‘تین طلاق’ پر دلچسپ ہوتی جنگ

مسلم معاشرے میں ایک ہی بار میں دی جانے والی ‘تین طلاق’ پر ملک میں ہنگامہ بڑھتا جا رہا ہے. ہر دن کسی نہ کسی نیوز چینل پر اس معاملے پر گرما گرم بحث کرائی جا رہی ہے. سپریم کورٹ میں ‘تین طلاق’ کو چیلنج دینے والی اتراکھنڈ کی سائرہ بانو کو میڈیا میں اپنی بات کہنے کا خوب موقع مل رہا ہے. سائرہ بانو کے خلاف سپریم کورٹ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور جمعیت علمائے ہند نے تال ٹھونک ہے. یہ دونوں تنظیم ‘تین طلاق’ کو جائز قرار دیتے ہوئے سائرہ بانو کی درخواست کی مخالفت کر رہے ہیں. ان اقدامات پر کئی اور تنظیم بھی سائرہ بانو کی مخالفت میں کھل کر سامنے آ رہے ہیں. ایسے میں آل انڈیا مسلم خواتین پرسنل لاء بورڈ کی صدر شائستہ امبر بھی سپریم کورٹ میں سائرہ بانو کو حق میں پارٹی بننے جا رہی ہیں.
جس طرح ملک میں تین طلاق پر بحث اضافہ ہوا ہے اس سے یہ جنگ مسلسل دلچسپ ہوتی جا رہ ہے. مئی کے دوسرے ہفتے تک مرکزی حکومت کو سپریم کورٹ میں اپنا جواب داخل کرنا ہے. جولائی میں سپریم کورٹ میں اس مسئلے پر سماعت ہونے کو آثار ہیں. تب تک یہ کیس اور گرمایگا. ‘تین طلاق’ کو جائز قرار دینے والے تمام تنظیموں نے سائرہ بانو کو شاہ بانو بنانے کی سازش رچنی شروع کر دی ہیں. سائرہ پر کٹھ پتلی ہونے کے الزام لگ رہے ہیں. ملا جماعت کی طرف یہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ کچھ لوگ سائرہ بانو کو بہانے مسلمانوں پر سمان ناگری اخلاق مسلط کرنا چاہتے ہے. مسلم معاشرے میں مساجد کے اماموں اور مدرسوں میں پڑھانے والے علماء4 نے سائرہ بانو کے خلاف ماحول بنانا شروع کر دیا ہے. کچھ دن پہلے لکھنؤ میں ہوئی آل انڈیا پرسنل لاء4 بورڈ کی میٹنگ میں بھی سپریم کورٹ میں سائرہ بانو کی درخواست کا پرزور مخالفت کرنے کا فیصلہ ہوا تھا. ساتھ ہی یہ فیصل بھی کیا گیا کہ بورڈ کا وفد وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرکے اپیل کرے گا کہ مسلمانوں کے ذاتی معاملات میں کسی طرح کی دخل اندازی نہیں کی جائے. کل ملا کر حالات کو تیس سال پہلے لی جانے کی کوشش ہو رہی ہے. ملا جماعت نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے ‘تین طلاق’ پر پابندی لگانے کا فیصلہ سنایا تو اس کا جم کر مخالفت کی جائے گی.
وقت کو تیس سال پہلے لیجانے کی کوشش ہو رہی ہے. تیس سال پہلے شاہ بانو نے سپریم کورٹ میں طلاق کے بعد گزرا بھتہ کا مقدمہ جیتا تھا. 1978 میں شاہ بانو کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی تھی اور خود دوسری شادی کر لی تھی. 62 سال کی عمر میں طلاق ہونے کے بعد بے سہارا ہوئی شاہ بانو نے جرم سزا اخلاق کی دفعہ 125 کے تحت عدالت میں مقدمہ کر کے اپنے شوہر سے اپنے اول اپنے پانچ بچوں کے لئے گزارا الاؤنس مانگا. اس دفعہ کے تحت کوئی بھارتی خاتون اپنے شوہر سے گزارا الاؤنس مانگ سکتی ہے. 1986 میں سپریم کورٹ نے شاہ بانو کے شوہر کو عمر بھر کے لئے گزارا الاؤنس دینے کا فیصلہ سنایا. ملا جماعت نے اس فیصلے کو شریعت کے خلاف اور مسلمانوں کو ذاتی معاملات میں دخل اندازی قرار دیا. اسی وقت آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ بنا. تکالین کانگریس حکومت کے خلاف ملک بھر میں دھرنا مظاہرہ کیا گیا. مسلمانوں کے زبردست مخالفت سے گھبرائی راجیو گاندھی حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے اور پارلیمنٹ میں بل منظور کرکے سپریم کورٹ کے فیصلے کو پلٹ دیا. اس کے بعد سے جرم سزا اخلاق کی دفعہ 125 میں ترمیم کر کے لکھ دیا گیا کہ مسلم عورتیں پر یہ دفعہ لاگو نہیں ہو گی. اس ترمیم کے بعد مسلم عورتوں کو اس دفعہ کے تحت اپنے شوہر سے گزارا الاؤنس مانگنے کا حق چھن گیا. مسلم عورتوں کے گزارہ الاؤنس کے لئے پارلیمنٹ میں بنے قانون میں طلاق کے بعد عدت کی ابدھ یعنی تین ماہ تک گزارا الاؤنس کی ذمہ داری شوہر پر ڈالی گئی اور اس کے بعد طلاق شدہ عورت کے ورثاء4 میں. ورثاء4 کے موجود نہ ہونے کی صورت میں ریاست کے وقف بورڈ
پر اس گذارا بھتہ کی ذمہ داری ڈال گئی. اس طرح ملا جماعت نے سڑک سے پارلیمنٹ تک ہنگامہ کرکے مظلوم عورت کے حق کی آواز کو دبا دیا. سائرہ بانو کو معاملے میں بھی ملا جماعت حق کے لئے اٹھی آواز کو دبانے پر آمادہ ہے. لیکن اس بار منصوبے پورے ہوتے نظر نہیں آتا رہے.
سوشل میڈیا پر چل رہی بحث میں تین طلاق کے حق میں ماحول ہے. اس سے پہلے تین طلاق کے جتنے بھی صورت سپریم کورٹ میں آئے ہیں تمام میں سپریم کورٹ نے اسے غیر اسلامی قرار دیا ہے. آزاد ہندوستان میں سب سے اہم فیصلہ 1981 میں گوہاٹی ہائی کورٹ میں آیا تھا. اس وقت ہائی کورٹ کے جج جسٹس بہارلاسلام نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ مسلم شوہر کو بغیر کسی وجہ سے آپ کی بیوی کو طلاق دینے کا حق نہیں ہے. انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ قراان کی سورہ النساء4 کی آیت 35 کے مطابق طلاق سے پہلے میاں بیوی کے درمیان صلح صفائی کی کوشش کرنا ایک ضروری شرط ہے اگر ایسی کوشش نہیں ہوئی ہے تو شوہر کے ایک ہی وقت میں تین بار طلاق کہنے سے طلاق نہیں ہوگی. جسٹس بہارالاسلام بعد میں گوہاٹی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے. تب ہائی کورٹ کیں بنچ نے بھی ان کے پہلے دیے فیصلے کو ہی برقرار رکھا. 2002 میں ممبئی ہائی کرٹ کی فل بنچ نے بھی اسی فیصلے کو نظیر مانتے ہوئے ‘تین طلاق’ کے ایک معاملے میں اسے غیر اسلامی قرار دیا تھا. 2005 میں سپریم کورٹ نے میں شمیم آرا معاملے بھ میں بھی تین طلاق کو غیر اسلامی مانا ہے. ملک کی الگ الگ ہائی کورٹ میں تین طلاق سے منسلک تمام معاملات میں اسے غلط اور غیر اسلامی سمجھا گیا ہے. ایسے میں امید کی جا رہی ہے کہ سائرہ بانو کے معاملے میں بھی سپریم کورٹ کا یہی رخ برقرا رہے گا. ملا جماعت کو بھی اس کا ہی اندیشہ ہے. اس لئے اس کی طرف سے فیصلے کے بعد کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال شروع ہو گیا ہے.
