ہیں یا کہ بغض اور حسد کی بیماری میں مبتلا ہیں کیونکہ اسلام مکمّل ضابطہ حیات ہے جسے سمجھنے کے لیے علم کی ضرورت ہے اور کامیابی کے لیے عمل کی ضرورت ہے مذہب اسلام کے قوانین معتدل ہیں ماضی، حال، مستقبل سب کچھ سمیٹ کر اللہ رب العالمین نے مرتب کیا ہے اور رحمۃ اللعالمین کے ذریعے نافذ کیا ہے اب اس میں کسی کو ردوبدل کرنے کی اجازت نہیں ہے کلمہ حق کا اقرار کرنے کے بعد کسی کو اپنی طبیعت کے مطابق زندگی گزارنے کا حق نہیں ہے بلکہ اسے اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گذار ناہے اور اسی کو شریعت کہا جاتا ہے مذہب اسلام نے کسی کے اوپر بوجھ نہیں ڈالا ہے کسی کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کی ہے جبکہ دیگر مذاہب کے حالات پر نظر ڈالو تو معلوم ہوتا ہے کہ شوہر کی عمر درازی کیلئے عورت کو برت رکھنا ہے اور مرد پوری طرح آزاد ہیں لیکن مذہب اسلام کے اصولوں کا جائزہ لیں تو یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے یہاں عورت مرد دونوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے روشن مستقبل کے لئے، صحت و سلامتی کے لئے ایک دوسرے کے لیے دعا کریں اور جہاں تک بات روزہ رکھنے کی ہے تو یہ مذہب اسلام کے اندر عمر درازی کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہے اور رمضان المبارک کا روزہ تو مذہب اسلام کا ایک رکن ہے جو فرض ہے بلا کسی عذر شرعی کے چھوڑنا گناہ عظیم ہے اور انکار کرنا کفر ہے اب اسی کو کچھ تنگ نظر قسم کے لوگ سخت قوانین میں شمار کرتے ہیں جبکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ حالت بیماری میں روزہ معاف ہے، کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی طاقت نہیں ہے تو بیٹھ کر پڑھنے کی اجازت ہے، بیٹھ کر پڑھنے کی طاقت نہیں ہے تو لیٹ کر پڑھنے کی اجازت ہے، حرکت کرنے کی طاقت نہیں ہے تو اشارے سے نماز پڑھنے کی اجازت ہے، وضو کر نے کیلئے پانی میسر نہیں ہے یا پانی کے استعمال سے صحت کو نقصان پہنچتا ہے تو مٹی کے ڈھیلے سے تیمم کی اجازت ہے، شوہر بدمزاج ہے تو بیوی کو کھانے کا نمک زبان کی نوک سے چکھنے کی اجازت ہے۔

حق و باطل کی لڑائی میں نابینا کو شامل نہ ہونے کی چھوٹ ہے غرضیکہ اسلام کا کوئی بھی قانون دشوار کن نہیں ہے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ عورتوں کو جو مقام مذہب اسلام نے دیا ہے وہ دنیا کے کسی اور مذہب نے نہیں دیاہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مذہب اسلام کے قوانین امیر و غریب سب کیلئے ہیں کسی کو کسی کے ساتھ بھید بھاؤ، اونچ نیچ کی شکل میں تفریق کی اجازت نہیں ہے اب کوئی خود سے تکبر و گھمنڈ کی چادر اوڑھ لے اور خود ساختہ طور پر اپنے آپ کو بہت بلند سمجھے تو یہ الگ بات ہے اس کی بدقسمتی ہے ورنہ مذہبی اصولوں کی بنیاد پر دیکھا جائے تو اس طرح کی تمام خرافات سے، رنگ و نسل، ذات و برادری کے فخر یہ انداز جیسی برائیوں سے مذہب اسلام پوری طرح پاک وصاف ہے رنگ و نسل کی بنیاد پر فخر کرنا احکامات خداوندی کی خلاف ورزی کرنا ہے اور اپنے آپ کو جہنم کے ایندھن میں جھونکنا ہے مذہب اسلام نے بچپن سے لے کر بڑھاپے تک، ماں کی آغوش سے لیکر قبر کی آغوش تک، یعنی پیدائش سے لیکر موت تک کا اصول بتایا ہے اور سارے اصولوں و قوانین پر خود نبی سید الکونین صل اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا ہے اور امت کو عمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

آج دشمنان اسلام اور کچھ مغربی تہذیب کے دلدادہ زنا کی سزا پر سوال کھڑے کرتے ہیں اور اسے سخت ترین سزاؤں میں شمار کرتے ہیں لیکن انہیں کیا معلوم کہ جس کی عزت لٹ جائے اس کے اوپر کیا گزرتی ہے اس کے ماں باپ پر کیا گزرتی ہے اس کی خاندان پر کیا گزرتی ہے اس کے ارمانوں کا خون ہوجاتا ہے اس کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے سماج میں بھی سر اٹھا کر چلنا مشکل ہوجاتا ہے جس کی بیٹی کی عزت لٹ جائے اس بیٹی کا باپ جب اپنی بیٹی کی عزت کے لٹیرے کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا تو وہ کیا محسوس کرے گا وہ کیسے برداشت کریگا اس درد کو محسوس کیا ہے تو رحمت اللعالمین صل اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا اور اسی لیے اتنی سخت سزا مقرر کی گئی کہ زانی اگر کنوارا ہے تو 80 کوڑے مارے جائیں اور زندہ بچ جائے تو شہر بدر کردیا جائے اور شادی شدہ ہے تو سنگسار کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے تاکہ دیکھنے والوں کے دل دہل جائیں کوئی کسی کی دنیا اجاڑ نے کی ہمت نہ کرسکے اس کے دوسرے پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے ایک شادی شدہ میاں بیوی کے تعلق سے بچہ پیدا ہوتا ہے تو عقیقے کا انعقاد ہوتا ہے ولیمے کا اہتمام ہوتا ہے لوگ مبارکباد پیش کرتے ہیں بچے کے تئیں نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں تحفے تحائف پیش کرتے ہیں اور دعاؤں سے نوازتے ہیں لیکن جب ناجائز تعلقات کی بنیاد پر حمل ٹھہرتا ہے تو پیٹ میں ہی بچے کو مارنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ناکامی کی صورت میں پیدائش کے وقت مارنے کی کوشش کی جاتی ہے پھر بھی ناکامی ہاتھ لگنے پر غلاظت کے ڈھیروں پر پھینک دیا جاتا ہے، نالیوں میں بہادیاجاتا ہے یاد رہے کہ مذہب اسلام نے شادی کو نصف ایمان قرار دیا ہے تا کہ اسلام کی کھیتی سرسبز وشاداب ہو لیکن لذت اندوزی والی شادی کو حرام بھی قرار دیا ہے۔

آج جو زناکاری عام ہوتی جا رہی ہے اس کا صرف ایک علاج ہے کہ اسلام کا قانون نافذ کردیا جائے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ چاہے جائز تعلق ہو یا ناجائز تعلق ہو پیٹ میں بچے کو مارنے کا انجام یہ ہوگا کہ کل میدان محشر میں وہی پیٹ میں مارا جانے والا بچہ اپنی ماں کے پستان سے لٹکا ہوا ہوگا اور چیخ چیخ کر کہے گا کہ ائے اللہ یہ میری ماں ہے جس نے دنیا میں مجھے مارڈالا تھا اس وقت اللہ تعالیٰ جب سوال کریگا تو کیا جواب دیں گے وہ لوگ جو دنیا کی رنگ ریلیوں میں اپنے آپ کو رنگتے جارہے ہیں اور اسلامی تعلیمات پر اسلامی احکامات پر آج انگلیاں اٹھا رہے ہیں حقیقت یہی ہے کہ اسلام سب سے مقدس مذہب ہے اور قرآن سب سے مقدس کتاب ہے اسلام مذہب ہے اور قرآن دستور العمل ہے جسے سمجھنے کیلئے علم کی ضرورت ہے اور کامیابی کے لیے عمل کی ضرورت ہے –

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Back to top button
Close