ملی مسائل

خود کشی کے واقعات

جب تک انسان کے پاس مال و دولت ہے تب تک وہ خوش وخرم ہے اور جب کبھی مال ودولت سے وہ خالی ہوا تو اس کی زندگی خوشیوں  اور حقیقی زندگی سے خالی ہو جاتی ہے۔  اس بات پر جب گہرائی سے سوچا تو یہی پتا چلا کہ یہ سب کچھ حقیقت سے بعید ہے،  کسی انسان کی خوشی کا راز نہ تو مال و دولت ہے اور نہ ہی جاہ وحشمت بلکہ کچھ اور ہی ہے جس وجہ سے انسان خوش وخرم رہتا ہے۔

اس کی تازہ مثال وادی کشمیر میں  خود کشی کے واقعات پر مبنی و میڈیا رپورٹ ہے جس کی رو سے لگ بھگ کوئی بھی ایسا دن نہیں  گزرتا جب کسی نہ کسی کی خودکشی کی واردات کی خبر سننے کو نہ ملتی ہو۔حالیہ میڈیا رپورٹ کے مطابق پچھلے تین برسوں  کے دوران جہیز سے جڑے معاملات کی وجہ سے 15افراد کی جان چلی گئی۔رپورٹ میں  بتایا گیا ہے کہ سال 2014کے دوران 5،سال 2015کے دوران 6جبکہ سال 2016کے دوران 4ایسے معاملات سامنے آئے جن میں  اموات ہوئیں۔  ان میں  سے 15ہلاکتوں  پر 41افرادکو گرفتا ر کیاگیاجو جہیز کا مطالبہ کررہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق 2014کے دوران گھریلو تشدد پر 639کیس درج کئے گئے جن پر 1108افراد کو گرفتار کیاگیا جبکہ 2015میں 571ایسے کیس سامنے آئے جن پر1127افراد کوپولیس نے حراست میں  لیا۔اسی طرح سے سال 2016میں  گھریلو تشدد کے422کیس سامنے آئے جن پر 583افرادکو حراست میں  لیاگیا۔ رپورٹ کے مطابق 2014سے 2016کے درمیان جہیز کے معاملے پر 312خواتین کوخودکشی کرنے پر مجبور کیاگیاجس پر پولیس نے 361 افراد کو گرفتار کیاہے۔اگرچہ اس حوالے سے ریاست جموں  وکشمیر کی مخلوط سرکار نے خواتین پر گھریلو تشدد سے نمٹنے کیلئے جموں، راجوری،  اودھمپور،  سرینگر، اننت ناگ اور بارہمولہ میں  6 خواتین پولیس اسٹیشن بھی قائم کئے لیکن تاحال اس سب کے باوجود جہیز سے جڑے معاملات میں  اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔

حالیہ رپورٹ کے مطابق ’’خاوند یا دیگر رشتہ داروں  کی طرف سے خواتین کی مار پیٹ کے 1153کیس سامنے آئے جن پر 2413افراد کو گرفتار کیاگیا۔یوں  وادی کشمیر میں  خود کشی کے واقعات میں  روز افزوں  اضافہ ہونا اب روز کا معمول بن چکا ہے۔ جو زندگی انسان کو سب سے پیاری ہوتی ہے اسی زندگی کا خود ہی خاتمہ کرنا ایک ایسا سوال ہے جس پر وادی کشمیر کے مذہبی وسماجی طبقے کو غور کرنا ضروری ہے۔ ان واقعات میں  صرف خواتین کے جہیز معاملات ہی نہیں  بلکہ کئی ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں  جن میں  کچھ دوسرے ہی مسائل درپیش آئے ہوئے ہوتے ہیں۔  ایک طرف نوجوان لڑکے لڑکیاں  خودکشی کے مرتکب پائے جا رہے ہیں  دوسری جانب کم عمر سے لے کر عمر دراز لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔  غرض خود کشی کے ان واقعات میں  دن بہ دن اضافہ ہی ہوتا جارہاہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو لوگ یہ کہتے تھے کہ مال و دولت سے خالی شخص دنیا سے تنگ آکر اپنی ہی زندگی کا خاتمہ کردیتا ہے، وہ سب کچھ غلط ثابت ہو رہا ہے۔ آئے روز خود کشی کے واقعات پر ذرا غور تو کیجئے کہ خود کشی کون کر رہا ہے۔

