خامشی کو میری دنیا نے بھلا سمجھا ہے کیا !

عالم نقوی

عین اس وقت جب سپریم کورٹ نے شہید بابری مسجد کی ملکیت کے  برسوں پرانے مقدمے میں الہٰ آباد ہائی کورٹ کے چھے سال پرانے’ چوں چوں کا مربہ فیصلے‘ کے خلاف دائر عذر داری پر ۵ دسمبر ۲۰۱۷ سے روزانہ کی بنیاد پر  سماعت شروع کر دی ہے ۶ دسمبر ۲۰۱۷ کو اپنے ایک  فیصلے میں، جسے بعض اخبارات نے  ’تاریخ ساز‘ لکھا ہے، گوہاٹی ہائی کورٹ کے  نو ماہ پرانے ۲۸ فروری ۲۰۱۷ والے  جانبدارانہ فیصلے کو رد کرتے ہوئے آسام کےلاکھوں  مسلمانوں کو،بلا شبہ، ایک بڑی راحت دی ہےبشرطیکہ یرقانی انتظامیہ، عدالت عظمیٰ کے اس منصفانہ فیصلے کو اپنی  خصلت کے مطابق ڈھالنے کی کوئی نئی ظالمانہ  کوشش نہ کرے ۔ لہٰذا اب دیکھنا ہے کہ  سنگھ پریوار کی موجودہ  مرکزی اور ریاستی  سرکاریں  اِس ’عدالتی  دھچکے ‘کو شریفانہ طور پر برداشت کر کے ایمانداری کے ساتھ اس پر عمل کرتی ہیں  یا گھٹی میں پڑی ہوئی اپنی روایتی مسلم دشمنی کا  ثبوت دیتے ہوئے آسام کے کئی لاکھ مسلمانوں کی بھارتی شہریت کو مشکوک بنانے یا رد کر دینے کے لیے  کوئی نیا پینترا اختیار کرتی ہیں !

گوہاٹی ہائی کورٹ نے اپنے مذکورہ بالا فیصلے میں ’قومی شہری رجسٹر‘ (نیشنل  رجسٹر فار سٹیزن)میں اندراج کے لیے پنچایت سرٹیفکٹ کو ناقابل قبول قرار دیا تھا، سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے اُسے   کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ  کے اس تاریخی فیصلےنے پنچایت سر ٹی فیکٹ رکھنے والی اُن ۳۱لاکھ شادی شدہ خواتین کی بھارتی شہریت تسلیم کر لی ہےجسے گوہاٹی ہائی کورٹ نے ماننے سےانکار  کر دیا تھا۔ اس فیصلے  سے مجموعی طور پراڑتالیس( ۴۸ )لاکھ خواتین کی شہریت متاثر ہو رہی تھی  جن میں سےسترہ ( ۱۷ )لاکھ کا تعلق ہندو مذہب سے تھا لیکن آسام کی بی جے پی  حکومت نے اُن کی شہریت کو تسلیم کرتے ہوئے صرف باقی ماندہ اکتیس (۳۱ )لاکھ مسلم خواتین کو جبراً بنگلہ دیش  بھیجنے کا فیصلہ کر لیا تھا جس پر گوہاٹی ہائی کورٹ نے اپنی رضامندی کی مہر لگا دی تھی۔ سپریم کورٹ نے  مذہب کی بنیاد پرکی جانے والی   شہریوں میں تفریق کی اس  سرکاری کاروائی  اور عدالتی توثیق دونوں کو خارج کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ۶ دسمبر۲۰۱۷ کو آدھار کارڈ کی لازمیت کے سلسلے میں بھی ایک ایسا فیصلہ سنایا ہے جو حکومت کے حق میں کم اور عام  ہندستانی شہریوں کے حق میں  زیادہ ہے۔ تو کیا ان دونوں فیصلوں کی بنیاد پر یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ بابری مسجد کی ملکیت کے مقدمے میں بھی اپنی روزانہ کی سماعت کے اختتام پر جب سپریم کورٹ کا فیصلہ آئے گا تو وہ ’’حقیقی تاریخی حقائق‘‘ کے مطابق اور ’’ صد فی صد مبنی بر انصاف ‘‘ہوگا؟ لیکن ہم اپنی کسی ناقص رائے کے اظہار سے پہلے حبیب مکرم انتظار نعیم کی ایک غزل کے سات شعر اپنے قارئین کی نذر کرتے ہیں جو انہوں نے شہید بابری مسجد اور الہ آباد ہائی کورٹ کے چھے سال پرانے ’باغباں اور صیاد ‘ دونوں کو بیک وقت خوش اور راضی رکھنے کی کوشش کے تعلق سے چھے سال قبل کہے تھے :

گھر خدا کا تین حصوں میں کہیں بٹتا ہے کیا ۔ ۔۔یہ ستم، تاریخ نے، پہلے کبھی دیکھا ہے کیا ؟

ایک معبد، اِس کا بھی ہے، اُس کا بھی اور اُس کا بھی۔ ۔یہ بھی سچ ہے، وہ بھی سچ، ایسا کبھی ہوتا ہے کیا !

