ملی مسائل

تیرا خدا الگ، میرا خدا الگ

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

جب سے مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ ضلع چتّور (آندھراپردیش) کے ایک گاؤں ‘پلمنیر’ میں تبلیغی جماعت کے کچھ لوگوں نے اہل حدیث حضرات کی ایک مسجد کو مسمار کر دیا ہے، اس وقت سے میں ذہنی طور پر بہت اذیّت میں مبتلا ہوں۔ دماغ ماؤف ہے اور کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ کیا کچھ مسلمان اس حد تک گر سکتے ہیں کہ وہ مسجد، جسے اللہ کا گھر کہا جاتا ہے، محض اس وجہ سے ڈھادیں کہ وہ کسی دوسرے مسلک کے لوگوں کے زیرِ انتظام تھی اور جن کے نماز پڑھنے کا طریقہ ان کے طریقے سے کچھ مختلف تھا۔ مسجد کسی انسان کا گھر نہیں ہوتا، بلکہ اللہ کا گھر ہوتا ہے۔ مسجد کسی انسان کی ملکیت نہیں ہوتی ہے، بلکہ اسے وقف للہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ کسی مسلمان کی یہ مجال کہ وہ اپنے آپ کو اللہ سے زیادہ طاقت ور سمجھنے لگے اور اس کے گھر کو ڈھانے کے درپے ہوجائے !!!

جس مذہب نے دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے معبودوں کو، جنھیں وہ معبودانِ باطل سمجھتا ہے، بُرا بھلا کہنے سے روکا ہو :” وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ (الانعام:108) ” اور (اے ایمان لانے والو!) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں بُرا بھلا نہ کہو۔ "جس مذہب نے حالتِ جنگ کے موقع پر بھی دیگر مذاہب کی مذہبی شخصیات سے تعرّض کرنے اور ان کے عبادت خانوں کو منہدم کرنے سے منع کیا ہو۔ (خلیفۂ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کی طرف فوج روانہ کی تو اسے تاکید کی کہ راہبوں اور عابدوں کو نہ ستایا جائے اور ان کے عبادت خانے نہ مسمار کیے جائیں ) اس مذہب کے ماننے والے اپنے ہی ہم مذہب لوگوں کے عبادت خانے کو ڈھادیں گے، یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ قیامت کے آثار ہیں کہ اب ہر ناممکن چیز ممکن نظر آنے لگی ہے اور ہر بُرے سے بُرا کام آنکھوں کے سامنے ہونے لگا ہے۔

فیس بک پر اس گھناؤنے عمل کے دفاع میں بعض تحریریں سامنے آئی ہیں۔ ان میں لکھا گیا ہے کہ شدّت پسندی کا مظاہرہ پہلے اہل حدیث حضرات کی طرف سے ہوتا ہے۔ یہ لوگ اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کو برملا مشرک کہتے ہیں۔ ان کے مواعظ کا آغاز ہی رفعِ یدین، قراءت خلف الإمام، ارکانِ نماز میں تعدیل، مردوں اور عورتوں کے طریقۂ نماز میں مکمل یکسانیت اور تراویح آٹھ رکعت جیسے موضوعات سے ہوتا ہے۔ یہ دوسروں کی نمازوں کو غیر مسنون طریقے سے ادا کیا ہوا بتاتے ہیں۔ یہ بہت جلد اپنی مسجدیں الگ کرلیتے ہیں اور پھر لاؤڈ اسپیکر سے وہ طوفانِ بدتمیزی مچاتے ہیں کہ الأمان الحفیظ۔ اہلِ حدیث حضرات کے بارے میں یہ باتیں اگر درست بھی ہوں اور کسی علاقے میں ان میں سے بعض شدّت پسندوں کی جانب سے ایسا مظاہرہ ہوا ہو تو بھی اسے ان کی مسجدوں کو ڈھانے کے لیے وجہِ جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

