ملی مسائل

توہین رسالت کی سزا

نجیب اللہ خاں ایاؔز

 دنیا کے تمام مذاہب میں کسی نہ کسی صورت   میں Blasphemyاور اسکی سزا کا تصور پایا جاتا ہے۔ Blasphemy کا لفظ اصل میں دو یونانی الفاظ کا مرکب ہے  جسکا انگریزی میں معانی ہے To injure reputation یعنی کسی کی شہرت کو نقصان پہنچانا۔ شریعت موسوی میں Blasphemyکا اطلاق اللہ تعالیٰ کے خلاف   اور بادشاہِ وقت کے خلاف بولنے پر ہوتا ہے جسکی سزا سنگساری  مقرر کی گئی ہے [i]۔ پھر یہی نہیں والدین کی نافرمانی اور توہین پر بھی سنگساری کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ [ii] عیسائیت میں خدا کے ساتھ ساتھ روح القدس کی توہین کو  بھی قابل سزا  قرار دیا گیا ہے [iii]۔ ہندو مت میں پنڈت  کی توہین کو سزائے موت کا مستحق گردانا گیا ہے [iv]۔

 عربی زبان میں Blasphemyکے لئے سبَّ اور شَتَمَ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ ان ہر دو الفاظ میں سے  قرآن کریم نے  لفظ سبَّ کا استعمال صرف ایک مرتبہ فرمایا ہے  جہاں یہ نصیحت کی گئی ہے کہ مشرکین کے بتوں کو برا نہ کہو[v]۔

جہاں تک خدا تعالیٰ کی توہین  اور اس پر وارد ہونے والی سزا کا تعلق ہے تو اس بارہ میں قرآن کریم کی تعلیم تورات کے بر عکس ہے۔ سب سے پہلے تو قرآن کریم نے  مومنین کو یہ نصیحت فرمائی کہ وہ دوسرے لوگوں کے معبودوں کو گالی نہ نکالیں ورنہ وہ  دشمنی کرتے ہوئے بغیر علم کے اللہ تعالیٰ کو گالیاں نکالیں گے [vi]۔ دوسرے یہ کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کو سب سے بڑی گستاخی بیان کرتا ہے اور شرک کو ناقا بل معافی گناہ قرار دیتا۔ چنانچہ فرمایا :

إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ   فَقَدِ افْتَرَىٰ إِثْمًا عَظِيمًا [vii]

’’ یقیناً اللہ معاف نہیں کرے گا کہ اس کا کوئی شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے علاوہ سب کچھ معاف کردے گا جس کے لئے وہ چاہے۔ اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے تو یقیناً اُس نے بہت بڑا گناہ افترا کیا ہے۔‘‘

 اس عظیم ترین گناہ کی تلافی کے لئے بھی رحیم و کریم خدا نے  راستہ رکھا ہے کہ ایسا شخص اپنی زندگی میں توبہ کرے اور اچھے اعمال کے ذریعہ سے اپنے بد  اعمال کا ازالہ کر دے تو وہ خدا تعالیٰ کو غفور رحیم پائے گا [viii]۔ تاہم  ایسا شخص جو اپنی وفات سے پہلے توبہ نہیں کرتا اسکے لئے بھی خدا تعالیٰ نے  کوئی دنیوی سز ا تجویز نہیں فرمائی   بلکہ فرمایا :

  إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ[ix]

’’ یقیناً وہ جو اللہ کا شریک ٹھہرائے اس پراللہ نے جنت حرام کر دی ہے اور اس کا ٹھکانا آگ ہے۔ اور ظالموں کے کوئی مددگار نہیں ہوں گے۔‘‘

یعنی  اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ  جرم ایسا بڑا ہے کہ اس دنیا میں کوئی سزا اسکے لئے تجویز ہی نہیں کی جا سکتی اسلئے اسکا فیصلہ میں بروز قیامت خود کروں گا۔

اس سے اتر کر توہین رسالت حضرت  عزت مآب رسول کریم ﷺ کا مسئلہ ہے جو   دور جدید  میں کثرت کے ساتھ زیر بحث آنے والے دینی مسائل میں سے ایک ہے۔مسلمانوں کے اکثر فرقوں کا  اس  بارہ میں مسلّمہ عقیدہ ہے کہ شاتم رسول ؐ یعنی آنحضرت ﷺ کی توہین کرنے والا بے شک مسلمان ہو یا غیر مسلم ہو اس  کی سزا شرع ِ اسلامی میں قتل ہے [x]۔ کیونکہ کافر کا قتل تو انکے نزدیک ویسے ہی مباح  یعنی جائز ہے کجا یہ کہ وہ گالی دے یا  کسی اَور طرح رسول پاک ﷺ کی توہین کرے  اور اگر ایک مسلمان آنحضرت ﷺ کو گالی دے تو وہ مرتد  ہو جاتا ہے اس لئے اسکو  قتل کرناواجب  ہو جاتا ہے [xi]۔ اس بارہ میں سب سے بنیادی کتاب جس کو اس عقیدہ کی جڑ کہنا غلط نہ ہو گا اما م ابن تیمیہ ؒ(621ھ-728ھ)کی طرف منسوب کی جاتی  ہے  جسکا نام  الصارم المسلول علیٰ شاتم الرّسول   یعنی شاتم رسول ؐ کے سر پر لٹکتی ننگی تلوار ہے۔ اسلامی دنیا  میں موجود تقریباً تمام  تر دہشت گرد تنظیمیں  اسی کتاب سے دلائل مأخوذ کرتی ہیں  اور انکی کرتوتوں  کے تانے بانے کسی نہ کسی طرح اسی کتاب کے ساتھ جڑتے ہیں۔  اس کتاب  میں موجود طریق ِاستدلال و کلام کو ملاحظہ کرنے سے اس بات کا احتمال بہت بڑھ جاتا ہے کہ غالباً یہ ذخیم   کتاب امام ابن تیمیہ ؒ  کی نہ ہو بلکہ کسی شریر المغز نے لکھ کر انکی طرف منسوب کر دی ہو جیسا کہ ابتدائے اسلام سے   یہود و نصاریٰ مسلمانوں میں فتنہ و فساد برپا کرنے کے لئے کیا کرتے تھے[xii]۔واللہ اعلم۔  بہر حال  ذمہ وار جو بھی ہو مسلمانوں میں یہ عقیدہ  موجود ہے جو  بذات خود ایک  تفصیلی مقالہ کو چاہتا ہے۔ اس جگہ ہم اس مسئلہ کی تفصیلی بحث میں جائے بغیر ایک اصولی  نوٹ تحریر کرتے ہوئے اس مسئلہ کے متعلق اسلامی تعلیم کا خلاصہ بیان کریں گے۔

قرآن کریم اس عقیدہ کے خلاف ہے:

سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے  کہ توہین رسالت کی سزا قتل  کا عقیدہ قرآن کریم کے خلاف ہے۔ قرآن کریم انبیائے گزشتہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ہر دور میں انبیاءؑ کے ساتھ استہزا کیا جاتا  رہا ہے اور انکی دلآزاری کی جاتی  رہی ہے ہے جو کہ بذاتِ خود انکے سچا ہونے کی دلیل بھی ہوا کرتی ہے۔ چنانچہ فرمایا :

  يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ ۚ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ[xiii]

 ’’ وائے حسرت بندوں پر! ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا مگر وہ اس سے ٹھٹھا کرنے لگتے ہیں۔ ‘‘

 اس آیت میں خدا تعالیٰ نے بتا دیا کہ انبیاء کی توہین کوئی  نئی بات نہیں بلکہ یہ تو ہر دور میں ہر نبی کے ساتھ دہرائی جاتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بھی مطلع فرمایا کہ تجھ سے پہلے بھی انبیاء بہت ستائے گئے لیکن وہ صبر کرتے رہے یہاں تک کہ ہماری مدد آن پہنچی [xiv]۔ اور تسلیّ دیتے ہوئے فرمایا :

مَّا يُقَالُ لَكَ إِلَّا مَا قَدْ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِن قَبْلِكَ[xv]

’’ تجھے کچھ نہیں کہا جاتا مگر وہی جو تجھ سے پہلے رسولوں سے کہا گیا۔‘‘

نہایت پیارے انداز میں اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی دلجوئی فرمائی کہ تُو انکی باتوں کو دل پر نہ لے اور صبر کر یہی انبیاء کا طریق ہے۔ قرآن  کریم  نے آپؐ کو صبر کی تلقین ضرور فرمائی تاہم   توہینِ رسالت کی کوئی دنیوی سزا بیان نہیں فرمائی۔   بلکہ اس کے بر عکس ایسے لوگوں کو نصیحت  کرنے، نظر انداز  کرنے، معاف کرنے اورانکی ایذا رسانی پر  صبر کرنے  کی تعلیم دی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے :

وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ وَدَعْ أَذَاهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ[xvi] فَلَا يَحْزُنكَ قَوْلُهُمْ ۘ إِنَّا نَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ[xvii] خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ[xviii] فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ[xix] وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيلًا[xx]

’’اور کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کر اور ان کی ایذا رسانی کو نظر انداز کر دے۔ پس تجھے انکی بات غم میں مبتلا نہ کرے۔ یقیناً ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔ عفو اختیار کر اورمعروف کا حکم دے اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کر۔ پس جو وہ کہتے ہیں اس پر صبر کر۔ صبر کر اُس پر جو وہ کہتے ہیں اور اُن سے اچھے رنگ میں جدا ہو جا۔ ‘‘

یہ وہ احکامات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو دئیے تاہم ہمارے لئے بھی بطور آنحضرت ﷺ کی امّت کے  یہی  تعلیم ہے کہ ہم انہیں احکامات کی پیروی کریں۔ پھر مومنین کو  خصوصی طور پر  بھی  تعلیم دی  گئی ہے کہ اگر وہ کسی قسم کی  توہین ہوتی  دیکھیں تو انکا ردّعمل کیا ہونا چاہیے۔ چنانچہ فرمایا:

إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ[xxi]

’’ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہے یا ان سے تمسخر کیا جا رہا ہے تو اُن لوگوں کے پاس نہ بیٹھو یہاں تک کہ وہ اس کے سوا کسی اور بات میں مصروف ہو جائیں۔ ‘‘

نیز فرمایا کہ جو لوگ توہین کریں ان سے اعراض کرو اور انکو کہو کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں  اور ہم جاہلوں سے تعلق نہیں رکھتے[xxii]۔ مرتکبینِ توہین کے  ساتھ معاملات کے بارہ میں  قرآنی تعلیم کا لب لباب  یہی ہے جو ہم نے بیان کیا ہے۔ اس میں کہیں بھی نہ فرد کو اور  نہ حکومت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ  توہین رسالت کی  سزا دے۔ بلکہ اسکی سزا  کا اختیار خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے :

إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ[xxiii] إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا[xxiv] وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ[xxv]

’’ یقیناً ہم استہزاءکرنے والوں کے مقابل پر تجھے بہت کافی ہیں۔ وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا میں بھی لعنت ڈالی ہے اور آخرت میں بھی اور اس نے ان کے لئے رُسواکُن عذاب تیار کیا ہے۔ اور وہ لوگ جو اللہ کے رسول کو دکھ دیتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب (مقدر) ہے۔ ‘‘

مندرجہ بالا قرآنی تعلیم ایسی واضح ہے کہ اسکے ہوتے ہوئے توہین کی سزا قتل کاذرا سا  جواز نکلالنا بھی ممکن نہیں بلکہ معصیت ہے ۔

توہین کرنے والےلا تعداد تھے :

 جو تعریف توہین ِرسالت  کی  علماء کرتے ہیں  قرآن کریم کے مطابق تو سارا عرب ہی اس توہین کا مرتکب نظر آتا ہے۔  ایک نبی کی اس سے بڑی توہین کیا ہو گی کہ اسے جھوٹا کہا جائے۔ قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے لوگ آپؐ کو صرف جھوٹا ہی نہیں  کہا کرتے تھے  بلکہ اور کئی طرح کی بد زبانی  کیا کرتے تھے۔۔ اس طرح تو ہر ایک کو قتل کی  سزا دینی چاہیے تھی ۔ چنانچہ قرآن کریم انکے اقوال بیان فرماتا ہے :

قَالُوا إِنَّمَا أَنتَ مُفْتَرٍ ۚ[xxvi] قَالُوا إِنَّمَا أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ[xxvii] قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ[xxviii] أَمْ يَقُولُونَ بِهِ جِنَّةٌ[xxix] أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا[xxx]

’’ وہ کہتے ہیں کہ تُو محض ایک افترا کرنے والا ہے۔ انہوں نے کہا یقیناً تُو ان میں سے ہے جو جادو سے مُختل کر دیئے جاتے ہیں۔ (آپؐ نے کہا کہ  مجھ پر وحی ہوتی ہے ) اس کے برعکس انہوں نے کہا کہ یہ پراگندہ خوابیں ہیں بلکہ اُس نے یہ بھی افترا کیا ہے درحقیقت یہ تو محض ایک شاعر ہے۔ یا وہ کہتے ہیں کہ اسے جنون ہو گیا ہے۔ یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اللہ پر جھوٹ گھڑ لیا ہے۔‘‘

