ملی مسائل

اندلس کا سبق اور ہم ہندوستانی مسلمان

   ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

  بیس برس پہلے کی بات ہے، کان پور میں منتخب نوجوانوں کا ایک اجتماع تھا ۔ اس موقع پر مجھ سے کہا گیا کہ میں اس میں ‘ اندلس میں مسلم عہد حکم رانی کی تاریخ اور اس سے حاصل ہونے والے دروس’ پر اظہار خیال کروں۔ میں نے اندلس کی تاریخ کا تفصیل سے مطالعہ کیا اور نوجوانوں کے سامنے بہت شرح و بسط کے ساتھ اپنا حاصل مطالعہ پیش کیا۔ اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود اجتماع کا منظر میری نگاہوں میں ہے اور جو باتیں میں نے وہاں رکھی تھیں وہ بھی ذہن میں تازہ ہیں۔

      میں نے اس موقع پر کہا تھا کہ اندلس کی تاریخ کو ہم بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں: ایک عروج کی تاریخ ہے اور دوسرے زوال کی تاریخ۔

    اموی خلافت کا خاتمہ ہوا اور عباسی خلافت قایم ہویی تو ایک اموی شہزادہ(عبد الرحمٰن) بھاگ کر اندلس پہنچا، اس نے ایک فوج تیار کی اور حکومت پر قبضہ کر لیا۔ اس نے شہرقرطبہ کو دار الحکومت بنایا اور وہاں ایک شان دار مسجد قایم کی، جو ‘مسجد قرطبہ’ کے نام سے موسوم ہے۔ یہ حکومت 284 سال قایم رہی۔ یہ اندلس کی تاریخ کا شان دار دور تھا۔ مسلمانوں کو اس زمانے میں جو عروج حاصل ہوا وہ پھر کبھی ان کے نصیب میں نہیں آیا۔

        اس کے بعد مسلمانوں کے درمیان خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ ان کی خود مختار حکومتیں قائم ہوئیں جو آپس میں لڑتی بھڑتی رہتی تھیں۔دل چسپ بات یہ ہے کہ ایک مسلم حکومت دوسری مسلم حکومت کے خلاف پڑوس کی عیسائی حکومتوں سے مدد حاصل کرتی تھیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائی آہستہ آہستہ مسلم علاقوں پر قبضہ کرتے گیے اور قرطبہ، طلیطلہ، اشبیلیہ ، بلنسیہ جیسے بڑے بڑے شہر مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلتے گیے۔ مرابطین اور موحدین کی حکومتوں نے کچھ سنبھالا دینے کی کوشش کی ، لیکن پھر ان کے درمیان بھی جنگیں شروع ہو گئیں ۔ بالآخر تیرہویں صدی کے وسط تک اندلس کے بڑے حصے پر عیسائیوں کا قبضہ ہو گیا اور مسلمانوں کا اقتدار اندلس کے جنوب مشرق  میں ایک چھوٹے سے حصے پر رہ گیا، جس کا صدر مقام غرناطہ تھا۔ یہاں تقریباً 250 سال تک بنو احمر کی حکومت رہی، لیکن پھر شاہی خاندان کے لوگ آپس میں لڑنے بھڑنے لگے، جس کے نتیجے میں ان کی قوت کم زور ہوتی گیی اور عیسائیوں کے حوصلے بلند ہوتے گیے۔ بالآخر قشتالہ کی عیسائی حکومت نے غرناطہ کا محاصرہ کرکے 1492 میں اندلس میں مسلم حکم رانی کا خاتمہ کر دیا۔

        اندلس پر قبضہ کرنے کے بعد عیسائیوں نے مسلمانوں پر بڑے مظالم ڈھائے ۔ عربی پڑھنا اور بولنا جرم قرار دیا گیا۔ مسلمانوں کو عیسائیت قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ہزاروں مسلمانوں کو، جنھوں نے عیسائیت قبول نہیں کی، قتل کر دیا گیا یا زندہ جلا دیا گیا۔ کیی لاکھ مسلمان ملک سے نکال دیے گیے یا وہ خود ہجرت کر گیے۔ اندازاً جلا وطن ہونے والے مسلمانوں کی تعداد 30 لاکھ تھی۔ باقی آبادی نے جان کے خوف سے بہ ظاہر عیسائیت قبول کر لی۔

