ملی مسائل

خدارا مسلکی اختلافات کو ہوا دینے سے باز آئیں!‎

مسلک ایسی کوئی چیز نہیں جس پر نجات موقوف ہو۔ نجات صرف دین پر ہے جو قیامت تک باقی رہے گا۔

مسعود جاوید

میں نے کئی بار اس موضوع پر لکھا ہے کہ سوشل میڈیا خاص طور پر فیس بک جہاں ایک  مفید پلیٹ فارم نعمت اور رحمت کی شکل میں ہمیں میسر ہے وہیں یہ زحمت اور مضر ذرائع ابلاغ بهی ہیںis a boon and bane at the same time۔۔ ۔۔۔ النعمة والنقمة

اب یہ اس کے استعمال کرنے والے پر منحصر ہے کہ اس کو مفید باتوں کی نشرواشاعت کے لئے اس کا استعمال کرے یا اس کا عکس۔ کچھ لوگوں کی برہنہ گفتاری، ناشائستہ الفاظ اور عقل سے پرے بحث کو دیکھ کر جی چاہتا ہے کہ کہوں: Zuckerberg بهائی آپ نے یہ کیا کیا۔ گنجے کو ناخن !

میرے ایک صاحب نے خواتین کا مسجد جاکر نماز ادا کرنے کی تحریک چلائی ہے۔ ان کا نظریہ ہے کہ اس سے دور رس نتائج حاصل ہوں گے۔ شرعی طور پر اس کی اجازت ہے۔ کچھ لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ مخالفت درست نہیں ہے۔ دونوں فریقین اپنے اپنے دلائل پیش کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کو باطل ثابت کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ یہ بهی درست نہیں ہے اس لئے کہ جو کام چودہ سو سالوں میں نہیں ہوسکا، کہ دین کے فروعی مسائل میں تمام مسلمانوں کا کسی ایک موقف پر اتحاد ہو، وہ آج فیس بک پر حل نہیں ہو سکتا۔ افسوس اس کا ہے کہ جن ائمہ کرام اور فقہاء عظام نے فقہی مسائل کا استخراج کیا اور فقہ کی تدوین کی ان کا تو موقف تھا : "نحن على الصواب مع احتمال الخطأ و الغير على الخطأ مع احتمال الصواب ”   یعنی قرآن و سنت کی روشنی میں پوری محنت اور غور وفکر کے بعد صحیح سمجھ کر دیانت داری سے جو کچھ ہم کہ رہے ہیں وہ صحیح ہے لیکن عقل انسانی سے خطأ اور صواب غلط اور صحیح دونوں  ممکن ہیں اس لئے میری بتائی ہوئی بات میں خطاء کا امکان ہے اور دوسرے فقہاء جن کو ہم خطأ پر سمجھتے ہیں ان کی خطاء میں  صواب کا احتمال ہے۔ یہ تهی ان کی  دیانت کی انتہا مگر ہم ان کے متبعین صرف اپنے آپ کو صواب اور حق پر اور اپنے علاوہ دوسروں کو خطاء اور باطل پر ثابت کرنے میں اس قدر متشدد ہیں کہ دشنام طرازی اور دست و گریباں بلکہ بعض مقامات پر FIR تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ اسلاف سے اختلاف کا یہ طریقہ بالکل غلط ہے کہ ہم ان کے عظیم کارناموں کو یکسر نظر انداز کردیں تہذیب، شائستگی، ادب اور لحاظ سب کچھ بالائے طاق رکھ ان کی ذاتیات پر حملہ کریں۔ مسجد میں خواتین کا نماز ادا کرنا – اس بارے میں مختلف احادیث اور اقوال دونوں فریقین پیش کر رہے ہیں مگر ایک بات پر تو اتفاق ہے دور نبوی ص میں عورتوں کی صف سب سے پیچھے ہوتی تھی اور نماز کے بعد مرد رکے رہتے تھے یہاں تک کہ خواتین اٹھ کر چلی نہ جائیں۔ مقصد یہ ہے مرد و عورت کا اختلاط سے بچا جائے۔ عرب ممالک میں میں نے دیکها کہ بعض مساجد میں مصلی النساء کے نام سے ایک حصہ مختص ہے جس میں خواتین نماز ادا کرتی ہیں اور ان کے ساتھ جو چهوٹے بچے ہوتے ہیں ان کا بهی انتظام ہے۔ کل میرے ایک دوست نے ترکی کی ایک مسجد کی تصویر شیئر کی جس میں لوگ تراویح ادا کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ جو بچے ہیں ان کے لیے مسجد میں ایک گوشہ ہے جس میں بچوں کے لئے کھلونے اور ٹیبل کرسیاں لگی ہیں۔ بارہا ایسا اتفاق ہوا کہ شاپنگ کے دوران جماعت کا وقت ہوا تو میں نے بهی اپنی اہلیہ اور بچے کو اس حصے میں بهیج دیا اور خود مردوں کے حصے میں اور اس طرح دونوں نے وقت پر نماز  ادا کر لی۔ دہلی میں بعض مساجد ہیں جہاں خواتین کے لیے ایک حصہ یا اوپر کا حصہ خاص ہے جہاں جمعہ، عیدین اور تراویح کے لئے خواتین آتی ہیں۔ اور کسی بهی فرد بشر کو اس پر اعتراض نہیں ہے اور نہ ہونا چاہیئے اس لئے کہ آپ کو پسند ہے آپ جائیں اور بہتر نہیں سمجھتے ہیں تو نہ جائیں کوئی جبر نہیں ہے۔ جہاں تک عیدگاہ میں خواتین اور بچوں کو لے جانے کی بات ہے تو اولا یہ کہ آبادی بڑھنے کی وجہ سے اور دوسری مصلحتوں کی بناء پر سب کا ایک عیدگاہ میں نماز ادا کرنا ممکن نہیں ہے۔ بچپن سے پچھلے کئی برسوں تک  پمارے یہاں بهی یہی معمول تھا کہ بچے بجیاں گهر کی خاتون خانہ اور بڑی لڑکیوں کو چھوڑ کر سب عیدگاہ جاتے تھے مگر اس کے بعد ملک میں خاص طور شمالی ہند میں فرقہ وارانہ ماحول اور ہندو مسلم فسادات کے ہیش نظر خاص طور پر مراداباد عیدگاہ کی ٹریجڈی کے بعد، لوگوں کی رائے بنی کہ بچوں کو عیدگاہ لے جانے سے احتراز کیا جائے۔ دهیرے دهیرے یہ خدشات کم ہوئے تهے کہ بابری مسجد سانحہ نے ایک بار پهر خدشات کو جنم دیا اور لوگوں نے فیصلہ کیا کہ رمضان کے روزوں کے عوض بطور انعام خوشی منانے اور اس کا اظہار کرنے کا حکم ہے اور اللہ کے رسول ص کی حدیث اسی تعلق سے ہے کہ بچوں اورعورتوں کے ساتھ خوشی منائی جائے مگر ملکی حالات تحفظ اور احتیاطی تدابیر کے طلبگار ہیں اس لئے اب پورا شہر مسلمانوں سے خالی نہ ہو اس لئے عیدگاہ کے علاوہ بھی مختلف اوقات میں شہر کی مسجدوں میں  عیدین کی نماز کا نظم ہو۔ دفع المضرة اولى بجلب المنفعة۔

