ملی مسائل

بابری مسجد: مولانا علی میاں کا نقطہ نظر

اکرام الہی

بابری مسجد 1528ء سے لیکر 1949ء  تک مکمل طور سے ایک مسجد تھی جس میں نماز پنج گانہ اور جمعہ ہوتا رہا۔1949 میں اسے مقفل کر دیا گیا اس وقت سے ہی مسلمان ہمیشہ امن پسندانہ طریقہ سے عدالت و قانون کا سہارا لیکر اس کی بازیابی کیلئے کوشش کرتے رہے اور اس مسئلہ کو امن و سکون سے حل کرنےکی روش اپنائے رکھی لیکن چونکہ یہ مسئلہ بے انتہا حساس جذباتی اور پیچیدہ تھا جیسا کہ نرسمہا راؤ نے مولانا علی میاں کو لکھے گئے اپنے ایک خط میں لکھا ہے کہ:

"بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے تنازع نے مذہب تاریخ قانون اور سیاست سب کو اس طرح الجھا دیا  ہے کہ اسے حل کرنا کسی ایک فرد کے لیے انتہائی دشوار ہے”۔

اس لیے اس مسئلہ کو عدالت و قانون کے علاوہ آپسی بات چیت اور مفاہمت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی چنانچہ مسلمانوں نے ہرطرح کی مصالحت و مفاہمت کا کھلے دل سے استقبال کیا لیکن مسجد کی منتقلی اور اس کی حیثیت سے سمجھوتہ کرنے سے کلیتا احتراز کیا گیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں نے گفت و شنید اور مفاہمت و مصالحت سے فرار اختیار کیا بلکہ ہم نے ایسی ہر کوشش کا کھلے دلوں دو قدم آگے بڑھ کر استقبال کیا جس میں پیش پیش مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا علی میاں ندوی تھے اور واقعۃ انہوں نے مفکر اسلام اور مفکر قوم ہونے کا کردار بخوبی نبھایا انہوں نے مصالحت و مفاہمت کو مصالحت و مفاہمت ہی رہنے دیا سمجھوتہ اور سودا بازی نہیں بنایا۔

قبل اس کے کہ ہم ملاقات و مذاکرات کی روئداد آپ کے سامنے پیش کریں ہم چاہتے ہیں کہ بابری مسجد کے تئیں مولانا کا کیا نقطہ نظر تھا اس کو آپ کے سامنے پیش کردیں

مولانا ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں:

"جہاں بابری مسجد ہے جیسا کہ مسلمانوں کا خیال و یقین ہے) اور رام جنم بھومی (ہندوؤں کے خیال و اعلان کے مطابق) کا قضیہ ابھر کر سامنے آگیا مسلمان اس کو مسجد ہی سمجھتے ہیں جس کی تعمیر روز اول سے ہی مسجد کی حیثیت سے ہوئی ہے……. اور مسلمانوں کے پاس اپنے دعوٰی کے لیے قوی دلائل اور دستاویزی ثبوت موجود ہے۔”

4 نومبر 1989  کو مولانا نے اخبار میں ایک بیان دیا جس میں انہوں نے کہا:

” ہم نے حکومت سے استدعا کی کہ وہ جلد پریس اور ریڈیو کے ذریعہ اعلان کرے کہ تمام مذاہب کی عبادت گاہیں اور قابل احترام مقامات اسی شکل میں باقی رہیں گے جس پر 1947 کی تقسیم سے پہلے تھے ان کے بارے میں کسی دوسرے فریق کو ترمیم و تغیر یا ان پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی "

آگے چل کر مولانا لکھتے ہیں:

” میں نے راجیو گاندھی کو بابری مسجد کے قضیہ کے علم میں آنے کے بعد ہی مشورہ دیا تھا کہ وہ اس پورے محل وقوع کو جس میں مسجد اور وہ جگہ واقع ہے جس کو رام جنم بھومی کا نام دیا جاتا ہے آثار قدیمہ میں شامل کرلیں مسجد اپنی پہلی شکل میں لے آئی جائے اور یہ پورا علاقہ دوسرے آثار قدیمہ اور تاریخی مقامات کی طرح گورنمنٹ کے تحفظ میں لے لیا جائے آثار قدیمہ میں واقع مسجدوں میں خاموش طریقہ پر نماز پڑھنے کی ممانعت اب بھی نہیں ہے اس وقت بھی نہیں ہوگی اور مسجد کے احاطہ کے باہر کچھ فاصلہ پر رام چندر جی کے تعلق سے کوئی تاریخی ثقافتی یادگار قائم کی جاسکتی ہے جس میں ان کے بارے میں تاریخی معلومات فراہم کی جائیں اور تعارفی یادگاری جلسے ہوں اب بھی میرے نزدیک مسئلہ کا یہی مناسب ترین محفوظ ترین اور ممکن العمل حل ہے۔ "

