بدلتے حالات میں قرآن سے راہنمائی حاصل کیجئے!

محمد آصف اقبال

 انسان کا یہ فطری رویہ ہے کہ جب وہ کسی پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے تو مختلف قسم کی سعی و جہد میں ناکامی کے بعدتھک ہار کر خدا کے طرف پلٹتا ہے۔اس سے مدد و نصرت کا خواہاں ہوتا ہے ۔لیکن عموماً وہ یہ بھول جاتا ہے کہ خدا کی مدد اور نصرت اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جبکہ کہ پریشانی میں مبتلا انسان خدا کے جانب سے فراہم کردہ احکامات پر عمل درآمد کرے۔برخلاف اس کے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ پریشانی سے نجات کے لیے اپنی پسند کے لحاظ سے طریقہ کار طے کرے ،خدا سے کھلے یا چھپے بغاوت کا رویہ اختیار کرے ،اس کی ہدایات کو نظر انداز کرے،اور وہ کامیاب ہو جائے۔

انسانی تاریخ میں ایسا نہ کسی دور میں ہوا ہے اور نہ آئند ہ ہوگا۔دوسری جانب اگر یہ معاملہ فرد واحد کی بجائے کسی قوم و ملت کا ہو تو پھر اس قوم و ملت کو بھی اجتماعی سطح پر وہی رویہ اختیار کرنا ہوگا جو کسی فرد واحد پر لازم آتا ہے۔لیکن دشواری اُس وقت ہوتی ہے جبکہ خدائی ہدایات کو بھی اپنی سمجھ،پسند، اورترجیحات کے ساتھ توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے۔یہ مرحلہ بڑا دشوار گزار اور کنفیوژن سے بھرا ہوتا ہے اور عموماً اسی میں اچھے خاصے سوچنے سمجھنے والے دل و دماغ اور صلاحیتیں نامناسب طریقے اختیار کر بیٹھتے ہیں ۔یہاں یہ کوشش کی گئی ہے کہ بدلتے حالات میں قرآن سے راہنمائی حاصل کی جائے؟اور ممکن ہو تو اُس کی روشنی میں اپنے شب و روز کی سرگرمیوں میں تبدیلی لائی جائے۔اس موقع پر یہ وضاحت بھی کرتے چلیں کہ جو باتیں ہم نے اخذ کی ہیں وہ حتمی نہیں ہیں ۔ آپ بھی غور و فکر اور اصلاح کا عمل جاری رکھیں اور ہماری بھی راہنمائی فرمائیں ۔

 قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور اس کے مقاصد بیان کیے ہیں ۔ساتھ ہی ابلیس اور آدم کا قصہ بھی تفصیل سے بیان کیا ہے۔اللہ تعالیٰ اور ابلیس کے درمیان ہوئی گفتگو کا تذکرہ بھی موجود ہے ۔ ابلیس کی جانب سے اس بات کا خدشہ کہ انسان اللہ کی نافرمانی کرے گا اور زمین میں فساد برپا کرے گا،یہ بات بھی خصوصیت کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ساتھ ہی اللہ کی جانب سے اطمینان کا اظہارموجود ہے ،اور ان لوگوں کو بشارت دی گئی ہے جو ابلیس کے خدشات کو ضائع کرنے والے اور اللہ کے اطمینان پر پورے اترنے والے ہیں ۔ان باتوں کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ سے لے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک ہدایات فراہم کرنے کے لیے جونبیوں کا سلسلہ جاری رکھا،اس کو بھی بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔نبیوں کی آمد اور مقاصد رسول ،ان کی ذمہ داریاں ،ان کے ذریعہ انجام دیے جانے والے اہم ترین کام،یہ سب درج ہے۔اور آخر میں اطمینان دلایا گیا ہے کہ یہ قرآن اور اس کی ہدایات ،قیامت تک اپنی صحیح شکل میں موجود رہیں گی،اس کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ خود اپنے ذمہ لے رہا ہے۔لہذا انسانوں کو اس سلسلے میں کسی تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔قیامت تک قرآن اپنی صحیح شکل میں موجود رہے گا،اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ ایک گروہ ہر زمانے میں ایسا ضرور موجود رہے گا جو قرآن پر عمل کرنے والا ہوگا اورلوگوں کے درمیان بشیر و نذیر کی ذمہ داری انجام دینے والا ہوگا۔لہذا ہر مسلمان کے لیے زماں و مکاں کی قیود سے بالاتر لازم ہے کہ وہ اُس گروہ سے اپنے تعلق کو استوار رکھے۔یعنی وہ اس گروہ میں شامل ہو جائے جو الابالمعروف و نہی عن المنکر کی ذمہ داری انجام دینے والا ہو۔سوال کرنے والا سوال کرسکتا ہے کہ اس گروہ کی پہچان کیا ہے؟

