ملی مسائل

بغیر جرم کے سزا کا قانون؟

اگر انہیں واقعی عورتوں سے ہم دردی ہوتی تو وہ ہندو عورتوں میں طلاق کے بڑھتے ہوئے واقعات کو بھی روکنے کے لیے قانون سازی کرتے۔

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

مانسون سیشن کے آخری دن آج راجیہ سبھا میں طلاق ثلاثہ بل پیش ہوا ، لیکن راجیہ سبھا چیئرمین وینکیا نائڈو نے ایوان میں بل پر ممبران کی نااتفاقی کو وجہ بتاتے ہوئے بل کو اگلے سیشن تک کے لیے موخر کر دیا۔

یہ بل لوک سبھا سے منظور ہوچکا ہے ، البتہ راجیہ سبھا میں زیرِ التوا ہے۔ اب مرکزی کابینہ نے اس میں تین ترمیمیں منظور کی ہیں:

(1) ایف آئی آر درج کرانے کا حق متاثرہ بیوی یا اس سے خون کا رشتہ رکھنے والے کسی فرد کو ہوگا۔

(2) میاں بیوی مجسٹریٹ کی اجازت سے مفاہمت کرسکیں گے۔

(3) مجسٹریٹ ضمانت دے سکے گا۔

اس بل کی دل چسپ بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو 3 طلاق دے دے تو اس کا کوئی اعتبار نہ ہوگا ، بیوی کو ایک بھی طلاق نہیں پڑے گی۔ لیکن اس صورت میں شوہر کے لیے قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ گویا آدمی سے کوئی جرم سرزد نہیں ہوا ، لیکن اسے سزا ضرور دی جائے گی۔

مرکزی وزیر قانون نے پریس کو بریفنگ دیتے ہوئے اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔ اس کے مطابق 18۔2017 میں طلاق ثلاثہ کے 389 معاملے سامنے آئے ، جن میں 229 معاملے طلاق ثلاثہ کے بارے میں سپریم کورٹ کے 22 اگست 2017 کے فیصلے سے پہلے کے ہیں ، جب کہ 160 معاملے اس کے بعد کے ہیں۔ یہ اعداد و شمار موصوف نے یہ دکھانے کے لیے پیش کیے ہیں کہ طلاق کے واقعات روکنے کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے ، حالاں کہ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ جس طرح سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے کے بعد طلاق کے واقعات نہیں رکے ہیں ، اسی طرح قانون سازی کے بعد بھی ان کے رکنے کے امکانات نہیں ہیں۔

کیسا عجیب قانون بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کوئی شخص ایک طلاق دے تو وہ نافذ بھی ہوجائے اور طلاق دینے والے کے لیے کوئی سزا نہ ہو ، لیکن وہ 3طلاق دے تو وہ نافذ بھی نہ ہو ، لیکن پھر بھی اس کو سزا دے دی جائے۔

اس قانون کے ذریعے مسلم عورتوں کو راحت دینے کی بات کہی جارہی ہے، حالاں کہ اندیشہ ہے کہ اس سے ان کی زندگی اجیرن بن کر رہ جائے گی۔ کوئی مسلمان اپنی بیوی کو 3 طلاق دے دے تو مسلمانوں کے تمام گروہوں کا اتفاق ہے کہ طلاق واقع ہوجائے گی۔ ان میں اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ ایک طلاق واقع ہوگی یا تین؟ اب اگر کسی شخص نے 3 طلاق دے دی تو ملکی قانون کے مطابق ایک بھی واقع نہ ہوگی ، جب کہ اسلامی شریعت کے مطابق طلاق واقع ہوجائے گی۔ اس صورت میں مسلمان مرد اس عورت سے بیوی کی حیثیت سے تعلق نہیں رکھے گا ، جب کہ قانون کی نظر میں وہ اس کی بیوی ہوگی۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس مخمصہ میں مرد اور عورت دونوں کی زندگیاں کس قدر کوفت اور اذیت کا شکار ہوجائیں گی۔

یہ بِل پیش کرنے والے خود کو عورتوں کے ہم درد کی حیثیت سے پیش کر رہے ہیں۔ حالاں کہ :

۔ اگر انہیں واقعی عورتوں سے ہم دردی ہوتی تو وہ ملک میں بڑھتے ہوئے ریپ کے واقعات کے انسداد کی تدابیر اختیار کرتے۔

۔ اگر انہیں واقعی عورتوں سے ہم دردی ہوتی تو وہ ہندو عورتوں میں طلاق کے بڑھتے ہوئے واقعات کو بھی روکنے کے لیے قانون سازی کرتے۔

۔ اگر انھیں واقعی عورتوں سے ہم دردی ہوتی تو وہ ان ہندو عورتوں کی دہائی سنتے جو خوش گوار ازدواجی زندگی سے محروم ہیں اور جنھیں طلاق بھی نہیں ملی ہے کہ وہ اپنا دوسرا گھر بسا سکیں ، بلکہ صرف زوجین کے درمیان علیحدگی (Separation) ہوگئی ہے۔ ہندوؤں میں یوں تو طلاق کا بھی تناسب مسلمانوں سے زیادہ ہے ، لیکن علیحدگی کے معاملات کا تو کوئی شمار ہی نہیں ہے۔

عورتوں سے اربابِ اقتدار کی ہم دردی محض دکھاوا ہے۔ وہ تو اس ایشو کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرکے ہندوؤں میں سرخ روئی حاصل کرنا چاہتے ہیں ، اس طرح اپنے ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close