مراسلاتملی مسائل

تبلیغی اکابرین کی خدمت میں!

 ممتاز میر

حالیہ اجتماع کے آغاز سے چند دن پہلے ایک نوجوان عالم دین ہمارے پاس آئے۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ اجتماع کے لئے کب روانہ ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ’’میں نہیں جاؤں گا ‘‘ہمارے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ ارے۔ کیوں ؟کیونکہ ہم انھیں اہل تبلیغ کی حیثیت سے برسوں سے جانتے ہیں۔ انھوں نے کہا۔ میں اس طرح کے اجتماعات کو پسند نہیں کرتا۔ اس طرح کے اجتماعات میں ملت کا جتنا پیسہ خرچ ہوتا ہے اس کے مقابلے میں دین کا ابلاغ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ہم نے کہا کہ جناب جماعت اسلامی کاآخری کل ہند اجتماع ۱۹۸۱ میں حیدرآباد میں ہوا تھا۔ اسی وجہ سے انھوں نے پھر کبھی کل ہند اجتماع نہیں کروایا۔ اب وہ ضلعی یا علاقائی اجتماع کرواتے ہیں۔ حالانکہ متفقین اور متاثرین کو اکثر یہ کھجلی اٹھتی ہے کہ بین الاقوامی نہ سہی جماعت کا بھی قومی اجتماع ہونا چاہئے۔ مگر اکابرین جماعت اسلامی پرواہ نہیں کرتے۔ سوال یہ ہے کہ اتنی سی بات جو ایک ۲۵؍۳۰ سالہ نوجوان کے سمجھ میں آتی ہے وہ تبلیغی جماعت کے اکابرین کی سمجھ میں کیوں نہیں آتی؟

ملت کے ایک بڑے طبقے کا اس اجتماع کے تعلق سے خیال یہ ہے کہ یہ اجتماع نہیں تھا بلکہ’’شکتی پردرشن‘‘ تھا۔ تبلیغی اکابرین کے فریقوں میں سے ایک فریق نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا تھا (یقین کیجئے یہ سب لکھتے ہوئے تکلیف ہو رہی ہے مگر ’’شاید کے اتر جائے ترے دل میں مری بات‘‘)مگر ہمارادل نہیں مانتا۔ اس اجتماع میں ۱۵؍۱۸ لاکھ افراد جمع ہوئے تھے۔ جبکہ ملت کی تعداد تو کروڑوں میں ہے۔ اکابرین کیا ان کا بچہ بھی اگر کال دے تو چھ ماہ بعد پھر اتنا ہی بڑا اجتماع فریق مخالف بھی کروا سکتا ہے۔ اہل تبلیغ کا مزاج ایسا ہی ہوتاہے۔ پھر شکتی پردرشن کا یہ طریقہ کوئی برگ و بار لانے سے رہا۔ اس کے علاوہ ہم بچپن سے دیکھتے آرہے ہیں کہ تبلیغی جماعت میں Quality پر نہیں Quantity پر توجہ دی جاتی ہے۔ ان کے اجتماعات کی رپورٹنگ مین بھی خاص توجہ تعداد پر ہی ہوتی ہے۔ ان کا پہلے سے طے شدہ پروگرام بھی نہین ہوتا۔ اس لئے لوگ تقاریر سننے کم اور میلے میں گھومنے یا شاپنگ کرنے زیادہ جاتے ہیں۔

   اب آئیے حالیہ اجتماع کا کچھ تجزیہ کریں۔ اخباری خبروں کے مطابق اجتماع گاہ ۸۷ لاکھ مربع فٹ پر بنائی گئی تھی۔ ہمیں بھی اجتماع سے کافی قبل یہ بات معلوم ہو چکی تھی کہ ۲۰۔ ایکڑپر اجتماع گاہ بنائی جارہی ہے۔ جس کے لئے کئی کھیتوں کی فصلوں کوقیمتاً خرید کر برباد کر دیا گیاجبکہ قرآن کہتا ہے حالت جنگ میں بھی ہرے بھرے درختوں اور فصلوں کو برباد نہیں کیا جا سکتا۔ مگر یہاں تو یہ افواہ بھی سننے کو ملی کہ ایک غیر مسلم کسان اپنا کھیت قیمتاًبھی اجتماع کے لئے نہیں دے رہا تھا۔ اس لئے اس کے پورے خاندان کے پیٹ میں درد شروع ہو گیاجو کئی ڈاکٹروں کو دکھانے کے بعد بھی نہیں گیا۔ جب مسئلہ کسی طرح حل نہ ہوا تو اسے سمجھ میں آیا کہ یہ اجتماع کی ’’برکت‘‘ ہے۔ اب اس نے اپنا کھیت بلا معاوضہ منتظمین کے حوالے کر دیا۔ اجتماع سے پہلے ہی یہ افواہ بھی گردش کر رہی تھی کہ چند بزرگوں نے آکر زمین سے ایسا پانی نکالا کہ اورنگ آباد کے اس علاقے مین پانی ہی پانی ہو گیا۔ یہ تو زبانی باتیں ہیں۔

