ملی مسائل

بابری مسجد: شہادت کے پچیس سال

عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

  6/دسمبر، ہندوستان بھر میں یومِ سیاہ کے طور پر منایاجاتاہے ؛ کیونکہ آج سے 25 برس قبل یعنی 6 دسمبر 1992 کو متشددفرقہ پرست عناصر نے ایک منظم سوچی سمجھی سازش کے تحت بابری مسجد کو شہید کر کے ملک کی سب بڑی اقلیت کے جذبات کو جوٹھیس پہنچائی تھی اس کا مداوا آج تک نہ ہو سکا؛بلکہ انتہا پسند زعفرانی تنظیمیں کھلے عام اپنے اس غیر انسانی جرم کو بطور کارنامہ بیان کرتی ہیں اور سنگھ پریوار میں شامل ساری جماعتیں اس دن کو ’’ گرو دیوس‘‘ یعنی یومِ فخر کے طور پر مناتی ہیں ، مزید برآں برسراقتدار حکومت وقتا فوقتا اپنی کمیوں ، کوتاہیوں اور جرائم کو چھپانے کے لیے بہت بڑے حربے کے طور پر اس مسئلہ کو منظر عام پر لاتی رہتی ہے۔

بابری مسجد کی شہادت کے 25 سال مکمل ہونے پر غیر جانبدار حلقوں نے معاملے کا منصفانہ جائزہ لینے کے بعد کہا کہ اتر پردیش ضلع فیض آباد کے قصبے ایودھیا میں واقع 4 سو سالہ قدیم تاریخی مسجد جس کی تعمیر مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر نے کرائی تھی اس کی شہادت سے بھارتی سیکولر ازم کے دعوو وں کی قلعی پوری طرح کھل چکی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ عالمی برادری کے اکثر حلقے اپنی وقتی مصلحتوں کے پیش نظر اس انسانی المیے کا خاطر خواہ اعتراف نہیں کر رہے ہیں ؛جس کی وجہ سے بھارت میں فرقہ واریت کے جذبات اتنا فروغ پا چکے ہیں کہ چند سال پہلے BJP جیسی انتہا پسند جماعت بھاری اکثریت سے چوتھی بار حکومت بنانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔

بابری مسجد تاریخ کے آئینے میں :

  شہنشاہ ”بابر“ کے دور میں اودھ کے حاکم ”میرباقی اصفہانی“ نے 935ھ /1528ء میں ایودھیا (ضلع فیض آباد) میں یہ تاریخی مسجد تعمیر کرائی تھی، مسجد کے مسقف حصہ میں تین صفیں تھیں اور ہر صف میں ایک سو بیس نمازی کھڑے ہوسکتے تھے، صحن میں چار صفوں کی وسعت تھی، اس طرح بیک وقت ساڑھے آٹھ سو مصلی نماز ادا کرسکتے تھے۔ مسجد کے درمیانی مرکزی در کے اوپر دو میٹر لمبی اور پچپن سینٹی میٹر چوڑی پتھر کی تختی کا ایک کتبہ نصب تھا، جس کی پہلی اوپر سطر میں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم و بہ ثقتی“ خوشنما بیلوں کے درمیان لکھا ہوا تھا، اور نیچے کی تین سطروں میں فارسی کے چند اشعار تھے۔

اس بڑے کتبہ کے علاوہ اندرونِ مسجد منبر کی دونوں جانب ایک ایک کتبہ نصب تھا، 27/مارچ 1934ء کے ہنگامہ کے موقع پر جوگاؤکشی کے عنوان کا بہانہ بناکر برپا کیاگیا تھا، مسجد میں گھس کر بلوائیوں نے توڑ پھوڑ کی تھی، جس میں یہ دونوں کتبے بھی اٹھالے گئے تھے، بعد میں ”تہور خاں ٹھیکیدار“ نے منبر کی بائیں سمت والے کتبہ کی نقل تیار کراکے اسی پہلی جگہ پر اسے نصب کرادیا، داہنی جانب کے کتبہ کی ایک نقل سید بدرالحسن فیض آبادی کے پاس محفوظ تھی؛جو آج بھی دستیاب ہے۔

ابتدائے تعمیر سے بابری مسجد میں نماز پنج گانہ اور جمعہ ہوتا رہا ہے، عدالتی کاغذات سے معلوم ہوتا ہے کہ ماضی قریب یعنی 1858ء سے 1870ء تک اس مسجد کے امام و خطیب ”محمد اصغر“ تھے، 1870ء تا 1900ء کی درمیانی مدت میں مولوی ”عبدالرشید“ نے امامت کے فرائض انجام دئیے، 1901ء سے 1930ء کے عرصہ میں یہ خدمت مولوی عبدالقادر کے سپرد رہی، اور 1930ء سے 1949ء مسجد کے قرق ہونے کی تاریخ تک مولوی عبدالغفار کی اقتداء میں مسلمان اس مسجد میں نماز پنج وقتہ اور جمعہ ادا کرتے تھے۔

  بابری مسجد کے مصارف کے واسطے عہد مغلیہ میں مبلغ ساٹھ روپے سالانہ شاہی خزانے سے ملتے تھے، نوابان اودھ کے دور میں یہ رقم بڑھا کر تین سو دو روپے تین آنہ چھ پائی کردی گئی تھی، برطانوی اقتدار میں بھی یہ رقم بحال رہی، پھر بندوبست اول کے وقت نقد کی بجائے دو گاؤں بھورن پور اور شولاپور متصل اجودھیا اس کے مصارف کے لئے دئیے گئے، غرض کہ اپنی ابتداء تعمیر سے 1369ھ / 1949ء تک یہ مسجد بغیر کسی نزاع و اختلاف کے مسجد ہی کی حیثیت سے مسلمانوں کی ایک مقدس و محترم عبادت گاہ رہی اور مسلمان امن وسکون کے ساتھ اس میں اپنی مذہبی عبادت ادا کرتے رہے۔ (ملخص از: بابری مسجد تاریخ کے مختلف مراحل میں)

مندر/مسجد تنازعے کا آغاز:

 تاریخ کی مستند کتابیں اس بات پر شاہد ہیں کہ کہ بابری مسجد کی تعمیر سے صدیوں پہلے مسلمان اجودھیا میں آباد تھے، اور یہاں کے ہندو مسلم، پوری یک جہتی اور یگانگت کے ساتھ زندگی گزارتے تھے، 1855ء/ 1272ھ سے پہلے کسی مذہبی معاملہ میں یہاں کے باشندوں کے درمیان کوئی تنازعہ رونما ہوا یا باہمی ٹکراؤ کی نوبت آئی ہو صحیح تاریخوں اور مذہبی نوشتوں سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، لیکن جب تن کے گوروں من کے کالوں (انگریزوں )کے منحوس قدم اس سرزمین پر پڑے تو اپنے تحفظ و بقاء کے لیے "لڑاؤ اور حکومت کرو” کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے بابری مسجد/رام جنم بھومی مسئلہ بالقصد پیدا کیاگیا۔

 ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے ہنس بیکر نے ہی 1008ء میں ” جنم بھومی مندر” کی تعمیر کی بات لکھی تھی۔ انگریزوں کی ریشہ دوانیوں میں یہ امر بھی شامل ہے کہ 1855ء کی پہلی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد ایودھیا میں انگریزوں کی افواج اور انگریزوں کے نمک خوار ہندو زمینداروں اور تعلقہ داروں نے مل کر ہنومان گڑھی کی مسجد شہید کی اور مسجدیں بھی توڑیں جب مولوی امیر علی امیٹھوی نے مساجد کو واگذار کرنے کیلئے کارروائی اور جد و جہد کی تو تاریخ حدیقہ شہدا اور قیصر التواریخ کے مورخین کا خیال ہے کہ انگریزوں کے توپ خانے کی زد میں آکرکئی ایک مجاہدین شہید ہوئے اور بعد ازیں انگریزوں نے مولوی امیر علی کو سزائے موت دے کر شہید کردیا۔ اس کے بعد مقدمہ بازی تو ہوتی رہی لیکن کوئی خاص مسئلہ پیدا نہ ہوسکا (افکار ملی ماہنامہ۔ بابری مسجد نمبر2003)

1857ء میں جب کہ ہندوستان کے مسلمانوں اور ہندوؤں نے متحد ہوکر بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی کا بگل بجایا، ضلع فیض آباد کے گزیٹر سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت باہمی اتفاق و یگانگت کو مستحکم کرنے کی غرض سے اجودھیا کے مسلم رہنما امیر علی اور ہندو رہنما بابا چرن داس نے رام جنم استھان اور بابری مسجد کے تنازعہ کو ہمیشہ کے واسطے ختم کرنے کی غرض سے ایک معاہدہ کیا کہ رام جنم استھان کی مخصوص متنازعہ اراضی ہندوؤں کے حوالہ کردی جائے اور ہندو بابری مسجد کی عمارت سے دست کش ہوجائیں ، چنانچہ اس معاہدہ پر فریقین خوشی خوشی راضی ہوگئے اور دو سال سے اختلاف کی جو آگ بھڑک رہی تھی وہ ٹھنڈی ہوگئی، مگر انگریزوں کو یہ ہندومسلم اتحاد گوارہ نہ ہوا، انھوں نے بابارام چرن داس اور امیر علی دونوں کو ایک ساتھ املی کے پیڑ پر لٹکاکر پھانسی دیدی اور مندر مسجد کے نزاع کو از سر نو زندہ کرنے کی غرض سے متنازعہ رام جنم استھان اور بابری مسجد کے درمیان ایک دیوار کھینچ دی، دونوں کے راستے بھی الگ الگ بنادئیے اور مسجد کے شمالی دروازہ سے مسجد میں داخلہ پر پابندی عائد کردی، اور جذباتی ہندؤں کو اکسایا کہ وہ اس تقسیم کو مسترد کرکے پوری مسجد پر دعویٰ کریں ، اسی کے ساتھ مسلمانوں کو بھی برانگیختہ کیا کہ وہ مسجد کی اراضی کے اس بٹوارہ کو تسلیم نہ کریں چنانچہ یہ کشاکش پھر شروع ہوگئی جس کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ (تفصیل کے لئے ”اجودھیا کے اسلامی آثار“ کا مطالعہ کیجئے)

اس کے بعد انگریزوں نے اپنی سروے رپورٹس، انتظامیہ کے شائع کردہ گزیٹرس وغیرہ میں بابری مسجد کے بارے میں لکھنا شروع کیا کہ یہاں پہلے مندر تھا چنانچہ اس سلسلے میں ” مانگمری مارٹن اور پی کارینگی کی رپورٹس نے قیاسات کی بنیاد پر مندرکی جگہ مسجد کے مفروضے پیش کئے۔

1870ء میں فیض آباد تحصیل کا بندوبست ہونے لگا تو قائم مقام ڈپٹی کمشنر پی کارینگی P…CARENGY نے تین مندروں (بشمول رام جنم بھومی استھان) کی جگہ مسجدوں کی تعمیر کا فتنہ چھیڑا تھا وہ بھی ” مقامی طور پر سے یقین کئے جانے کی بنیاد پر” (نہ کہ کسی تاریخی شواہد یا ثبوت) کارینگی کی رپورٹ وہ پہلی رپورٹ جس میں مسجد مندر مسئلہ کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس کے بعد برطانوی حکومت کے دور میں جن جن دستاویزات میں اسی رپورٹ کو بنیاد بناکر اور نمک مرچ لگاکر پیش کیا گیا۔

1871ء میں ملک میں آثار قدیمہ کا محکمہ قائم کیا گیا۔ آثار قدیمہ کے تعلق سے اہم کام الیگزینڈرکننگھم نے انجام دیا۔ اس نے بھی مسلمانوں پر مندر مسمار کرنے کی باتیں لکھیں ۔ انگریزوں کی کوشش یہی تھی کہ ایک بڑی قضیہ کھڑا کردیا جائے وہ اس میں کامیاب رہے(بابری مسجد۔ سید صباح الدین)۔ انگریزوں نے اس قضیہ کو بڑھانے کی تدابیر کیں اور یہ تاثر قائم کیا کہ مندرکو مسمار کرکے بابری مسجد بنائی گئی تھی۔ بابری مسجد کے مقابل ایک خالی جگہ جو ” جنم استھان” کہلاتا تھا صدہا برس سے خالی پڑا تھا تاہم ہندو وہاں پوجا ضرور کرتے تھے۔ 1963ء میں تھانیدار کی اعانت سے راتوں رات ایک چبوترہ بنالیا اور اس کو بڑا کرنے کی کوشش بھی کرتے رہے چنانچہ بابری مسجد کے متولی، خطیب اور موذن محمد اصغر نے اس سلسلے میں 1983ء اور 1984میں دو درخواستیں دی تھیں جس کا ذکر سید صباح الدین نے ” بابری مسجد” نامی کتاب میں درج کیا ہے۔ دوسری جانب1985ء میں مہنت رگھو ویر داس اور دوسرے مہنتوں نے چبوترہ پر مندر تعمیر کرنے کی اجازت کیلئے عدالت میں درخواست دی تھی۔ واضح ہو کہ یہ چبوترہ مسجد سے باہر تھا اور اس عرضی میں یہ دعویٰ نہیں کیا گیا تھا کہ بابری مسجد مندر توڑ کر بنائی گئی ہے، نہ ہی بابری مسجد کو حاصل کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ فیض آباد کے سبجج پنڈت ہری کشن نے یہ درخواست خارج کردی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف مہنتوں نے جواپیل کی تھی وہ بھی ڈسٹرکٹ جج نے خارج کردی لیکن انگریز جج (ایف۔ اے چیمپئر)نے اپنے فیصلے میں بغیر کسی دلیل کے انگریز مؤرخوں کی پیروی میں لکھا کہ ” یہ بات افسوسناک ہے کہ ایک مسجد ایسی زمین پر بنائی گئی جو ہندوؤں کے نزدیک خاص تقدس رکھتی ہے لیکن کیوں کہ واقعہ 356 سال قبل پیش آیا تھا لہٰذا اب اس کا تدارک ممکن نہیں ہے۔ جملہ فریقین موجودہ حالت کو برقرار رکھیں "(بابری مسجد اے ٹیل ان ٹولڈ A tale untold صفحہ 50  محمد جمیل اختر)

بابری مسجد کی شہادت کا مسئلہ معرض التواء میں :

 مبصرین کے مطابق بابری مسجد کی شہادت میں BJP اور سنگھ پریوار کے سیاہ کرتوت عالم آشکارا ہیں ؛مگر یہ بھی ایک کھلاراز ہے کہ کانگریس سمیت کم و بیش ملک کی تقریباً جماعتیں اعلانیہ یا غیر اعلانیہ طور پر اس جرم میں ملوث ہیں ؛ کیونکہ جب یہ جرم سر زد ہوا تو اس وقت ملک میں کانگریس کی حکومت تھی اور وزیر اعظم نرسیما راؤ چاہتے تو اس قضیے کو وقوع پذیر ہونے سے بچاسکتے تھے یا کم ازکم اس گھناؤنے جرم میں ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکتا تھا اس لیے کہ 1996 تک کانگریس کی حکومت قائم رہی۔

اس کے علاوہ مئی 1996 سے اپریل 1997 تک دیوی گوڈا بھارتی وزیر اعظم رہے جو خود کو بہت بڑا سیکولر شخص قرار دیتے تھے ؛مگر تب بھی اس غیر انسانی فعل کے مرتکب تمام افراد یونہی کھلے عام پھرتے رہے۔ اپریل 1997 سے مارچ 1998تک اندر کمار گجرال بھارتی وزیر اعظم رہے۔ وہ بھی سیکولر ازم کے بہت بڑے دعوے داررہے مگر اس ضمن میں کچھ نہ کر پائے۔ تب مارچ 1998 سے مئی 2004 تک واجپائی کی زیر قیادت BJPکا دورِ حکومت شروع ہوا۔ تب تو گویا بابری مسجد کی شہادت کے مجرموں کی باچھیں کھل گئیں ۔ ایڈوانی کو وزیر داخلہ اور نائب وزیر اعظم مقرر کر کے گویا انعام سے نوازا گیا تو ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی مرکزی وزارت کے حقدار قرار پائے۔ ونے کٹیار کو نہ صرف لوک سبھا رکن بنایا گیا بلکہ وزارت بھی دی گئی۔ اوما بھارتی کو مدھیہ پردیش کی وزارت اعلیٰ ملی۔ اسی طرح سوامی چمیانند مرکز میں نائب وزیر داخلہ بنے۔ اس فہرست میں اور بھی بہت سے نام شامل تھے۔ خود واجپائی نے دسمبر 2000 میں لوک سبھا میں گوہر افشانی کی کہ ’’ بابری مسجد کو شہید کر کے رام مندر کی تعمیر تمام بھارتی عوام کی امنگوں کی عکاس ہے اور BJP اس ادھورے ایجنڈے کو بہر طور پورا کرے گی۔ ‘‘