ایک اور صاحب نے لکھا کہ ان کے گاؤں کی ایک مسجد میں امام صاحب نماز شروع کرنے سے پہلے اعلان کرتے ہیں کہ آمین بالجہر کہنے والے اس مسجد سے چلے جائیں میں نہیں سمجھتا کہ کسی مقلد کی مسجد میں ایسا اعلان کیا جاتا ہے اس لئے کہ مسجد اللہ کا گهر ہے اور کسی بھی مسلمان، خواہ وہ کسی بهی مسلک کا متبع ہو، کے لئے مسجد کا دروازہ بند نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن واقعی اگر ایسا کہیں ہوا ہے تو نہ صرف یہ کہ یہ قابل مذمت ہے اور ایسا امام قابل سرزنش ہے( اس لئے کہ مسجد میں داخل ہونے سے کسی کو روکنا گناہ عظیم ہے)بلکہ یہ خطرے کی گھنٹی بهی ہے  اس لئے کہ اس طرح کا مسلکی تعصب بعض علاقوں میں دیوبندی اور بریلوی گروہ میں سننے کو ملتا تھا کہ بریلوی مسجد میں اگر دیوبندی چلا جائے تو مسجد کو دهو کر پاک کرتے تھے۔ لیکن تعلیم جن علاقوں میں پہنچی وہاں دهیرے دهیرے یہ تعصب کم ہوا، مگر اب شدت مقلد اور غیر مقلد (سلفی یا اہل حدیث ) کے مابین دیکھنے اور سننے  میں آرہا ہے۔ جمعہ کا خطبہ ہو یا عیدین کی نماز کے مواقع –  تراویح میں 8 رکعتیں ہیں یا 20، یا ہے ہی نہیں ؟  نماز کے بعد دعا ہے یا نہیں ، آمین بالجہر، رفع یدین، ہاتھ سینے پر باندھنا ہے یا ناف کے اوپر، قدموں کے درمیان فاصلہ کتنا ہو ان مسائل پر اپنے موقف کی حمایت میں اور مقلدین کی مخالفت میں چلا چلا کر خطبہ دینا اور چیلنج کرنا غیر مقلدین کی مساجد میں عام طور پر سننے کو ملتا ہے۔ اپنے مسلک کی تبلیغ کرنے کا آپ کو حق ہے مگر ایسے مواقع پر جہاں عوام  جم غفیر اجتماعیت کا مظاہرہ کرنے آئ ہو آپ مسلکی اختلافات کو ہوا دے کر ملی انتشار کا سبب نہ بنیں تو کیا ہی بہتر ہوتا۔

آپ  جسے حق سمجھتے ہیں اس پر عمل کریں مگر دوسروں کے خلاف محاذآرائی سے باز رہیں۔

اللہ  غریق رحمت کرے اور درجات بلند فرمائے مولانا سالم  قاسمی صاحب رح کے کہ انہوں نے قاسمیت کا حق ادا کردیا۔ ان کی  مندرجہ  ذیل تقریر کو عام کرنا آج کے دور کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ وحدت امت کے لئے دین کے نام پر ان جھگڑوں کی حیثیت پر مولانا رحمہ اللہ کی مندرجہ۔ ذیل چشم کشا تقریر سے استفادہ کریں:
——”——–”—
قابل تبلیغ صرف دین ہے – مذہب, مشرب و مسلک نہیں:

مولانا محمد سالم قاسمی صاحب رح
سرپرست دارلعوام دیوبند وقف

دارالعلوم زاہدان، ایران نے چند سال قبل آپ کو سالانہ تقریب ختم بخاری میں مدعو کیا تھا۔ پیران سالی کے باوجود مولانا قاسمی دامت برکاتہم نے سفر کی مشقت برداشت کرتے ہوئے 2006ء کو زاہدان پہنچ گئے جہاں خواص اور عوام نے آپ سے استفادہ کیا۔

تمہیدی کلمات کےبعد ,

” اللہ تعالی نے آپ کو علم کی دولت سے نوازا ہے۔ یہ ایسی دولت ہے جس کی وجہ سے ’ملت‘ کی فکری، اعتقادی، علمی اور عملی ذمہ داریاں آپ پر عائد ہوتی ہیں۔ آپ وارث ہیں انبیائے کرام علیہم السلام کے اور ملت کی ہدایت و رہنمائی آپ کی ذمے داری ہے۔ انبیائے کرام کے ساتھ ’مال‘ نہیں ہوتا ’کمال‘ ہوتاہے۔ اللہ تعالی نے اس کمال کا کچھ حصہ آپ کو عطا فرمایاہے، اسی لیے یہ ذمہ داری غیرمعمولی ہے۔ اسی ذمے داری کو پیش نظر رکھ کر عصرحاضر کے تجربات کے تناظر میں مجھے چند کلمات عرض کرنی ہے۔ حالات اور وقت کے اندر چونکہ تبدیلی ہوتی رہتی ہے اور ایسے انقلابات آتے ہیں جن کی وجہ سے اوہام، افکار، خیالات، تجربات اور تحریکات میں فرق پیدا ہوتارہتا ہے۔ ذہنی تبدیلیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں اس لیے قدرتی طور پر ذمے داریوں کے احساس میں بھی تبدیلی پیدا ہوتی رہتی ہے اور اس کا شعور بھی پیدا کرنا پڑتاہے۔

جہاں تک دین کا تعلق ہے تو دین صرف اس بات کا نام ہے جو اللہ کی طرف سے مْنزل ہے، اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ دین فقط اللہ کی ارشادات کانام ہے جس میں فکر اور شعورِ انسانی کو شامل نہیں ، عام فکر اپنی جگہ فکرنبوت کو بھی اس میں شامل نہیں فرمایا گیا۔ دین براہِ راست اللہ کی طرف سے ہے اور عقلِ انسانی کو اس میں ادنی سا دخل بھی نہیں ہوتا۔ عقلِ انسانی کا دخل کہاں ہوتاہے؟ جب حقیقت سامنے آجائے تو انسانی عقل شبہات، اعتراضات اور تلبیسات کا جواب دیتی ہے۔ حق کو مکمل طور پر واضح کرنا عقل انسانی کا کام ہے۔ اس لیے اللہ نے دین کو عقل سے بالاتر رکھا۔ دین کو عقل سے تطبیق دینے کیلیے حدیث آئی اور نبی کریم(ص) نے دین سب کو سمجھایا۔

قرآن پاک انسان کی ہدایت کیلیے ایک کامل کتاب ہے جس میں انسان کی ہدایت کیلیے مجمل طور مسائل بیان ہوئے؛ ان احکام و مسائل کو حضرات فقہائے کرام نے بعد میں بیان فرمایا۔ چونکہ جب قرآن پاک کی حقانیت کو دنیا کی قوموں نے دیکھی تو وہ راہ راست پر آگئیں ، اسلام دین فطرت ہے۔ لیکن ان کے اپنے اپنے مذاہب تھے اور ان کی رسومات مختلف تھیں ، تو ان کے ذہنوں میں شبہات و سوالات پیدا ہوئے جن کے جواب فقہائے کرام نے دیا۔ امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام احمد، امام مالک اور دوسرے فقہاء رحمہم اللہ نے قرآن پاک میں ڈوب کر غور وخوض سے قانونی طور پرمسائل نکالے۔ یہ فقہ اسلام کا قانون ہے۔ یہ دنیا کے واحد قانون ہے جو انسانی زندگی کے ہر جز پر حاوی ہے۔ آپ کا اٹھنا، بیٹھنا، حرکت و سکون، دیکھنا اور سننا غرض ہر عمل ایسا نہیں جس کاحکم کتاب اللہ کے اندر موجود نہ ہو اور علمائے کرام نے اسے نہ نکالا ہو۔ فقہاء نے احکام کی تخریج میں غیرمعمولی محنت کی اور ان کی کمال دیانت کی حد دیکھیے کہ جب دلایل نقل وعقل اتنے ہوگئے کہ انہیں سوفیصد اطمینان ہوگیا پھر انہوں نے اس رائے کو اپنے مذہب کا جزو بنایا۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے فرمایا: ’نحن علی الصواب مع احتمال الخطا والغیر علی الخطا مع احتمال الصواب۔‘ قرآن وسنت کی روشنی میں جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں وہ صحیح ہے، اسے ہم نے دیانتا صحیح سمجھ کر پیش کیا لیکن عقل انسانی سے خطا اور صواب دونوں محتمل ہیں۔ خطا کا احتمال ضرور ہے۔ دوسرے فقہا جن کو ہم خطا پر سمجھتے ہیں ان کی خطا میں صواب کا احتمال بھی ہے۔ یہ دیانت کی انتہاء ہے کہ اپنی پوری محنت و غور کے بعد بھی کہہ رہے ہیں سوفیصد صواب ہونے کے اطمینان کے باوجود خطا کا امکان بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک امام کا متبع دوسرے امام کی اتباع کرسکتاہے اس کے اقتدا میں نماز پڑھ سکتاہے۔ چونکہ اختلاف فروع میں ہے اصول میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ ایک مستقل موضوع ہے۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب فقہ مرتب ہوگئی تو ایک مسئلہ سامنے آگیا کہ اس وقت کے علماء نے تبلیغ کرنے اور پیش کرنے کی چیز یعنی دین کو چھوڑ کر مذہب کی تبلیغ شروع کردی۔ میں جسارت کرکے عرض کررہاہوں کہ اس وقت کے علما میں ایسا داعیہ پیدا ہوا کہ اپنے فقہی مذاہب کی تبلیغ و تشہیر کریں۔ ہر امام کے متبعین نے اپنے ’مذہب‘ کو پیش کردیا، یہ دین نہیں تھا مذہب تھا۔ دین و مذہب ایک چیز نہیں ہے۔ مذہب کے اندر عقل انسانی کا دخل ہے لیکن دین میں عقل انسانی کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ دین کے ساتھ پہلی ناانصافی یہ ہوئی کہ مذہب کو اس کا قائم مقام بنادیاگیا۔

