امت کی پستی کا علاج (1)

گزشتہ مضمون میں میں ہم نے امت مسلمہ کی پستی اور اس کے اسباب کا جائزہ لینے کی کوشش تھی اور مختصراً اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ کسی بھی قوم اور ملت کی بقا کے لئے چند بنیادی شرائط ہیں ، ان شرائط کو پوری کرنے کے بعد ہی امت مسلمہ اپنی بقا کی ضمانت دے سکتاہے اور ہم نے اشارہ کیاتھاکہ ان بنیادوں میں سے ہر ایک اتنا اہم ہے کہ وہ ایک مستقل مضمون چاہتاہے۔ اسی کو بنیاد بناکر ہم چاہتے ہیں کہ ان بنیادوں میں سے ہر ایک کی اہمیت کو علاحدہ علاحدہ پیش کریں۔
معاشرہ کی اصلاح اور اس کی بقا کے لئے سب سے پہلی بنیاد دین اور علم ہے۔ یہ اس قدر اہم ہے کہ اس کے بغیر کوئی امت وجود پذیر نہیں ہوسکتی اور جب وجود پذیر ہی نہیں ہوسکتی تو اس کی بقا کیوں کر ممکن ہے۔ دین سے وابستگی اور اس سے ہمدردی ، اس سے گہرا ربط وتعلق ، اس کے قوانین، اس کی حدود وقیود کا شعور واحساس اور اس پر عمل پیرائی کا جذبہ کسی بھی امت کی بقا کے لئے اولین ضمانت ہے اور امت مسلمہ کے لئے تو انتہائی ناگزیر ہے کیوں کہ یہ وہ امت ہے جس کے نبی ورسول پر نبوت کا خاتمہ ہوچکاہے۔ اب کوئی نیا نبی آنے والا نہیں ہے۔ اس کے پاس وہ امانت ہے جس پر پوری کائنات میں بسنے والوں کے فلاح وکامیابی کا انحصار ہے اور یہ امت یعنی ہم دوطرفہ جوابدہی اور باز پرسی کی بندشوں میں جکڑے ہوئے ہیں ایک طرف تو خود اپنے اعمال کاحساب وکتاب دینا ہے دوسری طرف پوری عالم انسانی میں بسنے والوں تک اللہ ورسول اللہ کے پیغام کی ترسیل کی جوابدہی بھی ہم پرعائد ہے۔ ایسے میں ہمیں دین کے تعلق سے کتنا حساس ہونا چاہئے اس کا اندازہ خود کرلیا جائے، نبی اکرمؐ نے جو امت تیار کی تھی وہ اسی طرح حساس تھی جتنا اللہ اور رسول اکرمؐ چاہتے تھے۔ اس کی بے شمار مثالیں ہمیں سیرت رسول اکرمؐ اور سیرت صحابہ وصحابیات رضوان اللہ عنھم اجمعین میں موجود ہیں۔ قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحبؒ نے بنگلور میں منعقدہ خطبات سیرت میں خطاب کرتے ہوئے جنگ احد کی انتہائی دلکش ودلفریب انداز میں تصویر کشی کی اور ایک محبت والفت کا واقعہ کچھ اس طرح بیان کیاکہ ’’اللہ کے رسول ﷺ صفیں سیدھی کررہے تھے کہ ایک صحابی صف سے تھوڑا سا آگے نکلے ہوئے تھے، آپؐ نے نیزے کی انی سے ان کے سینہ پر تھوڑا سا دباؤ ڈالا اور کہا کہ پیچھے ہوجاؤ، وہ صحابی پیچھے صف میں سیدھے تو ہوگئے۔ لیکن عرض کیا کہ یارسول اللہ آپ نے میرے سینہ پر نیزے کی انی سے دباؤ ڈالا جس سے مجھے تکلیف ہوئی، میں اس کا بدلہ چاہتاہوں یعنی قصاص چاہئے، رسول اللہ ؐ نے آگے بڑھ کر کہا کہ بدلہ لے لو، تو انہوں نے کہاکہ جب آپ نے میرے سینہ پر نیزہ رکھا تھا تو میرا بدن ننگا تھا اس لئے قصاص بھی اسی طرح کا ہوگا۔ اللہ کے رسولؐ نے سینہ کھول دیا اور کہاکہ لے لو بدلہ وہ صحابی رسول اکرمؐ سے چمٹ گئے اور آپ کو بوسہ دینے لگے اور کہاکہ بدلہ لینا تو میرامقصد نہیں تھا بلکہ مقصد یہ تھاکہ جنگ کا میدان ہے شاید میں زندہ رہوں یا شہید ہوجاؤں اس لئے میرے جی میں آیا کہ آخری وقت میرے بدن کو کسی اور نہیں بلکہ اس جسم اطہر نے چھوا ہو جس سے بہتر جسم کوئی اور نہیں ہوسکتا۔‘‘ واقعہ کے بعد مولاناؒ نے فرمایا کہ اس واقعہ میں ایک طرف محبت کی کہانی ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ صحابہ جن کو پڑھنا نہیں آتا تھا جو امی تھے۔ لیکن رسول اکرمؐ نے کس قدر ان کو تیار کیاتھا کہ وہ قانون اسلام کے تعلق سے اتنے حساس تھے اور قانون وشریعت کی باریکیوں سے کس قدر واقف تھے کہ ان کو معلوم تھا کہ رسول اکرمؐ تو تکلیف پہنچاکر اس کے بدلہ سے قطعی انکار نہیں کریں گے۔ لہٰذا آپ کے بدن کوچھونے اور بوسہ دینے اس بہتر بہانہ کچھ اور نہیں ہوسکتا۔ آج اسی جذبہ کو از سرنو پیداکرنے اور اسی شعور کو بیدار کرنے اور دین وشریعت سے اللہ اور اس کے رسول سے تعلق کو مضبوط ومستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔
علم : علم یہ ایک شعبہ ہے جس کا دین اسلام سے گہرا تعلق ہے ، یوں کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ دونوں کا ایک دوسرے تعلق اور ساتھ چولی دامن کاہے کہ علم دین کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور دین علم کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ نے اپنے ایک مضمون بعنوان ’’دین وعلم کا دائمی رشتہ‘‘ کی اشاعت ندوۃ العلماء سے شائع ہونے والا اردو ترجمان تعمیر حیات میں 25اگست 1987ء کے شمارہ میں شائع ہوا تھا ، آپ رقمطراز ہیں
’’میرے عزیز بھائیو اور دوستو! حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا اور علم کا چولی دامن کا ساتھ ہے، اسلام علم کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ واقعہ یہ ہے کہ علم بھی اسلام کے بغیر نہیں رہ سکتاہے۔ لیکن کسی اور مجلس میں شرح وبسط کے ساتھ کہنے کی بات ہے، وہ علم علم ہی نہیں جووحی کی سرپرستی اور وحی کی رہنمائی بلکہ وحی اور علوم نبوت کی انگلی پکڑ کر نہ چلے اور جس پر وحی کی مہر تصدیق ثبت نہ ہو اور جو وحی اللہ تبادک وتعالیٰ کے بھیجے ہوئے اور اس کی نازل کی ہوئی کتابوں کی سرپرستی میں، اتالیقی میں، نگرانی میں، رہنمائی میں نہ وہ علم علم نہیں ۔
’’علمے کہ رہ بحق نہ نماید جہالت است ‘‘ اس وقت ہمارا آپ کا موضوع ہے کہ اسلام بغیر علم کے نہیں رہ سکتا اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ جیسے آپ مچھلی کو پانی سے نکال دیجئے تو اس کا دم گھٹنے لگتاہے اور وہ مرجاتی ہ، تو اسی طریقہ سے اسلام کے لئے علم ضروری ہے خدا کی صحیح معرفت ہو، اس کی ذات وصفات کی صحیح معرفت ہو، اس کا بندوں کے ساتھ کیا تعلق ہے بندوں کا اس کے ساتھ کیا تعلق ہونا چاہئے۔ زندگی کا مقصد کیاہے، آغاز کیاہے؟ انجام کیاہے؟ ابتدا کیا ہے؟ انتہا کیاہے؟ انسان کہاں سے آیا ہے اوراس کو کہاں جانا ہے اور پھر کیاہونا ہے اس سب کا علم ہونا ضروری ہے اسی لئے اسلام علم کو چاتہا ہے اور وہ علم کو ضروری قرار دیتاہے۔ ‘‘ (بحوالہ : تحفہ دین ودانش)
خلاصہ تحریر یہ ہے کہ علم کے بغیر جب اسلام نہیں رہ سکتا تو یہ امت کیوں کر رہ سکتی ہے۔ اس لئے ضرورت ہے کہ اس ضمن اور خصوص میں اکابر امت، علماء امت، قائدین ودانشوران امت، سرپرست حضرات اور والدین وذمہ دار افراد خصوصی توجہ دیں اور امت کی نئی نسل کو زیور علم سے آراستہ وپیراستہ کریں۔ ورنہ جہالت ایسی وبا ہے کہ جو کسی عام وخاص کی پہچان اور شناخت نہیں کرتی، جب اس کا عذاب آتاہے تو ایسے ہی آتاہے جیسا کہ قرآن نے کہا ’’اس فتنہ سے ڈرو جو اچھے اور برے کی تمیز نہیں کرتا، اور یادرکھو کہ بے شک اللہ زبردست سزا دینے والا ہے۔‘‘ (سورۃ الانفال: 25)



⋆ م ش عالم ندوی

فارغ التحصیل دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، بی اے (اردو) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد، ایم اے (اردو) مولانا مظہرالحق عربک، پرشیئن یونیورسٹی پٹنہ، سابق لکچرر اردو، عربی اور اسلامیات الامین پی یو کالج بنگلور ،سب ایڈیٹر روزنامہ سالار اردو بنگلور