اس بیان سے یہ بات بخوبی معلوم ہوجاتی ہے کہ مولانا کی اس قضیہ کے تعلق سے کیا رائے تھی اور وہ کیا چاہتے تھے 1989 میں بی جے پی کی حلیف جماعتوں کے الیکشن جیتنے کے بعد مولانا نے اخبارات کے لیے ایک مضمون لکھا تھا جس کا عنوان تھا” حکومت کی تبدیلی سے سبق اور آئندہ کے لیے صحیح طریق کار” جس میں انہوں نے فرمایا کہ "میں نے اولا ان (راجیو گاندھی) کو مشورہ دیا تھا پھر سابق پرائم منسٹر راجیو جی سے بھی کہا تھا کہ حکومت کھلے طریقے پر اس بات کا اعلان کردے کہ ہر فرقہ کی عبادت گاہیں اسی شکل پر رہیں گی جس شکل پر ملک کی تقسیم (15 اگست 1947 سے پہلے تھیں کسی فرقہ کو کسی فرقہ کی عبادت گاہ پر قبضہ کرنے یا اس کی مزعومہ پرانی شکل پر لانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ "

آگے لکھتے ہیں کہ:

” موجودہ حکومت (بھاجپا اور اس کی حلیف) اور انتظامیہ کو بھی یہی مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ ان عبادت گاہوں اور مقدس مقامات میں کسی ترمیم و تغیر یا دوسرے فرقہ کو قبضہ و استیلاء کی اجازت نہ دے "اس میں ترمیم و تغیر کا لفظ قابل غور ہے‘‘۔

اب آتے ہیں مولانا کی مصالحتی کوششوں کی جانب مارچ 1990 میں جناب یونس سلیم صاحب (سابق گورنر بہار) اور کرشن کانت جی ممبر پارلیمنٹ (سابق گورنر آندھرا پردیش) نے مولانا سے مدراس کے شنکر آچاریہ سے گفتگو کرنے کی درخواست کی اور وقتا فوقتاً تقاضا اور یاددہانی کراتے رہے مولانا نے اپنی اس وقت کی کیفیت کا یوں ذکر کیا ہے کہ "مجھے تنہا اس گفتگو میں حصہ لینے اور کسی نتیجہ یا فیصلہ پر پہونچنے میں بڑی نزاکت اور خوف محسوس ہوتا تھا مسئلہ بڑا جذباتی عوامی اور دونوں فرقوں کے وقار کا سوال بن گیا ہے ” الگ بات ہے کہ مولانا سلمان ندوی صاحب .کو اس میں کوئی نزاکت نہیں دکھی آگے لکھتے ہیں:

"پھر اس مسئلہ سے بابری الیکشن کمیٹی (جس نے مہینوں سے یہ تحریک چلا رکھی ہے اور وہ اس کی اسی پیمانہ پر نمائندہ وکیل اور اس تحریک کی علمبردار بنی ہوئی ہے) نظر انداز کرنا آسان قابل عمل اور منصفانہ نہیں ہے”

یہاں دو باتیں قابل توجہ ہے ایک تو یہ کہ مولانا کی نظر میں یہ مسئلہ تنہا حل نہیں کیا جانا چاہیے دوسرے یہ کہ مسلم تنظیموں کو اعتماد میں لائے بغیر اس مسئلہ کا کوئی حتمی حل پیش کرنا نامناسب بلکہ غیر منصفانہ عمل ہے افسوس اس وقت سمجھوتہ کی کوشش کرنے والوں نے دونوں نقطوں کو نظر انداز کر دیا ہے۔