دیو بندیوں کے یہاں کرامتیں اور چمتکار کتابوں میں بھی ملتے ہیں۔ جس کی بنا پر علامہ ارشدالقادری مرحوم کو برسوں پہلے ’’زلزلہ‘‘ نامی کتاب لکھنا پڑی تھی اور جس پر عامر عثمانی مرحوم کا تبصرہ اتنا سخت تھا کہ دیوبندی آج بھی اس کی چبھن محسوس کرتے ہیں۔ اس اجتماع گاہ میں اسٹیج ۱۷۵۰ مربع فٹ میں بنایا گیا تھا۔ پھر وہ پنڈال تھا جس میں لوگ علماء کرام کی تقاریر سنتے تھے۔ پھر وضو خانے، غسل خانے، بیت الخلا، دکانیں، ہوٹلیں اور ٹھیلے تھے۔ پھر ڈسپنسریاں اور دواخانے بھی  تھے۔ ہمار اسوال یہ ہے کہ تقاریر کے وقت پنڈال میں کتنے لوگ بیٹھ سکتے تھے اور بیٹھتے کتنے تھے ہماری معلومات کے مظابق کتنا ہی مبالغہ کیا جائے تو تین لاکھ لوگ بیٹھ سکتے تھے مگر حقیقتاً کتنے بیٹھتے تھے یہ بتانے کو کوئی تیار نہیں۔ اگر یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ تین لاکھ لوگ بیٹھتے تھے تو بقیہ ۱۵ لاکھ لوگ کیا کرتے تھے۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان ۱۵ لاکھ لوگوں کو ہم نے نہیں بلایاتھا۔ ہمارا ٹارگٹ تو ۳ لاکھ لوگوں کا ہی تھا۔ ہم کہیں گے کہ آپ کا جواب ویسا ہی ہے جیسا کچھ سمجھداراہل ٹنا ٹن دیتے ہیں۔ اگر ان سے کہا جائے کہ دیکھئے آپ کے لوگ قبر پرستی اور  شرک  کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم انھیں ایسا کرنے کو تھوڑی کہتے ہیں۔ ہم کئی بار کہہ چکے ہیں کہ آپ کے جو عقائد ہیں یہ اس کا منطقی نتیجہ ہے اسلئے اس کو روکنا بھی آپ کی ذمے داری ہے۔ ۔ ۔ اجتماع کے بعد واپس آنے والے ایک ڈاکٹر نے ہمیں بتایا کہ اجتماع مین کسی بھی حالت مین دو کروڑ سے کم افراد نہیں تھے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ اس قسم کی ذہنیت بنانے کا ذمہ دار کون ہے؟کیا اس قسم کی ذہنیت ملت کے حق میں مفید ثابت ہو سکتی ہیَ؟جو اپنے ہی تعلق سے صحیح اندازے نہ لگا سکتے ہوں وہ دشمن کے بارے میں صحیح آگاہی کیسے رکھ سکتے ہیں ؟

   غالباً یہ پہلا موقع ہے جس میں کئی نئی چیزیں وقوع پذیر ہوئی ہیں۔ شاید یہ پہلا موقع ہے جب میڈیا کو اہمیت دی گئی ہے۔ میڈیا کو تو پہلے ہی سے اہمیت دی جانی چاہئے تھی۔ حضور ﷺ نے اپنے زمانے میں ابلاغ کا ہر طریقہ اور موقع استعمال کیا تھا۔ ہم حضور ﷺ کے نقش قدم پر چلنے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر بے نیازی انؐ سے زیادہ دکھاتے ہیں۔ فی زمانہ شوشل میڈیا نہ صرف وجود میں آچکا ہے بلکہ بہت زیادہ طاقتور ہوچکا ہے۔ شوشل میڈیا سے پتہ چلا کہ اس بار ’’حضرت جی‘‘ کی کار پر پھول برسائے گئے۔ یعنی حضرت جی کو بوہروں کے ’’مولا‘‘ بنانے کا آغاز کردیا گیا ہے۔ یہ لمحہء فکریہ ہے۔ ہم بنیادی طور پر ان کی اولاد ہیں جو انسان کو بھگوان بنا دیتے ہیں۔ خبردار رہئے۔ یہ کہیں اس کی ابتدا تو نہیں۔ ۔ اخباری رپورٹ کے مطابق کسی ذمہ دار نے یہ بھی کہا ’’اسلام ایک مکمل نظام ہے۔ ایک شعبہ چھوڑ دیا گیا تو مکمل نظام خراب ہوگا ‘‘۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا آج تک تبلیغی جماعت نے اسلام کو مکمل نظام کی طرح برتا ہے؟

