ملی مسائل

ایک طلاق ہی نہیں، عورت پہ ستم اور بھی ہیں!

احساس نایاب

ماب لنچنگ کروا کر مسلم خواتین کو بیوہ ، بچوں کو یتیم، بزرگوں کو بےسہارا کرنے  والے سنگھی درندوں کے سربراہ جب تین طلاق کے نام پہ مسلم خواتین سے جھوٹی ہمدردی جتاتے ہیں تو اس بات کا سو فیصد یقین ہوجاتا ہے کہ ان جیسے نوٹنکی باز نہ بالی ووڈ میں آج تک آئے ہیں نہ ہی ہالی ووڈ میں۔

جی ہاں  رام لیلا کرنے والے ان نوٹنکی بازوں نے ایک بار پھر سے طلاق ثلاثہ کو لے کر پارلیمنٹ میں بل پیش کی ہے ویسے تو ان کا یہ ڈرامہ آج کا نیا نہیں ہے بلکہ 2014 سے لے کر 2019 تک 6 سالہ اقتدار کے دوران بی جے پی نے بار بار تین طلاق کو مدعہ بناکر مسلم خواتین سے ہمدردی کا ڈھونگ رچتے ہوئے شریعت میں جبراً مداخلت کرنے کی کوشش کی لیکن الحمدللہ خود مسلم خواتین اور اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج و اختلاف رائے کی وجہ سے انہیں کئی دفعہ منہ کی کھانی پڑی اس کے باوجود یہ باز نہ آئے اور خواتین سے ہمدردی کے نام پہ 2018 میں چوری چھُپے آرڈیننس پاس کروالیا جیسے ملک میں طلاق کے علاوہ عورتوں پہ اور کوئی ظلم ہو ہی نہیں رہے ہیں۔

جبکہ ساری دنیا ان بھاجپائیوں کی گندی فطرت سے بخوبی واقف ہے کہ انہیں نہ مسلم خواتین سے  کوئی ہمدردی ہے نہ ہی ان کے مستقبل سے کوئی لینا دینا ہے۔

بلکہ طلاق کے نام پہ ہورہے ہنگامہ کی اصل وجہ اسلام و مسلمانوں کے لئے ان کے اندر پنپ رہی نفرت ہے جس پہ ہمدردی و انصاف کا جھوٹا رنگ چڑھایا گیا ہے ، اس کے علاوہ 6 سالہ اقتدار میں مودی سرکار کی اور سے کئے گئے تمام غلط فیصلوں و ناکامیوں کو چھپانے ، عوام کو اصل موضوع سے بھٹکانے کے خاطر طلاق ، حلالہ اور رام مندر جیسے بےبنیادی و غیر ضروری مدعوں کو چھیڑ کر ملک کا ماحول بگاڑنے، عوام کو مذہب کے نام پہ تقسیم کرنے کی گھناؤنی سازش رچی جارہی ہے تاکہ بی جے پی مذہب کے نام پر سالوں سال ہندوستان پہ حکومت کرسکے۔

اگر ان کے اندر عورتوں کے تئیس سچ میں ہمدردی کا جذبہ ہوتا تو یہ پہلے اپنے گھر کی عورتوں سے انصاف کرتے جو واقعی مظلوم ہیں۔جس کا ثبوت  حال ہی میں کیا گیا سروے ہے جس کے مطابق 2014 سے عصمت دری کے واقعات میں جو اضافہ ہوا ہے وہ شاید ہی اس سے قبل کبھی ہوا ہو کیونکہ خود بھاجپا کے منتریوں نے ہی کئی عورتوں کی عزتیں پامال کی ہیں ، سڑکوں پہ عورتوں کی پٹائی کی ہے ، انصاف مانگنے پہ انہیں موت کے گھات اتار دیا اور شرم کی بات تو یہ ہے کہ آج وہی ریپسٹ ، غنڈے بدمعاش ممبر آف پارلیمنٹ ہیں جو کسی بھی سیکولر ملک کی سالمیت کے لئے خطرناک ہے آج انہیں سنگھیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں ہندوستان کی شیبہ ریپستان بن کے رہ گئی ہے۔