غرض اس لحاظ سے آنحضرت ﷺ کے زمانہ کو دیکھا جائے تو ہزارو ں لوگ قولاً بھی اور فعلاً بھی  توہین ِ رسالت کے مرتکب نظر آتے ہیں۔ لیکن ان کے جواب میں  قرآن کریم کہیں بھی یہ نہیں کہتا کہ جو ایسا کہے اسکی گردن اڑا دو بلکہ ان سے دلیل سے بات کرنے کی تعلیم دیتا ہے ۔ کہیں فرمایا انکو کہو اگر میں نے افترا کیا ہے تو تم بھی ان جیسی سورتیں بنا لاؤ۔ کہیں فرمایا کہ انکو کہو  کہ میں حق کے ساتھ آیا ہوں  لیکن تم لوگ جانتے نہیں وغیرہ۔ اسلامی تعلیم اگر یہ ہوتی کہ جو نبیﷺ  کی توہین کرے اورآپؐ کو نعوذ باللہ  جھوٹا کہے اسے قتل کر دو تو سوچیں کہ یہود و نصاریٰ کو  اور مشرکین کو تبلیغ کیسے کی جاتی۔ کیونکہ وہ تو  آپؐ کو نعوذ باللہ جھوٹا ہی سمجھتے تھے اسی لئے ایمان نہیں لاتے تھے ورنہ اگر سچا جانتے تو ایمان کیوں نہ  لے آتے۔ اسلام   ایک مذہب جدید تھا  اور  اسکی نشر و اشاعت   تبلیغ پر منحصر تھی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ایسی تعلیم دے جس سے تبلیغ کے راستے مسدود ہوتے ہوں۔

 تصوّر کریں  کہ اگر  آج ایک عیسائی صحتِ نیت کے ساتھ رسول کریم ؐ  کی تعلیمات کا مطالعہ کرنے کے بعد بھی  آپؐ کی نبوت کا قائل نہیں ہوتا  اور سمجھتا ہے کہ نعوذ باللہ آپؐ نے جھوٹ گھڑا ہے۔ اور وہ کسی مسلمان سے  کہتا ہے کہ تمہارا نبی ؐ مجھے نعوذ باللہ سچا نہیں لگتا۔ تو ایسی صورت میں ایک  مسلمان کو کیا کرنا  چاہیے؟۔ کیا وہ آپؐ کی سچائی کے دلائل اسکے سامنے پیش کرے یا  تلوار اٹھا کر اس کا سر قلم کر دے ؟۔ ایسی نا معقول تعلیم نہ قرآن کریم کی ہے اور نہ ہی ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا اس  سے کچھ تعلق ہے ۔ بلکہ قرآن کریم  نے مسلمانوں کو تکلیف دہ باتوں پر صبر کی تعلیم دی۔ چنانچہ فرمایا:

وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ۚ وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ[xxxi]

’’ تم ضرور ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان سے جنہوں نے شرک کیا، بہت تکلیف دِہ باتیں سنو گے۔ اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یقیناً یہ ایک بڑا باہمت کام ہے۔‘‘

 اس آیت میں توپیشگوئی کے رنگ میں مسلمانوں کو یہ بھی  بتا یا گیا ہے  کہ آئندہ   یہود و نصاریٰ  کبھی تمہارے رسول ؐ کی شان میں گستاخی کر کے اور کبھی تمہارے دین کا مذاق اڑا کر تمہاری بہت دلا ٓزاری کریں گے مگر تم نے صبر کرنا ہے اور ہمت دکھانی ہے۔ امام رازی ؒ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :

أن المراد منه أمر الرسول صلى الله عليه وسلم بالمصابرة على الابتلاء في النفس والمال، والمصابرة على تحمل الأذى وترك المعارضة والمقابلة، وإنما أوجب الله تعالى ذلك لأنه أقرب الى دخول المخالف في الدين[xxxii]

’’اس سے مراد یہ ہے کہ  جیسا  کہ آنحضرت ﷺ نے  جان اور مال کی ابتلاء پر صبر کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اسی طرح  تکلیف و دلآزاری کو برداشت کرنے کی اور دشمنی و  مقابلہ  نہ کرنے کی تعلیم دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی  یہاں اس تعلیم کا ذکر فرمایا   ہے کیونکہ ایسا کرنے سے مخالف دین اسلام میں داخل ہونے کے زیادہ قریب آ جاتا ہے۔ ‘‘

 یہی وہ تعلیم ہے جو  ہمارے آقا محمد رسول اللہ ﷺ کی ہے جو اس سے دور ہے وہ مردود ہے۔

اسوۂِ رسول ﷺ اس عقیدہ کے   خلاف ہے :

آنحضرت ﷺ کا اسوۂِ مبارک خود اس  عقیدہ کو ردّ کرتا ہے  اور آپؐ کی سیرت کا ہلکا سا مطالعہ بھی اس بات کے معلوم کرنے کے لئے کافی ہے  کہ آنحضرت ﷺ نے   خدا تعالیٰ کی راہ میں  ہر ایذاء ہر گالی  کو بخوشی برداشت کیا  اوراللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے  عفو و درگزر کی وہ اعلیٰ مثالیں قائم کی جن  کی نظیر  کسی اور نبی کے حالات ِزندگی میں  نہیں ملتی۔ سیرت کی کتابیں ایسے واقعات سے بھری پڑی ہیں۔ گستاخی کرنے والے آپ پر راکھ پھینکتے، پتھر مارتے، گلے میں پٹکا ڈال کر کھینچتے، زہر دینے کی کوششیں کرتے، ہنسی ٹھٹھا، گالی گلوچ تو روز کا معمول تھا۔لیکن اس رحمتِ عالم ﷺ نے  ایسے لوگوں  پر کسی قسم کی سختی کرنا گوارہ نہ فرمائی  بلکہ اپنے دشمنوں کے متعلق دعا کرتے کہ اے اللہ میری قوم کو بخش دے یہ جانتے نہیں کہ یہ کیا کر رہے ہیں [xxxiii]۔ حضرت عائشہؓ آپﷺ کی سیرت کے اس پہلو کو بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ ’’آنحضرت ﷺ نے کبھی اپنی ذات کی خاطر اپنے اوپر ہونے والی زیادتی کا بدلہ نہیں لیا‘‘۔[xxxiv]

 صرف ایک طائف کے واقعہ کو ہی لے لیجئے  کیا اس سے بڑھ کر  توہین اور ایذاء  کی کوئی داستان  آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ملتی ہے  ؟۔ لیکن کیا آپؐ نے انکو قتل کر دینے کا فتویٰ دیا؟۔ آپؐ وہاں تبلیغ اسلام کرنے کی غرض سے تشریف لے  گئے مگر وہاں کے  سرداروں نے آپؐ کا انکار کیا اور ہنسی اڑائی اور واپسی پر مسلسل تین میل تک اس بستی کے  لوگ آپؐ  کو گالیاں دیتے اور آپؐ پر پتھر برساتے چلے گئے  یہانتک کے آپؐ کا سارا بند خون سے تر بتر ہو گیا[xxxv]۔ایک دفعہ حضرت عائشہ ؓ  نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا آپؐ کو کبھی جنگ احد والے دن سے زیادہ تکلیف پہنچی ؟ آپؐ نے اسکے جواب میں فرمایا کہ تمہاری  قوم  نے مجھ پر بڑی مصیبتیں ڈھائی ہیں مگر ان سب میں عقبہ کا دن مجھ پر سب سے زیادہ سخت تھا۔ یہ کہہ کر آپؐ نے سفر  طائف کے حالات سنائے اور فرمایا کہ میرے پاس پہاڑوں کا فرشتہ آیا تھا کہ اگر آپؐ حکم دیں تو میں انکو پیس کر رکھ دوں۔ باوجود اسکے کے آپؐ کو انتہائی درجہ کی تکلیف پہنچائی گئی اور طوفان بد تمیزی اٹھایا گیا،  اس رحمت کے مجسمہ نے جواباً کیا کہا؟ فرمایا نہیں نہیں مجھے یقین ہے اگر یہ نہیں تو اللہ تعالیٰ انکی اولادوں میں ایسے لوگ پیدا کرے گا جو خدائے واحد کے نام لیوا ہونگے [xxxvi]۔

 پھر آپؐ کی زندگی میں توہین کا ایک اور واقعہ ایسا  بھی ملتا ہے  جسکا ذکر ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا گیا  ہے۔  ایک غزوہ  کے دوران رئیس المنافقین  عبد اللہ بن ابئ بن سلول نے  آپؐ کی توہین میں جو الفاظ کہے  قرآن کریم ان کو یوں بیان فرماتا ہے :

  يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ [xxxvii]

 ’’ وہ کہتے ہیں اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹیں گے تو ضرور وہ جو سب سے زیادہ معزز ہے اُسے جو سب سے زیادہ ذلیل ہے اس میں سے نکال باہر کرے گا۔ ‘‘

جب آنحضرت ﷺ کو اس بارہ میں اطلاع پہنچی تو آپؐ کے پاس حضرت عمر ؓ بھی تشریف فرما تھے۔ وہ یہ الفاط سن کر غصہ و غیرت سے بھر گئے اور آنحضرت ﷺ سے عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ! آپؐ مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق فتنہ پرداز کی گردن اڑا دوں اس پر آپؐ نے فرمایا ’’ دَعْهُ لاَ يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ‘‘[xxxviii]عمر ! جانے دو۔ کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ لوگوں میں یہ چرچا ہو کہ محمدؐ اپنے ساتھیوں کو قتل کرواتا پھرتا ہے۔ یہ موقع تھا کہ آنحضرت ﷺ اس منافق کو توہین  کی سخت سے سخت سزا دیتے اور ہمیشہ کے لئے مثال قائم کر دی جاتی۔توہینِ رسالت کے جتنے بھی واقعات آنحضرتﷺ کی زندگی کے پیش کئے جاتے ہیں یہ واقعہ  ان سب سے زیادہ  واضح اور معین ہے۔ اس واقعہ کے سارے شواہد پورے تھے۔ مجرم کا بھی پتہ تھا، جرم بھی واضح تھا اور گواہ بھی پورے تھے بلکہ خود قرآن کریم  نے بھی اس کی گواہی دی تھی۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے نہ صرف حضرت عمر ؓ کو قتل سے منع فرمایا بلکہ روایات میں آتا ہے کہ عبد اللہ بن ابئ بن سلول کا لڑکا جسکا نام حباب تھا مگر آنحضرتﷺ نے اسکا نام بدل کر عبد اللہ رکھ دیا تھا۔ وہ ایک بہت مخلص صحابی تھا گھبرایا ہوا آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا  یا رسول اللہ اگر آپؐ حکم دیں تو میں اپنے باپ کا سر کاٹ کر آپؐ کے قدموں میں لا ڈالتا ہوں۔  کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ اگر کسی اور نے اسکو قتل کیا تو کوئی جاہلیت کی رگ میرے اندر  جوش  نہ مار دے اور میں اپنے باپ کے قاتل کو نقصان پہنچا بیٹھوں۔ اس پر   آپؐ نے  اسے تسلیّ دی  کہ ہم اس سے نرمی اور احسان کا معاملہ کریں گے[xxxix]۔ یہ دوسرا موقع تھا،  اگر توہین کی سزا قتل ہوتی تو آپؐ اسکے بیٹے کو ہی حکم دیتے کہ جاؤ اس شاتم کو قتل کر دو لیکن آپؐ نے ایسا نہ کیا۔ ترمذی میں آتا ہے کہ عبداللہ بن ابئ بن سلول کے بیتے کو اپنے باپ کے خلاف اتنا جوش تھا کہ جب یہ لشکر مدینہ واپس لوٹ رہا تھا تو  اسنے اپنے باپ کا رستہ روک لیا اور کہا کہ جب تم اپنے منہ سے یہ اقرار نہ کرو کہ رسول اللہ ﷺ معزز ہیں اور تم ذلیل ہو تب تک میں تمہیں واپس نہ جانے دونگا۔ بلآخر اسنے مجبور ہو کر یہ الفاظ کہہ دئیے جس پر عبد اللہ نے اسکا راستہ چھوڑ دیا[xl]۔

واضح رہے کہ تاریخ کی کتابوں میں  عبد اللہ بن ابئ بن سلول    کے متعلق توہین کے اور بھی واقعات درج ہیں۔ واقعہ افک میں حضرت عائشہ ؓ پر بہتان   کا بانی مبانی بھی یہی شخص تھا[xli]۔ جنگ احد میں اس نے غداری کی اور  اپنے 300 ساتھیوں کو لے کر  مدینہ لوٹ گیا [xlii]۔ لیکن آپؐ نے ہمیشہ اس سے نرمی کا سلوک کیا حتیٰ کے جب وہ مرا تو آپؐ نےاسکو کفنانے کے لئے اپنا کرتہ عنایت فرمایا اور با وجود اسکے کہ حضرت عمر ؓ نے آپؐ کو روکنے کی کوشش کی آپؐ نے اسکا جنازہ بھی پڑھایا[xliii]۔ مندرجہ بالا  واقعات میں  سے ایک مکہ میں بظاہر حالت ِمظلومی کا ہے اور دوسرا ہجرت کے بعد مدینہ میں حالت ِ اقتدار کا ہے۔

طوالت مضمون کے تحت ہم ان دو واقعات پر ہی اکتفا کرتے ہیں  ورنہ آپﷺ کی مطہر و مبارک سیرت سے  ہم  ایسے ہزاروں واقعات  کا  سورج نکال سکتے ہیں جو اس عقیدہ توہین رسالت کی سزا  کی سیاہی اور باطلیت  کو جڑ سے اکھیڑ کر رکھ دے۔

