ملی مسائل

توہین رسالت پر سزا کیوں؟

شہباز رشید بہورو

بحیثیتِ مومن مسلمان ہمارے ایمان، عقیدت مندی اور محبت کا تقاضا ہے کہ ہم رسالت مآب صلی الله عليه وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے لئے پھانسی کی سزا کا مطالبہ کریں لیکن دنیا میں بسنے والے تمام غیر مسلم حضرات ہمارے اس مطالبے کو نہ تو قبول کرتے ہیں اور نہ ہی اس کو ایک موزوں مطالبہ سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ رویہ بھی کوئی غیر قدرتی نہیں ہے کیونکہ وہ اسلام کے بارے میں ایک پیروکار کی طرح جانکاری اور عقیدت نہیں رکھتے۔ آخر اس معاملے کو غیر مسلموں کے سامنے کس طرح پیش کیا جائے تاکہ وہ بھی علمی و عقلی بنیادوں  پر ہمارے اس اسٹینڈ کوحق بجانب مانیں۔ اس ضمن میں چند سطور لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

تمام مذاہب کی رو سے اس کائنات کا ایک خالق و مالک ہے جو اس کا انتظام وانصرام چلا رہا ہے اور انسان کو ہر طرح کی ہدایت دینے کا بندوبست کرتا ہے۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ مجھے اپنی زندگی سنوارنے و سدھارنے کا موقع نصیب نہیں ہوا بلکہ ہر انسان اپنی اپنی جگہ پیش آمد صورتحال کو اپنی زندگی میں بہت سارے مواقع پر کی گئی سستی و کاہلی کا ہی نتیجہ مانتا ہے اور اپنی جگہ پچھتاتا ہے کہ اس اس موقعہ پر میں نے فلاں فلاں غلطی کی وغیرہ وغیرہ۔ انسان کا یہ پچھتاوا درحقیقت ہدایت ملنے پر اس کی ناقدری کا نتیجہ ہے۔ ایک انسان جب تک اپنے ضمیر پر فیصلہ چھوڑتا ہے تو اچھی راہ پاتا  ہے اور جب بھی اپنے نفس پر یہ زمہ داری ڈالتا ہے تو ٹھوکر کھا کر ہمیشہ کے لئے غلط راہ پر چل پڑتا ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ پغمبر اعظم صلی الله عليه وسلم کی سیرت مطہرہ کے ساتھ دنیا والوں نے کیا .جب سیرت کا مطالعہ کرنے والوں نے مطالعہ کے بعد فیصلہ اپنے نفس پر چھوڑا تو نتیجہ منفی اور بیہودہ باتوں کی شکل میں برآمد ہوا۔ اگر ہمارے غیر مسلم بھائی سیرت کا مطالعہ خالی الذہن ہو کر سنجیدگی سے کریں گے تو میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے ظمن میں زیادہ احتجاج اور سزا کا مطالبہ ان ہی کی طرف سے ہوگا۔ جو بھی سیرت کا مطالعہ نیک نیتی سے کرتا ہے وہ ضرور صحیح راستہ پا کے رہتا ہےاور جس پر چل کر وہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو خراجِ تحسین پیش کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ رہا ایک پہلو جس میں خالص علمی طور پر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے حوالے سے غیر مسلم حضرات سے گذارش کی گئی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا مطالعہ کریں۔

دوسرا انسانی زندگی کا عملی پہلو ہے جس میں ایک انسان ایک اعلیٰ عملی معیار کی تلاش میں رہتا ہے تا کہ وہ اپنی زندگی کے تمام عملی بکھیڑوں سے اپنے آپ کو بآسانی گذار سکے۔ وہ اعلیٰ عملی معیار جو ایک انسان کو مل سکتا ہے وہ صرف رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں موجود ہے۔

