ملی مسائل

آج جیسا وقت مسلمانوں پر کبھی نہیں آیا

حفیظ نعمانی

پاک پروردگار کا کرم ہے کہ اس نے بہت اچھا حافظہ دیا تھا جو 90  کے قریب پہونچتے پہونچتے بھی کچھ باقی ہے۔ 2014 ء میں کامیابی کے بعد سینٹرل ہال میں وزیراعظم کی حیثیت سے نریندر مودی نے جو تقریر کی تھی اور جو کچھ کرنے کو کہا تھا، ہم افسوس کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ وہ بس اس تقریر کی تعریف اور توصیف تک ہی رہ گیا۔ اور جب مودی جی نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تو وہی انداز اختیار کیا جو بارہ برس گجرات میں رہا تھا۔

بڑی اور بہت بڑی فتح کے بعد تقریر بھی ایسی کرنا ہوتی ہے جس پر دوست اور دشمن سب ہر لفظ کی تعریف کریں۔ لیکن سننے والے اور تعریف کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ تقریر تو ایک لیڈر کو کرنا ہوتی ہے اور ملک کو چلانے والے ہزاروں ہوتے ہیں اور ہر کسی کا مزاج وہی رہتا ہے جو پچھلی حکومت کے وقت تھا۔ وزیراعظم فتح کے نشہ میں چور جب کہتے ہیں کہ اقلیتوں میں خوف کا ماحول دور کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ یا اب ملک میں کوئی غیرنہیں سب کا دل جیتنا ہے تو یہ صرف ایک فاتح کی آواز ہوتی ہے اور وہ بیشک ملک کا حاکم ہوتا ہے داروغہ نہیں۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ اقلیتوں میں جو خوف کا ماحول پیدا کیا ہے اس کو دور کرنے کی ذمہ داری ہماری ہے یا ترقی کی دوڑ میں کوئی پیچھے نہ رہ جائے اس کی فکر ہم سب کو کرنا ہے وغیرہ وغیرہ۔

اس تقریر کی ہر طرف تعریف کی گئی اقلیتوں کے ہر حلقہ میں اسے سراہا گیا لیکن بہار کا وہ بیگو سرائے جہاں سے کنہیا کمار کے الیکشن لڑنے سے وہ حلقہ ہر زبان پر ہے اسی بیگوسرائے میں ایک پھیری پر سامان بیچنے والے مسلمان کو ایک شرابی نے روکا اور نام معلوم کیا جب اس نے نام بتایا تو کہا کہ تمہیں تو پاکستان جانا چاہئے اور گولی مار دی۔ کرکٹ کی دنیا سے سیاست کی دنیا میں تازہ وارد گوتم گمبھیر حیران ہیں کہ ہریانہ کے گڑگائوں میں ایک بہادر نے دوسرے کمزور سے کہا کہ کہو جے شری رام اور اس کے نہ کہنے پر اس کے ساتھ وہ سلوک کیا جس کے نہ کرنے کا دو دن پہلے وزیراعظم نے اعلان کیا تھا۔

2014ء کے مقابلہ میں نریندر مودی کہیں زیادہ مقبول بن کر آئے ہیں اور ایسی حالت میں آئے ہیں کہ ہماری معلومات کی حد تک بی جے پی کے لوگ بھی یہ سمجھے ہوئے تھے کہ مودی جی آتو جائیں گے مگر کمزور ہوں گے۔ اور اس کی وجہ غلط نہیں تھی کیونکہ 2014 ء میں جہاں جہاں بی جے پی کی حکومت تھی وہاں کی تمام سیٹیں مودی جی کو مل گئی تھیں۔ حساب لگانے والوں نے حساب لگایا تو وہ وہی تھا کہ پنجاب اور کرناٹک کو ملاکر پانچ ریاستوں میں جہاں کانگریس کی حکومت ہے وہاں سے سب نہیں تو 75  فیصدی تو مودی جی کے خلاف جائیں گی ہی اور باقی وہ ریاستیں جہاں طاقت اور پیسے کے ذریعہ کانگریس سے سیٹیں چھین سکتی ہیں ان کو ملایا جائے اور اترپردیش اور بہار کے گٹھ بندھنوں سے جتنی سیٹیں مل سکیں وہ ملاکر حکومت بن جائے گی۔