ظاہر ہے نتیجے میں علم کے اندر مزید انحطاط پیدا ہوا اور اس میں طبقات پیدا ہوئے۔ صدیوں سے کوششیں اور کاوشیں کی گئیں کہ دنیاکے سامنے اپنے فقہی مذہب کو برتر ثابت کیا جائے حالانکہ حق یہ تھا کہ دین کی برتری کے اثبات کیلیے محنت اور کوشش کی جاتی۔ برتر رہنے والی چیز دین تھا فقہ نہیں !

یہ انحطاط علمی آگے بڑھا اور مذہب کے بعد اس کے اندر ’مسلک‘ پیدا ہوا۔ علمائے کرام نے دین اور مذہب کی پیروی کرتے ہوئے اپنے آس پاس کے حالات کے تناظر میں کوئی رہنمائی نکالی تو ’مسلک‘ وجود میں آیا۔ حالات کو سامنے رکھ دین و مذہب کی روشنی میں فتوا دیا جائے تو مسلک وجود میں آتاہے، ظاہر ہے اس کا درجہ مذہب سے بھی نیچے ہے۔ اب کیا ہورہاہے کہ جیسے کہ پہلے والوں نے اسٹیج پر کھڑا ہوکر دین کے بجائے مذہب کی تبلیغ کی، لوگ دین اور مذہب دونوں کو پیچھے چھوڑکر دنیا کے سامنے اپنے مسلک کی برتری ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ دین کی جگہ کوئی چیز نہیں لے سکتی۔ دین کی حقانیت میں ادانی درجے کی شک وشبہہ نہیں ہے۔ لیکن مذہب و مسلک دونوں میں عقل انسانی کا دخل ہوتاہے۔

یہ ہوسکتاہے کہ کسی کے طلب حق کے اندر کوئی کمی ہو اور وہ دین کو نہ مانے، لیکن یہ ہوہی نہیں سکتا کہ دلائل کی بنیاد پر کوئی دین حق کو رد کردے۔ اس کی کوئی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔

الحمدللہ عہدنبوت میں اور بعد میں بھی اسلام کے مخالفین جن میں اہل علم و فکر اور اہل نظر موجود تھے دلائل کا کوئی ذخیرہ پیش نہیں کرسکے جو اسلام کے کسی ایک حکم کوچیلنج کرسکیں۔

قابل تبلیغ چیز صرف دین ہے۔ لوگوں نے مذہب اور پھر مسلک کو قابل تبلیغ بنادیا جن میں انسانی عقل داخل ہے؛ اگرچہ یہ عقل بہت پاکیزہ و سالم ہی کیوں نہ ہو۔ بہرحال عقل عقل ہی ہوتی ہے۔ مذہب میں علمائے کرام میں اختلاف پیدا ہوا، یہ اختلاف خود اس بات کی دلیل ہے کہ مذہب کا درجہ دین سے نیچے ہے۔ جس بات میں اختلاف پیدا ہوجائے وہ قابل تبلیغ نہیں ہے۔ اسی لیے آپ کو حق ہے کہ دلائل کی بنیاد پر آپ حنفی، شافعی، حنبلی یا مالکی بن جائیں لیکن اس کاحق ہرگز آپ کو نہیں دیاجاسکتا کہ آپ لوگوں سے کہیں حنفی بن جاؤ! شافعی بن جاؤ! مذہب و مسلک کی تبلیغ کا کوئی حق کسی کو نہیں ہے۔ مسلک جسے آپ نے بنایا اور ظاہر ہے اس میں وہ گہرائی اور تعمق نہیں ہے جو امام ابوحنیفہ اور امام شافعیؒ کا تھا اس کی تبلیغ کیسے کی جاسکتی؟ ایسے مسلک کو دین کا قائم مقام بنایاجائے ظاہر ہے یہ بہت بڑا ظلم ہوگا۔