انسان کی زندگی ایک پیچیدہ عمل ہے جو بے شمار شعبوں کی لگاتار سرگرمی پر منحصر ہے اور ان شعبوں کے اپنے اپنے مطالبات ہیں جن کی تسکین کے لیے یہ انسان محوِ عمل رہتا ہے۔ ان مطالبات کو پورا کرنے کا ہر انسان ایک قوی داعیہ اور طاقت رکھتا ہے لیکن ان داعیات اور قوتوں کو ایک خاص حدود قیود میں رکھ کر استعمال کرنا انسان کے لیے از حد ضروری ہے۔ ان حدود و قیود کی صحیح ترین نشاندہی کون کرے یہ مجموعی طور پر پوری تاریخ میں نوع انسانی کے لئے سب سے بڑا چیلنج رہا ہے۔ ان حدود و قیود کی اگر صحیح نشاندہی ہوئی تو انسان کی زندگی اس کے لیے پھر جنت سے کم نہیں لیکن اگر اس معاملے میں ذرہ برابر بھی کوتاہی ہوئی تو پھر انسان کی اپنی زندگی اس کے لیے زحمت و کوفت ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس حد بندی کے معاملے میں انسان کی فطرت زیادہ تر کوتاہی و جہالت کی ہے، مطلب ایک انسان کے لئے یہ ناممکن ہے کہ وہ ایسا کر سکتا ہے (یعنی حدود و قیود کا کامیاب تعین) حتی کہ ایک انسان کی اس معاملے میں کوشش بھی نقائص کا ایک مجموعہ ہوتا ہے۔ اگر چہ انسانی قوانین کے متعلق یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ وہ انسان کی اس ضرورت کو کسی حد تک ایڈرس کرتے ہیں، ٹھیک ہے لیکن یہ قوانین خود اپنی بہترین شکل کو پانے کے لیے انسانوں کو ایک رخ کی طرف متوجہ کرتے ہیں کیونکہ قانون خود اپنی تلاش میں سرِ گرداں ہے اور اس آوارگی کے عالم میں اس کا انسان کو قانونی طور پر مستحکم کرنا ناممکن ہے۔ اسی عدم استحکام کی وجہ سے پوری دنیا کی عدالتیں خود انصاف کی بھیک مانگ رہی ہیں۔ سینکڑوں برس کی تحقیق وتدقیق کے باوجود بھی انسان اب تک ایک مکمل اور صحیح نظام قانون تیار نہیں کر سکا ہے جس کے نفاذ سے مکمل طور پر امن قائم ہو جائے۔ جس قانون کے لئے انسانوں کی طرف سے ایک فطری جذبہ اطاعت، اس کے ساتھ گہری الفت و وابستگی کا احساس اور اپنی فوری مصلحتوں اور مستقبل میں پیش آنے والے تمام معاملات کا بہترین حل پانے کا مکمل یقین جو کہ ایک عقیدہ کی حد تک ترقی کر گیا ہو موجود ہو، اتنا کامل اعتماد ہو کہ ایک انسان یہ دعویٰ کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہو بلکہ دعویٰ کر ڈالے کہ ایک سوار بے خوف ہو کر صناء سے حضرِ موت تک تن تنہا چلے گا اور لوگوں نے بعد میں دیکھا ایک زیور پہنی عورت اکیلی صناء سے حضر موت کا سفر کرتی ہے۔ اس نوعیت کا غیر معمولی امن درحقیقت اسلامی قانون کے بے مثال اور مطلق عدل و انصاف کا نتیجہ تھا۔ آج کے انسان کی زندگی کے ہر معاملے میں یہ قانونی نقائص اس کے عرصہ حیات تنگ کر رہے ہیں جہاں جس پہلو سے نظر دوڑائی جائے تو صرف فساد ہی فساد دکھتا ہے۔ اس فساد کا حل صرف اسلامی قانون کے صورت میں انسانیت کے سامنے منتظرِ انتخاب ہے۔

عدل و انصاف کی منتظر یہ مایوس انسانیت مختلف جھانسوں میں آکر کبھی ایک جماعت کو آزماتی اور کبھی دوسری کو، اسطرح سے ہر سال ایک نئی تبدیلی دیکھنے کا خواب دیکھتی ہے لیکن اس کے خواب کو بری طرح سے کچلا جاتا ہے۔ مذہب کے سوال کو ایک طرف رکھ کر خالص اگر انسانیت کے نقطہ نظر سے پوری تاریخ کو دیکھا جائے کہ کس انسان نے انسانیت کی بے لاگ خدمت کی ہے، انسانیت کو قابلِ عمل بے مثال قانون عنایت کیا تو میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ سوائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کا نام نہیں آیے گا۔ یونان کے فلسفیوں کی سوانح حیات کھنگالیں، روم کے مقننین کی سوانح حیات پڑھیں، دنیا کے بادشاہوں کی زندگیوں کو دیکھیں غرضیکہ دنیا کے تمام بڑی شخصیات کی سوانح عمری کا مطالعہ کریں پھر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو بھی پڑھ لیں تو بلا شبہ و شک آپ کی فطرت پر جس شخصیت کا قبضہ ہو گا وہ صرف اور صرف نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی۔