اس کی پہنچا ن بہت آسان ہے۔ یہ وہ گروہ ہے جس میں شورائیت قائم ہے اور جہاں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں شورائیت قائم نہیں ، وہ گروہ اِس زمرے میں نہیں آتا۔یا جہاں جس درجہ میں شورائی نظام قائم ہے اُسی درجہ میں اس کی حیثیت تسلیم کی جانی چاہیے۔اور کوشش کی جانی چاہیے کہ بالمقابل دیگر جہاں سب سے زیادہ شورائی نظام قائم ہواور اس پر عمل درآمد کیا جاتا ہو،اس سے منسلک ہوا جائے۔اب سوال یہ ہے کہ شورائیت کیا ہے؟تو جہاں اہل علم اور اہل تقویٰ سے ہر معاملہ میں مشورا کیا جائے یہی شوارائیت اور یہی شورائی نظام ہے۔برخلاف اس کے جمہوری نظام جہاں بظاہر انسانون کی آراء کو شامل کیا جاتا ہے لیکن پس پردہ فاسد اور مفسد لوگ بڑے معاملات میں مشورے اور فیصلے کرتے ہیں ،وہ نہ شورائیت ہے اور نہ ہی اسے شورائی نظام تسلیم کیا جا سکتا ہے۔موجود ہ حالات میں قرآن و حدیث کی روشنی میں مسلمانوں کی سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اُس گروہ سے اپنا تعلق استوار کر یں جو الابالمعروف و نہی عن المنکرکا فریضہ انجام دینے والا ہے۔برخلاف اس کے مسائل کے حل میں وہ جو اقدام بھی کریں گے ،یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اس میں حتمی کامیابی اُن کے حصہ میں کسی قیمت نہیں آئے گی۔مجھے اور آپ کو بھی اس نازک موقع پر یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہماری وابستگی کن لوگوں کے ساتھ ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو بے شمار صلاحیتیں ہمیں دی ہیں ان کو ہم کہاں ،کن لوگوں کے درمیان اور کن مقاصد کے حصول میں استعمال کرر ہے ہیں ؟

 واقعہ یہ ہے کہ ہماری وابستگی عموماً ان لوگوں کے ساتھ ہے جو فساد برپا کرنے والے ہیں اور ہماری صلاحیتیں بھی وہیں صرف ہورہی ہیں ۔جبکہ وقت اور صلاحیتیں اللہ کی امانت ہے،اسے صحیح جگہ اور صحیح مقصد کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ایسا کیوں ہو رہا ہے اور ہم ان حالات میں کیوں مبتلا ہیں ؟اس کا جواب بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم دیاہے۔سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے، جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں ، اور اپنی نیک نیتی پر وہ بار بار خدا کو گواہ ٹھیراتا ہے۱، مگر حقیقت میں وہ بد ترین دشمن ِ حق ہوتا ہے۔جب اسے اقتدار حاصل ہو جاتا ہے، تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دھوپ اس لیے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے، کھیتوں کو غارت کرے اور نسل ِ انسانی کو تباہ کرے۔۔۔۔حالانکہ اللہ جسے وہ گواہ بنا رہاتھافساد کو ہر گز پسند نہیں کرتا اور جب اس سے کہا جا تا ہے کہ اللہ سے ڈر ، تو اپنے وقار کا خیال اس کو گناہ پر جما دیتا ہے۔ ایسے شخص کے لیے تو بس جہنم ہی کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔

دوسری طرف انسانوں ہی میں کوئی ایسا بھی ہے، جو رضا ئے الٰہی کی طلب میں اپنی جان کھپا دیتا ہے او ر ایسے بندوں پر اللہ بہت مہر بان ہے۔ اے ایمان لانے والوں ! تم پورے کے پورے اسلام میں آجاؤاور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ جو صاف صاف ہدایات تمہارے پاس آچکی ہیں ، اگر ان کو پا لینے کے بعد پھر تم نے لغزش کھائی، تو خوب جان رکھو کہ اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے (البقرہ:204-209) ۔واقعہ یہ ہے کہ آج اور ہر زمانے میں یہ بدترین دشمن حق مسلمانوں کے اندرون و بیرون خانہ دونوں جگہ موجود رہے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ خود شاہد ہے ۔سوال یہ ہے کہ اُنہیں کیسے پہنچانا جائے؟اس کی سادہ سی پہچان یہ ہے کہ یہ جھوٹ،بے ایمانی اوربد عہدی پر کاربند ہوتے ہیں ،خدا کی راہ میں سستی اور کاہلی کا اظہارکرتے ہیں اور صبرواستقامت اور نماز ان کی زندگیوں کے شب و روز کے اعمال کا حصہ نہیں ہوتے۔

دوسری جانب وہ لوگ جو اللہ سے ڈرنے والے اور اُسی کو ہر پریشانی میں پکارنے والے ہیں ان سے کہا گیا ہے کہ کسی استثنا کے بغیر اپنی پوری زندگی کو اسلام کے تحت لے آ ؤ۔ تمہارے خیالات ، تمہارے نظریات ، تمہارے علوم، تمہارے طور طریقے ، تمہارے معاملات ، اور تمہاری سعی و عمل کے راستے سب کے سب بالکل تابعِ اسلام ہوں ۔ ایسا نہ ہو کہ تم اپنی زندگی کو مختلف حصّوں میں تقسیم کر کے بعض حصّوں میں اِسلام کی پَیروی کرو اور بعض حصّوں کو اس کی پَیروی سے مستثنیٰ کرلو۔اور آخر میں کہا گیا کہ جان رکھو اللہ زبردست طاقت رکھتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ اپنے مجرموں کو سزا کس طرح دے۔۔۔۔(جاری)



⋆ آصف اقبال

آصف اقبال
آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے