ملی مسائل

تعدد ازواج کا مسئلہ اور تلبیسی واویلا

تعدد ازواج کی یہ اجازت اس لیے نہیں ہے کہ مردوں کو عیاشی کی دعوت  دی جائے جیسا کہ اہل ایمان کے دائمی دشمنوں یہود و مشرکین کا الزام ہے۔

عالم نقوی

 ہمارے سامنے اس وقت دو چیزیں ہیں۔ ایک انڈین ایکسپریس میں ۵ اپریل ۲۰۱۸ کو  شایع ماہر قانون  پروفیسر طاہر محمود کا مضمون ’دَااَن ٹے نیبل ڈیفنس‘( ایک غیر مستحکم دفاع۔مذہب اور قانون دونوں میں تعدد ازواج کی کوئی جگہ نہیں )اور دوسرے  مولانا محمد عنایت ا للہ اَسَد سُبحانی کا۳۲ صفحات پر مشتمل کتابچہ، تعدد ازواج کب؟ اور کس لیے؟ جو ہدایت پبلیشرز دہلی نے ۲۰۱۵ میں شایع کیا تھا۔

پروفیسرطاہر محمود  مسلم دانشوروں میں  ایک معروف شخصیت ہیں اور چونکہ ان کے مضامین بھی تقریباً ہر ہفتے مختلف بڑے اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں اس لیے اخبار  میں شایع سنجیدہ مضامین پڑھنے والوں  کی ایک  بہت چھوٹی سی اقلیت تو ان کے نام سے اچھی طرح واقف ہے۔

طاہر محمود صاحب کا یہ مضمون خَلط ِمَبحَث اور تَلبیس ِحق و باطل کا نادِر نمونہ ہے۔ اُن کے جیسے ماہر قانون ِشریعت سے ایسی لغزش حیرت انگیز اس لیے نہیں کہ بڑے آدمی غلطیاں بھی بڑی ہی کرتے ہیں۔ ویسے اِس طرح کی مثالیں  امت کے بڑوں میں کوئی نئی چیز نہیں ! تقیہ، متاع، ایک نشست میں تین طلاق، حلالہ، زانی و مرتد کی سزا، رجعت اور قیامت میں دیدار الٰہی  وغیرہ  وغیرہ  متعدد ایسے مسائل ہیں جن کی  تشریح و تاویل و تفہیم  کے نام پرپچھلے چودہ سو برسوں میں صرف نئے نئے گل ہی نہیں کھلائے گئے بلکہ نئے  نئے مسلکوں، مذہبوں اور مشربوں کی ایک بھیڑ بھی پیدا کر لی گئی اور آج جس کے پاس جو ہے وہ اُسی میں خوش ہے ! ہمارے بہت سے موجودہ مسائل کا سبب فی الواقع ہم خود ہیں۔ لیکن یہ نزاعی مسائل فی الوقت ہمارا موضوع نہیں۔ سر دست ہم اپنی طرف سے کچھ کہنے کے بجائے صرف  تعدد ازوا ج کے حوالے سے مولانا سبحانی کے قیمتی افکار نقل کرنے پر اکتفا کریں گے جو ہمارے نزدیک کافی و شافی ہیں۔ رہے سلمان رشدیوں اور تسلیمہ نسرینوں جیسے لوگ تو۔ صم بکم عمی فھم لا یر جعون۔ ۔کی صف میں شام ہیں۔ اُن سے بے فیض بحث ہمارا منشا نہیں۔

’’اسلام نے نکاح پر بہت زور دیا ہے۔ صرف اس لیے کہ وہ انسانی سماج کو صاف ستھرا اور پاکیزہ دیکھنا چاہتا ہے۔ فسق و فجور، بد نگاہی و بدکاری ناقابل معافی جرم ہیں۔ وہ کسی بھی مرد یا عورت کے لیے یہ قطعاً برداشت نہیں کرتا کہ وہ ناجائز جنسی تعلقات سے اپنے دامن کو آلودہ کریں۔ اب جو حکمت نکاح پر زور دینے کی ہے وہی تعدد ازواج  کو جائز کرنے کی بھی ہے۔انسانی زندگی یا انسانی سماج کو جنسی انارکی اور اخلاق باختگی سے بچانے کے لیے ایک سے زائد نکاح کی اجازت دی ہے لیکن وہ بھی ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ چار تک محدود ہے۔ لیکن اس اجازت کی روح یا اس کا محرک لذت پرستی نہیں۔ بلکہ یتیموں، بیواؤں اور مطلقی خواتین کی مدد اور ان کی سر پرستی اور کفالت ہے۔ ساتھ ہی یہ جذبہ کہ سماج کی پاکیزگی بھی برقرار رہے۔ کوئی بھی مسلمان مرد یا عورت کسی گندے تالاب میں نہانے پر مجبور نہ ہو۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ اسلام نے یہ شرط بھی لگائی ہے کہ اس دینی اور سماجی خدمت کے لیے وہی شخص آگے بڑھے جو عدل پر قائم رہ سکے اور ایک سے زائد بیویوں کے ساتھ پورا پورا معاشی نفسیاتی اور جذباتی انصاف کر سکے۔ یہ ہرگز نہ ہو کہ ایک کا گھر بسانے کے لیے دوسری کا گھر اجاڑ دے۔ یا ایک کا دل خوش کرنے کے لیے دوسری کا دل توڑ دے۔ اس طرح اس سماج میں بدی کے تمام سوتے خشک ہوگئے۔ بے حیائی کے تمام رخنے بند ہوگئے۔ مسل معاشرے میں وہ مسائل کبھی پیدا نہیں ہوئے جو مثال کے طور پر یورپ میں بڑی جنگوں کے بعد پیدا ہوئے۔ سنڈے کرا نیکل  لندن میں دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک مضمون شایع ہوا جس میں لکھا تھا کہ:

