ملی مسائل

حج سبسڈی

حفیظ نعمانی

ہندوستان میں ہر دن مسلمانوں سے متعلق کوئی نہ کوئی مسئلہ بحث کا موضوع بنا رہتا ہے۔ اس وقت ہر چینل اور ہر کالم پر حج سبسڈی کے ختم ہونے کا مسئلہ ہے۔ اگر اختصار کے ساتھ بات ختم کی جائے تو وہ بس اتنی ہے کہ جب بحری جہاز سے حج کا سفر ختم ہوا یا ختم کیا گیا تو ہوائی سفر کے علاوہ دوسرا راستہ نہیں تھا اور دونوں کے کرایہ میں زمین آسمان کا فرق تھا جس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ حاجیوں کو لے کر آخری قافلہ جب گیا اور واپس آیا ہے تو شاید تین ہزار روپئے کرایہ تھا۔ اور جس جس حاجی سے بھی سنا اس نے بتایا کہ ممبئی میں صابو صدیق مسافر خانہ میں جاتے وقت اور آتے وقت قیام رہا جس کا کوئی کرایہ نہیں تھا۔

جب ہوائی سفر شروع ہوا تو مرکزی حج کمیٹی اور صوبائی حج کمیٹیاں بنائی گئیں صوبوں نے حج ہائوس بنائے اور ہر درخواست کے ساتھ تین سو روپئے وصول کئے جاتے ہیں جو کئی مہینے پہلے لے لئے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ عازمین حج سے پورا روپیہ مہینوں پہلے وصول کرلیا جاتا ہے جس کا سود ہی 30  کروڑ سے زیادہ ہوتا ہے۔ یعنی عازمین حج اور عام مسلمان جنہوں نے سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا وہ اس لئے تھا کہ حکومت کا روپیہ سود کی وجہ سے پاک نہیں رہتا۔ اور حج کمیٹیاں عازمین حج کے پاک روپئے کو بینک میں رکھ کر اور اس سے سود لے کر اسے ناپاک کردیتی ہیں ۔

جن لوگوں نے سبسڈی ختم کرنے کی بات کی تھی ان میں ہم بھی ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ شرط بھی تھی کہ حاجیوں کے لئے صرف ایئرانڈیا سے سفر کی پابندی نہیں ہوگی۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ سپریم کورٹ کے ایک مسلمان جج آفتاب عالم صاحب نے کہا تھا کہ دس سال میں رفتہ رفتہ سبسڈی ختم کردی جائے جو 2022 ء کو پوری ہوتی تھی وزیر اعظم نے اسے 2018  ء میں ختم کردیا تو ہمارے نزدیک برا نہیں کیا لیکن وہ شرط بھی پوری ہونی چاہئے کہ ایئرلائنوں سے ٹنڈر کے ذریعہ معلوم کیا جائے کہ ملک کے کس صوبہ کے کس شہر سے کتنے کتنے عازمین حج کن کن تاریخوں میں جائیں گے اور کن کن تاریخوں میں کتنے سامان کے ساتھ واپس آئیں گے ان سے وہ کتنا کرایہ لیں گے؟

ہم کو پاک پروردگار نے حج کی سعادت بھی عطا فرمائی مگر ہم انٹرنیشنل پاسپورٹ سے گئے اور آئے اور دو بار عمرہ کے لئے بھی گئے تینوں مرتبہ آمد و رفت کا کرایہ 24  ہزار سے زیادہ خیال یہ ہے کہ نہیں تھا۔ اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ حکومت عازمین حج سے دو سو روپئے حج ہائوس کا کرایہ اور ایک ہزار روپئے ہینڈلنگ کا وصول کرتی ہے۔ اویسی صاحب نے وزیراعظم سے حساب لینا شروع کیا ہے اور کہا ہے کہ جو روپیہ کمبھ میلے پر یا شری شری جی کے دہلی کے پروگرام پر دیا ہے وہ واپس لیا جائے اور مختلف یاترائوں کے لئے جانے والوں کو ایک ایک لاکھ یا 25-25  ہزار روپئے دینے کے لئے کہا ہے وہ بھی بند کی جائیں ۔ لیکن ہم کوئی مقابلہ نہیں کرتے۔ ہم تو صرف ایک بات چاہتے ہیں کہ حج کو جانے والوں کو حکومت نہ روپیہ دے اور نہ ان سے مختلف بہانوں سے وصول کرے۔ اور یہ تو کافی دنوں سے چرچا ہورہا ہے کہ ایئرانڈیا شاید ٹاٹا خرید رہا ہے۔ اور مسلسل خسارہ کی وجہ سے حکومت بھی اب اسے فروخت کردے گی۔ ہوسکتا ہے کہ چار سال پہلے سبسڈی ختم کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہو۔

ایک بات بار بار کہی جارہی ہے کہ 700  کروڑ وپئے جو سبسڈی کا بچے گا اس سے مسلم لڑکیوں کو تعلیم دی جائے گی۔ حکومت بیٹی بچائو اور بیٹی پڑھائو کا جو نعرہ دے رہی ہے کیا اس میں مسلم بیٹیاں نہیں ہیں ؟ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ جو روپیہ حج کو جانے والوں کے ہوائی کرایہ میں مدد کے لئے دیا جارہا تھا اس میں کیا گائے کا خون لگ گیا کہ وہ ہندو کے لئے استعمال نہیں ہوسکتا صرف مسلمان کے لئے ہی ہوگا؟ وہ روپیہ حکومت کا تھا اور آج بھی حکومت کا ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ 700  کروڑ ہے تو ایسا بھی شاید نہیں ہے کہ کانگریس حکومت نے سات سو کروڑ روپئے کا ختنہ کرکے مسلمان بناکر ایئرانڈیا کو دے دیا تھا اب وہ مسلمان ہی رہے گا اور ہوائی کرایہ میں نہیں تو مسلمان لڑکیوں کی تعلیم کے لئے استعمال ہوگا۔ حیرت ہے کہ مختار عباس نقوی بھی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں اور یہ نہیں کہتے کہ حکومت کا روپیہ تھا حکومت کے خزانہ میں چلا جائے گا۔

 ایک بات یہ صاف نہیں ہورہی ہے کہ اگر وہ روپیہ مسلمان لڑکیوں کی تعلیم پر خرچ ہوگا تو ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ملک میں جتنے مسلم گرلس کالج ہیں ان میں تقسیم کردیا جائے اور اگر یہ ہر سال دیا جائے گا تو مسلمانوں سے کہا جائے کہ وہ نئے اسکول کھولیں اور مسلم لڑکیوں کو تعلیم دلائیں اور تعلیم کی ہر ضرورت اسی سے پوری کریں ۔ لیکن اگر یہ روپیہ بھی وزیر اقلیتی امور کو دے دیا گیا اور انہوں نے اپنے افسروں کے کام سپرد کردیا تو ایسا ہی ہوگا کہ کاغذ پر تو ہر سال پورا خرچ ہوتا رہے گا لیکن زمین پر ایک مسلمان لڑکی بھی اس رقم سے تعلیم حاصل نہ کرسکے گی۔ اور مسلمان لڑکیاں سبسڈی کی طرح حکومت کی احسان  مند کہی جاتی رہیں گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close