جب آنحضرت ﷺ کی زندگی کے اس پہلو کو پیش کیا جاتا ہے تو الصارم المسلول اور اسی نکتہ نظر کے حامی احباب یہ کہہ دیتے ہیں کہ اسلام اس وقت کمزور تھا اس لئے سزا نہ دی گئی[xliv]۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ یعنی دوسرے الفاظ میں یہ کہا جائے کہ آپﷺ کا عفو و درگزر کرناآپؐ کا خُلقِ عظیم نہ تھا بلکہ حالات کے ساتھ سمجھو تا تھا؟۔ہمارے نزدیک تو یہ کہنا  کہ اسلام یا آپؐ نعوذ باللہ کبھی کمزور بھی  تھے  بذات خود آنحضرت ﷺ کی توہین ہے۔ حالانکہ واقعتاً آپ کبھی بھی کمزور نہ تھے۔  واقعہ طائف میں فرشتے آپؐ کی نصرت کے لئے پہنچ جاتے ہیں  کہ ہم انکو تباہ کر دیں گے۔ کیا نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ اس وقت کمزور تھے  یا  پھر آپؐ کو شک تھا کہ یہ فرشتے مجھ سے جھوٹ ہی نہ کہہ رہے ہوں۔ پھر عبد اللہ بن ابی بن سلول کے واقعہ میں  اسلامی لشکر غزوۂ بنی مصطلق میں فتح پا کر لوٹ رہا تھا  کیا نعو ذ باللہ صحابہؓ میں غیرت نہ تھی کہ ایک انسان جو توہین پر تو ہین کر رہا ہے اسے کھلم کھلاّ چھوڑ دیا گیا۔آنحضرتﷺ کے وہ صحابہ جو    یہ بھی برداشت نہ کر سکتے تھے کہ انکے آقا کو کوئی کانٹا بھی چبھ جائے وہ یہ کیسے برداشت کر گئے۔  فتح مکہّ کے موقع پر  جب دس ہزار قدوسیوں کی چمکتی ہوئی تلواروں کے نیچے مکہ کے ہزاروں شاتمین  تھے جنہوں نے سالہا سال تک آنحضرت ﷺ کو دکھ اور مصیبتوں سے دوچار رکھا اور ہر گلی چوک میں گالیوں کے نشتر اس نبی معصوم پر برسائے گئے۔ پھر ہجرت کے بعد بھی آپؐ کی جان کے درپے رہے اور آپؐ سے جنگیں کیں۔ آپؐ کے قریبی رشتہ داروں کو قتل کیا گیا، انکے سینے چیر کر انکے جگر چبائے گئے، آپؐ کے جان نثار صحابہ  کو  مارا گیا ۔ آج موقع تھا کہ ان سب پر توہین رسالت کی سزا کا نفوذ کیا جاتا مگر تاریخ عالم نے ایک عجیب معاملہ دیکھا اور قتل عام کے فرمان کی بجائے مکہ کی فضاؤں میں لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ[xlv]  کے شادیانے بجنے لگے۔ کیا  اس وقت نعوذ باللہ اسلام کمزور تھا؟۔

آپؐ کے اس مستقل اسوہ کے مقابل پر عقیدہ  توہین رسالت کی سزا قتل کے حاملین  یا تو بعض کمزور روایات اور وضعی احادیث کا سہارا لیتے ہیں یا  پھر تاریخی واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش  کرتے ہیں جو کہ آنحضرتﷺ کے مستقل اسوہ کے خلاف ہیں ۔  پھر صحابہ کے اقوال  کو پیش کرتے ہیں جنکی کوئی سند نہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ الصارم المسلول میں بھی یہی طریق اپنایا گیا ہے  جسکی وجہ سے قوی احتمال اس بات کا ہے کہ یہ کتاب  امام ابن تیمیہ ؒ  جیسے جیّد عالم کی تحریر  کردہ نہیں  ہے۔ واللہ اعلم۔

جو روایات اس سلسلہ میں پیش کی جاتی ہیں انکی روایت و دروایت کے اصولوں کے تحت کیا حیثیت ہے ؟ یہ ایک علمی  مسئلہ ہے جس کے لئے ایک تفصیلی بحث درکار ہے  جس میں پڑنے سے پہلے  یہ سوال  ہمارے سامنے حل طلب رہ جاتے ہیں۔ (ا) کیا ایسا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تو ان حالات میں اعراض کرنے، درگزر، عفو اور صبر کرنے کا  حکم دے مگر آنحضرتﷺ  اسکے خلاف قتل کی تعلیم دیں ؟۔(ب) کیا یہ ممکن ہے کہ آپؐ اپنی پوری حیات طیبہ میں بیشتر گستاخوں کو تو معاف کر دیں لیکن چند افراد سے آپؐ اسکے بر خلاف سلوک فرمائیں۔

 حقیقت یہ ہے کہ جن واقعات کو پیش  کر کے توہین رسالت کی سزا قتل کی دلیل لی جاتی ہے  ان میں آنحضرت ﷺ کے سخت رویہ کا سبب توہین رسالت نہیں بعض ایسے دیگر جرائم تھے جو  مسلمانوں کی حکومت کے خلاف تھے یا قصاص کا حکم رکھتے تھے۔ مثلاً روایت بیان کی جاتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان کیا لیکن بعض افراد کو جنکی تعداد ایک سے 10 تک بیان ہوئی ہے[xlvi] انکے بارہ میں  توہین رسالت کی سزا کے طور پر قتل کا حکم دیا گیا اور یہ بھی حکم دیا   کہ خواہ وہ خانہ کعبہ کے پردے میں بھی لپٹ جائیں انہیں قتل کیا جائے۔ علامہ شبلی نعمانی  لکھتے ہیں :

’’محد ثانہ تنقید کی رو سے یہ بیان صحیح  نہیں۔ اس جرم کا (توہین رسالت کا:ناقل) مجرم تو سارا مکہ تھا۔ قریش میں سے کون تھا (بجز دو چار کے ) جس نے آنحضرتﷺ کو سخت سے سخت ایذائیں نہیں دیں۔ بایں ہمہ ان ہی لوگوں کو یہ مژدہ سنایا گیا کہ انتم الطلقاء جن لوگوں کا قتل بیان کیا جاتا ہے وہ نسبتاً کم درجہ کے مجرم تھے۔‘‘[xlvii]

 عبد العزّٰی بن خطل  جسکے قتل کا ذکر امام بخاری نے کیا ہے[xlviii]  ۔ یہ  شخص فتح مکہ سے قبل مدینہ آ کر مسلمان ہو گیا تھا۔ آنحضرتﷺ نے اسے بعض بستیوں میں اموال وصول کرنے کے لئے بھیجا۔ اس کےساتھ ایک انصاری بھی تھا جسے اس نے قتل کر دیا اور خود بھاگ کر مکہ چلا گیا۔ لہذا اسے اس قتل کے  قصاص میں قتل کیا گیاتھا۔[xlix]پھر ایک اور شخص مقیس بن صبابہ کا نام آتا ہے جسے قتل کیا گیا۔ غزوۂ ِ ذی قرد میں اسکے بھائی کو ایک انصاری نے  دشمن سمجھ کر قتل کر دیا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے اس کو قتل کی دیت دلوا دی لیکن اس بد بخت نے پھر بھی اس صحابی کو قتل کر دیا اور خود مکہّ بھاگ گیا۔ اس وجہ سے آنحضرت ﷺ نے اسے بھی واجب القتل قرار دیا۔[l]