جس طرح ستاروں میں سورج روشن ہے، جس طرح بہار کی رونق میں پھول سب سے زیادہ بارونق ہوتے ہیں اور جس طرح ہیروں میں سب سے زیادہ کوہِ نور چمکدار ہے اسی طرح سے دنیا کی تمام عظیم شخصیات میں نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم محترم ہیں۔

دنیا کے بہت سارے ممالک میں ایسے قوانین جاری ہیں جن کے تحت اگر کوئی بھی شخص ملک کی معزز شخصیات پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے وہاں کے پینل کوڈ کے تحت سخت سزا دی جاتی ہے۔ جیسے پولینڈ، وینوزیلہ، ایران، ترکی، نیتھرلینڈ، بحیران تھائ لینڈ، کویت وغیرہ حتی کہ ہندوستان کی سپریم کورٹ نے پینل کوڈ کے سیکشن 292 کا حوالہ دیتے ہوئے فنکاروں کی آزادی اظہار پر پابندی لگائی کہ کوئی بھی آدمی اس آزادی برائے اظہار کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ملک کی کسی بھی iconic figure جیسے مہاتما گاندھی، سبھاش چندر بوس، ولا بھائ پٹیل و غیرہ کی توہین نہیں کر سکتا ہے اور اس ظمن میں مجرم کو دو سال کی سزا لگنے کا اعلان کیا۔

دنیا کے ہر خطے میں مجموعی طور پر اس احساس کو ابھرا ہوا پایا جا سکتا ہے کہ قوم و ملک کی کسی بھی محسن شخصیت کی توہین ایک جرم ہے اور اس پر سزا دی جانی چاہیے۔ یہ اسی مجموعی احساس کا نتیجہ ہے کہ مذکورہ بالا ممالک میں قانونی طور پر سزائیں دی جاتی ہیں۔ یہ تو رہا انفرادی طور پر ممالک کا معاملہ کہ ہر ملک کی قوم اپنے محسن شخصیت کے احسان کے بوجھ تلے یہ سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہے جس کا ابھی زکر کیا گیا۔ کیا پھر مجموعی طور پر پوری انسانیت اس شخصیت کے احسان کو بھلا سکتی ہے جو محسنِ انسانیت کا لقب حاصل کر چکی ہو جو پوری انسانیت کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام مخلوقات کے لیے رحمت بن کر آئی ہو۔ میں یہ دعوی کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جس طرح قرآنِ مجید نے پوری دنیا کو چیلنج کیا کہ

"اور اگر تمہیں اِس امر میں شک ہے کہ یہ کتا ب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے، یہ ہماری ہے یا نہیں، تواس کے مانند ایک ہی سورت بنا لاؤ، اپنے سارے ہم نواؤں کو بلا لو، ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو، مدد لے لو، اگر تم سچے ہو” القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 23

تو اسی طرح سے یہ کہتا ہوں کہ کوئی دنیا کہ ایسی شخصیت جس کو آپ کسی بھی پہلو سے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر لا سکتے ہو۔ اس کے جواب کے لئے آپ میرا مختصر سامضمون  "افتخارِ کائنات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم "انٹرنیٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔ اس کا جواب یہی ہے کہ نہیں رحمت اللعالمین کا لقب دنیا کی کسی بھی عظیم شخصیت کو نہ ملا اور نہ ہی مل سکتا ہے۔ محسنِ اعظم کا لقب صرف اور صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی حق ہے جنہوں نے پوری نوعِ انسانی پر وہ احسانات کیے جن کا ذکر علامہ اقبالؒ نے اپنی ایک نظم میں کیا ہے

حریت پروردہ آغوش اوست

یعنی امروزِ امم از دوشِ اوست

اودلے درپیکر آدم نہاد

اونقاب از طلعت آدم کشاد

آزادی کا جذبہ آپ ہی کی آغوش مبارک کا پروردہ ہے، اور اس طرح گویا اقوامِ عالم کی موجودہ ترقیاں آپ کی عظیم الشان ماضی کا ثمر اور نتیجہ ہیں۔ انسان کے پیکر خاکی میں آپ نے دھڑکتا ہوا دل رکھ دیا اور صحیح معنوں میں انسان کی صلاحیتوں سے پردہ اٹھایا اور اس کے جوہر ذاتی کو آشکار کیا۔

نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم رحمت اللعالمین اور محسن انسانیت ہونے کے ناطے  محترمِ انسانیت یا محترم اعظم بھی ہیں۔ اگر دنیا کے لوگ پلیٹو، ارسطو، رابٹ کوچ، جابر بن حیان، لاویسرز، آئنسٹین، نیوٹن، ہاکنگ، ابن خلدون، ہیروڈوٹس، جارج واشنگٹن، نیپولین، اکبر، اسکندر، گاندھی، محمد علی جناح حتی کہ آج کل کے حکمرانوں کا نام عزت سے لیتے ہیں اور ان کے نام کے ساتھ نہ جانے کتنے ادارے اور اصلاحی کاموں کو جوڑتے ہیں تو کس بنیاد پر نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیتِ اعظم پر کسی کا کیچڑ اچھالنا سراہا جائے اور اس کا یہ آزادی اظہار اور حقِ اظہار مانا جائے۔ نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو وہ کچھ عطا کیا جو دنیا کے لوگوں کو ہزار ہا ٹھوکریں کھانے کے بعد بھی نہیں مل رہا ہے۔ دنیا ایک ٹھوس اور مستحکم نظریہ یا عقیدہ کو ڈھونے کے لیے سینکڑوں فلسفے تراش چکی ہے لیکن ایک بھی قابلِ اعتناء نہیں ، دنیا ایک مستحکم قانون حاصل کرنے کے لئے نہ جانے کتنے قوانین تراش چکی ہے لیکن ایک بھی قابل عمل نہیں اور دورِ جدید میں انسان نے تو حد ہی کر دی ہے کہ عوام کی دولت لوٹ کر سیاسی لیڈران صرف ہوا ئی پرواز کر کے ایک ملک سے دوسرے ملک گھومتے پھرتے رہتے ہیں لیکن اپنے ملک، عوام اور پوری دنیا کو کچھ بھی دینے کے قابل نہیں۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ اس محسن اعظم کے پیغام کو آج کی دنیا فراموش کرتی جاری ہے جن کی سیرت کے واقعات پڑھ کر  دل روتا ہے اور آنکھیں نم ہوتی ہیں۔ اس بڑے پیمانے کی فراموشی کے پیچھے امت مسلمہ ذمہ دار ہے جس نے اپنے نبی کے پیغام کو پاوں تلے روند ڈالا ہے جس کے نزدیک دنیا کی دیگر شخصیات آئیڈیل ہیں نہ کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم۔ گرچہ زبانی کلامی نعروں میں ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی راہنما ہیں لیکن عملی طور پر ہمارے راہنما دوسرے لوگ ہیں۔

ذاتی شرافت کا سب سے اعلیٰ معیار جو ہو سکتا ہے اس کا اعلیٰ نمونہ صرف اور صرف نبی محترم صلی الله عليه وسلم کی ذات مبارکہ میں موجود ہے، اس حوالے سے سیرت کی کتابیں واقعات سے بھری پڑی ہیں۔ عوام کی خیر خواہی کا جو سب سے اعلیٰ سطح ہو سکتی ہے وہ صرف اور صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ میں موجود ہے۔ آپ صلی الله عليه وسلم کا ہر قول اور فعل خیر خواہی کا ایک شاہکار تھا جس کے مطابق آج بھی عمل کرنے والا فاعل خیر کی خوشبو سے پورے معاشرے کو معطر کرتا ہے۔ لوگوں پر حقیقی احسان کرنے کے حوالے سے جو سب سے غیر معمولی اعلیٰ ترین مثال کوئی ہو سکتی ہے تو وہ صرف رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال ہے۔ عدل و انصاف کے حوالے جو مطمئن بخش عدل و انصاف کی مثال تاریخ میں تلاش کرنی ہوگی تو وہ صرف آپ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اور ان کےتربیت یافتہ خلفاء کے دور میں مل سکتی ہے۔ ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا محسنِ انسانیت کی توہین کرنا ایک بہت بڑا جرم تسلیم نہیں کیا جانا چاہئے بلکہ اس پر سزا دینا پوری دنیا کی حکومتوں پر لازم ہے۔ اس حوالے سے سیرت کے پیغام کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close