لیکن پورا ملک حیران ہے کہ کانگریس کی جہاں جہاں حکومت تھی وہاں بھی وہی ہوا جو 2014 ء میں ہوا تھا اور کرناٹک میں خیرات کے طور پر کانگریس اور اس کی ساتھی کو ایک ایک سیٹ دے دی۔ اور مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں جو ہوا اس کے بارے میں یہ سن کر کہ ہر وزیراعلیٰ ریاست کو چھوڑکر صرف اپنے اپنے بیٹوں کو لوک سبھا بھیجنے میں لگے رہے۔ اس لئے حیرت ہوئی کہ یہ انتخاب راہل گاندھی کا تھا۔ یہ شاید راہل گاندھی کو اُن کی اس غلطی کی سزا ملی ہے کہ مدھیہ پردیش جو صرف سندھیا کی محنت کے نتیجے میں کانگریس کو ملی تھی وہاں سے جوان خون سندھیا کو ہٹاکر کمل ناتھ کو تاج پہنا دیا اور وہ راجستھان جو صرف پائلٹ کی محنت کے طفیل میں کانگریس کو ملا تھا اسے اشوک گہلوت کی گود میں ڈال دیا اور پائلٹ کو ان کا نائب بنا دیا۔ جس کا نتیجہ سامنے ہے۔

وزیراعظم نے اقلیتوں کے بارے میں جو کچھ کہا ان کا اشارہ کانگریس کی طرف تھا کہ اس نے ہمیشہ اس سے ووٹ لئے لیکن اسے کبھی برابر نہیں کھڑا کیا۔ اور اب تو بی جے پی کی دیکھا دیکھی راہل گاندھی نے اقلیتوں کو اچھوت سمجھ لیا اس کے باوجود جن مسلمانوں نے کانگریس سے ٹکٹ مانگا یا ان کا ٹکٹ لے کر الیکشن لڑا اُن کے ہارنے کی جتنی بھی خوشی منائی جائے کم ہے۔ ہمیں تو اس وقت بیحد تکلیف ہوئی تھی جب مشہور صحافی م۔ افضل نے مراد آباد سے کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کی بات کی تھی۔

بہرحال اب جو کچھ ہوا ہے اس کے بعد ایک تو یہ ہوا کہ اب مودی جی نوٹ بندی یا جی ایس ٹی جیسی بھیانک غلطی نہیں کریں گے لیکن وہ جو بگڑی ہوئی بات کو اپنے حق میں کرلیتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ معیار کیا ہے۔ وہ صرف انجام دیکھتے ہیں جیسے پلوامہ کے ہر سپاہی کو انہوں نے بھارت رتن بنا دیا اور اتنے آنسو دکھائے کہ وہ ملک کا سب سے دردناک حادثہ بن گیا اور انہوں نے ان کے خون سے ووٹوں کی جھولی بھرلی۔ اور الیکشن کے خاتمہ کے وقت مہاراشٹر میں 16  جوان بارودی سرنگ میں اُڑگئے۔ مگر وہ ایسے وقت مرے کہ ووٹ ملنا نہیں تھے تو مودی جی کی آنکھ سے ایک آنسو بھی نہیں گرا اور نہ ان کے تابوت کو ہوائی جہاز لے گئے اور نہ ہیلی کاپٹر۔ پورا ملک ان کی یہ دورنگی دیکھ رہا ہے مگر ان کی مٹھی میں ہے اور نہ جانے کب تک مٹھی میں رہے گا۔ رہی بات مسلمانوں کی تو ماہِ مبارک کی آخری راتیں ہیں ہر مسلمان کو جو دعا کرنا چاہئے وہ سب کو معلوم ہے۔ بس ایک دعا اور کیجئے کہ پروردگار عقل سلیم عطا فرمائے اور عید کے بعد سب کو سر جوڑکر بیٹھنا چاہئے اور کوئی ایسا راستہ اختیار کرنا چاہئے کہ مسلمان کسی کی جائیداد نہ بنیں اور کسی کی غلامی کا عہد نہ کریں۔ اور نہ باہم مشورہ کے بغیر کسی کو ووٹ دینے کا وعدہ کریں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close