حالیہ تین برسوں  کے دوران جتنے بھی ایسے دلخراش واقعات رونما ہوئے ا ن میں  سے اکثر کا تعلق کھاتے پیتے گھرانوں  سے تھا لیکن اس کے باوجود انہوں  نے اپنی زندگی کے ساتھ کھیل کر وادی کشمیر کے لوگوں  کے لیے ایک سوال چھوڑا کہ ’’آخر خود کشی کیوں ‘‘۔اس طرح یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اپنی زندگی جو سب سے پیاری ہوتی ہے کا خاتمہ کرنے کے پیچھے کوئی اور ہی راز ہے جس کی وجہ سے ایک انسان اپنی زندگی کا چراغ ہی گُل کر دیتا ہے۔ مال و دولت کی فراوانی،  جاہ وحشمت کے باوجود بھی انسان اپنی زندگی سے تنگ آکرایسی گھناؤنی حرکات کر کے اپنی زندگی کا چراغ آپ ہی کیوں  گل کر دیتا ہے…؟ قدرتی طور پر ہر انسان کو اپنی زندگی سے بہت ہی پیار ہوتا ہے۔ انسان کو اپنی زندگی کے حوالے سے بہت سے خدشات اور تحفظات رہتے ہیں۔  وہ ان خطرناک چیزوں  اور عوامل سے بچنے کی کوشش میں  رہتا ہے جو اس کی قیمتی زندگی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

غور طلب بات یہ ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ زندگی سے محبت کرنے والا انسان اپنے ہی ہاتھوں  اپنی جان لینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ بے شمار واقعات جن کی تفصیل ممکن نہیں  البتہ میڈیا رپورٹوں  سے معلوم ہوتا ہے کہ ان واقعات کے پیچھے کئی دوسری وجوہات ہیں  جن کی وجہ سے یہ واقعات رونما ہو رہے ہیں … یہ ایک سوال ہے جس پر غور کیا جانا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ وادی کشمیر کی دینی وسماجی تنظیموں  سے وابستہ لوگوں  کو یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آخر کن وجوہات کی بنا پر خود کشی کی وارداتوں  میں  دن دوگنی رات چوگنی اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومتی سطح سے جو رپورٹیں  سامنے آرہی ہیں  وہ ایک سطحی رپورٹ ہوتی ہے البتہ اگر آزادانہ طور پر ایک عوامی سروے کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے کہ ہمارے بعض نوجوان ان واقعات کے مرتکب کیوں  ہو رہے ہیں ؟ توبہت سے ایسے واقعات کا روک لگایا جا سکتا ہے۔ اس صورت حال پر دور سے تماشائی بننا عقل مندی نہیں  بلکہ اپنے ہی پیروں  پر کلہاڑی مارنے کے برابر ہے۔ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ کر فتویٰ صادر کرنا ایسے واقعات کی روک تھام کا علاج نہیں  ہے بلکہ سماج کے تئیں  صحیح خدمت کرنے کی غرض سے اُٹھ کر بلا کسی تفریق کے ایک جگہ جمع ہو کر ایسے واقعات کے رونما ہونے والی صورت حال پر غور و فکر کر کے عوام الناس کو باخبر کرنا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ سماجی مسائل دن بہ دن بڑھتے جارہے ہیں  اور بڑھتی ہوئی تباہیوں  کو روکنے کے لیے یہاں  کی مختلف دینی و فلاحی تنظیمیں ایک لائحہ عمل ترتیب دے کر اس صورت حال کا جائزہ لیں  تو بہت حد تک ان جان لیوا مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

اگر وقت پر ہم نے اس جانب توجہ نہ کی تو خدانخواستہ عنقریب ایک ایسا وقت آسکتا ہے کہ جو واقعات ہم آج دوسروں  کے دیکھ رہے ہیں  کل کو انہی جیسے واقعات سے ہم گزریں گے کیوں  کہ تالاب میں  ایک یا چند گندی مچھلیوں  کا ہونا اور انہیں  اس سے نکالنے کے بجائے انہیں  دور سے تماشا بنا کر دیکھنا بے عقلی سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ عقل مند انسان ہمیشہ عقل سے کام لے کر سعی و کوشش میں  لگ جاتا ہے اور بے عقل انسان ہمیشہ عقل کے بجائے جہالت کا شکار ہو کر دور سے تماشائی بن کے رہ جاتا ہے اور یہی تماشائی بننا ایک دن پورے تالاب کو گندہ کر کے رکھ دیتی ہے جس کی وجہ سے نہ تو تالاب صاف و شفاف رہ پاتا ہے اور نہ ہی تماشائی بیماریوں  سے محفوظ رہ پاتے ہیں۔  غرض وادی کشمیر کی اس بگڑتی صورت حال پر جلد از جلد سوچنا ضروری ہے۔’’ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ’’خود کشی ایک ایسا انسانی فعل ہے جس میں  انسان خود اپنے ہاتھوں ، اپنے ارادہ سے اپنی جان گنوا تا ہے۔اس میں  خود کشی کرنے والے کے ارادہ کا مکمل دخل ہوتا ہے اور وہ خود ہی اس عمل کے انجام دہی کے لیے راستہ اختیار کرتا ہے۔اس کا تعلق انسان کے اندرون سے ہے۔انسان کے اندرونی، ذہنی، قلبی، جذباتی اور سوچنے کی کیفیت اس کو اس مقام پر لے جاتی ہے جہاں  وہ اپنی زندگی کا خاتمہ خود ہی کر بیٹھتا ہے۔ گویا اندر رہنے والی ’غیر مادی ‘ چیز ہی تو اصل انسان ہے اور انسانیت کا جوہر ہے۔ اس کے ہونے ہی سے سب کچھ ہے اور روح بھی اسی کا نام ہے۔ یہ جسم بلکہ ساری کائنات اسی اندرونی انسان کی خدمت پر ما مور ہیں۔ وہ اندرونی انسان جس کا نام نفس بھی ہے، یہی دراصل انسان کو خودکشی کے اقدام پر مجبور کرتا ہے۔‘‘ آخر کیوں …؟

اس کی وجوہات معلوم ہونے کے بعد عوام الناس کو باخبر کر دینا، مشکلات ہونے کی صورت میں  ان کے ازالے کی کوشش کرنا، مسائل، مجبوریوں  وغیرہ کو دیکھنا یہ سب کچھ ہمارے علماء،  سیاست دان، قلم کار حضرات اور سربراہانِ تنظیم کی اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اولین حق بھی ہے اور اس حق کی ادائیگی کرنا نہ صرف لوگوں  کی خوش حالی کے لیے ضروری ہے بلکہ خود یہ سب کچھ اپنے آپ کے لیے بھی ضروری اور فائدہ مند ہے کیوں  کہ جب اپنے گھر کے باہر پورے علاقے اور محلے کا ماحول درست رہے گا تو اس کا مطلب ہی یہ کہ ہمارے اپنے گھر بھی خوش وخرم رہ پائیں  گے اور اگر باہر گندگی ہو تو چاہے گھر کو کتنا ہی پاک و صاف رکھنے کی کوشش کی جائے، باہر کی بدبو آخر کار گھر کے اندر داخل ہو ہی جاتی ہے۔ تو ضرورت ہے تماشائی بننے کے بدلے کچھ کرنے کی۔ یہ جذبہ لے کر کہ یہ میرے اپنے گھر کا کام ہے،  جتنی فکر اپنے گھر اور اہل خانہ کی ہو گی اتنا ہی ہم اس سماج کے تئیں  خدمت کرنے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوں  گے۔ سماج کی درستی ہمارے گھروں  کی درستی کی لیے ضروری ہے اور سماج اور گھر کی درستی کے لیے ہر شخص کو اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کر کے اُٹھنا ہو گا۔ وقت کے ان خطرناک سیلابوں  کا مقابلہ کرنے کے لئے عملی میدان میں  کود کر، صحیح جذبے کے ساتھ محبت، پیار اور خدمت کی غرض سے جدوجہد کرنے کے لیے آگے آنا ضرور ی ہے۔ ورنہ اگر ہم یوں  ہی تماشائی بن کر اپنے اپنے گھر میں  بیٹھے رہیں  تو جان لینا چاہیے کہ ہم اپنے پیروں  پر خود ہی کلہاڑی چلا رہے ہیں۔

