ملی مسائل

بغیر محرم کے حج پر جانے والی خواتین گمراہی کا شکار ہو رہی ہیں

احساس نایاب

آزادی سے پہلے جب انگریز ہندوستان پہ راج کررہے تھے اُس وقت انکی پولیسی تھی ڈیوائیڈاینڈ رول ( تقسیم کرو اور حکومت کرو ) اور اس پالیسی پہ عمل کرتے ہوئے انہونے مذہب کے نام پہ ایک دوسرے کو لڑوا کر ہندوستان پہ کئی سالوں تک حکومت کی تھی. آج پھر سے انکے ایجینٹس جو اُس وقت انکی مخبری کیا کرتے تھے، آج وہ ڈیوائڈ اینڈ رول پولیسی کو اپناتے ہوئے مسلمانوں کو آپس میں لڑانا چاہتے ہیں، تاکہ ہم مسلمان ہمیشہ ذاتی اختلافات میں الجھے رہیں، کبھی اپنے مسائل سے باہر نکل ہی نہ پائیں، اور ہمارے آپسی اختلافات کی وجہ سے انہیں دھیرے دھیرے ہمارے تمام حقوق ختم کرنے کا موقعہ مل جائے، کیونکہ جب انسان اپنے ہی مسائل پریشانیوں میں جکڑا ہوا رہتا ہے تو اُس کی سوچنے سمجھنے یا کچھ کرنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے. وہ اپنی ذات سے آگے کچھ دیکھ نہیں پاتا، آج ہماری قوم کا بھی یہی حال ہے ہم  آپس میں ہی الجھے ہوئے ہیں، جسکی وجہ سے ہم راہِ راست سے بھٹک کر گذرتے وقت کے ساتھ ذہنی اور نفسی غلام بن چکے ہیں۔ صحیح غلط کا فرق سمجھ نہیں پارہے۔ کیونکہ اس مرتبہ ان لوگوں نے جو پولیسی اپنائی ہے وہ اتنی خطرناک ہے کہ عزت کے ساتھ ساتھ ایمان کے بھی خاک میں مل جانے کا اندیشہ ہے یہ ایسی پولیسی ہے جس نے چند سرپھری اور مذہب سے باغی عورتوں کو نام نہاد مساوات کا زبردست ہتھیار مہیا کردیا ہے اور آج اس خطرناک پالیسی کی زد میں تمام مسلم گھرانے آچکے ہیں اور یہ خطرناک پالیسی ہے عورتوں کو بغیر محرم کے حج پہ جانے کی اجازت دینا یہ ایک ایسی خطرناک پالیسی ہے جس نے حج جیسے مقدس اور اہم فرئضہ کی روح کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے اور ایک نیک کام کو انجام دینے کے لئے گمراہی کا راستہ کھول دیا ہے بھلا وہ عورت جسے اسلام نے تنہا عام سفر کرنے سے بھی منع کیا ہے اسے بغیر محرم کے حج پہ جانے کی اجازت کیوں کر ہوسکتی ہے؟ لیکن جس حکومت کا مقصد ہی مسلمانوں کے شعائر کا مذاق اڑانا شریعت پر شب خون مارنا ہو اس حکومت سے اس سے بھلائی کی کیا امید لگاسکتے ہیں؟

 سچی بات تو یہ ہے کہ موجودہ حکومت کبھی مسلمانوں کی ازدواجی اور خانگی مسائل میں دخل اندازی کرکے تو کبھی ہمارے اسکول، مدرسوں میں ٹانگ اڑا کر مستقل طور پر مسلمانوں کو پریشان کرنے کی کوشش کررہی ہے جسکا سیدھا اثر ہماری تربیعت گاہوں سے لیکر ہمارے گھروں پہ پڑرہا ہے، دراصل انکا مقصد ہر مسلم مرد اور خواتین کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا ہے، جس سے ہماری بنیادی طاقت کمزور پڑجائے اور جس قدر تیزی سے قوانین میں ردوبدل کیا جارہا ہے اُس سے دن بہ دن ملک کے بھی حالات بگڑ رہے ہیں اور اس سے سب سے زیادہ مسلمان ہی متاثر ہورہے ہیں، ہمارے  حقوق ہم سے چھینے جارہے اور مقصد بھی مسلمانوں کو پریشان کرنا اور انکے عائلی قوانین پر شب خون مارنا ہے، ہمارے حقوق ہم سے چھینے جارہے ہیں، شریعت کو بھی غلط زاویے سے دکھاکر سرعام اچھالا جارہا ہے، ہمارے کھانے پینے سے لیکر بول چال، پہناوے یہاں تک کہ ہماری عبادتوں پہ بھی پابندی لگانے کی کوشش کی جارہی ہے، ان حالات کو دیکھتے ہوئے یہ بات تو صاف ظاہر ہورہی ہے کہ اس وقت ہر مسلم مرد و عورت کے ایمان کی آزمائش ہے، آج ہم سبھی کے لئے دین ہتھیلی پہ جلتا دیا بن چکا ہے، جو اسکو مظبوطی سے تھامے رکھیگا وہی فلاح پائیگا کیونکہ آنے والے دنوں میں مسلمانوں کے لئے حالات اور بھی بدترین ہونے کے آثار ہیں، اسکی اہم وجہ یہ ہے کہ ہم میں اتحاد نہیں رہا، ہم میں ایک دوسرے کے لئے احترام نہیں رہا، اپنوں کی غلطیوں انکی کمزوریوں کو برداشت کرتے ہوئے اصلاح کرنے اور ایک دوسرے کو جوڑے رکھنے کا جذبہ نہیں رہا،