اب تک میڈیا کے تعلق سے تبلیغی جماعت کی کیا کوششیں رہی ہیں ؟کتنے اخبارات و رسائل کا اجراء کیا گیا ہے؟ کتنی اسکولیں۔ کالجس یا کسی اور قسم کے تعلیمی ادارے قائم کئے گئے ہیں ؟اجتماعی ذکوٰۃاور غریبوں و مسکینوں کی بہتری کے لئے کتنے نظم قائم کئے گئے ہیں۔ ہم بچپن سے سوچتے ہیں کہ جس جماعت کا نام تبلیغی جماعت ہے وہ تبلیغ کا کام کیوں نہیں کرتی؟عملاً آپ جو کام کر رہے ہیں اسے تبلیغ نہیں کہا جا سکتا۔ وہ اصلاح بین المسلمین کا کام ہے آپ کے اصاغرین اس فرق کو نہیں سمجھتے۔ آپ جو کام کر رہے ہیں خدا کی قسم وہ بھی بڑا مفید کام ہے۔ سب سے پہلی ضرورت تو مسلمانوں کے ہی سدھرنے کی ہے۔ پوری دنیا میں اس معاملے میں آپ کا کوئی ہمسر نہیں۔ مگر اس کام کو بھی آپ نے نماز روزہ حج اور دعاؤں کی تعلیم تک محدود کر رکھا ہے۔ آپ زبان سے تو مکمل نظام حیات کی بات کرتے ہیں مگر عملاً اسے اپناتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ مسجد میں بیٹھ کر تو دین کی باتیں کی جاتی ہین مگر اپنے گھر پر، پڑوس میں کاروباری جگہوں پر اسلام ہوا ہو جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتاہے؟

ایسااس لئے ہوتا ہے کہ ہماری جماعتیں دین کی باتوں کو اس کے اصولوں کو متناسب انداز میں نہیں پیش کرتیں۔ کہیں سارا زور نماز روزے کی تلقین پر ہے تو ان کے متبعین نے نماز روزے کو ہی سارا دین بنا لیا ہے۔ کہیں سارا زور جہاد پرہے۔ تو ان کے چاہنے والوں کے نزدیک پورا دین ہی جہاد کے گرد گھوم رہا ہے۔ کہیں کسی نے سیاست کو پکڑ رکھا ہے۔ کسی کو صلح  حدیبیہ کے سوا کسی بات میں دین نظر ہی نہیں آتا۔ ایک دین کے مسلمانوں نے کتنے دین ایجاد کر لئے ہیں ؟ہمیں خوب تجربہ ہے۔ چند برسوں پہلے تک اہل تبلیغ درس قرآن روکنے کے لئے تشدد پر اتر آتے تھے۔ آج حالات بدلے ہیں۔ اب وہ خود جگہ جگہ درس دیتے نظر آتے ہیں۔ یہ بڑی خوش آئند بات ہے۔

   ایک بڑی اچھی بات یہ ہے کہ تبلیغی جماعت میں اکابرین کے جھگڑے اصاغرین تک نہیں پہونچتے۔ اور کام رکاوٹ کے بغیر جاری رہتا ہے۔ اسی لئے ہم نے ابتدا میں لکھا ہے کہ بچہ بھی کال دے گا تو تبلیغی بغیر ادنیٰ تعصب کے دوبارہ دوسرے اجتماع مین جمع ہو جائیں گے۔

مگر اب جو نئی بدعات ایجاد کی گئی ہیں وہ اکابر پرستی کو ہی رواج دینے والی ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو کیا یہ ملت کے حق میں اچھا ہوگا؟پھر جو اپنے آپ کو متحد نہیں رکھ سکتے وہ ملت کے اتحاد کی بات کس منہ سے کریں گے؟پھر بنیادی بات یہ ہے کہ کسی کی بھی انا یا مفاد کی بناء پر ملت میں انتشار پھیلتا ہے۔ تو وہ خدا کے سامنے کس طرح کھڑا رہ سکے گا؟

    ہماری نہایت عاجزانہ گزارش ہے کہ یہ جو پیسہ شکتی پردرشن پر لٹایا گیا ہے اس پر روک لگنا چاہئے۔ اسی پیسے سے ہندی یا انگریزی کا قومی سطح کا کوئی اخبار، کوئی ٹی وی چینل قائم کیا جانا چاہئے۔ آپ سوچئے ایک ٹی وی چینل تبلیغ کا کتنا بڑا کام انجام دے سکتاہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائک کے انجام سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں نشیمن اس قدر تعمیر کرنا ہے کہ بجلی گرتے گرتے آپ خود بیزار ہوجائے۔ اگر ہمارے اسلاف اپنے انجام سے ڈر جاتے تو شاید ہم آج مسلمان ہی نہ ہوتے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close