ملی مسائل

جمعیت کا اتحاد ایک دانشمندانہ قدم

ہلال احمد

دنیامیں انسان پیداہواتو تنہالیکن معاشر ے میں زندگی گزارنے اور درپیش معاملات کوحل کرنے کے لیے دوسروں کی ضرورت پیش آئی، خود کو دوسرے پر منحصر پایا، زندگی کی نوعیت ہی یہی ہے کہ مل جل کر بسر کی جائے، کیونکہ باہم تعامل وتعاون ہی حیاتی کشمکش کو دور کرسکتی ہے۔ قبائل وخاندان کے تعلقات ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں، ممالک وملوک کے رشتے استوار ہوتے ہیں، گروہوں اور جماعتوں میں ہم آہنگی ہوتی ہے تبھی لوگ آگے بڑھتے ہیں ورنہ باہمی چپقلش اور عداوت رکاوٹ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اتحادویکجہتی سے اصلاح و تنمیہ کی راہ کھلتی ہیں ۔ پچھلے کئی سالوں سے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند سے اختلاف کے سبب مؤقر علماء کرام کی ایک جماعت نے مرکزی جمعیت کے علاوہ ایک دوسری جماعت قائم کی تھی۔

کسی کمیونٹی یا معاشرے میں اختلاف کا ہونا کوئی بعیدبات نہیں ہے بقول بعضے اختلاف کا سبب مرکزی جمعیت میں پایا جانے والا کچھ اندرونی خلفشار تھا جس  کے سبب شیخ صلاح الدین مدنی اوران کے رفقاء نے الگ تنظیم قائم کی اور کئی سالوں تک اس کے استحکام میں لگے رہے، کئی علمی کام بھی ہوئے اور اپنا الگ آرگن بنام ترجمان جدید جاری کیا۔وجہ کچھ بھی رہی ہولیکن الحمدللہ ۲۴؍فروری کوشیخ صلاح نے عظیم قربانی پیش کی اور اپنی جمعیت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مرکزی جمعیت میں مدغم کرنے کا فیصلہ کیا ہیجس کا اعلان باقاعدہ دوسرے دن مرکزی جمعیت کی جانب سے کیا گیا۔ اس اتحاد میں سب سے اہم کردار شیخ شیرخان جمیل احمدعمری کا ہے جنہوں نے اپنی فراست مآبی اور دوررس نگاہی سے دونوں جماعت کو متحد کیااورنقطۂ اتحاد کتاب وسنت کی نشر واشاعت اور پوری لگن سے کام کرنے کے عزم صمیم کو بنایاہے، اس پورے عمل کی منصوبہ بندی اورمکمل روڈمیپ شیردل مولانا شیرخان جمیل صاحب کا تیار کیاہواتھا۔