 ان دو اشخاص کے علاوہ باقی جتنے بھی لوگوں کی نسبت   حکمِ قتل کی وجہ  انکی گستاخی بیان کی جاتی ہے وہ  سب روایتیں صرف ابن اسحاق تک پہنچ کر دم توڑ دیتی ہیں [li]۔ ہجویہ شاعری کرنے اور گانے  کے جرم میں جو قتل کی روایات  ہیں وہ سب روایتاً ضعیف ہیں اور بعض تو وضعی ہیں۔ بہر حال  ان میں سب سے زیادہ معتبر روایت ابو داؤ د کی ہے جس میں مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا کہ چار اشخاص کو کہیں امن نہیں دیا جا سکتا۔ امام ابو داؤد نے حدیث نقل کرنے کے بعد لکھا ہے لَمْ أَفْهَمْ إِسْنَادَهُ مِنِ ابْنِ الْعَلاَءِ كَمَا أُحِبُّ[lii] یعنی اس روایت کی سند جیسی مجھے چاہیے تھی نہیں ملی۔ اسکے علاوہ  جن لوگوں کے نام تواریخ میں  آتے ہیں ان میں سابق کاتب وحی  عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح،  ابو جہل کا بیٹا عکرمہ بن ابی جہل،  آپؐ کی لخت جگر حضرت زینبؓ کا قاتل ہبار بن الاسود، حضرت حمزۃ ؓ کا قاتل   وحشی بن حرب  وغیرہ ہیں۔ ان سب  کو ہمارے آقا و مطاع رحمۃ للعالمین  محمد  ﷺ نے معاف فرما دیا۔

 پھر جب فتح مکہ کے واقعات سے  مقصد حل نہیں ہوتا تو بعض واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کعب بن اشرف یہودی کے قتل کا واقعہ  پیش کر کے کہا جاتا ہے وہ آنحضرت ﷺ  کے خلاف ہجو کرتا تھا اور گستاخی کرتا تھا  اور اسکا جرم صرف یہ تھا کہ وہ لسانی ایذا کا موجب تھا۔ اس نے کوئی ایسا کام نہ کیا تھا جسکا تعلق حرب و پیکار سے ہو[liii]۔ حالانکہ یہ بات واقعات کے صریح خلاف ہے ۔ ہاں کعب بن اشرف ایک مشہور شاعر ضرور تھا لیکن اسکے جرائم محاربت والے تھے۔ ابو داؤ د میں اسکے بارہ میں جو روایت آئی ہے اس میں لکھا ہے :

 وَكَانَ كَعْبُ بْنُ الأَشْرَفِ يَهْجُو النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَيُحَرِّضُ عَلَيْهِ كُفَّارَ قُرَيْشٍ[liv]

’’کعب بن اشرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتا تھا اور کفار قریش کو آپ کے خلاف اکسایا کرتا تھا‘‘

چنانچہ تواریخ میں آتا ہے کہ کعب کو اسلام سے سخت عداوت تھی۔ جب بدر میں قریش کو شکستِ فاش ہوئی تو اس کو نہایت صدمہ ہو ا اور یہ تعزیت کے لئے مکہ گیا۔ وہاں جا کر اس نے لوگوں کو جمع کر کے مقتولین کے لئے پُر درد مرثیے پڑھے [lv]۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ اپنے ساتھ 40 لوگوں کو لے کر ابو سفیان کے پاس گیا اور اسے بدر کا انتقام لینے کے لئے بر انگیختہ کیا[lvi]  اور انکو جوش دلایا کہ وہ دوبارہ نبی اکرم ﷺ کے خلاف جنگ کریں [lvii]۔ وہاں سے  مدینہ واپس آ کر ہجو میں اشعار کہے اور لوگوں کو آنحضرت ﷺ کے خلاف کرنے کی سازشیں کرنے لگا۔ پھر صرف اسی بات پر ہی اکتفا نہ کی بلکہ آپ ﷺ کو دعوت پر بلا کر دوکھے سے  قتل  کرنے کا قصد بھی کیا [lviii]۔ یہ تمام جرائم اس نے اس حال میں کئے جبکہ مدینہ کے یہود آنحضرت ﷺ کے ساتھ معاہدہ کر چکے تھے۔ اس لحاظ سے وہ غدّاری کا بھی مرتکب تھا۔ اب الصارم المسلول پھر بھی یہ کہے کہ اسنے عملاً حکومت مدینہ کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا تھا تو اس پر سوائے انا للہ و انا الیہ راجعون کے  کچھ نہیں کہا جا سکتا۔[lix]

الصارم المسلول کہتی ہے کہ  جو توہینِ رسالت  کرے اسکی توبہ بھی قبول نہیں کی جا سکتی اسکو لازماً قتل کیا جائے[lx]۔ حیرت اس بات کی ہے کہ شرک جو سب سے بڑا گناہ ہے اس  کے لئے تو خدا تعالیٰ فرمائے کہ موت سے پہلے توبہ کی جا سکتی ہے اور میں اسے قبول بھی کروں گا [lxi]۔ مگر  اس سے کم درجہ کے گناہ پر توبہ بھی قبول نہ کی جانے کی تعلیم دے۔

مضمون  کی طوالت کے پیش نظر اب ہم اس بحث کو سمیٹتے ہیں امید ہے کہ حق کے طالبوں کے لئے قرآن اور اسوہ ٔ رسول حجت ہو گا۔ تاہم مختصراً یہ بتاتے چلیں کہ  ائمہ صحاح ستّہ  میں سے کسی ایک  کابھی یہ عقیدہ نہ تھا کہ مرتکب توہین کو قتل کیا جائے۔ صحہ ستہ کے تمام اماموں نے اپنے حدیث کے مجموعہ جات میں  مندرجہ ذیل حدیث  کو الفاظ کے معمولی  فرق کے ساتھ  نقل کر کے اپنے مسلک کو واضح کیا ہے۔ وہ حدیث یہ ہے :

لاَ يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلاَّ بِإِحْدَى ثَلاَثٍ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالْمَارِقُ مِنَ الدِّينِ التَّارِكُ الْجَمَاعَةَ[lxii]

’’ کسی مسلمان کا خون جو کلمہ لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کا ماننے والا ہو حلال نہیں ہے البتہ تین صورتوں میں جائز ہے۔ جان کے بدلہ جان لینے والا، شادی شدہ ہو کر زنا کرنے والا اور اسلام سے نکل جانے والا  جماعت کو چھوڑ دینے والا۔ ‘‘

پھر  حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کا مؤقف بھی اسکے خلاف ہے۔ انکے اصحاب کے  نزدیک مرتکبِ توہین مسلمان ہویا ذمی اسکی سزا قتل نہیں ہے جسکا اقرا ر الصارم المسلول کو بھی ہے[lxiii] ۔ بلکہ انکے نزدیک توہین رسالت کی کوئی حدّ سرے سے ہے  ہی نہیں۔ وہ اسے حکم ارتداد میں رکھتے ہیں اورمرتد کے  توبہ کرنے پر قتل کے  حکم کو بھی ساقط قرار دیتے ہیں۔ انکے نزدیک  ذمی کو تو کسی حال میں بھی توہین پر قتل نہیں کیا جا سکتا اور مسلمان عورت  کو بھی توہین پر قتل نہیں کیا جا سکتا۔ حضرت امام مالک ؒ کی کتاب مؤطا  میں  کہیں بھی اس عقیدہ کو بیان نہیں کیا گیا۔

 قرآن کریم اور اسوۂ رسول ﷺ کا  اس عقیدہ ٔ توہین رسالت کے خلاف ہونا  ہم ثابت کر آئے ہیں۔ اس  کے بعد اب جب ائمہ احادیث سے بھی یہ عقیدہ ثابت نہیں  نہ امام ابو حنیفہ ؒ اسکی تائید کرتے نظر آتے ہیں نہ امام مالک ؒ سے یہ عقیدہ ثابت ہوتا ہے  تو پھر معلوم نہیں الصارم المسلول کس اجماع کی بات کرتی ہے۔

خلاصہ کلام :

توہین رسالت کی  کوئی سزا قرآن کریم سے ثابت نہیں نہ سنت ِ رسول ﷺ  اسکی تائید کرتی ہے۔  ہاں  کسی شخص کے  توہین امیز  قول یا فعل سے  چاہے وہ کسی  بھی مذہب کی توہین  ہو یا مذہبی شخصیت کی  یا قومی و سیاسی شخصیت کی ہو۔ ملک میں فساد کا خدشہ ہو یا اس کے ذریعہ سے کسی طبقے کی دلآزاری ہوتی ہو   تو ایسی صورت میں دفع فساد کی اسلامی تعلیم کے مطابق  حکاّم ِ وقت مجاز ہیں کہ  وہ   توہین کے متعلق قانون سازی کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اسلامی تعلیم کے مطابق  یہ کام  حکاّم کا ہے  کہ وہ معاشرے میں امن کے قیام کو یقینی بنائیں۔ جیسا کہ دنیا میں Blasphemy Lawکی مثالیں British Lawمیں بھی   ہیں اور امریکا جیسے  بڑے ممالک میں بھی پائی جاتی (امریکا میں  Defamation law کی مثال موجود ہے )۔ اسلامی سلطنت میں  ایسی قانون سازی کے ذریعہ جو بھی سزا  حکاّم  مقرر کریں وہ تعزیری اور تادیبی  کہلائے گی۔بے شک وہ ایسے مجرم کو سزائے موت ہی کیوں نہ دے دیں تب بھی وہ سزا توہین کی نہیں بلکہ تنشیر ِ فساد  کی ہی ہو گی  نہ کہ توہین رسالت کی سزا کے طور پر ہو گی۔

 یہ تو کام حکومتِ وقت کا ہے تاہم جہاں تک  مسلمانوں کا تعلق ہے تو انکو چاہیے کہ جب مخالف نادانی اور شرارت سے آپ ﷺ کی توہین کی کوشش کرے تو اسکا جواب آنحضرت ﷺ کی سیرت مبارکہ کو بیان کرنے سے دیں۔  جس  کے علم سے مخالف آپؐ کی تعریف پر مجبور ہو جائے۔ جیسا کہ قرآن کریم کی تعلیم ہے کہ بھلائی برائی کو دور کر دیتی ہے [lxiv] یہی سبق آنحضرت ﷺ کے ارشاد سے ملتا ہے کہ ’’ وہ مذمم کہہ کر مجھے لعنت ملامت کرتے ہیں حالانکہ میرا نام محمّدؐ ہے ‘‘[lxv]۔  تو ہمیں آپؐ کی حسین سیرت کو لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہیے اور جو توہین کی کوشش کرے اس سے اعراض کرنا چاہیے ۔ کیونکہ کوئی آپؐ کی توہین کر ہی نہیں سکتا۔ چہ نسبت خاک را  بہ عالم پاک۔ آپؐ کی سیرت تو مثلِ ماہتاب ہے کیا کوئی چاند پر تھوک سکتا ہے ؟۔

اپنا منہ ہی کر لیا گندا

پاگل نے جب چاند پہ تھُوکا

[i][i]  احبار باب 24، آیت 16            نیز سلاطین 1 باب 21، آیت 10

[ii]  استثناء، باب 21، آیت 18-21

[iii]  لوقا باب 12، آیت 10

[iv]  منو سمرتی 248:9 (’’ اگر شودر ارادتاً کسی پنڈت کی توہین کرے تو بادشاہ کو چاہیے کہ اسے مختلف سزائیں  بلکہ موت کی سزا دے‘‘)

[v]  سورۃ الانعام : 109

[vi]  سورۃ الانعام: 109

[vii] سورۃ النساء: 49

[viii]  سورۃ الفرقان : 71-72

[ix]  سورۃ المائدہ : 73

[x]  الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول ، صفحہ38 (مکتبہ قدوسیہ ، مترجم پروفیسر غلام احمد حریری)

[xi]  الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول ، صفحہ 232 (مکتبہ قدوسیہ ، مترجم پروفیسر غلام احمد حریری)

[xii]  اس بارہ میں باقاعدہ تحقیقات موجود ہیں کہ یہ سلسلہ ابتدائے اسلام سے ہی شروع کر دیا گیا تھا۔ جب یہود و نصاریٰ کو یہ معلوم ہو گیا کہ وہ دلائل اور فوجی طاقت کے ذریعہ مسلمانوں پر فتح نہیں پا سکتے تو ان میں سے بعض  نے صرف  مسلمانوں میں فتنہ پردازی کے لئے اسلام قبول کیا اور جھوٹی روایات گھڑیں اور انکو نبی ﷺ ، خلفائے راشدین اور صحابہؓ کی طرف منسوب کیا۔