 کیونکہ صدیوں سے جس ملک میں دیویوں کی پوجا کی جارہی ہے آج اُسی ہندو دھرم کی عورتوں کو حقیر ، منہوس ، پیر کی جوتی سمجھا جاتا ہے کئی مندروں میں اُن کے داخلہ پر پابندی لگاکر انہیں اُن کے جائز حقوق سے محروم کیا گیا ہے جس کی جیتی جاگتی مثال شبری مالا کا وہ مندر ہے جہاں عورتوں کے جانے پر پابندی لگائ گئی تھی لیکن ایک سال قبل سپریم کورٹ کی جانب سے ہندو خواتین کے حق میں فیصلہ آچکا تھا باوجود اس کے سپریم کورٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے قانون کی خلاف ورزی کی گئی اور مندر کے نام پر عورتوں پہ تانڈاؤ کیا گیا۔

بات صرف مندروں میں داخلے کی ہی نہیں ہے اس کے علاوہ بھی کئی علاقوں میں اندھ وشواس ، دقیانوسی رسم ورواج کے چلتے عورتوں پہ منہوس اور چڑیل ہونے کا الزام لگاکر انہیں گاؤں سے نکال دیا جاتا ہے یا پتھروں سے پیٹ پیٹ کر بڑی بےرحمی سے ان کی جان لی جاتی ہے ، دیویوں کے نام پہ نابالغ لڑکیوں کی بلی چڑھائی جاتی ہے تو کہیں انہیں مندروں میں  دیویوں کے آگے ننھی بچیوں کے ساتھ زیادتی کر اُن کا قتل کردیا جاتا ہے، جگہ جگہ آشرموں میں آسا رام ، بابا رام رحیم جیسے فریبی سادھو سنتھوں کے ہاتھوں دیوداسیوں کا جنسی استحصال ہورہا ہے تو اترپردیش کے یوگی راج میں عورتوں کو برہانہ کر راستوں پہ دوڑایا جارہا ہے اور ناجانے آج ایسی کتنی ہی متاثرہ ہندو بہنیں انصاف مانگتے ہوئے  دن ،رات پولس اور کورٹ کے چکر لگاتی بوڑھی ہورہی ہیں۔ اگر صحیح معنوں میں ہمدردی کی حقدار کوئ ہیں تو وہ ہماری یہی ہندو بہنیں ہیں۔ جن پہ ہورہے ظلم و ستم کی داستانیں طویل ہیں جسے جانتے بوجھتے فراموش کردیا گیا ہے کبھی غیروں سے تو کبھی اپنوں ہی کے ہاتھوں  ہر روز گھریلو تشدد کا شکار ہورہی ہیں ، جہز کے نام پہ اپنے ہی سسرال میں اپنے ہی شوہر پتی پرمیشور کے ہاتھوں زندہ جلائی جاتی ہیں، گلا گھونٹ کر قتل کردی جاتی ہیں یا بنا طلاق کے بےسہارا در در کی ٹھوکریں کھانے کے لئے انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جیسے خود ہندوستان کے وزیراعظم نے سات جنم تک ساتھ نبھانے کا وعدہ کرکے اپنی بیوی جیشودہ بہن کو چھوڑدیا ہے۔۔ ایسے میں یہ سوال اٹھانا ہر فرد پہ لازم ہے کہ جو سرکار خود اپنی عورتوں اپنی بیویوں کے ساتھ انصاف نہیں کرپائی وہ مسلم خواتین کو کیا خاک انصاف دلائے گی؟

ویسے بھی طلاق کے نام پہ ہمدردی کا ڈھونگ کرنے والے ، مسلم خواتین کے حقوق کی بات کرنے والوں کو یہ پتہ ہونا چاہئیے کہ  اسلام نے مسلم خواتین کو کل یا آج نہیں بلکہ 14 سو سال پہلے ہی برابری کے حقوق دے دئیے ہیں۔ آج جس طلاق کو مسئلہ بناکر سرعام مسلمانوں کا مذاق بنایا جارہا ہے دراصل یہی طلاق ہر مظلوم بیوی کے حق میں رحمت ہے۔ کیونکہ جب کسی شادی شدہ زندگی میں کسی  وجہ سے  میاں، بیوی کی آپس میں نہیں بنتی اور ایک دوسرے کو برداشت کرنا ناممکن ہوجائے تو ایسے حالات میں اُنہیں اجازت ہے کہ وہ اپنی مستقل زندگی کو زبردستی کے رشتے میں باندھ کر برباد  کرنے کے بجائے آپسی رضامندی سے علیحدگی اختیار کر کے ہنسی خوشی ایک نئی زندگی کا آغاز کریں۔