کئی برسوں بعد ایک نئی آب وتاب کے ساتھ مقتدر علماء کرام کا ملنا خود اپنے آپ میں ایک خوش آئند قدم ہے۔مرکزی جمعیت کواس اتحاد کی وجہ سے ایک نئی طاقت اور روشنی ملی ہے امیدکہ یہ اتحاد خوش کن اورجماعت کے لیے نفع بخش ثابت ہوگااور چونتیسویں آل انڈیااہل حدیث کانفرنس ایک تاریخی کانفرنس ثابت ہوگی کیونکہ اتحاد کا یہ تاریخی فیصلہ بہت ہی موزوں وقت میں لیا گیاہے جس کی بروقت ضرورت بھی تھی خیردیرآید درست آید۔ قابل مبارکباد ہیں ہمارے ممدوح جناب شیر خان صاحب کہ انہوں نے اپنی نگاہ کشفی سے فریقین کو اتحاد کے لیے راضی کیا اور الحمدللہ کامیاب بھی ہوئے۔ دوجمعیتیں قائم ہونے سے جماعت کاکافی نقصان ہورہا تھا، لوگوں میں اضطراب بے چینی تھی۔ دوسری جمعیت کے قیام کا سبب کچھ بھی رہا ہو تاہم انتشار و اختلاف کو ہوا ضرور لگی تھی، کتاب وسنت کے علمبردار فریقین میں تقسیم ہوگئے تھے۔ میں مانتا ہوں کہ مرکزی جمعیت میں خامیاں تھیں یا ہیں، اب جبکہ انضمام ہوگیا ہے جماعت کے سرکردہ شخصیا ت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اصلاح اور صلح وصفائی پر دیانت داری سے کام کریں ۔ اہل حدیث ہی حقیقی پاسداران کتاب وسنت ہیں، یہی طائفہ منصورہ ہے، اب اگر اسی میں اختلاف کی چنگاری بھڑکتی رہی اور دبی راکھ سے دھواں اٹھتارہا تو پھر دوسرا کون ہے جو صحیح عقائداور کتاب وسنت کی ترجمانی کرے گا۔ صلح ومصالحت، تنازل وتقاصرکایہ پہلو قابل تحسین ہے، جمعیت نے ایک ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے ان شاء اللہ آہستہ آہستہ اگر اصلاح کی کوششیں جاری رہیں توساری شکایتیں دور ہوسکتی ہیں دونوں جمعیتوں کاانضمام واتحاد اصلاح کاپہلا زینہ ہے۔ گھرخاندان میں کسی سے تنازعہ ہونے کی صورت میں دیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتاہے بلکہ مل بیٹھ کرافہام وتفہیم اور باہم مشورہ کے ذریعہ مسائل حل کیے جاسکتے ہیں بالکل اسی طرح جماعت وجمعیت میں ہوئے تنازعات کو مل کر ایک دوسرے کے جذبات کا  خیال کرتے ہوئے حل کیاجاسکتاہے، اب جبکہ شیخ شیر خان صاحب نے فریقین کو اعتماد میں لے کر حسن انتظام سے گرہ کھول دی ہے اور اپنے حسن تدبرسے مستقبل کالائحہ عمل اور روڈ میپ طے کردیاہے لہٰذاجماعت کو پوری طاقت کے ساتھ میدان عمل میں آکرخود کو مسلک حقہ کے حوالہ کردیناچاہیے۔

جمعیت متحدہوچکی ہے لوگ خوشی سے سرشار ہیں، اسی درمیان کچھ ایسے لوگ بھی سامنے آرہے ہیں جن کو یہ اتحاد پھوٹی آنکھوں نہیں بھارہاہے شاخ درشاخ اچھل کود مچانے میں کوئی کسر روا نہیں رکھے ہوئے ہیں، بہترہوتا ہے کہ ایسے لوگ بھی مصلحت کے مدنظر حالات کا مشاہدہ کریں، ہماری جماعت میں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ لوگ نتیجہ کے انتظار میں بڑے جلد بازی سے کام لیتے ہیں، ہوسکتاہے کسی مصلحت اور دوررس نتیجے کو سوچ کر فیصلہ لیاگیاہو جس میں خیر کا پہلو ہواور ہم اس کو سمجھنے سے قاصر ہوں، اللہ رب العالمین کاارشاد گرامی ہے:ترجمہ:’’س جہاں انہیں کوئی خبر امن کی یا خوف کی ملی انہوں نے اسے مشہور کرنا شروع کر دیا، حالانکہ اگر یہ لوگ اسے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اور اپنے میں سے ایسی باتوں کی تہہ تک پہنچنے والوں کے حوالے کر دیتے، تو اس کی حقیقت و? لوگ معلوم کر لیتے جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو معدودے چند کے علاو? تم سب شیطان کے پیروکار بن جاتے‘‘(سورۃ النساء:83)

  جمعیت وجماعت ہرفرد کے لیے ہوتی ہے نقائص کا امکان ہر جگہ ہے لیکن بہتری یہی ہے کہ طرفین سے اصلاح پر غور کیاجائے اور مثبت فکر وتدبر سے تنازعات ختم کیے جائیں، کسی فرد یا جماعت کو بحیثیت فرد سب وستم کا نشانہ بنانا یا ماضی کے زخم کوکریدنادانشمندی کی علامت نہیں ہے۔ اتحاد ومصالحت کا ہرناحیے سے استقبال کرناچاہیے میں مؤقر اراکین جمعیت وجماعت کواس عظیم اتحاد پر مبارکباد پیش کرتاہوں، اللہ جمعیت و جماعت میں اتحاد قائم رکھے اور کتاب وسنت کی نشرواشاعت میں ہمہ وقت لگے رہنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ (آمین )

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ہلال احمد

ایڈیٹرماہنامہ الاتحادممبئی

متعلقہ

Close