ملی مسائل

تبلیغی جماعت میں بڑے آپریشن کی ضرورت

حفیظ نعمانی
خبر ہمیں بے شک تاخیر سے ملی لیکن اس لئے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دوسرے ذرایع سے کافی پہلے سے اڑتی اڑتی خبریں آرہی تھیں کہ مرکز تبلیغ بستی نظام الدین میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔  اور اختلاف نیچے نہیں،  اوپر بلکہ سب سے اوپر ہے۔  کئی سال پہلے میوات سے خبریں آئی تھیں کہ وہاں بہت بڑا اجتماع ہوا۔  لیکن دہلی سے بڑوں میں کوئی نہیں آیا جبکہ بانئ جماعت حضرت مولانا الیاس ؒ کے دل میں میوات والے انکا سرمایہ تھے۔  اس لئے کہ کام ہی میوات سے شروع ہوا تھا۔  اور اسے ملک اور دنیا میں پھیلانے میں بھی میوات کا بڑا حصہ رہا ہے۔
اس وقت توصرف یہ عرض کرنا ہے کہ ایک درد مند ملت کے لئے ہر وقت فکر مند رہنے والے صحافی نے ایک رپورٹ بھیجی ہے کہ وہ کسی ضروت سے نظام الدین گئے ہوئے تھے۔  مغرب کا وقت آیا تو گاڑی یہ سوچ کر بنگلہ والی مسجد کی طرف موڑ دی کہ نماز وہاں پڑھ لیں گے جہاں ہزاروں اللہ والے جماعت میں شامل ہوں گے۔  وہ جب قریب پہونچے تو مسجد کی طر ف جانے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی تھیں۔  اور چپہ چپہ پر پولیس تھی۔  انہیں خیال آیا کہ خدا نخواستہ فرقہ وارانہ بات ہو گئی۔  ؟
قریب جانے کے بعد معلوم ہو اکہ تبلیغی جماعت کے مرکز میں دو گروہ باہم دست و گریباں ہیں۔  لاٹھیوں کا آزادانہ استعمال ہو رہا ہے۔  پولیس چاقو ہاتھ میں لئے کئی باریش افراد کو قابو میں کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو دشنام طرازی کے ساتھ مرنے اور مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔  دہلی پولیس کے دو اعلیٰ افسران آلوک کمار اور ایس پی تیاگی جو موقع پر موجود تھے بتارہے تھے کہ تقریباً ایک ماہ سے جماعت کے مرکز میں کشیدگی کا ماحول ہے۔  اور کئی بار پولیس مداخلت کر چکی ہے۔  افسوس ایک جانب ملت اسلامیہ دنیا بھر میں نشانہ پر ہے۔  اور یہاں مولانا زہیر الحسن اور مولانا سعد کے حامیوں کے درمیان تکرار اور مارپیٹ ہو رہی ہے۔  معلوم ہوا کہ گھروں پر بھی حملہ ہوا ہے اور خواتین کا بھی لحاظ نہیں رکھا گیا۔  پندرہ افراد کو شدید زخمی حالت میں اسپتال میں بھر تی کرایا گیا ہے۔
جماعت کے تیسرے امیر حضرت مولانا انعام الحسن ؒ کے انتقال کے بعد کوئی ایسانہیں رہا تھا جسے امیر جماعت حضرت جی کے طور پر قبول کرلیا جائے۔  حضرت شیخ الحدیث جو پوری جماعت کے امیر کبھی نہ ہونے کے باوجود پوری جماعت کے لئے حرف آخر تھے وہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ جاکر جنت البقیع میں آرام فرمارہے تھے۔  لیکن پوری دنیا میں جماعتیں گشت کررہی تھیں اور ہر دن مسلمانوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا تھا اور مسلمان بھی مسجدوں میں ذوق و شوق سے آرہے تھے۔
40-30سا ل پرانی بات ہے مسلمانوں میں ایک بہت بڑ ے دانشور ڈاکٹر حمید اللہ گذرے ہیں۔  انھوں نے ایک تقریر میں بتا یا تھا کہ وہ برسوں سے فرانس کے شہر پیرس میں رہ رہے ہیں۔  جب گئے تھے تو وہاں ایک بہت وسیع شاندار جامع مسجد تھی جو جمعہ کو بھی پوری نہیں بھرتی تھی۔  اسکے بعد تبلیغی جماعتوں کا آنا شروع ہوا۔  اور بار بار جماعتیں آتی رہیں تو وہ مسجد بھرنے لگی اور پھر تنگ پڑنے لگی۔  تو وہاں کے مسلمانوں نے کرایہ پر مکان لیکر اس سے مسجد کا کام لینا شروع کیا۔  اور یہ جماعت کی محنت کا ہی نتیجہ ہے کہ آج پیرس میں 80مسجدیں ہیں۔  جومکان اور گرجا گھر خرید خرید کر بنائی گئی ہیں۔