دراصل اسلام میں نکاح کوئی جنم جنمانتر کا ساتھ نہیں ہے جو ایک جنم انسانی شکل میں ساتھ رہیں تو دوسرا،  تیسرا تا ساتواں جنم شوہر کی کرتوتوں کی وجہ سے بندر یا کُتے بلی بن کر لڑتے جھگڑتے ہوئے گذاریں۔  اسلام میں عورت اور مرد دونوں کی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر ایک کو برابری کے حقوق فراہم کئے گئے ہیں تاکہ جنس کے بنا پر کسی کے ساتھ بھی بھید بھاؤ نہ ہو۔

رہی بات نکاح کی تو اسلام میں نکاح کی حیثیت محض ایک کنٹریکٹ میریج کی طرح ہے جس میں  لڑکے کے ساتھ ساتھ لڑکی کی رضامندی کو بھی فوقیت دی جاتی ہے یہاں تک کہ عورت کے تحفظ اُس کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے مہر کی شکل میں مقررہ رقم کی ادائیگی ہر مرد پہ لازم قرار دی گئی ہے اور اگر مساوات کی بات کی جائے تو دونوں کو ہر معملے میں برابری کے حقوق دئے گئے ہیں۔ جہاں مرد کو طلاق کی اجازت ہے  وہیں عورت کے حق میں خلع لینے کا اختیار ہے تاکہ دونوں میں کوئی بھی مجبوراً ایسے رشتے کی بھینٹ نہ چڑھے جس کی وجہ سے زندگی اجیرن بن جائے۔

شاید ہی دنیا کے کسی مذہب نے عورت کے تحفظ اُس کے حقوق اور اُس کے وجود کو اتنی اہمیت دی ہو۔لیکن افسوس آج جہالت اور مذہبی تعصب کے چلتے مودی سرکار طلاق جیسی رحمت  کو زحمت بناکر پیش کرنے پہ تلی ہے اور غیرمسلمانوں کے آگے اس کو غلط اینگل سے دکھا رہی ہے۔

 اگر کچھ پل کے لئے یہ مان بھی لیا جائے کہ طلاق کی وجہ سے مسلم خواتین کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے تو یہاں پہ یہ بتانا بیحد ضروری ہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں 68 فیصد طلاق شدہ و بنا طلاق کے چھوڑی ہوئی عورتوں میں ہماری ہندو بہنیں ہیں وہیں محض 22 سے 23 فیصد مسلم خواتین ہیں اور اس اعداد و شمار کے مطابق کثیر تعداد میں سزا کے حقدار تو ہندو مرد ہونے چاہئیے جن میں پہلے نمبر پہ خود ہندوستان کے وزیر آعظم ہیں اور شیعہ وقف بورڈ کے چیرمین وسیم رضوی ہیں جس نے اپنی دوسری بیوی فرحا عرف بیوٹی کو جسمانی و ذہنی اذیت دے کر یتیم خانے میں قید کررکھا ہے اور ناجانے۔

انہیں کی طرح ہندوستان بھر میں کتنی ہی ہندو بہنوں کو سندور،  منگل سُتر اور سات پھیروں جیسے دقیانوسی رسم و رواج کی آڑ میں  جانوروں کی طرح ایسے کوٹھے سے باندھ دیا جاتا ہے جہاں ان بیچاری عورتوں کو مجبورا جلاد شوہر کے ہاتھوں مار کھا کر جینا پڑتا ہے یا  گھریلو تشدد سے تنگ آکر یہ خودکشی کرنے پہ مجبور ہوجاتی ہیں ہندوستان میں اگر ہمدردی کی حقدار کوئی ہیں تو وہ یہی عورتیں ہیں۔ کاش اسلامی قوانین ہر مذہب میں نافذ کئے جاتے تو آج ملک میں جشودہ بہن جیسی  عورتوں کی زندگیاں تباہ وبرباد نہ ہوتیں۔ نہ ہی کوئی عورت خودکشی کرنے پہ مجبور ہوتی کیونکہ طلاق وسیم رضوی  جیسے  ظالم مردوں سے نجات پانے کا آسان ذریعہ ہے۔