تیس سال پہلے شاہ بانو کو مسلم معاشرے کے اندر سے حمایت نہیں ملا تھا. لیکن آج حالات بدل چکے ہیں. مسلم خواتین اپنے حق کی لڑائی کو لے کر سڑکوں پر اتر چکی ہے. گزشتہ کئی سال سے تین طلاق، حلالہ، چار شادیوں جیسے مسئلوں پر بھارتی مسلم خواتین تحریک چلا رہی ہیں. ملک بھر میں ہوئے اس کانفرنسوں اور دھرنا مظاہروں کی وجہ سے مسلم معاشرے کے نوجوان طبقے میں ان مددو کو لے کر کافی بیداری آئی ہے. اب اگر ملا جماعت ‘تین طلاق’ کے حق میں سڑکوں پر اترے گی تو اسے معاشرے کے اندر سے ہی مخالفت کا سامنے کرنا پڑ سکتا ہے. سائرہ بانو کے حق میں ابھی تو کوئی مسلم تنظیم کھل کر سامنے نہیں آئی ہے. لیکن تین طلاق کو غلط، غیر اسلامی ماننے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے. اس کا مطلب صاف ہے کہ آج کا مسلم نوجوان ملا جماعت کے جھانسے میں آنے والا نہیں ہے. مسلم سماج اب اپنے مذہبی رہنماؤں سے سوال پوچھنے لگا ہے. اس سوال کا جواب مذہبی رہنماؤں کے پاس نہیں ہے کہ جب دنیا کے 22 ممالک اپنے یہاں ایک بار میں دی جانے والی تین طلاق کو غیر قانونی بتا کر باقاعدہ اس پر پابندی لگا چکے ہیں تو وہ کیوں اس کو جائز مانے پر تلے ہیں. اگر پاکستان، بنگلہ دیش سری لنکا، مصر، ایران، شام، لیبیا، ترکی جیسے تمام مسلم ملک تین طلاق کو ختم کر چکے ہیں تو ہندوستان میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا. کیا مسلم ممالک میں مختلف اسلام ہے اور ہندوستان میں مختلف اسلام ہے.
دنیا بھر کے علماء4 اس بات پر متفق ہیں کہ شریعت کا پہلا ذریعہ قرآن ہے. قرآن آسمانی کتاب ہے. یہ مکمل اور سچی کتاب ہے. قرآن میں طلاق کا پورا طریقہ بالکل صاف صاف بتایا گیا ہے. یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ قرآن میں بتائے طریقے کو چھوڑ کر ہمارے مذہبی رہنما طلاق کے اس طریقے کو کیوں جائز قرار دے رہے ہیں جسے وہ خود بدعت یعنی مذہب کی بنیادی تعلیم میں شامل کر دیا گیا کوئی بیرونی چیز مانتے ہیں. یہ اور بھی شرم کی بات ہے کہ مسلمانو کی مذ ہبی تہنمائی کرنے کا دعوی کرنے والی دو اہم تنظیم سپریم کورٹ میں ایک ایسی مظلوم عورت کی مخالفت کر رہے ہیں جو غلط طریقے سے دی گئی طلاق کے خلاف اپنا حق مانگ رہی ہے. حیرانی کی بات تو یہ ہے ان تنظیموں نے ایک بار بھی سائرہ بانو کو دی گئی طلاق کے طریقے پر سوال نہیں اٹھایا. ان کے اس قدم سے ان کا خواتین مخالف کردار سامنے آیا ہے. مسلمانوں کے ذاتی معاملات میں بیرونی
دخل اندای ۔ مخالفت کرنے والے یہ تنظیم بتائیں گے کہ وہ کس بنیاد پر ایک عورت کے ذاتی معاملے میں دخل اندازی کر رہے ہیں. اس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے. سپریم کورٹ میں ‘تین طلاق’ پر اب کئی تنظیمیں اپنی رائے ر کھیں گے. اس سے یہ جنگ کافی دلچسپ ہوتی جا رہی ہے. اسی لئے سپریم کورٹ میں اس مسئلے پر سماعت اور اس کے فیصلے کا ملک کو بیتابی سے انتظار ہے.(یو این این)



⋆ یوسف انصاری

مضامین ڈیسک

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

شاعر، ادیب، ناقد، محقق ،معلم: پروفیسر نازؔ قادری

نازقادری کو ان کی کتابوں پر بہار ، اترپردیش اور مغربی بنگال اردو اکادمیوں نے انعامات دیے ہیں ۔ انہیں آل انڈیا میر اکادمی لکھنؤ کے امتیاز میر ایوارڈ (1993)، آئی آئی ایف ایس نئی دہلی کے وجے شری ایوارڈ ( 2006) آئی آئی ایف ایس کے شکشا رتن ایوارڈ (2008)یو نی ورسٹی گرانٹس کمیشن کے ایوارڈ آف امیرٹس فیلو شپ (2010)، بہار اردو اکادمی کے وقاری حسن عسکری ایوارڈ (2013)سے سرفراز کیا جا چکا ہے۔