ملی مسائل

!حریفوں نے رپٹ لکھوائی ہے۔۔۔۔۔

ابو ارسلان۔  ممبئی
اکبر الہٰ آبادی نے ایک بار ایک شعر کہا تھا جو آج کے حالات میں ڈاکٹر ذاکر نایک پر فٹ بیٹھتا ہے۔ انہوں نے انگریزوں کے الحادی نظریات کو حکومت کے ذریعے جبراً تھوپے جانے اور کچھ ایسی شخصیات جو مسلمانوں کی شکست اور انگریزوں کے عروج سے مرعوبیت کا شکار ہو گئی تھیں،ان کے ذریعے بلا سوچے سمجھے انگریزی ذریعے تعلیم کو اپنائے جانے کو تنقید کا نشانہ بنایا تو ان کے خلاف جدیدیت کے علمبردار اور مرعوبیت کے شکار خم ٹھونک کر میدان میں آگئے تھے اس پر انہوں نے کہا تھا ؂ حریفوں نے رپٹ لکھوائی ہے جاجا کے تھانے میں۔ کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں  ذاکر نایک پر میڈیا ٹرائل کی انتہا کو دیکھتے ہوئے ملی تنظیموں نے بھی ایک مشترکہ پریس کانفرنس کر کے ڈاکٹر صاحب سے اظہار یکجہتی کا اعلان کیا۔ اس پریس کانفرنس کے فوری بعد ایک اور پریس کانفرنس اسی جگہ پر ہوئی جس کو کچھ مسلمان نام والے لوگوں نے منعقد کیا۔ ان کا مقصد ذاکر نایک پر انہی الزامات کی توثیق کرنی تھی جس کو میڈیا دس دنوں سے ہر چینل پر دہرارہا تھا اور جس کو سنگھ اور اس کی ہمنوا تنظیموں نے خوب ہوا دی تھی۔  واضح ہو کہ دوسری پریس کانفرنس میں فیروز میٹھی بور والا ،جاوید آنند ،پروفیسر زینت شوکت علی ،عرفان انجینئر اور کپل پاٹل جیسے لوگ شامل تھے۔ کپل پاٹل کا اس میں شامل ہونا سمجھ میں نہیں آیا کیوں کہ وہ نرم مزاج انصاف پسند اور کسی کی حاشیہ برداری کرنے والے نہیں ہیں۔ لیکن فیروز میٹھی بور والا کے بارے میں دو تین ہفتہ قبل مکمل نہ سہی کچھ تعارف کروا چکا ہوں کہ یہ شخص کس طرح جماعت اسلامی کے اسلم غاذی کے کاندھوں پر سوار ہو کر مسلمانوں میں اپنی مسیحا جیسی امیج بنانے میں کامیاب ہوا۔ جاوید آنند بھی ایک کمیونسٹ ہیں اور جاوید کے ساتھ آنند بھی ہیں۔ کمیونل کمبیٹ کے نام سے ایک میگزین نکالتے ہیں۔ جس میں مسلمانوں کی مدد اور ان کی ہی فنڈنگ ہوا کرتی ہے۔ یہ لوگ ہندوستان میں رونما ہونے والے فسادات میں مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کا ناٹک کرکے پہلے سادہ لوح مسلمانوں میں اپنی پیٹھ بناتے ہیں اور پھر اپنی اسلام دشمنی کی فطرت پر آجاتے ہیں۔ یہ وہی ٹولہ ہے جو سلمان رشدی اور تسلیمہ جیسے اسلام دشمنوں اور مسلمانوں کا مذاق اڑانے والوں کی حمایت کرتا اور ان کی میزبانی کرکے خود ترقی پسند کہلاتا ہے۔ زینت شوکت علی کے نام کے ساتھ اکثر اخبارات یا اشہارات میں انہیں اسلامی اسکالر لکھا جاتا رہا ہے۔ وہ کسی مشنری کالج میں اسلامیات کی پروفیسر ہیں۔ ان کی شکل دیکھنے کے بعد انہیں مغربی اسکالر تو کہا جاسکتا لیکن اسلامی اسکالر کہنا ایک مذاق لگتا ہے۔
مذکورہ بالا نام نہاد سیکولر لوگوں کی پریس کانفرنس میں وہی الزامات لگائے گئے جس کو میڈیا نے پیش کرکے لوگوں کے ذہن میں محفوظ کردیا ہے۔ اور جس پر ذاکر نایک ہی نہیں قوم کے دوسرے سر بر آوردہ شخصیات نے بھی بار بار وضاحت کردی ہے۔ یہ نام نہاد کمیونسٹوں کاوہ طبقہ جو اپنے آپ کو مسلمان بھی کہلوانا چاہتا ہے۔ جبکہ ان لوگوں نے اس موقعہ پر آر ایس ایس کے دلال کا کردار ادا کیا۔ بھلا اگر یہ لوگ سنگھی ایجنڈے کے خلاف رہنے والے لوگ ہیں تو انہوں نے بھی ذاکر نایک کے خلاف بولنے کا یہی موقعہ کیوں چنا جبکہ سنگھ کی پوری مشنری ایک ہی سُر میں ذاکر نایک کے خلاف ٹر ٹرانے میں مصروف ہے تو ان سیکولرسٹوں کو بھی ذاکر نایک کا بخار چڑھا۔یہ بعد میں بھی اپنی بکواس کرسکتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے شاید یہ وقت مقرر ہی اس لئے کیا تھا کہ ساری منافق نما شخصیات اپنی تمام تر خباثت کے ساتھ بے نقاب ہو جائیں۔ سو فیروز میٹھی بور والا اور جاوید آنند جیسے لوگ جو مسلمانوں کے ہمدرد بن کر خوب چندہ کمایا کرتے ہیں وہ لوگوں کے سامنے اس حال میں آئے کہ ان کا اور آر ایس ایس کا کنکشن صاف کھل کر آگیا۔ اب یہ ہمارے قائدین پر منحصر ہے کہ وہ ایسے اسلام دشمنوں کے کاندھوں پر اپنے حق کی لڑائی لڑتے ہیں یا پھر ایمانی غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے وہ اللہ کے بھروسے پر اپنی جنگ خود ہی لڑیں گے اور ایسے لوگوں کو ان کی اوقات دکھادیں گے۔
فیروز میٹھی بور والا وہ ہے جو قرآن کو بھی اپنی یاوہ گوئی کا نشانہ بناتا ہے۔ ایک بار دوران گفتگو میں نے اس سے کہا بھی تھا کہ ’’تم پہلے قرآن کو پڑھو پھر کچھ بولنے کی کوشش کرو ‘‘۔اس پر اس کا جواب یہ تھا کہ بہت پڑھتا ہوں۔ مجھے اس پر غصہ آیا اور میں نے کہا کہ تم ایک جاہل انسان ہو تمہیں کچھ نہیں آتا اور نہ ہی تم نے قرآن پڑھا ہے۔ اس نے قرآن پر کھلے عام انگلیاں اٹھائیں اور کہا کہ یہ سب غلط ہے۔ اس کا انداز سنگھ کی ذیلی تنظیموں وی ایچ پی اور بجرنگ دل سے جدا نہیں تھا۔وہی بیس آیتیں جس پر سدرشن کے دور سے اعتراضات کیا جاتا رہا ہے اور علماء اس کا تفصیلی جواب بھی دے چکے ہیں اور خود ذاکر نایک بھی ان بیس آیتوں پر اعتراض کا جواب دے چکے ہیں جو کہ کتابی شکل میں بھی موجود ہے۔ اس نے معروف ائمہ پر بھی انگلیاں اٹھائی تھیں جس کا انداز انتہائی تضحیک آمیز تھا۔ اس پر میں ٹوکا تھا کہ ایسے انداز سے بولوگے تو مسلمان بہت برا حال کریں گے۔ میری اس بات سے اس نے آس پاس کھڑے ایک دو سوشل ایکٹیوسٹ سے کہا دیکھو یہ دوست ہو کر کیسے بول رہا ہے۔ میرا جواب تھا دوست ہونے کی ہی وجہ سے شاید تم پر کوئی ضرب نہیں پڑی ورنہ جانے کیا ہو جاتا اور اگر بات کرنے کا یہی انداز رہا تو مستقبل میں کوئی انہونی نہ ہو اس کی کوئی گارنٹی نہیں دی جاسکتی۔ ظاہر سی بات ہے کہ آپ ہم سے متفق ہیں یا نہیں ہیں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔لیکن آپ ہمارے عقیدہ اور اس سے وابستہ شخصیات پر انگلیاں اٹھائیں اور انتہائی بیہودہ زبان استعمال کریں۔تو یہ ناقابل برداشت ہے اوراس کا کیا ردعمل ہوتا ہے اس کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں۔ کسی کو قرآن کی کسی آیت پر اعتراض ہے تو وہ مسلمان نہیں اور جب مسلمان نہیں تو اسے کیا حق بنتا ہے کہ وہ مسلمانوں میں اپنے آپ کو شمار کرائے اور کہے یہ ہٹاؤ یہ لاؤ۔کسی کو کوئی زبردستی نہیں کہ وہ مسلمانوں میں رہے۔ اس کے لئے راستے کھلے ہیں وہ جہاں جانا چاہے جا سکتا ہے۔ اس کو کون کہتا ہے کہ وہ مسلمان بن کر رہے۔ یہ تو اس کی اپنی مجبوری ہے کہ وہ مسلمان بن کر کچھ فائدے کمانا چاہتا ہے۔ فیروز میٹھی بور والا اسلامی شعائر سے نفرت کرتا ہے۔ نام نہاد آزادی کی بات کرتا ہے۔ حاجی علی درگاہ کے بعد اس کا اگلا ہدف مساجد ہیں۔ اس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہاں مر د و خواتین کو یکساں طور پر جانے کی اجازت ہونی چاہئے۔ اس پر بھی میں نے اسے ٹوکا تھا اور متنبہ کیا تھا کہ وہ آگ سے کھیل رہا ہے۔ دنیا میں حقیقی مسائل بہت زیادہ ہیں جنہیں حل کرنے یا اس کے خلاف مظاہرہ و احتجاج کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ مساجد اور درگاہوں کے فرضی مسائل کھڑے کرکے اور ذاکر نائک کے بارے میںآر ایس ایس کے ساتھ سُر میں سُر ملانے سے کیا مسائل حل ہوں گے۔ نیز اس سے عوام کا کیا بھلا ہونا ہے۔ در اصل یہ ایجنٹ ہیں کہیں سے انہیں اشارہ ملتا ہے اور فنڈنگ ہوتی ہے اس کے مطابق یہ حرکت میں آتے ہیں اور اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں نیز مسلمانون کو سنگھ اور اس کی ذیلی تنظیموں کی طرح فرضی مسائل میں پنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں ان کی اوقات ضررو بتانی چاہئے۔
کمیونسٹوں کے بارے میں میرا مطالعہ یہ ہے کہ یوروپ و امریکہ کی عیسائیوں حکومتوں نے مسلمانوں کو وہ نقصان نہیں پہنچایا جو کمیونسٹوں نے پہنچایا۔ کمیونسٹوں نے کئی مسلم جمہوریاؤں پر نہ صرف قبضہ کیا جو زوال روس کے بعد آزاد ہوئیں بلکہ انہوں نے مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام کیا مساجد پر تالے ڈالے مدارس پر بلڈوزر چلائے مذہبی کتابوں کو جلایا ،قرآن کی بے حرمتی کی ،علماء کا قتل عام ہوا۔ باریش مسلمانوں کا مذاق اڑانا اور مسلم خواتین کے ساتھ بدتمیزی کرنا ان کے نقاب نوچ پھینکنا یہ ان کمیونسٹوں کا محبوب مشغلہ تھا۔ اسی کا اعادہ انہوں نے افغانستان میں بھی کیا لیکن افغانستان کے غیور پٹھانوں نے انہیں وہ زخم دیا ہے جسے وہ قیامت تک چاٹتے رہیں گے۔ یہ کمیونسٹ بھی یہودیوں کی ایک شاخ ہی ہے کیوں کہ اس کا بابا آدم بھی ایک یہودی ہی تھا۔ جن لوگوں نے ذاکر نایک کے خلاف مورچہ کھول رکھا ہے ان کی نظر میں ذاکر نایک کا اس بھی زیادہ کوئی جرم ہے کہ وہ اسلام کی تبلیغ کرتا ہے۔ اللہ و رسول کی باتیں بتاتا ہے۔ وہی اکبر الہٰ آبادی کی زبان میں ؂ کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں۔قرآن کی باتیں بتاتا ہے۔ لیکن یہ ان کی بد نصیبی ہے کہ اگر بیسویں صدی میں مولانا مودودیؒ لادینی نظریات جمہوری ،لبرل اور سیکولر نظام پر بجلی بن کر گرے تھے تو اکیسویں صدی میں ہندوستان میں ذاکر نایک ان کی خدا بیزار نظریہ کی راہوں میں سد راہ بن کر کھڑے ہیں اور اکیسویں صدی تو بہر حال اسلام کی ہی صدی ثابت ہو گی انشاء اللہ خواہ یہ اس کے خلاف کتنا ہی زور لگالیں۔
آخری بات یہ ہے کہ ہمیں اب اپنی لڑائی خود ہی لڑنی چاہئے یہ اسلام دشمنوں کا ساتھ لینے کا انجام ایک دن بہت ہی برا ہو گا۔ ابھی تو یہ اتنے مضبوط نہیں ہوئے ہیں جب یہ اسلام پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔ جب ان کو قوت مل جائے گی تب تو یہ روس کی مسلم جمہوریاؤں والی حالت یہاں بھی مسلمانوں کے ساتھ روا رکھیں گے۔ اس لئے وقت رہتے بیدار ہونا اچھا رہے گا۔ ورنہ کل ہاتھ ملنے سے کچھ نہیں ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close