[xiii]  سورۃ یٰسین: 31

[xiv]  سورۃ الانعام : 35

[xv]  حٰم سجدۃ: 44

[xvi]  سورۃ الاحزاب : 49

[xvii]  سورۃ یٰسین: 77

[xviii]  سورۃ الاعراف: 200

[xix]  سورۃ طٰہٰ: 131

[xx]  سورۃ المزمّل: 11

[xxi]  سورۃ النساء : 141

[xxii]  سورۃ القصص : 56

[xxiii]  سورۃ الحجر: 96

[xxiv]  سورۃ الاحزاب: 58

[xxv]  سورۃ التوبۃ : 61

[xxvi]  سورۃ النحل : 102

[xxvii]  سورۃ الشعراء: 154

[xxviii]  سورۃ الانبیاء: 5

[xxix]  سورۃ المؤ منون : 71

[xxx]  سورۃ الشوریٰ: 25

[xxxi]  سورۃ آل عمران: 187

[xxxii]  مفاتیح الغیب ، تحت سورۃ آل عمران آیت 186

[xxxiii]  صحیح مسلم، کتاب الجہاد و السیر، باب غزوۃ احد

[xxxiv]  مؤطا امام مالک، کتاب حسن الخلق

[xxxv]  ابن ہشام و طبری

[xxxvi]  صحیح بخاری، کتاب بدء الخلق

[xxxvii]  سورۃ المنافقون : 9

[xxxviii]  صحیح بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ المنافقین ، باب قوله يقولون لئن رجعنا إلى المدينة ليخرجن الأعز منها الأذل

[xxxix]  ابن ہشام و طبری

[xl]  جامع ترمذی ،کتاب التفسیر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم

[xli]  صحیح بخاری ، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ النور

[xlii]  ابن ہشام ، ابن سعد

[xliii]  صحیح بخاری، کتاب الجنائز

[xliv]  الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول ، صفحہ292 (مکتبہ قدوسیہ ، مترجم پروفیسر غلام احمد حریری)

[xlv]  سورۃ یوسف: 93

[xlvi]   عام مؤرخین نے دس اشخاص کے نام گنوائے ہیں، جبکہ ابن اسحاق نے 8، ابو داؤد اور دار قطنی نے 6، اوران سب میں سب سے مستند اور پختہ  محقق امام بخاری نے صرف ابن خطل کا ذکر کیا ہے ۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جسقدرتحقیق مکمل ہوتی جاتی ہے اسی قدر تعداد کم ہوتی جاتی ہے ۔

[xlvii]  سیرت النبی حصہ اول و دوم، صفحہ 317-319 (مطبوعہ ادارہ اسلامیات )

[xlviii]  صحیح بخاری ، کتاب المغازی، باب  این رکز النبی ﷺ الرایۃ یوم الفتح

[xlix]  ابن اسحاق و الاستذکار لبن عبد البر

[l]  سیرۃ الحلبیہ ، غزوۂ فتح مکہ

[li]  سیرت النبی حصہ اول و دوم، صفحہ318 (مطبوعہ ادارہ اسلامیات )

[lii]  سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد، قتل الاسیر ولا یعرض علیہ السلام

[liii]  الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول ، صفحہ 139(مکتبہ قدوسیہ ، مترجم پروفیسر غلام احمد حریری)

[liv]  سنن ابو داؤد، کتاب الخراج، والامارۃ، باب کیف کان اخراج الیہود

[lv]  ابن ہشام

[lvi]  خمیس ، صفحہ 517

[lvii]  تفسیر ابن جریر طبری ، جلد 5

[lviii]  فتح الباری، جلد 7 نیز تاریخی یعقوبی ، واقعہ بنو نضیر

[lix]  کعب کے بارہ میں احادیث میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ (صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب قتل کعب بن الاشرف) یعنی کعب بن اشرف کی ذمہ داری کون لے گا ؟ وہ اللہ اور اس کے رسول کو بہت اذیت دے  رہا ہے ۔ یہاں جو اذیت کا لفظ استعمال ہوا  ہے اس کے پسِ منظرمیں وہ تمام جرائم ہیں جو  ہم نے کعب کے بیان کئے   ہیں ۔ اس سے  صرف یہ مراد لینا درست نہیں کہ وہ آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخانہ اشعار کہتا تھا اس لئے رسول کریم ﷺ کو اذیت  پہنچتی تھی بلکہ اذیت کی وجہ اسکے  محاربت والے اقدامات تھے  اور واقعات کا پورا تسلسل تھا جسے خلاصۃً آپؐ نے ’’ آذَى ‘‘ کہہ کر بیان فرمایا ۔   چنانچہ اسی طرح کے الفاظ واقعہ افک والی حدیث  میں عبد اللہ بن ابی بن سلول کے لئے بھی آئے ہیں  ۔    واقعہ افک میں حضرت عائشہ ؓ   نے  عبد اللہ بن ابی بن سلول کو ہی اسکا بانی مبانی قرار دیا ہے(وَكَانَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَ الْإِفْكِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ) اور اس حدیث میں آگے آنحضرت ﷺ کے یہ الفاظ آتے ہیں  قَالَتْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنِي عَنْهُ أَذَاهُ فِي أَهْلِي(صحیح بخاری، کتاب المغازی ، حدیث الافک ) ۔ حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو خطاب کیا اور منبر پر کھڑے ہو کر عبد اللہ بن ابی  کا معاملہ رکھا ۔ آپ نے فرمایا ۔ اے گروہ مسلمین ! اس شخص کے بارے میں میری کون مدد کرے گا جس کی اذیتیں اب میری بیوی کے معاملے تک پہنچ گئی ہیں ۔ یہاں بھی الفظ اذیت استعمال ہوا  ہے  ۔ عبد اللہ بن ابی بن سلول  کے بارہ میں ہم اوپر لکھ آئے ہیں کہ اس کے کیا کیا جرائم تھے ۔ تاہم حضور ؐ نے تمام جرائم گنوانے   کی بجائے صرف لفظ اذیت استعمال فرما کر اسکی ساری گزشتہ کرتوتوں کو  واضح فرما یا  ۔ان دو مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ لفظ ’’اذیت ‘‘ سے صرف توہین کے معانی لینا درست نہ ہے بلکہ اسکے پیچھے واقعات کا تسلسل ہوتا ہے  ۔

[lx]  الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول ، صفحہ 100(مکتبہ قدوسیہ ، مترجم پروفیسر غلام احمد حریری)

[lxi]  سورۃ الفرقان : 71-72

[lxii]  صحیح بخاری کتاب الدیات،  صحیح مسلم کتاب القسامۃ و المحاربین و القصاص و الدیات،سنن نسائی کتاب تحریم الدم، سنن ابن ماجہ کتاب الحدود، جامع جامع ترمذی کتاب الدیات عن رسول اللہ ﷺ، سنن ابی داؤد کتاب الحدود

[lxiii]  الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول ، صفحہ 49(مکتبہ قدوسیہ ، مترجم پروفیسر غلام احمد حریری)

[lxiv]  سورۃ ہود:115

[lxv]  صحیح بخاری ، کتاب المناقب

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close