لیکن دُکھ کی بات تو یہ ہے کہ یہاں جان بوجھ طلاق کو مسئلہ بناکر مسلمانوں کو ہراساں کیا جارہا ہے،جبکہ کروڑوں مسلم خواتین نے اس بل کی پرزور مذمت کرتے ہوئے ہندوستان بھر میں احتجاج کیا لاکمشنر کے آگے اپنے دستخط  پیش کئے باوجود اس کے ان پانچ کروڑ مسلم خواتین کو نظرانداز کرکے چند لالچی بکاؤ  عورتوں کو مہرہ بناکر شریعت میں جبراً رد و بدل کرنے اور  ہمارے گھریلو نظام کو درہم برہم کرنے کی یہ گھناؤنی سازش ہے اور ایسے غیر ضروری بل پاس کرواکر نہ مسلم خواتین کا بھلا ہوگا نہ ہی ملک کا ۔

ویسے بھی ملک جن سنگین مسائل سے جوجھ رہا ہے انہیں نظرانداز کرکے اوروں کی خواب گاہوں میں تانک جھانک کرنا ایسی چھچوری حرکت کسی بھی باوقار شخصیت خاص کر وزیرآعظم کو زیب نہیں دیتی۔اگر عورتوں کا بھلا کرنے کا اتنا ہی جذبہ ہے تو ہندوستانی شہری اور ایک عورت ہونے کے ناطے ہم آپ کو تجویز دیتے ہیں کہ شادی شدہ زندگیاں اور خاندانی نظام کو تباہ و برباد ہونے سے بچانے کے لئے پہلا اقدام ہندوستان سے لیونگ رلیشن شپ،  ہم جنس پرستی اور اڈلٹری جیسی زنا، بدکاریوں پہ روک لگائیں ، ملک میں اسلامی قوانین نافذ کریں، ہندوستانی ہر مرد کو کم از کم دو شادیوں کا قانون بنائیں تاکہ ہمارے محب وطن میں ریڈ لائٹ جیسی بدنام گلیوں کا خاتمہ ہوجائے اور ویشیا،  طوائف،  کال گرلس کہلانے والی عورتوں کی زندگیاں سنور جائے وہ پروسٹیٹیوٹ کے دلدل سے باہر نکل سکیں اور ساتھ ہی یوگی جیسے غیرشادی شدہ سنگھیوں کی شادیاں اگر ان سے ہوجائیں تو الحمدللہ اس سے دونوں کا بھلا ہوجائے اور بھاچپائیوں کی بدکاریوں کی وجہ سے ملک بھر میں پھیل رہی ایڈس نامی وباء کو روکنا آسان ہوگا کیونکہ کسی بھی ملک کی فلاح بہبودی کے لئے صاف ستھرا معاشرہ ضروری ہے تاکہ ایسے خطرناک مہلک بیماریوں کا خاتمہ ہو جس کی وجہ سے آج  سینکڑوں معصوم بےگناہ بچوں کی جان جارہی ہے ، یاد رہے اُن معصوم بچوں کی مائیں جو آج بلک رہی ہیں وہ بھی عورتیں ہیں، پہلو خان سے لے کر افرزول، جنید اور تبریز انصاری کی ماں، بہن، بیوی وہ بھی عورتیں ہیں، نجیب کی ماں بھی عورت ہیں جو سالوں سے انصاف کے لئے منتظر ہیں اگر انصاف دلانا ہے تو پہلے ان سبھی کو انصاف دلائیں۔ ورنہ بہتری اسی میں ہے کہ بار بار یہ دو کوڑی کی نوٹنکی کرنا بند کردیں کیونکہ یہ ہندوستان کی پارلیمنٹ ہے کوئی رام لیلا کا میدان نہیں ہے جو اصل مدعوں کو چھوڑ کر بےبنیادی و غیر ضروری مدعوں پہ گلاٹیاں ماری جائیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

احساس نایاب

ایڈیٹر گوشہ خواتین واطفال بصیرت آن لائن، سب ایڈیٹر روزنامہ آجکا انقلاب

متعلقہ

Back to top button
Close