سماج میں اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں اور بُرے لوگ بھی، اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرنے والے بھی اور نافرمانی کرنے والے بھی، اس کے حدود کو ملحوظ رکھنے والے بھی اور انہیں پامال کرنے والے بھی۔ ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں ایک دو منزلہ کشتی کے مسافروں سے تشبیہ دی ہے۔ اگر نچلی منزل والے کشتی میں سوراخ کرکے وہیں سے پانی لے لینا چاہیں اور اوپر کی منزل والے انھیں نہ روکیں تو کشتی کے تمام مسافر غرقاب ہوجائیں گے، وہ بھی جنھوں نے سوراخ کیا تھا اور وہ بھی جنھوں نے انھیں اس عمل سے باز رکھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ (بخاری :2493) اسی طرح اگر اللہ کا گھر ڈھانے والے ان مٹھی بھر لوگوں کی مذمّت نہ کی گئی اور ان کی سرزنش نہ کی گئی تو اندیشہ ہے کہ کہیں تمام لوگ اللہ کی ناراضی نہ مول لے لیں اور اس کے عذاب کا شکار نہ ہوجائیں۔

جس بستی میں یہ واقعہ پیش آیا ہے وہاں کے مسلمانوں کی ذمے داری بڑھ کر ہے۔ وہ کسی بھی مسلک کے ماننے والے ہوں، کسی بھی جماعت یا تنظیم سے وابستہ ہوں، کیسی ہی نسبتیں رکھتے ہوں، ان کی ذمے داری ہے کہ اس واقعہ کا نوٹس لیں اور جن لوگوں نے یہ حرکت کی ہے انھیں معذرت کرنے اور معافی مانگنے پر آمادہ کریں۔ اس سلسلے میں جماعت تبلیغ سے وابستہ مقامی، علاقائی، صوبائی اور ملکی سطح کے سربرآوردہ لوگوں کی ذمے داری بڑھ کر ہے۔ وہ تحقیق کریں کہ کیا یہ تبلیغ سے وابستہ بعض لوگوں کی کارستانی ہے ؟ اگر وہ ایسا پائیں تو ان کی تادیب کریں اور اس واقعہ کے نتیجے میں اس جگہ پیدا ہونے والی منافرت کو ختم کرنے اور خوش گوار فضا کو واپس لانے کی کوشش کریں۔

اہلِ حدیث مسلک کے لوگ، جو اس ظلم کا شکار ہوئے ہیں، انھیں بھی چاہیے کہ تحمّل کا مظاہرہ کریں اور اس واقعہ کا پروپیگنڈا مسلکی منافرت میں اضافہ کرنے کے لیے نہ کریں۔ صوبائی اور ملکی سطح کے اہلِ حدیث علماء اور سربرآوردہ لوگوں کو اس سلسلے میں آگے آنا چاہیے اور مقامی اہلِ حدیث لوگوں کو سمجھانا چاہیے۔

ملک میں مسلمانوں کے دشمن چاہتے ہیں کہ ان میں زیادہ سے زیادہ اختلافات پیدا ہوں۔ انھوں نے اس کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے اور اس کے لیے سازشیں کر رہے ہیں۔ اگر مسلمان یہاں عزّت و وقار کے ساتھ جینا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ اپنے تمام جزئی اختلافات کو پسِ پشت ڈال دیں، ایک دوسرے کو گوارا کریں اور دشمنوں کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔ لیکن اگر انھوں نے ایسا نہ کیا اور ان کے اختلافات باقی رہے تو ان کی ہوا اکھڑ جائے گی اور اس ملک میں ان کا جینا دوبھر ہوجائے گا۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے :” وَلَا تَنَازَعُوۡا فَتَفۡشَلُوۡا وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ‌ (الأنفال :46) ” اور آپس میں جھگڑو نہیں، ورنہ تمہارے اندر کم زوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندی مسلمانو! 
تمھاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close