مجھے یہ کہنے دیجئے کہ جس دور میں ہم رہ رہے رہیں علما انحطاط کی اس حد پر آگئے ہیں کہ اپنے مسلک کی تبلیغ شروع کردیے۔ مسلک کو دین کا درجہ دیاگیا؛ گویا کہا گیا کہ لوگو تمہاری نجات ہمارے مسلک میں ہے۔ حالانکہ نجات مسلک پر موقوف نہیں ہے دین پر ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ یہ امت جس کی کتاب ایک ہے، قبلہ ایک، پیغمبر ایک اور خدا ایک ہے یہ ملت ایک نہیں ہے! ہر طلوع ہونے والا سورج ملت اسلامیہ میں مزید تفریق کی خبر لیکر آتاہے۔ یہ سب ہماری غلطیوں کی وجہ سے ہوا؛ ہم نے پہلے دین کا درجہ دیا مذہب کو پھر مسلک کو اس کا مقام دیا۔ آگے بڑھ کر ایک ایسا طبقہ بھی ہے جس نے مسلک سے نیچے اتر کر ’مشرب‘ کی تبلیغ کررہاہے۔ کم از کم مذہب دلائل کی بنیاد پر ہوتاہے لیکن مشرب محض ذوق کی بنیاد پر ہوتاہے۔ ایک شخص ایک بزرگ کا متبع ہے تو وہ چاہے پوری دنیا اس فرد کی اتباع کریں ، یہ کیسے ہوسکتاہے؟ انحطاط علمی کہاں تک آچکاہے۔

آج علماء کی ایک ذمے داری یہ ہے کہ محنت کریں کہ اس تفریق کو ختم کریں ؛ میرے ناقص خیال میں اس تفریق و انتشار کی بنیاد یہ ہے کہ لوگوں اور علماء نے دین کی جگہ مذہب اور پھر مسلک و مشرب کو اہمیت دی اور ان کی تبلیغ کی۔ جس ملک میں آپ رہتے ہیں اور جس ملک سے میں آیاہوں وہاں بھی متعدد مسالک موجود ہوسکتے ہیں۔ اس کی وجہ وہی ہے جو آپ کی خدمت میں عرض کی گئی۔ امت کے اندر اتحاد قائم کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ یہ اتحاد کیسے حاصل ہوگا؟ اس کا حل یہ ہے کہ جو درجہ دین کا ہے وہ درجہ آپ دین کو دیدیں ، مذہب اور مسلک کو بھی ان کے مناسب مقام دیدیں۔ قابل تبلیغ صرف دین ہے؛ دنیا کے سامنے آپ صرف دین کو پیش کریں۔ مذہب یا مسلک کا ہپیش کرنا آپ کا علمی و اخلاقی انحطاط ہوگا، یہ غلط عمل شمار ہوگا۔

دورحاضر میں ذرائع کی کثرت ہے؛ ایسے ذرائع ابلاغ پیدا ہوئے ہیں جو ایک لمحے میں آپ کی بات پوری دنیا تک پہنچاسکتے ہیں۔ اگر کوئی گمراہی و ضلالت کی بات ہو تو وہ پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے، اگر ہدایت کی بات کی جائے تو وہ بھی پوری دنیا میں پھیل جائے گی۔ آپ کا فرض بنتاہے کہ اس تفریق کو ختم کرنے کیلیے محنت کریں اور وہ طریقہ اختیار کریں جو نبی کریم(ص)، صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین نے اختیار فرمایا۔

لہذا یاد رکھیں تبلیغ کیلیے صرف دین کا انتخاب کریں، افہام و تفہیم کیلیے مذہب ہے جبکہ حالات کے پیش نظر مسلک کام آتاہے۔ مسلک ایسی کوئی چیز نہیں جس پر نجات موقوف ہو۔ نجات صرف دین پر ہے جو قیامت تک باقی رہے گا۔ اس لیے کہ اس کے محافظ میں اور آپ نہیں ہیں بلکہ اللہ نے خود اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے۔ مجھے اور آپ کو اللہ نے دین کا ’محافظ‘ نہیں بنایا بلکہ ’خادم‘ بنایاہے۔ ارشاد ہے: ’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون‘‘۔ جب اس کی حفاظت اللہ کررہا ہو تو کون مٹاسکتاہے اس کو؟ آپ لوگوں کے خیالات، افکار، تہذیب اور کلچر کو پیش نظر رکھ کر دین کی تبلیغ کردیں۔ "

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close