 آئے روز خود کشی کے واقعات میں  جو اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجوہات معلوم کر کے ان مشکلات و مسائل کا حل نکالنے کے لیے پوری قوم کے غیور،  ذِی حس اور ذی علم لوگوں  کو سامنے آنا ہو گا تاکہ جو چیزیں  خود کشی کرنے پر آمادہ کرتی ہیں  ان کا تدارک کیا جا سکے اور قوم کا نوجوان اپنی زندگی کا چراغ گل کرنے کے بجائے اس کی حفاظت کرنے والا بن جائے۔ بہرحال یہ زندگی جوقدرت کی دی ہوئی ایک نعمت ہے،  اس کی قدر کرنا ہر انسان پر ضروری ہے کیوں  کہ یہ زندگی انسان کو امانت کے طور پر عطا کی گئی ہے اور امانت کی خیانت کرنا مہذب انسان اور سماج کے منافی ہے۔ اس امانت کے ساتھ آج وادی کشمیر میں  خیانت کی جا رہی ہے، آخر کیا وجہ ہے کہ اتنی بڑی نعمت اور امانت کی قدر کرنے کے بجائے ہمارے نوجوان اس کی خیانت اور بے قدری کر کے اس کا خاتمہ ہی کر دیتے ہیں۔  یہ بات طے ہے کہ جو چیز عام انسانیت کی سمجھ سے باہر ہو اس کے لیے ذی حس اور ذی علم لوگوں  کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وادی کشمیر میں  آئے روز کے ان واقعات ِ خودکشی کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں ؟

عام انسان آج پریشان ہے کہ ایک نوجوان چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی آخر کیوں  اپنی جان کا دشمن بنتا جارہا ہے؟ کیا وجوہات ہیں  جو انہیں  اپنے آپ سے تنگ آکر موت کی آغوش میں  چلے جانے کے لیے تیار کرتے ہیں ؟ ان ساری باتوں  پر جب عام انسان غور کرتا ہے تو ان کے ذہن میں  کچھ بھی نہیں  پڑتا، لہٰذا اس کی روک تھام کے لیے ہمارے ذِی علم و غیور لوگوں  کو سامنے آنا ہو گا،  ہماری دینی وسماجی اور تحریکی تنظیموں  کو اس مسئلے پر ایک ایسا جائزہ لینا ہو گا، ایک ایسا آزادانہ سروے کرنا ہو گا، تاکہ عوام کو باخبر کیا جا سکے کہ وادی کشمیر میں  ان واقعات کی وجوہات کیا ہیں  اور ان اقعات کا تدارک کیسے کیا جانا چاہیے، واقعات کا قلع قمع ہو سکے۔ ورنہ ہماری تباہی کے ہم خود ہی ذمہ دار ہوں  گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ریاست جموں  وکشمیر کی دینی ومذہبی تنظیموں  سے وابستہ ذی حس اور غیور لوگ ذمہ دارانہ رول نبھاتے ہیں  یا دور تماشائی بن کر اپنے ہی گھر کو گرتے ہوئے دیکھتے رہ جاتے ہیں …؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close