ملی مسائل

تین طلاق : مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

ڈاکٹر سلیم خان

بھئی للن سنا تم نے جس سرکار کو چائے بنانےکاسلیقہ  نہیں معلوم  اس نے ایک اور نیا قانون بناڈالا۔

کلن بھائی ہندوستان میں قوانین کی کون کمی ہے ؟ قانون کے مطابق کوئی مچھر بھی نہیں مارسکتا۔ لوگ انسان کو زندہ جلاکر ویڈیو بناتے اور پھیلاتے ہیں۔

یہ مرنے مارنے کا نہیں شادی طلاق کا قانون ہے۔ ہم نے تو سنا ہے ازدواجی  رشتے جنت میں بنتے ہیں۔  ان سے کھلواڑ اچھی بات نہیں ہے۔

بھائی عیسائیت کا یہ نظریہ بھی ہندو عقیدے کی  طرح غلط اور فرسودہ  ہے۔

اچھا تو ہندو عقیدہ کیا ہے؟

اس کے مطابق سات پھیروں کا چکر سات جنم تک بنارہتا ہے۔

ارے بھائی کہاں کے ساتھ جنم اور کہاں کا یہ چکر ؟ مجھے تو یہ گورکھ دھندہ لگتا ہے؟لیکن اسلام کی کیا تعلیم  ہے اس لیے یہ مسلم خواتین کا قانون ہے۔

اسلام میں نکاحایک  عقد یعنی معاہدہ  ہےجس  میں  شوہر اور بیوی ایک دوسرے کےحقوق و فرائض اداکرتے ہوئے گھر بسانے  کا ارادہ رکھتے ہیں ۔

یہ تو بڑی اچھی بات ہے لیکن پھر یہ طلاق کا کیا چکر ہے؟

دنیا کے ہر معاہدے میں ساتھ رہنے اور جداہونے کی شرائط درج ہوتی ہیں۔

مطلب جیسے لوگ معاہدے میں داخل ہوتے ہیں اسی طرح باہر بھی نکل سکتے ہیں

بالکل اس عقدِ نکاح سے اگر شوہر یا بیوی میں سے کوئی ایک  یا دونوں  الگ ہونا چاہیں  تو وہ ایسا کرسکتے ہیں ۔

اچھا اگر بیوی الگ ہونا چاہے تو کیا وہ بھی  الگ ہوسکتی ہے؟

کیوں نہیں۔  اس کو خلع کا حق ہےاور اگر کوئی معقول وجہ نہ ہو تب بھی خاوندکے لیے اس کا احترام لازم ہے ۔

اور اگر شوہر جدا  ہونا چاہے تو؟

وہ طلاق دے سکتا ہے لیکن خلع کی طرح وہ یکبارگی نافذ  نہیں ہوتی  بلکہ کم ازکم ایک ماہ کے وقفہ سےاحتیاط کے ساتھ   تین بار میں طلاق  کی اجازت ہے۔

اچھا ہی  تو ہے۔ پھرایسی کون سی سمسیاّ آئے گئی  کہ سرکار کو مداخلت کرنی پڑی ؟ویسے اس حکومت کو مسلمان تو کجا ہندو خواتین سے بھی ہمدردی نہیں ہے

سرکار چاہتی ہے کہ مسلمان اس کے خلاف لاٹھی ڈنڈہ لے کے  میدان میں اتر جائیں۔

یہ تو آبیل مجھے مار والی حکمت عملی ہے ۔ اس سے حکومت کا کون سا بھلا ہوگا؟

وہ اپنےان  بھکتوں  کو جن سے کیا گیا کوئی وعدہ نہیں نبھا سکی یہ کہہ کر خوش کرے گی کہ  لوہم نے مسلمانوں کو ناراض کردیا ہے،اب ہمیں ووٹ دو۔

اب سمجھ میں آیا کہ مسلمان کیوں خاموش ہیں ۔ وہ اپنے دشمن کو سیاسی فائدے سے محروم کرنا چاہتے ہیں ۔

جی ہاں سیاست میں تو مسلمان تیز ہے مگر شریعت میں کمزور بھی ہے ۔

کیا مطلب میں نہیں سمجھا ؟ جو قوم دوسروں کو فائدہ اٹھانے نہیں دیتی وہ اپنے فائدے سے غافل کیسے ہوسکتی ہے؟

ایسا ہی ہے ۔ مسلمان مرد طلاق دینے میں بے احتیاطی کرتے ہیں اور ایک ساتھ تین  طلاق دے دیتے ہیں۔

لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟

 اس کے جواب میں مسلمان عورت عدالت میں پہنچ جاتی ہے جس سے دشمنوں کوشریعت میں  مداخلت کا نادر موقع ہاتھ آجاتاہے۔

تو کیا یہ کوئی بہت بڑا مسئلہ ہے ؟

بہت بڑا تو  نہیں اس لیے کہ بہت کم لوگ یہ طلاق بدعت  دیتے ہیں  اور ان میں سے اکثر ایک بار دی جانے والی ساری طلاقوں کو ایک شمار کرتے ہیں ۔

وہ بھی ٹھیک  ہے  لیکن  کیا کوئی اس کو تین بھی شمار کرلیتا ہے؟

جی ہاں ایسے بھی ہیں ۔ان ازواج  میں اگر بیوی بھی  اپنے شوہر سے بیزار ہوتووہ  خوشی خوشی نجات حاصل کرکے اپنے میکے چلی جاتی ہے ۔

اور جو ساتھ رہنا چاہتی ہے اس بیچاری کا کیا ؟

اس کے لیے ہندوستان کی سپریم کورٹ کہتی  ہے کہ طلاق واقع  نہیں ہوئی۔

بہت خوب ۔ اس کا مطلب ہے کہ  یہ قانون شوہر اور بیوی کو جدا ہونے بچا لیتا ہے ؟

جی نہیں یہ قانون شوہر کو تین سال کے لیے جیل میں بھیج دیتا ہے یعنی بیوی  اور شوہر میں جدائی ڈال دیتا ہے۔

لیکن جب طلاق ہوئی ہی نہیں تو سزا کس بات کی؟

یہ سوال تم  میرے بجائے وزیر قانون سے پوچھوکہ اگر قتل ہی نہیں  ہوا تو پھانسی کیسی؟

یہ تو بڑی احمق سرکار ہے جولوگ  ساتھ رہنا چاہتے ہیں ان کو الگ کردیتی ہے ۔ خیر للن بھیا اب اس مصیبت سے نکلنے کا کوئی اپائے بھی بتائے دیو ؟

حل بہت آسان  ہے،خاوند شریعت کے مطابق طلاق دے اور بیوی عدالت میں جاکر اسے جیل بھیجنے کے بجائے شرعی پنچایت سے رجوع کرے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close