        اس طرح  اندلس میں، جہاں مسلمانوں نے تقریباً 800 سال حکومت کی تھی،ایک بھی مسلمان باقی نہ بچا۔ جناب ثروت صولت نے اپنی کتاب’ملت اسلامیہ کی مختصر تاریخ’ میں اندلس میں مسلم عہد حکم رانی کی تاریخ بیان کرنے کے بعد بہت درد بھرے انداز میں لکھا ہے کہ "اندلس میں مسلمانوں کی داستان بڑی درد ناک ہے۔ اس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔”(1/350)

        ان دنوں ہندوستان میں وہ طاقتیں جن کی اسلام دشمنی اور مسلم دشمنی جگ ظاہر ہے،بہت سرگرم ہیں۔ ایک طرف وہ پورے ملک میں دہشت گردی کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں،کم زور طبقات، اقلتیں اور خاص طور پر مسلمان ان کے مظالم کا شکار ہیں، لیکن طرفہ تماشا یہ ہے کہ وہ الٹا مسلمانوں کو عالمی اور ملکی دونوں سطحوں پر بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہی ہیں ۔ ان پر طرح طرح کے جھوٹے الزامات لگارہی ہیں۔انھیں شدت پسند، بے رحم، خون آشام، دہشت گرد اور طرح طرح کے القاب سے نواز رہی ہیں۔اس وقت مشہور داعی اسلام اور مبلّغ ڈاکٹر ذاکر نایک ان کے نشانے پر ہیں۔ ان کی شخصیت کو متّہم کیا جا رہا ہے،ان کے چینل پر پابندی عاید کر دی گیی ہے، ان کےادارہ پر پابندی کے ارادے ظاہر کیے جا رہے ہیں، ان کے وسایل آمدنی کی تفتیش کی جا رہی ہے، ان کے خلاف مقدمے قایم کرنے اور ان کو داخل زندان کرنے کے منصوبے بنایے جا رہے ہیں۔

       عجیب بات یہ ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے بعض گروہ ان مسلم دشمن طاقتوں کے آلہ کار بنے ہویے ہیں۔ وہ ان کا سپورٹ کر رہے ہیں اور ذاکر نایک کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرکے ان کو گرفتار کرنے اور ان کی سرگرمیوں پر پابندی عاید کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

        مسلمانوں کے ان گروہوں کو میں اندلس کا سبق یاد دلانا چاہتا ہوں ۔ اندلس کا یہ پیغام نوشتہ دیوار ہے کہ جب تک مسلمان متحد رہیں گے، کوئی طاقت ان کا بال بیکا نہیں کر سکتی، لیکن جب ان کی صفوں میں دراڑ پڑ جایے گی تو دنیا کی کویی طاقت انھیں عروج واستحکام نہیں بخش سکتی۔

        اسی طرح اندلس کا یہ سبق بھی انھیں نہیں بھولنا چاہیے کہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن مسلمانوں کے مختلف گروہوں میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ ان کی نظر میں سب مسلمان برابر ہیں۔ جس طرح اندلس میں وہ مسلم حکومتیں فنا کے گھاٹ اتر گئیں جن کے خلاف دوسری مسلم حکومتوں نے عیسائی حکومتوں سے مدد لی تھی اسی طرح خود وہ مسلم حکومتیں بھی زیادہ عرصہ تک باقی نہ رہ سکیں جنھوں نے ان کے خلاف عیسائیوں سے مدد چاہی تھی۔

        مسلم دشمن طاقتوں کو معلوم ہے کہ اندلس سے کس طرح مسلمانوں کا صفایا کیا گیا تھا ۔ وہ اسی حکمت عملی کو یہاں بھی بہ رویے کار لانا چاہتی ہیں اور اس پر عمل پیرا ہیں ۔ بہتر ہے کہ ہم نوشتہ دیوار پڑھ لیں، اس سے پہلے کہ وقت نکل جایے، پھر کف افسوس ملنے کے سوا کچھ حاصل نہ ہو گا۔

       کوئی مسلم گروہ اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ موجودہ مسلم دشمن حکومت کی ہاں میں ہاں ملا کر کسی مسلم شخصیت یا گروہ کی سرکوبی کے بعد وہ محفوظ رہے گا اور اس کو پھلنے پھولنے کے زیادہ مواقع حاصل ہوجائیں گے، بلکہ اندلس کی تاریخ  یادلاتی ہے کہ اس صورت میں اس کو بھی لازماً زیرِ عتاب آنا ہے، چاہے کچھ دنوں کے بعد ۔

         بہت بے وقوف ہے وہ شخص یا گروہ جو اس نوشتہ دیوار کو نہ پڑھے اور تاریخ سے سبق حاصل نہ کرے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close