جہاں ایک طرف ہماری قوم مسلکوں فرقوں میں بٹ کر آپسی اختلافات کا مظاہرہ کررہی ہے، وہیں دوسری طرف دشمنانِ اسلام ہماری اس کمزوری کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے لگاتار ہم پہ ایک کہ بعد ایک وار کرتے جارہے ہیں، ابھی ہم اس دوراہے پہ کھڑے ہوئے ہیں جہاں پہ ہمارا ایمان خطرہ میں پڑچکا ہے کیونکہ دشمنانِ اسلام اور چند منافقین نے مل کر سیدھے  شریعت پہ ہلہ بول دیا ہے اور جبراً اس میں مداخلت کر بےتکے قوانین لاگو کردئیے ہیں، اور اپنی ناپاک سازش کو انجام دینے کے لئے مسلم خواتین کو نشانے پہ رکھا ہے، جہاں چند لالچی ایمان فروش عورتوں کو خرید کر انہیں اپنی سازش میں مہرہ کی طرح استعمال کر قوم کی دیندار خواتین کو بہکانے ان میں فتنہ پھیلانے، انہیں اہل علم کے خلاف بھڑکا کر انکی ذہن سازی کرنے کا کام سونپا ہے،،،، تاکہ وہ طلاق، پردہ محرم نامحرم کے احکامات کو اپنے لئے غلامی سمجھیں، مثلاً چند ماہ پہلے عورت کی امامت کی جھوٹی تصاویر اور ویڈیو سوشیل میڈیا پہ اپلوڈ کی گئی تھی اور طلاق کے معملے میں دو چار بکاؤ عورتوں کو میڈیا کے آگے لاکر کھڑا کردیا، شریعت میں جبراً پھیربدل کرنے کی جی توڑ کوشش کی گئی، لیکن انکی اس احمقانہ حرکت کی وجہ سے سب سے زیادہ پریشانی خواتین کو ہی ہوئی ہے، ہمدردی اور برابری کے حقوق کے نام پر مسلم خواتین کو کئی پریشانیوں سے دوچار ہونا پڑا ہے،،، اور اب اسی طرح پھر سے دجال کی پیروی کرنے والے فتنے باز، منافقوں نے عورت کو سفر حج پہ بنا محرم کہ تنہاء جانے کی اجازت دے دی ہے جو کہ سراسر غلط ہے کیونکہ ایک مومن مسلمان کے لئے شریعت نے جس بات کو منع کیا ہے، اسکو کسی بھی بہانے عذر کو پیش کرکے اجازت دینا یا لینا قطعاً صحیح نہیں ہے، ، ویسے تو ہم کوئی عالمہ نہیں ہیں، جو دین سے جڑی باتوں کی گہرائی اور اسکے پیچھے اسکی حکمت مصلحت کو سمجھ کر اپنی طرف سے کوئی خاص رائے قائم کریں،،لیکن مسلمان ہونے کہ ناطے یہ فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے بزرگانِ دین علماء و اکابرین کی رہنمائی حاصل کر صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہیں بنا کسی سے ڈرے، ،،،، اور کثیر تعداد میں علماؤں کی یہ رائے ہے کہ تنہاء عورت کو بنا محرم کے سفر کرنے کی اجازت شریعت میں بلکل بھی نہیں ہے،،،

ہمارے آقا دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ مبارک ہے، کہ جو عورت اللہ تعالی اور روزِ قیامت پہ ایمان رکھتی ہے وہ عورت بغیر محرم کہ تین دن کی مسافت کا سفر نہ کرے، ، اور جو عورت اپنے شہر کہ حدود سے باہر 92 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر کرنا چاہتی ہے وہ بغیر محرم کہ نہ جائے، ،، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو منع فرمایا اور حدیث سے جو منع کردیا جائے تو وہ مکروہ تحریمی ثابت ہوتا ہے، یعنی وہ گناہ کریگا، ،، چاہے اسکے پاس تمام سہولیات کیوں نہ موجود ہوں پھر بھی عورت کا تنہاء سفر کرنا گناہ کہا گیا ہے، اور واضح لفظوں میں فرمایا گیا ہے کہ جس عورت کا محرم نہ ہو وہ حج پہ نا جائیں،کیونکہ اس عورت پہ حج فرض نہیں ہے،،،اسکے باوجود کوئی عورت جائیگی تو وہ گنہگار کہلائیگی۔

اور یہ مسلہ صرف حج یا عمرہ پہ جانے کا نہیں ہے،،، بلکہ اصل مسلہ تو سفر کا ہے کہ عورت اپنے محرم کے بغیر حج کرسکتی ہے یا نہیں تو حج عمرہ بھی ایک مبارک سفر ہے، جس میں ایک جگہ سے دوسری جگہ کو جانا ہے، اور عورت جو بھی سفر کرتی ہے اسکے متعلق یہی حکم ہے۔

رہی موجودہ دور میں سفر کہ فاصلہ کی بات تو تقریباً 92 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر عورت بنا محرم کہ نہیں کرسکتی، اور اس سے زیادہ کا سفر بھی طئے کرنا ہے تو لازم ہے کہ وہ اپنے کسی محرم کو ساتھ لیکر جائے۔

یہاں محرم میں شمار باپ، بھائی، شوہر، بیٹا، سسر، سگے مامو، سگے چاچا ہیں ان رشتوں میں سے کسی بھی محرم کو ساتھ لیکر جاسکتی ہے۔

اور کسی پہ حج فرض ہونے کہ لئے چند شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے، تبھی اُس مرد یا عورت پہ حج فرض ہوگا، تبھی وہ صاحبِ استعطاعت ہوگا اور مرد یا عورت کہ اوپر حج فرض ہونے میں استعطاعت کا بھی فرق ہے۔

جیسے کہ ابھی ایک عورت بڑی مالدار ہے، جاب یا بزنس کرتی ہے، خود مختار ہے، کل سرمایہ دار ہے، اسکے پاس بہت زیادہ رقم موجود ہے اور صحت بھی ٹھیک ہے، اسے سفر میں جان مال عزت لٹنے کا بھی کوئی خدشہ نہیں ہے، جتنی دیر وہ گھر سے باہر رہیگی یعنی اسکی ناموجودگی میں اسکے پاس اتنی آمدنی موجود ہے، جس سے اسکے گھر کا نظام 4 سے 5 ہفتے یا جتنے دن وہ گھر سے باہر رہیگی، اُس دوران اسکے بچوں اور گھر کا خرچہ آرام سے بغیر کسی قرض لئے چل سکتا ہے، ،، تو بھی ان سب کے باوجود عورت کے لئے ایک اور شرط ہے کہ اسکا محرم لازم اسکے ساتھ سفر پہ جائے۔

رہی بات عورت اور مرد دونوں کے لئے ضروری چیزیں جو حج فرض ہونے کہ لئے شرط ہیں۔

پہلی شرط : مسلمان عورت یا مرد کی صحت درست ہو اور وہ بنا عذر سفر کرسکتے ہوں۔

دوسری شرط : اسکے پاس اتنی آمدنی موجود ہو کہ جس سے وہ وہاں پہ جاکر 3 سے 4 ہفتے باآسانی گذار سکتا ہو……

تیسری شرط : اسکے پاس اتنے پیسے موجود ہوں کہ اسکی غیر موجودگی میں اسکا مکان اور اسکی جو اولاد ہیں، انکے گذارے کے لئے اسکو کہیں سے قرض لینا نہ پڑے.

چوتھی شرط : جہاں سے وہ سفر کررہے ہیں، اُس راستے میں اسے اپنے مال اپنی عزت اور اپنی جان کا خوف نہ ہو کہ کوئی اسکو مار دے یا اسکا مال چھین لے یا اسکی عزت جانے کا ڈر ہو۔

اور یہ چار شرائط مرد اور عورت کے لئے ضروری اور برابر ہیں جو پوری ہونگی تو مرد پہ تو حج فرض ہوجائیگا، مگر مرد کے آگے عورت کے لئے ایک اور شرط ذائد ہے کہ اسکے ساتھ اسکا محرم بھی موجود ہو جس سے عورت پہ حج فرض ہوگا ورنہ عورت پہ حج فرض نہیں ہے۔

اور کچھ محدسین کا بھی فرمان ہے، اگر کسی وجہ سے عورت کے ساتھ اسکا محرم موجود نہیں تو عورت کہ اوپر حج فرض نہیں ہوگا۔