مئی 2004 سے 10 سال تک کانگریس اور سونیا گاندھی کی حکومت رہی؛ مگر افسوس اس معاملے کے کسی ملزم کو ایک گھنٹے کی بھی سزا نہ سنائی جا سکی اور اب گذشتہ تین سال سے تو گویا آر ایس ایس کے نمائندے بھارت کے اقتدار اعلیٰ پر قابض ہے۔ ایسے میں کوئی بہتری کی امید کرے بھی تو کیسے ؟؟ بہرحال ایسے جرم کا ارتکاب اگر دنیا کے کسی مہذب معاشرے میں ہوتا تو شاید متعلقہ سوسائٹی کے سبھی بالا دست مارے ندامت کے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتے مگر غالباً د نیا کی سب سے بڑی ’’جمہوریت‘‘ کے تو رنگ ڈھنگ ہی نرالے ہے۔

حرف آخر:

اخیر میں معروف صحافی جناب معصوم مرادآبادی کی تحریر سے یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں !لکھتے ہیں کہ

’’اس بحث سے قطع نظر کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ کے سب سے سنگین تنازع پر عدالتی فیصلہ کیا ہوگا، یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ بابری مسجد کے لئے مسلمانوں کی لڑائی محض ایک قطعہ اراضی کی ملکیت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ہندوستانی مسلمانوں کے مذہبی تشخص اور دستوری حقوق سے ہے۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے مسجد اللہ کی ملکیت ہوتی ہے اوراس کی سوداگری کرنے کا اختیار کسی کو بھی نہیں ہوتا۔ بابری مسجد کی تعمیر مغل شہنشاہ بابر کے سپہ سالار میر باقی نے 1528میں ایک غیر متنازع اور صاف ستھری جگہ پر کرائی تھی۔ یہاں صدیوں مسلمانوں نے اپنی جبینوں کو سجدوں سے روشن کیا ہے۔ بابری مسجد کے باہر ایک چبوترے پر انگریزوں کے دور میں تنازع ضرور کھڑا ہوا تھا ؛لیکن مسجد پر کبھی کوئی انگلی نہیں اٹھائی گئی۔22دسمبر 1949 کی شب یہاں آخری مرتبہ عشاء کی نماز ادا کی گئی لیکن اس کے بعد ایک سازش کے تحت دیوار پھاند کر زورزبردستی مسجد کے منبر پر مورتیاں رکھ دی گئیں ۔ حالانکہ اس وقت کی مرکزی قیادت یہ چاہتی تھی کہ بابری مسجد کے منبر سے مورتیاں ہٹاکر مسجد کا تقدس بحال کردیاجائے لیکن اس وقت کے اترپردیش کے وزیراعلیٰ گووند ولبھ پنت نے مرکزی قیادت کے اس حکم کو تسلیم نہیں کیا اور اس طرح ایک ایسے تنازع کی داغ بیل ڈال دی گئی جس نے آگے چل کر ہندوستانی سیاست کا بیڑہ غرق کردیا۔ اگر یہ تنازع پیدا نہیں ہوتا تو آج ملک میں فرقہ پرستی کو نہ تو اتنا عروج حاصل ہوتا اور نہ ہی فرقہ پرست طاقتیں اقتدار میں آتیں ‘‘۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

متعلقہ

Close