ملی مسائل

ایک ذاکر نائک ہی کیوں؟

عادل فراز  
ذاکر نائک کا مسئلہ اس وقت کافی طول پکڑ گیا ہے۔ میڈیا دن بہ دن جارحانہ رویہ اختیار کرتا جارہاہے،وہ اس معاملے میں خود ہی مدعی ہے اور خود ہی منصفی کے فرائض انجام دے رہاہے- محسوس ہوتاہے کہ جیسے اس ملک میں اس طرح کایہ پہلا واقعہ ہے- مختلف مذاہب میں ذاکر نائک جیسے نہ جانے کتنے اسکالرز ہیں جو بنام مذہب منافرت پھیلاتے رہے ہیں۔ ایسے اسکالرز کی حمایت و مخالفت کا سلسلہ سال بھر جاری رہتاہے۔ مگر کبھی اتنا تنازع دیکھنے میں نہیں آیا۔ ہم ذاکر نائک یا ان جیسے اسکالرز کے مخالف نہیں ہیں بلکہ انکی فکر اور نظریات کے مخالف ہیں- جس اسلام کی بنام اسلام یا بنام مذہب یہ لوگ تبلیغ کررہے ہیں اسکا تصور ہی اذیت رساں ہے- رسول خداؐ کے ساتھ دیگر پیغمبروںؑ اور صالحین کے متعلق جو ان کے نظریات ہیں وہ کتنے اسلامی ہیں یہ ایک الگ بحث کا موضوع ہے مگر ان نظریات کے مطالعہ کے بعد اتنا ضرور کہاجاسکتاہے کہ ذاکر نائک پیغمبر اسلامؐ اور دیگر صالحین کو بعد وفات دوسرے انسانوں کی طرح مردہ تصور کرتاہے- نہ ان کے وسیلہ سے دعا کی جاسکتی ہے اور نہ انکی حمد و ثنا کی جاسکتی ہے- در اصل یہ وہابی آئیڈیالوجی ہے جس کے ہندوستان میں ذاکر نائک مبلغ ہیں۔
ذاکر نائک کی کئی تقاریر سننے کا اتفاق ہوا- اس وقت میں ایک چینل میں اسکرپٹ رائٹر کے طور پر کام کررہا تھا- اکثر ایسا ہوتاکہ ذاکر نائک پیس ٹی وی پر ہزاروں افراد کی موجودگی میں تقریر کررہے ہوتے اور ہمارے چینل کے تمام کارکنان انکی تقریر کو غور سے سنتے- ایک دو بار انکی تقریریں سنیں تو انکا مدلل انداز اچھا لگا۔مگر کمزور اردو اور دیسی انگریزی انکی تقریر کو بوجھل بنادیتی تھی- مگر ہمیں انکی اردو یا انگریزی سے کیا لینا دینا تھا- انکا موضوع گفتگو ہر کسی کو غور و فکر کی دعوت دیتا تھا- انہی دنوں انکی ایک تقریر سننے کا اتفاق ہوا جو عالمی دہشت گردی کے تنا ظر میں تھی- انہوں نے واضح طورپر کہاکہ وہ اسامہ بن لادن اور ملا عمر کو دہشت گرد نہیں مانتے ہیں کیونکہ یہ لوگ اپنے ملک اور اپنی قوم کے لئے جہاد کررہے ہیں- اگر یہ دہشت گرد ہیں تو پھر جارج بش اور ٹونی بلیر جیسے حکمرانوں کو دہشت گردوں کی فہرست میں کیوں شمار نہیں کیاجاتا؟- انہوں نے اپنی اس تقریر میں طالبان کو دہشت گرد تنظیم نہ سمجھتے ہوئے مقاومتی تنظیم کہکر خطاب کیا تھا- یہ واقعہ 2013 کاہے- دن اور تاریخ صحیح طور پر یاد نہیں مگر انکی تمام تر تقاریر کی ریکارڈنگ یقیناًموجود ہونگی لہذا اس سلسلے میں انکے چینل سے وہ ریکارڈنگ ایجنسیاں یا مشکوک افراد طلب کرسکتے ہیں- یہاں مسئلہ یہ نہیں ہے کہ جارج بش اور ٹونی بلیر دہشت گرد ہیں یا نہیں- کیونکہ عالمی دہشت گردی کے فروغ میں امریکہ اور اسکی اتحادی طاقتوں کا کتنا اہم کردار ہے یہ عالمی میڈیا بخوبی جانتا ہے مگر کہتے ہوئے گھبراتا ہے- مسئلہ یہ ہے کہ کیا ملا عمر اور اسامہ بن لادن مجاھد تھے ؟کیا واقعی طالبان دہشت گرد نہیں ہیں ؟اگر ایسا ہے تو پھر آج داعش کو دہشت گرد تنظیم کہنا اور ابوبکر بغدادی کو دہشت گرد تسلیم کرنا بھی ناانصافی ہوگی-
اگر ذاکر نائک واقعی مبلغ اسلام ہیں تو کیا قرآن و احادیث کی روشنی میں و ہ حق و باطل کا فیصلہ کرنے کی تمیز نہیں رکھتے- کیا قرآن میں کہیں لکھا ہے کہ فتوحات کے نشہ میں یا تبلیغ اسلام کے لئے بے گناہوں کے خون کے دریا بہادیے جائیں- یہ کس قرآن اور کس اسلام کے مبلغ ہیں- جن دہشت گرد تنظیموں اور تاریخی مجرموں کی وکالت وہ کرتے رہے ہیں کیا انکی حقیقت سے وہ واقف نہیں ہیں- فقط مسلکی منافرت کو بڑھا وادینے کی غرض سے ایسے مجرموں کی وکالت کرنا ایک دانشور کو زیب نہیں دیتا۔شہرت نصیب ہونے کے بعد انکی تقاریر میں اسلام کا دیگر مذاہب کے ساتھ ایسا تقابلی مطالعہ پیش کیا جاتا رہاہے کہ جس کی بنیاد پر صرف نفرت کو فروغ ہوتاہے- دیگر مذاہب کے افراد تک اسلام کی صحیح تعلیمات پہونچانے میں رسول خداؐ نے کبھی یہ روش اختیار نہیں کی- اپنے ٹی وی چینل پر علی الاعلان دوسروں کے عقائد کی ہتک آمیزرد پیش کرنا اور انکے مذہبی رہنماؤں کی ہتک حرمت کرنا اسلامی طریق�ۂ کار نہیں ہے- اگر ذاکر نائک واقعی اسلام کا دیگر مذاہب کے ساتھ تقابل کرنا چاہتے تھے تو ان مذاہب کے اسکالرز اور رہنماؤں کو مناظرہ کی دعوت دیتے- انہیں’’ اوپن ڈبیٹ ‘‘ کے لئے چیلنج کرتے- مگر جو انسان مباحثہ اور مناظرہ میں یقین نہ رکھتا ہو وہ کبھی دوسروں کو اسکی دعوت نہیں دے سکتا۔کئی بار یزید کے مسئلے پر انہیں مناظرہ کی دعوت دی گئی مگر ہر بار وہ دامن چھڑا کر بھاگ گئے- الہ آباد سے کئی بار انہیں اوپن چیلنج کیا گیا مگر انکی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا- کیونکہ جس سعودی اسلام کے وہ مبلغ ہیں وہاں بحث و مباحثہ کے ذریعہ اختلافات کو سلجھانے کی بات نہیں ہوتی بلکہ ’’نظریاتی بلاسٹ ‘‘ کو ترجیح دی جاتی ہے-
ذاکر نائک یزید جیسے فاسق و فاجر کو رضی اللہ کی سند دیتاہے اور اسکی بخشش کا قائل ہے- یزید کے فسق و فجور پر عالم اسلام کے بزرگ علماء متفق ہیں- ہاں آج کے وہابی اور سعودی زر خرید علماء ضرور یزید کی حمایت میں کمر بستہ ہیں اور اپنا بستہ لیکر گلی محلوں میں گھوم گھوم کر یزید کی سنت کا احیاء کرنے کی کوشش کرتے ہیں- کچھ لوگ ذاکر نائک کے مسئلے کو شیعہ و سنی مسئلہ بنادینا چاہتے ہیں تاکہ سنیوں کی حمایت ذاکر نائک کو حاصل ہوجائے- یہ ناممکن امر ہے- کیونکہ ذاکر نائک کی یزید پرستی اور تخریبی افکار سے اہلسنت بخوبی واقف ہیں- کچھ وہابی متعصب صحافی اس دلیل کے ساتھ اسکی حمایت کرررہے ہیں کہ اگر ذاکر نائک بریلویوں اور شیعوں کے جذبات کاخیال کرکے انہیں نہ چھیڑتے تو آج سب انکی حمایت میں آواز اٹھارہے ہوتے- اس جملے سے صاف واضح ہے کہ کس طرح یزید کے مسئلے کو ایسے متعصب دانشور شیعہ و سنی کا مسئلہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں- یزید وہابیوں کے لئے نمون�ۂ عمل ہوسکتاہے مگر شیعہ و سنی ہی نہیں بلکہ ہر حق پسند اور صاحب نظر مسلمان کے لئے و ہ قابل لعن ہی رہے گا- جو لوگ یزید کی پرستش کو فرض سمجھتے ہیں ان سے گذارش ہے کہ وہ یزید کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنی محرم عورتوں کے ساتھ تصرف کریں ،شراب و شباب کی محفلیں برگزار رکریں ،قرآنی تعلیمات کا تمسخر کریں ، انکار وحی کے ساتھ انکاررسالت کے مرتکب ہوں۔ بندربازی کا شوق فرمائیں اور جانوروں کے باہمی اختلاط کے مناظر اپنی محرم عورتوں کے ساتھ سبزہ زار پر بیٹھ کردیکھیں- یقیناًیہ عمل ایک مسلمان ہی نہیں بلکہ ہر مذہب کے انسانوں کے لئے باعث ننگ و عار ہے مگر یزید پرستوں کے لئے باعث افتخار ہے-