یہاں کسی بھی مسلمان مرد، عورت پہ حج فرض ہونے کے جو شرائط بتائے گئے ہیں اُن میں مرد کے لئے 4 شرطیں اہم ہیں تو عورت کے لئے 4 کے ساتھ ایک اور شرط محرم کے ساتھ ہونے کی ہے، یعنی عورت کے لئے کُل 5 شرطیں ہیں، جس کے ہونے سے وہ صاحبِ استعطاعت کہلائیگی اور اس پہ حج فرض ہوگا، اور جب یہ 5 شرطین پوری نہیں ہونگی تو وہ عورت سفرحج پہ نہیں جاسکتی اور فرضیت لازم نہیں ہوگی۔

اسکا ایک اور دوسرا پہلو حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔جو تقریباً 14 سو 15 سو سال پہلے ایک صحابی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری بیوی حج پہ جانا چاہتی ہے اور میرا نام ایک جہاد کے اندر لکھا ہے کہ مجھے جہاد کے لئے جانا ہے، میں کیا کروں۔صحابہ کی بات پہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جہاد کو چھوڑدو اور اپنی بیوی کے ساتھ حج پہ چلے جاؤ۔ یہاں پہ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر محرم کا ساتھ حج پہ لازم نہیں ہوتا تو جہاد کوئی معمولی یا چھوٹی عبادت نہیں تھی، جس سے صحابہ کو محروم رکھا جاتا۔ یا عورت کا اکیلے سفر پہ جانا جائز ہوتا یا کوئی گنجائش ترکیب ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت کو اکیلے بنامحرم کے حج پہ جانے کی اجازت دے دیتے۔ اور یہاں پہ غورطلب بات یہ بھی ہے کہ آج سے 14 سو 15 سو سال پہلے جو مسلمان تھے۔ وہ دور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایتِ ظاہر کا تھا، اور اُس دور کہ مسلمان اور اس دور کہ مسلمانوں میں زمین اور آسمان کا فرق تھا، ،، اُس دور کہ مسلمان آج کے مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ حیادار، غیرت مند، نیک صفت، پاکیزہ سیرت کہ مالک تھے اور اُس دور میں بھی لوگ حج کا سفر قافلوں کی صورت میں ہی طئے کیا کرتے تھے اور ان قافلوں میں زیادہ صحابہ اکرام اور صحابیات ہوا کرتے تھے، جنکے ساتھ ایک عورت کا حج پہ جانا بائثِ فخر ہوتا اور اس سے محفوظ سفر شاید ہی آجکے دور میں کہیں پہ ہو،،،، لیکن پھر بھی اُس دور میں مسلمانوں کا ایمان اتنا پختہ مظبوط تھا کہ وہ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات میں ذرہ برابر بھی غلطی لاپرواہی نہیں کرنا چاہتے تھے،،،، جسکی وجہ سے اُس عورت کا خاوند حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں سوال کررہا ہے اور جواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کہ لئے جواب بھی ارشاد فرما رہے ہیں کہ تم جہاد کو چھوڑدو اور اپنی بیوی کہ ساتھ حج پہ چلے جاؤ، ،،،،، یہاں پہ بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے، ،،،،، اگر عورت کا بنا محرم کہ حج پہ جانا جائز ہوتا یا وقت موقعہ حالات کی نزاکت کے مطابق ذرہ برابر بھی گنجائش ہوتی تو اُن قافلوں میں سارے صحابہ اور صحابیات موجود تھیں پھر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے جانے سے منع کیا اور اس عورت کے شوہر کو جہاد کے بدلے حج پہ جانے کے لئے کہا۔

 جب ہمارے آقا دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم عورت کو بنا محرم کہ سفر کرنے سفرِ حج پہ جانے سے منع کررہے ہیں اور اللہ تعالی کا حکم ہے کہ عورت بنا محرم کہ حج پہ نہ جائے۔ تو ہم ادنی سے بندے خود کو عاشقِ رسول کہنے والے اللہ تعالی کی وحدیت پہ ایمان لانے والے اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کو ماننے کا دعوہ کرنے والے، آخر کیسے اس احکام کو جھٹلاسکتے ہیں، اور کیسے کسی کو شریعت میں مداخلت کرنے اُس میں چھیڑ چھاڑ کرنے دے سکتے ہیں؟ بھلے وہ دشمنانِ اسلام ہو یا منافق اور آج خواتین کی خاص ذمیداری بنتی ہے کہ ہم کسی کا دیکھا دیکھی یا کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں اور تاقیامت شرعی احکامات کو تھامے رکھیں، تاکہ ہم گمراہی سے بچ سکیں کیونکہ عنقریب نیک اعمال کے علاوہ سب کچھ فنا ہونا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

احساس نایاب

ایڈیٹر گوشہ خواتین واطفال بصیرت آن لائن، سب ایڈیٹر روزنامہ آجکا انقلاب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close