بالآخر مسلسل تقاضا یاددہانی اور احباب کے اصرار و گذارش پر مولانا گفتگو پر آمادہ ہو گئے لیکن اس گفتگو سے ان کا کیا مقصد تھا مولانا خود بیان کرتے ہیں۔

 "لیکن اس کوشش میں افادیت و امید کا ایک پہلو بھی تھا وہ یہ کہ جنوبی ہند کے یہ دو نامور اور قابل احترام پیشوا اگر مذہبی رواداری اور وسیع القلبی سے کسی نتیجے پر پہنچ جائیں اور اپنے فرقہ کو مسجد کے باقی اور محفوظ رہنے اور گفت و شنید اور مفاہمت کے ذریعے فاصلہ سے مندر کی تعمیر پر آمادہ کرنے پر تیار ہوجائیں تو اس سے شاید اس مسئلہ کو حل کرنے میں مدد ملے اور ملک کی وہ شدید منافرت و اشتعال کی فضاء ختم ہو جو اس آزاد جمہوری و نامذہبی ملک کے لیے سخت خطرہ بنی ہوئی ہے۔ "

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مولانا کس مقصد کے لیے گفتگو کرنا چاہتے تھے اور اس سے ان کا مقصد کیا تھا اور ملک کی منافرت کو ختم کرنے کے لیے ان کے نزدیک درست راستہ کون سا تھا مگر افسوس فی الحال بات کرنے والوں کا مقصد اس کے برعکس اور فرقہ پرستی کو ختم کرنے کی تجویز بھی عجیب اور جداگانہ ہے۔

آگے مولانا لکھتے ہیں:

 "امید کی اس کرن (مصالحت کے ذریعے مسجد کی بقا اور فاصلہ سے مندر کی تعمیر) اور سفر و گفتگو کو نہ صرف ملک بلکہ ملت اسلامیہ کی حفاظت کا ایک ذریعہ سمجھ کر اخیر میں میں نے اپنے کو سفر پر آمادہ کیا لیکن اس کے ساتھ دو تین احتیاطی شرطیں لگادیں ایک یہ کہ یہ گفتگو اختتامی اور فیصلہ کن نہیں ہوگی اور میں تنہا اپنی ذمہ داری پر کسی سمجھوتہ یا حل پر دستخط نہیں کروں گا دوم یہ کہ یہ ملاقات اور گفتگو تمہیدی و ابتدائی ہوگی اس کے نتیجے پر غور کرنے اور اس پر مشورہ کرنے کی گنجائش باقی رہے گی "۔

اس گفتگو کا یہ نکتہ کہ تنہا اپنی ذمہ داری پر کسی سمجھوتہ یا حل پر دستخط نہیں کروں گا بڑی اہمیت کا حامل ہے جبکہ موجودہ وقت میں تنہا اپنی بات کو قابل عمل اور مخالف رائے واالوں کو شدت پسند اور ضدی کہنا سمجھوتہ باز لوگوں کا خاص وطیرہ ہے

بہرحال  شری وجیندر آچاریہ سے مولانا کی گفتگو ہوئی جس کا حاصل بقول مولانا "مندر کے فاصلہ پر تعمیر ہونے اور مسلمانوں کی رضا مندی سے کام ہونے پر ان کو اختلاف نہیں تھا”

آج کے سمجھوتہ باز لوگوں سے بس اتنا کہہ سکتے ہیں کہ

کھویا نہ جا صنم کدہ کائنات میں

محفل گداز گرمی محفل نہ کر قبول

اگرچہ مذکورہ مصالحت کا کوئی ایکشن نہیں لیا گیا مگر مصالحت کی حد تک مولانا نے مقابل کو آمادہ ضرور کرلیا ع

تھے تو آباء وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو۔ مولانا لکھتے ہیں کہ سفر حجاز (مارچ کی مصالحت کے بعد کا سفر) سے پہلے ہی میرے اصرار پر یہ بات طے ہوگئی تھی کہ مسجد خالص ہندو مذہبی پیشواؤں کی تولیت میں نہ دی جائے "

الگ بات ہے کہ آج کے سمجھوتہ باز لوگ مسجد کو ان کے قدموں میں نچھاور کردینا چاہتے ہیں :

تجھ کو اسلاف سے کچھ نسبت روحانی ہے

بہر حال کچھ دنوں بعد دوبارہ اس وقت کے وزیر اعظم چندر شیکھر  کی کوششوں سے ایک بار پھر مصالحت کی کوششیں شروع ہوئی جس میں مولانا کو مسلمانوں کا نمائندہ منظور کیا گیا لیکن کسی بھی طرح کی گفتگو اور مصالحت سے پہلے مولانا نے علماء سے رائے مشورہ اور تبادلہ خیال کرنا ضروری سمجھا مولانا فرماتے ہیں "چونکہ میں نے باصرار یہ بات کہی تھی (جب ان کا نام منظور ہوا تھا) میں تنہا اپنی ذمہ داری پر کسی فیصلہ کو قبول کرنے اور کسی مفاہمت پر دستخط کرنے کیلئے تیار نہیں ہوں پہلے یہ بات مستند علماء کے سامنے رکھی جائے گی وہ اس کا شرعی جائزہ لیں اور اس سے مطمئن ہوں پھر اس کا اعلان کیا جائے گا "چنانچہ یونس سلیم صاحب سابق گورنر بہار نے ان ممتاز علماء کو تشریف لانے اور گفتگو کرنے کی دعوت دی جن میں سے اکثر کے نام میرے ہی تجویز کیے ہوئے تھے۔”

جن اس وقت کے ہر مسلک کے بڑے عالم مثلاً امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی قاضی مجاہد الاسلام مولانا کلب صادق حسن نظامی ثانی مولانا محمد سالم قاسمی وغیرہم اکابر ملت شریک تھے۔

علماء کے اس اجتماع میں جو کہ مولانا کی ایماء پر بلایا گیا تھا انہوں نے فرمایا کہ” ہمارے علماء کرام کو اس کا ایسا حل سوچنا چاہیے جو شرعا قابل قبول اور انتظاما قابل عمل ہو” پتہ پتہ چلا کہ مولانا ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ اس کا حل شرعاً قابل قبول حل ہو اور جو خالص شرعی ہو نہ کہ سیاسی۔

آگے لکھتے ہیں:

 "میں نے رائے دی کہ اس کے لیے ایک کمیٹی بنادی جائے جو ہندو مذہبی پیشواؤں سے گفت و شنید سے پہلے ایک تجویز اور قابل عمل فارمولہ طے کرلے چنانچہ پانچ حضرات کی ایک کمیٹی بنادی گئی۔”

دیکھیے کسی بھی طرح کی گفت و شنید سے پہلے مولانا کس طرح ملت کی ایک متفقہ رائے تک پہونچنے کی کوشش کرتے تھے اور اپنی فہم سے زیادہ علماء کے مجمع پر بھروسہ کرتے تھے مگر افسوس آج….

نیز مولانا علی میاں  کس طرح ایک ایک قدم پوری احتیاط اور روحانی بصیرت اور قائدانہ ذمہ داری اور مفکرانہ سوجھ بوجھ سے اٹھاتے تھے مگر افسوس آج کے سمجھوتہ باز لوگوں میں سوائے جلد بازی کے باقی تمام چیزوں کا فقدان ہے۔

19 نومبر کو شہر قاضی کانپور  مولانا منظور احمد صاحب مظاہری نے مولانا سے ملاقات کرکے قضیہ بابری مسجد کو حل کرنے کے تعلق سے گفتگو فرمائی اس موقع پر مولانا نے منظور احمد صاحب سے جو کچھ کہا وہ درج ذیل ہے:

"میں نے مولانا کو مشورہ دیا کہ پہلے آپ بورڈ کے ممتاز ارکان سے جو ممتاز علماء کی حیثیت رکھتے ہیں مسئلہ کا ایک حل اور فارمولہ مرتب کرالیں جو شرعاقابل قبول اور انتظاما قابل عمل ہو اور کسی کے لیے اس پر شرعی اور دینی نقطہ نظر سے اعتراض کی گنجائش نہ ہو پھر اگر مسلمانوں کے مختلف حلقوں کی طرف سے اس کا مطالبہ کیا گیا اور اس پر رضامندی ظاہر کی گئی تو یہ قدم اٹھایا جا سکتا ہے اس سلسلے میں آپ بورڈ کے جنرل سیکرٹری مولانا منت اللہ صاحب رحمانی امیر شریعت بہار اڑیسہ سے پہلے رابطہ کریں انہوں نے بھی اگر اس کو منظور کر لیا تو مجھے کوئی اعتراض یا انکار نہیں ہوگا۔ "