برطانیہ میں اس وقت تیس لاکھ سے زائد عورتیں شوہر، اولاد، گھر، ہر چیز سے محروم و مایوس ہوکر بالکل ویران اور بے کیف زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہاں عورتوں کی تعداد ۱۹۳۹ میں مردوں سے   بہت زیادہ تھی۔ تین لاکھ مردوں کے جنگ کی بھینٹ چڑھ جانے اور ہزارہا کے لولے لنگڑے اور پوری طرح اپاہج  ہو جانے کے برد اب ان لاکھوں عورتوں اور لڑکیوں کا کیا بنے گا جن باپ یا شوہر یا گھر کے کمانے والے ختم ہوگئے ؟یہ مسئلہ  جنگ کے بعد بر طانیہ کے مسائل میں سنگین ترین مسئلہ ہے۔‘‘

لیکن ظہور اسلام کے بعد ابتدائی دو سو برسوں میں مسلم حکومتوں کےمسلسل حالت جنگ میں رہنے کے باوجود کبھی اس طرح کے کسی مسئلے سے دوچار نہیں ہوئیں۔ نہ کبھی عورتوں کی کثرت یا ان کے بے سہارا، بے سہاگ  یا بے کفیل رہ  جانے کا کوئی مسئلہ درپیش ہوا نہ کبھی مجاہدین کی قلت کا سامنا کر پڑا۔ جبکہ یورپ صرف دو جنگوں میں ٹوٹ کر رہ گیا اور لاکھوں کنواریاں اور بیوائیں کسی جذباتی، نفسیاتی، جنسی اور معاشی سہارے  کے لیے ترس ترس کر مر گئیں۔ مسلم سماج اور مسیحی دنیا  کے درمیان زمین و آسمان کا یہ فرق اسی قانون تعدد ازواج کا نتیجہ تھا ! جنہوں نے اس قانون تعدد ازواج کو اپنایا وہ پھلتے  پھولتے رہے اور جنہوں نے ٹھکرایا، انہوں نے اس کا بد ترین خمیازہ بھگتا اور آج تک بھگت رہے ہیں۔

لیکن یا د رہے کہ تعدد ازواج کی یہ اجازت اس لیے نہیں ہے کہ مردوں کو عیاشی کی دعوت  دی جائے جیسا کہ اہل ایمان کے دائمی دشمنوں یہود و مشرکین کا الزام ہے۔

تعدد ازواج در اصل مردوں کی ذمہ داری میں زبر دست اضافہ ہے۔ جو ایک شادی کرتا ہے اس پر صرف ایک عورت اور اس کے بچوں کی ذمہ داری ہوتی ہے اور جو ایک سے زائد شادیاں کرتا ہے اس پر ایک سے زائد عورتوں اور بچوں کی ذمہ داری آن پڑتی ہے!

اور جسے عیاشی کرنی ہو تی ہے وہ اگر اکیلا ہے تو کسی کال گرل کو اپنی جائے  رہائش  ہی پر  بلا لیتا ہے  یا پھر  کسی کلب یا اس مقصد کے لیے بنے ہوئے مخصوص ہوٹلوں  میں سے کسی ہوٹل کا رخ کرتا ہے اور چند  سو یا چند ہزار روپئے میں چند گھنٹے یا پوری رات کسی کال گرل کے ساتھ گزار کر اپنا منھ کالا کر کے گھر واپس آجاتا ہے۔ یعنی جو حقیقت ہمیشہ کی طرح آج بھی اظہر من ا لشمس ہے وہ یہ کہ جسے عیاشی کرنی ہوتی ہے، وہ دو تین یا چار شادیان تو درکنار ایک شادی کرنا بھی وبال جان سمجھتا ہے کیونکہ عیاشی کا راستہ شادی، ذمہ داری  اور کفالت کے راستے سے بالکل الگ ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close