بات صرف پیرس کی نہیں پوری دنیا کی ہے ہر ملک میں یہی ہورہا ہے۔  اور کام کرنے والے نہ مولانا زہیرالحسن کے لئے کام کررہے ہیں اور نہ مولانا سعد کے لئے۔  معلوم ہواہے کہ دسمبر میں سنبھل میں عالمی اجتماع ہونے والا ہے۔  جسکے بارے میں صرف دو چار باتوں سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ کسی اختلاف کا انشااللہ جماعت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔  ہمیں بتا یا گیا ہے کہ جماعت میں کوئی بھی اور کسی بھی قسم کا چندہ نہیں ہوتا۔ حکومت کو بے شک فکر ہے کہ کروڑوں کاخرچ کہا ں سے ہورہا ہے ؟ قومی سلامتی کے موجودہ مشیر جب انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ تھے اسوقت سے داڑھی ٹوپی ٹخنوں سے اونچے پیجاموں اور کاندھے پر رومال ڈالکر گھومنے والوں کو شک کی نظر سے دیکھنے کا حکم دیا کرتے تھے۔  لیکن یہ کہنا کہ روپیہ کہاں سے آتا ہے اور رسید کیوں نہیں دی جاتی ؟اس لئے ہے کہ نہ کوئی دیتا ہے نہ کوئی لیتا ہے۔  جیسے سنبھل کے اجتماع میں 20لاکھ انسانوں کی شرکت کی توقع ہے۔  اسکے لئے جو سیکڑوں ایکڑ کھیت لئے گئے ہیں ان پر شامیانوں کا کرایہ 55لاکھ روپے ہے۔  وہ نہ کوئی دہلی بھیجے گا نہ دہلی سے دیا جائیگا۔  بلکہ سنبھل والے آپس میں جمع کرکے دیدیں گے۔
سنا ہے کہ جن کاشت کاروں کی زمین میں پنڈال بنے گا انھوں نے فصل کے نقصان کا معاوضہ لینے سے انکار کردیا ہے۔  جسکا تخمینہ 14کروڑ کیا گیا تھا۔  ان مسلمان کا شتکاروں نے کہہ دیا ہے کہ وہ اللہ کے مہمان ہیں۔  اسلئے ہمارے مہمان ہیں۔  حکومت کو پریشان ہونے کی اس لئے ضرورت نہیں کہ ہر تین سال کے بعد ہونے والا عالمی اجتماع کا خرچ نہ دہلی کو دیا جاتا ہے۔  اور نہ دہلی سے آتا ہے۔  وہاں جو مصافحہ اور لفافہ چلتا ہے۔  یہ اسی کا عذاب ہے کہ اس مرکز میں جسکے قریب پولیس چوکی برسوں سے ہے۔  وہ صرف یہ دیکھا کرتی تھی کہ کوئی چور اچکا یا گرہ کٹ ان سیدھے سادھے اللہ والوں کو پریشان نہ کرے۔
حقیقت یہ ہے کہ تبلیغی جماعت کہی تو جماعت جاتی ہے لیکن جماعت ہے نہیں۔  بلکہ ایک تحریک ہے۔  ابتدا میں صرف حضرت مولانا یوسف صاحب جانشین ضرور ہو ئے۔  مگر ہم نے وہ اترے ہوئے چہرے دیکھے ہیں جو باپ کے بعد بیٹا کے سخت خلاف تھے۔  اور یہ حقیقت ہے کہ حضرت مولانا یوسف صاحب اپنے والد کا نام سے بالکل بے تعلق رہتے تھے۔  لیکن یہ روایت بھی علما کی ہے کہ انتقال سے تھوڑی دیر پہلے حضرت مولانا الیاس ؒ نے مولانا یوسف کو بلا کر فرمایا کہ آگلے لگ جا۔  اور پھر پاک پروردگار نے کیا کیا کہ جو مولانا یوسف صاحب جماعت سے بے تعلق رہتے تھے انہوں نے جو تقریر کی ہے تو ہر کوئی محسوس کررہا تھا کہ حضرت جی کے گلے لگنے سے دعوت کا جذبہ منتقل ہوگیا۔  لیکن انکے انتقال کے بعد شیخ الحدیث کی ایسی شخصیت تھی جن کے سامنے کوئی لب نہیں ہلا سکتا تھا۔  انھوں نے مولانا انعام الحسن صاحب کو امیر بنادیا۔  آج جماعت میں دنیا میں سیکڑوں ایسے ہیں کہ وہ موجودہ دعویداروں سے زیادہ بزرگ ہونگے۔  اور یہ حقیقت ہے کہ ابتدا کاندھلہ والوں نے کی تھی لیکن اب جماعت وہاں ہے جہاں میوات کے عالم کوبھی بنایا جاسکتا ہے اور ایسے بزرگ کو بھی جنھوں نے ایک دن بھی مدرسہ میں نہ گذارا ہو۔  اور نہ ’’پدرم سلطان بود‘‘ہونا چاہئے۔  جس مرکز سے 95برس سے صرف اللہ کی آواز اور دعاؤں میں رونے کی آواز آتی تھی جسے کوئی ظالم اور جابر بھی سنتا تھا تو لرز جاتا تھا۔  وہاں سے گالیوں کی اور مارو یابچاؤ کی آواز یں سن کر پولیس آئے تو جماعت والوں کو تالا ڈال دینا چاہئے۔  یہ دیکھے بغیر کہ کون کس حضرت کا بیٹا اور کون کس کاندھلوی کا لخت جگر ہے ؟ اگر یہ دیکھ کر فیصلہ کیا گیا تو سنبھل کا اجتماع آخری بھی ہو سکتا ہے۔
یہ بھی اللہ کی شان ہے کہ حضرت مولانا الیاس مقرر نہیں تھے۔  اور حضرت مولانا یوسف ایسے مقرر تھے کہ 50لاکھ کامجمع بھی ہو تو پتھروں کی طرح بیٹھا سنا کر تا تھا۔  اور پھر مولانا انعام الحسن صاحب بھی مقرر نہیں تھے۔  مقصد یہ ہے کہ اتنا بڑا کام تقریروں سے نہیں دعاؤں اور محنت سے ہوا ہے۔  جو دونوں دعویدار ہیں ان دونوں سے جماعت کو بچایا جائے۔  اور کسی پروفیسر یابڑے تاجر کے ہاتھ پر بیعت کرلی جائے۔  جماعت اب وہاں آچکی ہے کہ اسے مجاوروں کی ضرورت نہیں ہے۔  اور یہ دونوں مجاور بن گئے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close