بات دیگر ہے کوئی جبر و ستم سے چھین لے۔ ۔ورنہ گھر رَب کا، بُتوں کو بھی کوئی دیتا ہے کیا !

زخم کی گہرائی کا لگتا نہیں کوئی سراغ۔ ۔حادثہ دنیا میں ایسا بھی کبھی ہوتا ہے کیا ؟

آگ ہے دل میں لگی لیکن ہمارا ضبط دیکھ۔ ۔دیکھ ! اس سے کوئی ہلکا سا دھواں اُٹھتا ہے کیا ؟

ایک اِک لمحے میں پوشیدہ ہیں طوفاں بے شمار۔ ۔خامشی کو میری دنیا نے بھلا سمجھا ہے کیا

گھر خدا کا جو بھی مانگے اُس کو ہم دے دیں نعیم ؟۔۔کوئی بتلائے کہ یہ بازار کا سودا ہے کیا !

سنگھ پریوار کے ظالم، متکبر  اور دریدہ دہن لیڈروں  میں سے ایک  سبرامنیم سوامی نے ۳  دسمبر ۲۰۱۷ کو ممبئی میں یہ اعلان کیا ہے کہ بابری مسجد کی جگہ ایک ’’بھوّیہ رام مندر ‘‘ کی تعمیر کا کام  اگلے ہی سال ۱۸ اکتوبر ۲۰۱۸ تک مکمل کر لیا جائے گا اور اگلی دیوالی ہم  رام مندر  ہی میں منائیں گے ‘اور یہ کہ ’اس کے لیے الگ کوئی قانون بنانے کی بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہمارے حق میں ہی آنے والا ہے ‘!جہاں تک بابری مسجد مقدمے کے تعلق سے،روزانہ کی سماعت کے اختتام پر، سپریم کورٹ کے’ آئندہ  فیصلے‘ کا سوال ہے ہم کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں !نہرو،پٹیل اور پنت کی سربراہی اور نگرانی میں مسجد کے اندر مورتیاں رکھ کر تالا ڈالنے، راجیو گاندھی کی قیادت میں تالا کھلواکر وہاں پوجا شروع کروانے اور پھر نرسمہا راؤ کی سرپرستی میں ساڑھے چار سو سال قدیم مسجد اور تہذیبی ورثے کو  شہید کر کے اس کے ملبے پر عارضی مندر بنا  دینے  سے لے کر آج تک کی سرسٹھ سال کی تاریخ کو اگر نگاہ میں رکھیں تو اُس غیر منصفانہ  حکومتی نظام  کے تحت جو اِس مذموم تاریخ  کی تصنیف کا ذمہ دار ہے  کسی انصاف کی امید رکھنےکے لیے کن الفاظ کا استعمال کیا جانا چاہیے، یہ بتانے کی  چنداں ضرورت نہیں !

کل بھیڑ جمع کر کے حکومت، عدالت اور فوج کی نگرانی میں جنہوں نے مسجد شہید کر کے عارضی مندر بنا ڈالا تھا  وہ کل  اُس کی جگہ مستقل مندر بھی بنا سکتے ہیں لیکن،اور یہ لیکن محض ایک لفظ نہیں ایک تاریخی حقیقت کا آئینہ ہے کہ ’ تبدیلی‘ تاریخ کا مزاج ہے!  حکومت، قوت اور اختیار  ہمیشہ ایک جگہ اور ایک جیسی حالت میں  نہیں رہتے۔ یہ بھی تاریخ کی روایت ہے !تو۔۔ کل جب اَہل ِمسجد پھر سے صاحب قوت و اختیار ہوں گے تو وہ بابری مسجد کو  اُسی جگہ پہلے سے زیادہ شاندار طریقے سے قائم کر کے پہلے ہی کی  طرح  وہاں کائنات کے مالک و پالن ہار کے سامنے سر بسجود  ہو کر اس کا شکر ادا کریں گے، انشا اللہ !



⋆ عالم نقوی

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

سوال یہ ہے کہ ’حل‘ کیا ہے؟

جواب یہ ہے کہ موجودہ ’’مسائل ِظلم ‘‘ کا  ’ دائمی حل ‘،’ امکانی حصول قوت، دفاع، اور قصاص ‘ ہے۔ اور یہ جواب  قرآن کا ہے، ہمارے ذہن کی اختراع نہیں ! اگر ہمیں  اُس کا علم نہیں  تو قصور خود ہمارا  اور ہمارے نام نہاد اہل علم کا ہے  کہ  اس کتاب کو پڑھنے اور پڑھانے  کے ساتھ ساتھ  اُسے سمجھنے اور سمجھانے  کی کوشش نہیں کی جاتی  جس میں نہ صرف ہمارے بلکہ پوری دنیائے انسانیت کے  ہر مرض کی شفا اور  قیامت تک کے تمام مسائل کا حل  موجود ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے