ملی مسائل

 افضلیت سے مفضولیت تک

ابوفہد

آج کللوگوں کی عجیب سی ذہنیت بنتی جارہی ہے ا ور انسانی معاشروں میں  عجیب سا ماحول پیدا ہوتا جارہا ہے۔لگتا ہے کہ لوگ چیزوں کو ان کی حقیقی شکل میں دیکھ ہی نہیں سکتےیا دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ہر آدمی یا تو کسی کی تائید کررہا ہے یا مخالفت پر اترا ہوا ہے  یا پھراپنی الگ ہی لن ترانی اور رام کہانی لئے بیٹھا ہے۔ نہ تائید کے پیچھے گہری سوچ اور اخلاص ہے اور نہ ہی مخالفت کے پیچھے کوئی ٹھوس اخلاص اور سوچ ہے، حتیٰ کہ لن ترانیاں بھی ،لگتا ہے جیسے بے وقت کی راگنیاں ہیں۔ آج کی دنیا میں ایسا بہت ہوتا ہے کہ حقیقت پروپیگنڈہ بن جاتی ہے اور پروپیگنڈہ حقیقت بن جاتا ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ آج کا انسان ایکٹنگ میں بہت ماہر ہوگیا ہے۔

بہت سارے ایسے مسلمان مرد ہیں جو اپنے گھروں، آفسوں اور کام کی دیگر جگہوں پر نماز پڑھ لیتے ہیں، کچھ عذر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں اور کچھ سستی یا سہولت کی وجہ سے۔ حالانکہ مسلمان مردوں کے لیے مسجد میں نمازادا کرنا افضل ہے۔ مگر اکثر مسلما ن سہولت کی خاطر اکثر اپنے کام کی جگہوں پر ہی نماز پڑھ لیتے ہیں۔ حالانکہ شریعت میں مردوں کے لئے ایسی کوئی  سہولت فراہم نہیں کی گئی تھی، البتہ گنجائش ضرورتھی ۔ مگرانہوں نے  کئی قدم آگے بڑھ کر یہ کیا کہ گنجائش کو سہولت بنالیا اورپھر مسجدوں کے علاوہ دیگر جگہوں پر نماز کو معمول بنالیا ۔

دوسری طرف مسلمان عورتوں کو شریعت کی طرف سے یہ سہولت دی گئی تھی کہ وہ اپنے گھروں میں نماز ادا کرسکتی ہیں، مسجد میں آنا چاہیں تو مسجد میں بھی آسکتی ہیں  اور گھروں میں نماز ادا کرنا چاہیں تو گھروں میں بھی ادا کرسکتی ہیں بلکہ گھروں میں نماز ادا کرنے کو ان کے لئے سہولت سے بھی آگے بڑھ کر افضلیت کے درجے پر رکھ دیا گیا تھا کہ وہ مسجد میں نماز ادا کرسکتی ہیں مگر گھروں میں نماز ادا کرنا افضل ہے۔

ہے نا تعجب خیز بات !کہ مردوں نے  بہت پہلے ہی نماز کے تعلق سے افضلیت کو مفضولیت سے بدل لیا اوراب عورتیں بھی افضلیت کو مفضولیت سے بدلنا چاہتی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ اس معاملے میں اپنے  اور بیگانے سب کے سب اس دھوکہ میں پڑے ہوئے  ہیں کہ اسلام میں عورتوں کو مسجد میں اس لیے نہیں آنے دیا جاتا کہ اسلام اسے مرد کے مقابلے میں کمتر سمجھتا ہے۔ حالانکہ عورتوں کے مسجد میں آنے یا نہ آنے کا تعلق سہولت اور انتظامی امور سے ہے نہ کہ  صریح ممانعت اور عدمساوات کے تصور سے۔ اسلام میں ایسا بالکل نہیں ہے جیسا کہ ہندومذہب میں ہے کہ عورتیں بلکہ دلت مرد بھی مندر میں پرویش نہیں کرسکتے، ہندو مذہب کے مطابق ایسا کرنے سے ان کے دیوتا ناراض ہوجاتے ہیں۔ اگر کوئی عورت یا مرد (دلت) مندر میں آجائے تو مندر ناپاک ہوجاتا ہے۔ اسلام میں ایسا کوئی تصور نہیں پایا جاتا، عالم اسلام کی سب سے محترم مسجد بیت اللہ شریف میں مرد اور عورت دونوں ہی شرکت کرتے ہیں۔

اور اگر مزید غور کریں تو شاید یہ نکتہ بھی واضح ہوجائے کہ طلاق اور عورتوں کے مسجد میں جانے کی اجازت کے تعلق سے عدالت کا کوئی حکم  مسلم معاشرے پر اسی وقت اثر انداز ہوگا جب مسلمان مردو اور عورتیں اسے اثر انداز ہونے کی اجازت دیں گی۔ کیونکہ عدالت یہی تو حکم دے سکتی ہے کہ عورتوں کے مسجد کے داخلے پر پابندی نہ لگائی جائے، مسلمان عورتوں کو زبردستی مسجد میں نہیں لے جاسکتا نا۔اور نہ ہی کوئی حکومت ایسا کرسکتی ہے۔ تو باطل طاقتیں خواہ کتنا بھی زور لگالیں اگر ہم مسلمان مردو عورت دونوں اپنے ایمان میں پختہ ہیں اور شریعت کی ہدایت کے مطابق چلنا چاہتےہیں تو عدالتوں  کے ایسے فیصلے بے اثر ہوکر رہ جائیں گے۔

البتہ ہم مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ اس معاملے میں احتیاط اور فتنے کے خوف کو سامنے رکھنے کے بجائے شریعت کی اجازت اور رخصت کو سامنے رکھیں اور ممکنہ حد تک عورتوں  کے لیے مساجد میں انتظامات کرنے کی کوشش کریں۔ عورتیں مساجد میں آئیں گی بھی تو بہت کم ہی آپائیں گی، کیونکہ مسلم معاشروں میں عورتوں کی جو ذمہ داریاں ہیں ان کے سبب بہت کم عورتیں ہی مساجد میں آسکیں گی۔ اور پھر ایک بڑا سوال تو یہ بھی ہے کہ جب مرد ہی نہیں آتے تو عورتیں کیسے آئیں گی بھلا۔اور یہ ممکن بھی نہیں ہے کہ گھروں کو خالی چھوڑ کر مرد وعورت سب کے سب مسجد میں آجائیں اور جمعے کی نماز کے لیے کم ازکم آدھے یا پون گھنٹے  کے لیے گھروں میں تالے لٹکا دئے جائیں۔ اور پھر یہ بھی تو ہے کہ مسجدیں  جب مردوں کے  لیے ہی تنگ ہیں تو عورتیں  ان میں کیسے سمائیں گی۔ جمعہ کی نماز میں شاید ہی کوئی ایسی مسجد ہو جو مردوں سے پوری  نہ بھر جاتی ہو۔

ان سب سوالوں پر اور پوری صورت حال پر غورکئے بنا اگر کوئی لکھتا اور بے جا حمایت کرتا ہے تو وہ غلط ہے۔ ہر معاملے کی طرح اس معاملے میں بھی پہلے زمینی حقیقتو ں کو جاننا ضروری ہے۔ غور کیجئے کہ چیزیں کس طرح حقیقت اور پروپیگنڈے کے مابین آکار اپنا ہیولیٰ اور آکار کھورہی ہیں۔یہ تو بالکل ایسے ہی ہے کہ کوئی استاد ایک بچے سے کہے کہ بیٹھ جاؤ ،مگر وہ کھڑا ہوجائے اور دوسرے سے کہیں کہ تم کھڑے ہوجاؤ مگر وہ بیٹھ جائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close