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مولانا کسی بھی طرح کی مفاہمت سے پہلے علماء و اکابر کا اطمینان اور ان کی رضامندی معلوم کرنا ضروری سمجھتے تھے جبکہ آج العجلۃ من الشیطان کادل سوز نظارہ آنکھوں کے سامنے ہے۔

3 دسمبر 1990 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بابری مسجد پر غور و خوض کے لیے عاملہ کا ایک اجتماع بلایا تھا جس میں ظاہر ہے کہ اس وقت کے اکابر ضرور شریک رہے ہوں گے اس موقع پربورڈ نے جو تجویز پیش کی وہ مولانا کے الفاظ میں درج ہے

"اس  تجویز نے مسجد کے شرعی موقف کی وضاحت کی کہ نہ اسے تبدیل کیا جا سکتا ہے اور نہ اس کو کسی مصالحت کی بنا پر کسی فرد یا جماعت یا حکومت کے حوالہ کیا جا سکتا ہے پھر اس کا اظہار کیا گیا کہ بابری مسجد مسجد ہی ہے وہ کسی غصب کی ہوئی زمین پر یا کسی مندر کو توڑ کر نہیں بنائی گئی ہے بنابریں یہ مسجد مسلمانوں کو اسی حالت میں جس میں کہ 22 دسمبر 1949 تک تھی واپس کی جانی چاہیے۔ "

مولانا اس اجلاس میں کسی عارض کے سبب شریک نہیں ہو سکے جس کو بنیاد بنا کر کچھ لوگوں نے یہ پھیلا دیا کہ چونکہ بورڈ کی تجویز سے متفق نہیں ہیں اس لیے مخالفتا شرکت سے احتراز کیا مولانا نے اس بات کی سختی سے تردید کی اور ایک اخباری بیان جاری کیا کہ

"میں اگرچہ بذات خود شریک نہیں ہو سکا لیکن میں اس کل ہند تنظیم کا صدر ہوں اس کی منظور کی ہوئی تجویز کے بعد اگر کوئی بات منسوب کی جاتی ہے اور وہ شرعا قابل قبول نہیں اور ملک کے موجودہ حالات اور آئندہ خطرات کو دیکھتے ہوئے مسئلہ کا کوئی معقول حل بھی نہیں ہے تو میرے لیے ضروری ہے کہ میں اس سے اپنی بے تعلقی کا اظہار کردوں…………. میں نے شخصی طور پر حکومت کے سامنے کوئی نیا فارمولہ نہیں پیش کیا ہے۔ "

غور کیجیے مولانا نے شرعا ناقابل قبول چیز کی صرف نسبت ہی سے کیسے اپنے آپ کو دور رکھا جب کہ اب لوگ اس کی تلقین و تائید کررہے ہیں چنانچہ مولانا نے نہ صرف اس بات کی تردید کی بلکہ اس کے خلاف کسی بھی تجویز کو ملک کے موجودہ حالات اور آئندہ خطرات کو دیکھتے ہوئے مسئلہ کا معقول حل بھی نہیں سمجھتے تھے:

غلامی کیا ہے ذوق حسن و زیبائی سے محرومی

جسے زیبا کہیں آزاد بندے ہے وہی زیبا

بھروسہ کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر

کہ دنیا میں فقط مردان حر کی آنکھ ہے بینا

(علامہ اقبال)

1991 کے تعلق سے مولانا لکھتے ہیں:

"راقم سطور اور اس کے رفقاء آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممتاز ارکان نے اخباری بیانات میں خبر رساں ایجنسیوں اور اخباری نمائندوں کے انٹرویو میں بالکل واضح طریقہ پر اعلان کردیا تھا کہ” مسجد نہ منہدم کی جاسکتی ہے نہ منتقل کی جاسکتی ہے وہ ہمیشہ مسجد ہی رہے گی اور اپنی جگہ پر رہے گی”۔

دہلی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اس اجلاس سے لیکر جو گذشتہ سال اس موضوع پر بحث کرنے اور مسلمانوں کا موقف ظاہر کرنے کے لیے منعقد کیا گیا تھا کسی ایک دن اور کسی ایک ساعت میں بھی اس کے خلاف پرسنل لاء بورڈ کے کسی ذمہ دار آدمی نے ایک لفظ نہیں کہا”

اندازہ کرسکتے ہیں کہ مولانا بورڈ کے موقف کے تئیں کتنےثابت قدم اور بے لچک تھے اور کس اعتماد و یقین کے ساتھ اس کی حمایت و تائید کر رہے تھے مولانا اسی موقف کا اعلان و اظہار حمایت و تائید موقع بموقع اخبار و رسائل اور جلسوں میں کرتے رہے اور اس موقف کے تئیں کسی بھی طرح کی مداہنت کا اظہار نہیں کیا۔

جب اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے اس مسئلہ پر گفتگو کرنے کے لیے مولانا کو دعوت دی تو اس وقت مولانا کے کیا احساس تھے اور انہوں نے کس حکمت و احتیاط کا راستہ اختیار کیا یہ غور کرنے کے قابل ہے مولانا فرماتے ہیں۔

"میں نے آنے کی (نرسمہا راؤ کے گھر) ہامی بھرلی اور ان کے سکریٹریٹ کے عملہ کے ایک صاحب گاڑی لے کر آگئے میں نے یہ طے کرلیا (اور دل میں گویا قسم کھالی اور عہد کرلیا) کہ میری زبان سے کوئی لفظ ایسا نہیں نکلے گا جس کا وہ سہارا لے سکیں اور اس کو دلیل بنائیں اور مسلمانوں کے رائے عامہ اور بورڈ کے اس فیصلے سے کہ مسجد کسی حال میں منتقل نہیں ہوسکتی ان کو گریز کا موقع یا دلیل مل جائے کہ صدر بورڈ نے ایک نجی ملاقات میں یہ بات کہی تھی  جس سے مسئلہ کا دوسرا حل نکالا جاسکتا ہے راقم اللہ کا نام لیکر اور لکھنؤ کے سفر کے لیے تیار ہوکر ان کی قیام گاہ پر پہونچا اور نہایت محتاط اور مختصر گفتگو کی جس سے غالباً ان کو مایوسی ہوئی اور مسئلہ جوں کا توں اپنی جگہ رہا ان کی قیام گاہ سے سیدھا اسٹیشن گیا اور لکھنؤ واپس ہوگیا۔ "

مولانا اس نظریہ کے تئیں کس قدر ثابت قدم تھے کہ قسم کھارہے ہیں کہ اس کے خلاف کچھ بول کر دوسرے کو موقع نہیں دیا جائے گا نیز مولانا نے اس عبارت میں رائے عامہ کا لفظ استعمال کیا ہے غور کرسکتے ہیں کہ مولانا عام مسلمانوں کی رائے عامہ کو اپنی فہم پر کس قدر ترجیح دیتے تھے اس کی حمایت و وکالت کرتے تھے نہ کہ اپنی رائے کے ذریعے مسلمانوں کی رائے عامہ کی تغلیط کرکے کسی خلفشار کو جنم دینے کا باعث بنا جائے نیز آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مایوسی کسے ہوئی سمجھوتے پر کون مطمئن نہیں ہوا اس لیے یہ بھرم پھیلانا کہ علی میاں صاحب کا نظریہ وہی تھا جو میرا ہے اور مسلمانوں کے شدت پسند لوگوں نے اس کو نافذ نہیں ہونے دیا خدا جانے یہ جھوٹ ہے یا غلط فہمی یا ناواقفیت یا کچھ اور۔

بہر حال مقصد مولانا علی میاں کے نقطہ نظر کو آپ کے سامنے پیش کردینا تھا باقی آپ خود غور کرسکتے ہیں کہ مولانا اور ان کے پروردہ کا نظریہ کس قدر متضاد ہے پھر سلمان صاحب یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ دونوں کا نظریہ یکساں ہے خدا جانے وہ ایسا کیوں بول رہے ہیں کیا انہیں معلوم نہیں ہے یا انہیں غلط فہمی ہوئی ہے یا………….

15 اگست 1992 کو مولانا ہی کی قیادت میں بورڈ کا ایک وفد  بابری مسجد قضیہ کے تعلق سے اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا راؤ سے ملاقات کرنے گیا تھا اس موقع پر مولانا نے وزیراعظم سے کہا کہ

"توقع کی جاتی ہے کہ آپ اس وسیع القلبی اور وسیع النظری سے اس مسئلہ کا حل تلاش کریں گے………..(نیز یہ کہ) مسجد کسی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کی جاسکتی ہندوستان دینی مسائل میں قدیم زمانے سے اپنا ایک مقام رکھتا ہے جس کا اعتراف اسلامی عرب ملکوں کو بھی ہے اس لیے اس کے علماء کی رائے قابل احترام اور ہر طرح سے قابل اعتبار ہے ان کا اس پر اتفاق ہے کہ مسجد اپنی جگہ سے ہٹائی نہیں جا سکتی اور اس کی جگہ پر کوئی دوسری عمارت نہیں بن سکتی۔”

مولانا علی میاں صاحب مسجد کی جگہ کسی بھی طرح کی عمارت کی تعمیر کے قائل نہیں تھے اور آج اسی جگہ مندر بنانے کی جدوجہد کرکے یہ دعوٰی کیا جا رہا ہے کہ علی میاں صاحب کا بھی وہی نظریہ تھا  ایں چہ بوالعجبیست۔

اب تک کی روئداد اور بیانات بابری مسجد کی شہادت سے قبل کے ہیں مسجد کی شہادت کے بعد آپ کا موقف بورڈ ہی کا موقف رہا اور اسی کی حمایت و تائید کرتے رہے اور اسی موقف کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔

چنانچہ 6 جنوری 1993 کو قیصر باغ لکھنؤ کی بارہ دری میں آپ نے ایک تقریر کی جس کا عنوان تھا "ملک و معاشرہ کا سب سے خطرناک مرض ظلم و سفاکی” جس میں انہوں نے فرمایا کہ

"آج اگر آپ نے مسلمانوں کے عزیز اور مقدس مقامات کو اپنی تحویل میں لے لیا تو یاد رکھیے پھر یہ اختلاف آپ کے اندر چلے گا یہ بیک ورڈز کلاسز ہیں جینی ہیں بدھسٹ ہیں کھڑے ہو جائیں گے اور کہیں گے کہ ہماری عبادت گاہیں واپس کرو آٹھویں صدی عیسوی میں ساؤتھ میں شنکر آچاریہ پیدا ہوئے انہوں نے تمام بودھ عبادتوں کو ہندو مندروں میں تبدیل کردیا تھا میں نے وہاں جا کر دیکھا ہے جگہ جگہ میں نے دیکھا ہے کہ جینیوں کے ہزاروں مندر بدل گئے بدھوں کے سیکڑوں ہزاروں مندر ہندوؤں کی تحویل میں چلے گئے۔

غور کیجیے کہ کس طرح مولانا نے آزادی سے پہلے جس عبادت گاہ کی جو حالت تھی اس کو اسی پر برقرار رکھنے کی وکالت کی اور اس میں کسی بھی طرح کی ترمیم و تغیر کی تردید اور مخالفت کی۔

جولائی 1969 کو بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں انہوں نے حکومت سے اس مسئلے کو سپریم کورٹ میں حل کرانے کی درخواست کی اور اپنے موقف پر قائم رہے اور تا حیات وہ بورڈ کے موقف پر جمے رہے اور اسی کا اعلان اور اسی کی تائید و حمایت کرتے رہے 1999 میں حضرت کی وفات ہو گئ اور وفات تک کوئی نیا نظریہ انہوں نے پیش نہیں کیا۔

یہ بات واضح ہو گئی کہ مسلمانوں نے کبھی مصالحت و مفاہمت سے گریز نہیں کیا ہم نے مصالحت و مفاہمت کی ہر کوشش کا استقبال کیا جب بلایا گیا اور جہاں بلایا گیا ہم حاضر ہوئے بلکہ دوبار تو ایسا بھی ہوا کہ بورڈ کے ارکان گفت و شنید کے لیے پہونچے مگر فریق ثانی کا ایک فرد بھی نہ آسکا۔

