ملی مسائل

اور فتنہ، قتل سےبھی بدتر ہے!

درحقیقت  یہ فتویٰ نہیں بلکہ دشمن کی لڑانے کی چال ہے۔

عظمت علی

خدا معلوم وطن عزیز ہندوستان کو کس بد نظر کی نظر لگ گئی ہے۔ آنے دن حالات مکد رہوئے جارہے ہیں۔ نہیں معلوم کہ چند ناپختہ مزاج اور کوتاہ فکر مسلمانوں کو کن شر پسند عناصر نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ ابھی تازہ خبر موصول ہوئی ہے کہ سنی مسلمان شیعوں کے یہاں افطار نہ کریں۔ یہ تفرقہ انگیز فتویٰ بڑے ہی زور و شور سےسوشل میڈیا پر گشت کررہا ہے۔یہ باہمی اختلاف کا حکم کسی بھی صورت موزوں نہیں ہے بلکہ یہ اختلافات کو ہوا  دینے کے مترادف ہے۔ تعجب کہ بات تو یہ ہے کہ ایسی اختلاف انداز خبریں بڑی تیزی سے سوشل میڈیا پر نشر کی جاتی ہیں کہ جس میں مسلمانوں کے درمیان پھوٹ اور تفرقہ کا ذکر ہو۔

انیس رمضان المبارک کو صادر ہونے والا مذکورہ فتویٰ آج ہر چھوٹے بڑے اخباروں کی شہ سرخی بنا ہوا ہے۔ بات محض فتویٰ کی نہیں بلکہ امت مسلمہ کے مابین پھوٹ ڈالنے کی ہے۔ کیوں کہ دشمن کو یہ بات خوب اچھی طرح سے معلوم ہے کہ اگر مسلمان متحدرہے تو ہماری سیاسی حربے ملیا میٹ ہوجائیں گے۔ ورنہ کیا وجہ بن سکتی ہے کہ ہر صاحب خرد مسلمان شب وروز اتحاد اور صلح و آشتی کا پیغام دے رہا ہے لیکن اسے آج تک اتنی شدت سے شائع نہیں کیا گیا۔ ہندوستانی علماء سمیت دنیا کے گوشہ و کنار میں بسنے والے دیگر علماء کرام اتحاد کا نعرہ بلند کررہے ہیں مگر میڈیا اسے سرخیوں میں ہی نہیں لاتی۔ ۔۔!آج کافی حد تک ہمارے درمیان صلح و صفایا ہو گیا ہے اور اس کا مثبت نتیجہ عیاں بھی ہے۔عراق اور شام کی فتح باہیم اتحاد کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ دشمن ان فتوحات سے بوکھلا گیا ہے۔ اب اسے کسی بھی صور ت اتحاد کو سبوتاژ کرنے کا ارادہ ہے۔ اس نے مختلف پینترے بدلے مگر بدلے میں اسے منھ کی کھانی پڑی ہے۔ عراقی الیکشن اور لبنانی انتخاب میں اسلام کی جیت نے دشمن کے پرخچے اڑادیئے ہیں۔ اس کی نیدیں حرام کردی ہیں۔

ہندوستان میں ہندو، مسلم، سیکھ، عیسائی آپس میں بھائی بھائی مانے جاتے ہیں۔ لیکن ادھر کچھ عرصہ سے ہندو،مسلم فساد کا ماحول گرم کیا جارہا ہے۔ جس کے سبب صورت حال بد سے بدتر ہوچلی ہے۔ مسلمان کو مسلمان سے لڑانے کی سازش رچی جارہی ہے۔ لیکن خدا کرے دشمن کو نامرادی  حاصل ہو۔

فتویٰ میں حکم صادر کیا گیا ہے کہ سنی مسلمان، شیعہ مسلمان کے یہاں افطار کرنے سے پر ہیز کریں۔ درحقیقت  یہ فتویٰ نہیں بلکہ دشمن کی لڑانے کی چال ہے۔ جسے اس نے چلا ہے۔ وگرنہ قرآن حکیم کی تلاوت کرنے والا مسلمان کب ایسی بے تکی باتیں کرتاہے۔ جہاں حکم خداوندی ہے کہ ’’اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور آپس میں تفرقہ نہ پیدا کرو۔(سورہ آل عمران ؍۱۰۳)

دین اسلام میں ریسمان اتحاد سے تمسک اور نسلی اختلافات کے مقابلہ میں برادری کا حوالہ دے کر ہر طرح کے اختلافات سے روکا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کاحکم دیا گیا ہے تاکہ مسلمان اختلافات کی روک تھام کرتے رہیں۔ پھر بھی ان دنوں چند کچے مسلمان اسلامی لبادہ اوڑھے دشمن کے قدم سے قدم ملائے چل رہے ہیں اور اسلام کے برخلاف بول رہے ہیں۔ مسئلہ شیعہ سنی کا نہیں، اسلام کا ہے۔ اگر ہم آپس میں لڑبٹے تو پھر ہماری طاقت بول جائے گی اور کمزور ی ہمارا دامن اس طرح پکڑلے گی کہ ہم ہاتھ پا ؤں تک نہ ہلاسکے گیں۔ دشمن کی وہ طاقتیں جو مسلمان کے مقابل ذروں سے بھی زیادہ ناپائیدار ہیں۔ ہمیں پتھر کی مضبوط چٹانیں دکھائی  دیں گی۔ اسلام دشمن قوتیں ہم پر غالب آجائیں گی اور ہم ان کے غلام بن جائیں گے۔ ان کا چاہت ہے ہی یہی کہ ہم ان کی جی حضوری میں زندگی بسر کریں۔ لیکن اسلام ہمیں سر اٹھا کر زندگی گزارنے کی تعلیم دیتاہے۔

مذکورہ فتویٰ کے موافق نہ ہی سنی حضرات ہیں اور نہ ہی شیعہ حضرات۔

ہندوستان میں مولانا سید کلب جواد نقوی صاحب سمیت روبینہ جاوید، ان کی تنظیم، ڈاکٹر کوثر عثمان نجم فاروقی اور دیگر حضرات اتحاد کی راہ میں انتہائی کوشش کررہے ہیں اور ان کو کامیابی بھی نصیب ہوئی ہے۔

مذکورہ بالا فتویٰ کو موصول ہوتے ہی سنی حضرات کے تعلیم یافتہ طبقہ نے اسے دیوار پر دے ماراہے۔ عبیدا للہ ناصر، مصطفی شیروانی اور توفیق صدیقی جیسے سنی علماء ودانشور وں نے سخت الفاظ میں  مذمت کی ہے۔ اب مزید خاموشی جرم ہوتی جارہی ہے۔ اب وقت بیداری آگیا ہے۔ بہت ہوگیا آپسی اختلاف۔ اب فتنہ کی آنکھیں پھوڑڈالیں۔ کیوں کہ  ’’فتنہ، قتل سے بدتر ہے۔ (سورہ بقرہ ۱۹۱)۔

لیکن ساتھ ہی ساتھ اس فتویٰ کے در پردہ دشمن کے ناپاک عزائم کو بھی اچھی طرح سمجھیں  اور آنے والے ہر قسم کے فسا کا سد باب کردیں۔ ورنہ یہ ہمارا آپسی اختلاف ہمیں دیمک کی طرح چاٹ جائے گااور پھر ہم چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کرسکیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close