اب اس مسئلہ کا دوسرا رخ بھی ملاحظہ کریں- ذاکر نائک کا مسئلہ آج اتنا اہم اور متنازع کیوں بنادیا گیا ہے ؟۔کیا گزشتہ بیس پچیس سالوں میں ہندوستانی ایجنسیوں اور میڈیا کو ذاکر نائک کے تخریبی نظریات اور اسکی زہریلی تقاریر کا علم نہیں تھا ؟پیس ٹی وی بغیر لائسنس کے سالوں تک پروگرام نشر کرتا رہا مگر کسی کی طرف سے کوئی شکایت نہیں کی گئی-  جیسے ہی شدت پسند زعفرانی تنظیموں کی حمایت یافتہ حکومت برسر اقتدار آئی طرح طرح کے متنازع موضوعات اٹھائے جانے لگے- ذاکر نائک کے سلسلے میں ابھی مرکز کی تحقیقاتی ایجنسیوں کی رپوٹ نہیں آئی ہے- رپوٹ میں کیا کچھ ہوگا ہمیں اس سے مطلب نہیں ہے ہم صرف اتنا پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر ذاکر نائک دہشت گردوں کی حمایت کرتا ہے تو ہمارا قومی میڈیا اتنا واویلامچاتاہے کہ محسوس ہوتاہے جیسے ذاکر نائک قومی امن کے لئے دہشت گردوں سے بڑا خطرہ ہے- اگر ذاکر نائک کی تقریروں سے انسپائر ہوکر مسلم نوجوان گمراہ ہوتے ہیں تو ذاکر نائک اپنی فکر کی ترسیل میں پوری طرح ناکام رہے ہیں یہ ایک بڑی حقیقت ہے- ا س سلسلے میں انہیں مجرم بھی بنادیا گیاہے- مگر آر ایس ایس ،بجرنگ دل اور وشوہندو پریشد جیسی شدت پسند تنظیموں اور انکے زہریلے رہنماؤں پر حکومتیں کاروئی کیوں نہیں کرتی ہیں- پروین توگڑیا جیسے متشدد ررہنماؤں نے ہندو نوجوانوں کو بھڑکانے کے لئے کیا کچھ نہیں کیاہے- کیا یہ تنظیمیں ملک کی فضا میں زہر نہیں گھول رہی ہیں- کیا ان تنظیموں کا لٹریچر اور رہنماؤں کی تقاریر نوجوانوں کو گمراہ نہیں کررہی ہیں۔آخر ان تنظیموں پر ہماری ایجنسیاں کاروائی کرتے ہوئے کیوں خوفزدہ ہیں- حد یہ ہے کہ میڈیا کی ہر دہشت گردی مخالف ڈبیٹ میں ان یرقانی شدت پسند تنظیموں کے کارکنان بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور مسلمانوں کو دہشتگرد ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیتے ہیں- مگر یہی میڈیا ہمارے ملک میں پنپ رہے دہشت گردی کے ناسور کو چھپانے کی کوشش کرتاہے- اگر اس ناسور کا علاج نہ ہوا تو ملک کی سلامتی کے لئے بڑا خطرہ بن جائیگا۔ہم نہ ذاکر نائک کے حامی ہیں اور نہ آرایس ایس جیسی شدت پسند تنظیموں سے ہمیں اللہ للہ کا بیر ہے بلکہ ہم اس فکر اور اس ذہنیت کے مخالف ہیں جو شدت پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دیتی ہے- لہذا مرکزی حکومت نے جس طرح ذاکر نائک کے خلاف فوری اقدامات کئے ہیں امید ہے اسی طرح ان تنظیموں کی لگام بھی کسی جائیگی جو قومی سلامتی کے لئے خطرناک ہیں-

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close