آئندہ مصالحت کی کسی بھی کوشش کے لیے ضروری ہے کہ  مولانا کی مصالحتی کوششوں کو سامنے رکھا جائے گفت و شنید فریق ثانی کے اسی شخص سے کی جائے جو فریق ثانی کے نزدیک معتبر اور مسلم ہو یا کسی اتھارٹی نے اسے گفتگو کے لیے نامزد کیا ہو کہ فریق ثانی کو اس کی نمائندگی پر کوئی اعتراض نہ ہو۔

نیز مسلمانوں کے نمائندہ کو کوئی رائے پیش کرنے سے پہلے یہ صاف کر لینا ضروری ہے کہ یہ رائے شرعا قابل قبول ہے یا نہیں اور ملت کے کسی مستند شخص کو اس پر کوئی اعتراض تو نہیں ہے اس کے بعد کہیں جا کے مسلم نمائندہ کو یہ حق پہونچتا ہے کہ وہ کوئی رائے پیش کرسکے مولانا کی مصالحتی کوششوں سے ہمیں انہیں باتوں کا درس ملتا ہے کہ اپنوں کو اطمینان دلانے اور اعتماد میں لائے بغیر کوئی رائے پیش کرنا نامناسب اور غیر حکیمانہ اقدام ہے۔

آج اگر ہم مولانا کے طریقہ کار اور حال کے عجلت پسند سمجھوتہ باز لوگوں کے رویہ کا موازنہ کریں تو زمین آسمان کا فرق معلوم ہوتا ہے اتنے حساس اور اجتماعی فیصلہ پر جس پر عدالتیں تک بے انتہا محتاط ہیں بغیر کسی کے رائے مشورہ کے ہر کس و ناکس سے سمجھوتہ کرلینا عام سا مرض ہے سب سے پہلے وحید الدین خان پھر وسیم رضوی اور اب مولانا سلمان ندوی صاحب  نے اسی انتشار انگیز روش کو اختیار کیا ہے۔

نیز یہ کہ ایک ایسے آدمی سے سمجھوتہ کیا ہے جسے فریق ثانی اپنا نمائندہ ہی نہیں سمجھتا ہے چنانچہ رام ولاس ویدانتی کا بیان ہے کہ شری شری روی شنکر کو اس مسئلہ میں ثالثی کا کوئی حق نہیں ہے۔

باقی روئداد کی سطریں اپنی جگہ خود تبصرہ ہیں کہ کیسے انہوں نے اپنے اکابرین کی روش کو ترک کردیا۔

اگر جناب کو نظریہ سے اختلاف تھا تو اپنی رائے کا اعلان کر نے سے پہلے کم از کم مولانا کے نظریہ نہیں تو طریقہ اور فکر کی پیروی کرلیتے یہ حساس موضوع جس احتیاط اور سوجھ بوجھ کا متقاضی تھا اس کی رعایت کرلیتے۔

میں آزردہ ہوں کہ جناب کا نام وسیم رضوی اور وحید الدین خان کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے۔

میں دل برداشتہ اور قلم لرزیدہ لکھ رہا ہوں کہ آپ نے مولانا علی میاں کو چھوڑ کر اپنا مرشد و رہنما وحید الدین خان کو مان لیا ہے۔

دل پر جبر کرکے بادل نخواستہ اقبال کا شعر لکھ رہا ہوں کہ

تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی

دل بجھا سا ہے کہ مولانا کے پروردہ نے مولانا سے کتنے الگ نظریہ کا اعلان کیا ہے۔

امید ہے کہ جو لوگ مولانا علی میاں کی علمی فکری اور روحانی بصیرت پر اعتماد رکھتے ہیں وہ مولانا کے نظریہ کی تحقیق و تثبیت اور تائید کریں گے۔اور مولانا  سلمان صاحب  کے موقف سے اپنی برات کا اظہار کریں گے۔

تحریر کا مواد کاروان زندگی جلد  رابع خامس اور سادس سے  ماخوذ ہے مولانا کی تمام تر جدوجہد اور فریق ثانی کی شدت پسندی وغیرہ سب کچھ مولانا نے صاف صاف کاروان زندگی میں تحریر کردیا ہے احباب سے گزارش ہے کہ اگر وہ اس تعلق سے حقیقت حال جاننے کی خواہش رکھتے ہیں تو اس کتاب کا ضرور مطالعہ کریں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

2 تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close