ملی مسائل

دارالقضاء:عائلی قوانین کی حفاظت کا ذریعہ

راحت علی صدیقی قاسمی

حالات نازک ہیں زمانہ گرگٹ کی طرح رنگ بدل رہا ہے زبانیں زہر اگل رہی ہیں، صورت حال متحیر کن ہے زبان پر کچھ دل میں کچھ، اپنوں اورپرایوں میں امتیاز دشوار ہورہا ہے،مفکر ،دانشور اور فلسفی خیال کئے جانے والے افراد اپنا راگ الاپ رہے ہیں خود نمائی کی زندہ مثالیں موجود ہیںمفاد پرست اور خود غرض کوئی موقع گنوانا نہیں چاہتے،ہر صورت میں وہ یکساںسول کوڈ کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں،اوراسلامی قوانین میں مداخلت کے در پہ ہیں،بی جے پی جس کا منشاء و مقصد نصف النہار کی طرح عیاں ہے وہ اپنے دور حکومت میں یہ سنگ میل حاصل کرنا چاہتی ہے،دستور ہند میں بھی گنجائش موجود ہے حالات کی سازگاری یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے کے لئے پل کی حیثیت رکھتی ہے،اسلام کی بیخ کنی کے لئے عجیب وغیرب فلسفہ اور منطق کا سہارا لیا جارہا ہے،حقوق کی پامالی،مساوات کا قیام،عورتوں کے تئیں ہمدردی محبت و رواداری کا اظہارنیوز اینکرس ہر دن صبح سے شام تک نیوز روم میں بیٹھ کر حقوق دہی کے نعرہ لگاتے ہیں،مغربی تہذیب کی خوبیاں بیان کرتے ہیں،عجیب کیفیت ہے ایک معاشرہ بغیر شادی کے عورت کو ساتھ رکھنے کی اجازت دیتا ہے کسی کو کوئی اعتراض نہیں اس میں عورتوں کی توہین محسوس نہیں ہوتی حقوق کی پامالی نظر نہیں آتی،اوربہت سے افراد طلاق کے بغیر تمام زندگی بیویوں سے جدا رہتے ہیں کوئی ملامت نہیں برائی اور توہین نہیں،کتنے افراد ایسے ہیں جنہوں نے اپنی بیویوں سے چھٹکارہ پانے کے لئے اسلام کا سہارا لیا،مگر وہ ہماری نظر میں ہیرو ہیں انکی عزت ہے وقار ہے،کوئی شکوہ نہیں کرتا ایسے افراد سے کوئی سوال نہیں پوچھتا اس میں کسی کو بھی حقوق کی پامالی نظر آتی پھر طلاق میں کیوں؟ہر ذی شعور فرد آسانی سے جواب دے سکتا ہے،کہ مسئلہ حقوق کا نہیں اسلامی قوانین سے متعلق،شرط یہ ہی کہ وہ تعصب کی عینک اتارے اور حقائق کو دیکھے اسلامی نظام کو پرکھے سمجھنے کی کوشش کرے،اس صورت حال سے یہ تو واضح ہوجاتا ہے کہ ہندوستان میں مسلم پرسنل لاکو ختم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اور بڑے خوبصورت اور دلکش انداز میں باطل کھڑا ہوا ہے،اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ اس فتنہ کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ کونسا نسخہ ہے؟ جو ہم استعمال کریں، جس میں مرض کا علاج بھی پوشیدہ ہے اور راہ میں دشواریاں بھی کم ہیں، قرآن و حدیث بھی اسکی تائید کرتے ہیں، وہ دارالقضاء، اسلامی عدالتیں ہیں، خرچ معمولی ہے فیصلہ میں تاخیر نہیں ہوتی قرآن و سنت کی روشنی میں فیصلہ ہوتا ہے،اور خداوند قدوس بھی ہم کو یہی حکم دیتے ہیں،،یاایھاالذین آمنو اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم فان تنازعتم فی شء فردوہ الی اللہ والرسول ان کنتم توئمنون باللہ والیوم الآخر،،انسانی فطرت ہے تنازعات و اختلافات پیدا ہوتے ہیں مسائل جنم لیتے ہیں انکے حل کے لئے ہمیں خدا اور رسول ہی کی جانب رجوع کرنا ہے ہمارے مسائل کا حل اسی میں پوشیدہ ہے اور اطاعت رسول ہم پر فرض ہے مسلمان کی شان یہی کہ وہ سرکار دوعالم کی ہر ادا کا دیوانہ ہوتا ہے،تاریخ گواہ ہے صحابہ کو جب کوئی مسئلہ پیش آتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایسے دوڑے آتے جیسے شدید پیاس میں انسان کنوئیں کی جانب دوڑتا ہے،اور اپنے مسائل کا حل پالیتے تشنگی سیرابی میں تبدیل ہو جاتی،یہ سلسلہ جاری رہا جہاں اسلامی پرچم لہرایا جس زمین پر بھی مسلمانوں نے قدم رکھا وہاں مسلمان قاضی (جسٹس)پہونچے اور اسلامی عدالت کا قیام رہا مختلف صحابہ کو قاضی بنا کر بھیجا گیا حضرت زید یمن کے قاضی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ فرماتے وقت سوالات بھی کئے ،جو اس حقیقت کو بیاں کرتے ہیںکہ دارالقضاء خالصتا اسلامی طرز پر فیصلے صادر کرتا ہے،جو عدل و انصاف کا ضامن ہے خدائی قانون میں کہاں ظلم ہوسکتا ہے تصور بھی محال ہے،ان اللہ یامر بالعدل اللہ تعالی تو خود حکم دیتے ہیں کہ عدل کیاجائے انصاف کیا جائے تو پھر کونسی چیز ہے جو دارالقضاء کی راہ میں حائل ہے اگر خدا اور رسول کے قانون میں تنگی محسوس کرتے تو قرآن کہتا ہے،تمہارے ایمان مکمل نہیں ہیںدارلقضاء ہمارے لئے کسی نعمت عظمی سے کم نہیں جہاں ہمارے مسائل بھی حل ہوتے ہیں اور ہمارے دینی تقاضوں پر بھی عمل ہوتا ہے ساتھ ہی اس سے ہمارے عائلی قوانین بھی محفوظ ہوجاتے ہیں جیسے نکاح طلاق خلع مہر وراثت ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ غیر مسلم جج کا فیصلہ مسلمان کے خلاف نافذ نہیں ہوتا کتنے لوگ ہیں،جنکا غیر مسلم قاضی نے طلاق کا فیصلہ کیا اور اس نے زبان سے طلاق نہیں دی، شادی دوسرے شخص سے ہوگئی اب سوچئے یہ ہو کیا رہا ہے، ہمیں اپنے تمام مسائل میں دارالقضاء ہی کی جانب رخ کرنا چاہئے،کیوں جائیں ان عدالتوں کی جانب جہاں انصاف انصاف پکارتے لوگ قبروں میں چلے گئے لیکن کچھ ملا نہیں،اور چیف جسٹس آنسوبہانے پر مجبور ہوا،جہاں ہر معاملہ پر بحث کرنے کے لئے وکیل بھی میسرنہیں 3 کروڑ سے زیادہ معاملات کی فائلیں ردی کی ٹوکریوں میں پڑی دھول چاٹ رہی ہیں یہ سست رفتاری ہے ہمارے نظام عدلیہ کی اسکے باوجود ہم وہاں اپنے لئے انصاف طلب کرتے ہیں،جب ہمیں قانون اجازت دیتا ہے تو پھر دارالقضاء کیوں نہ جائیں؟اور یہ بھی واضح ہے دفعہ 44 کے تحت جب تک حالات سازگار نہیں ہوتے تب تک یکساں سول کوڈکا نفاذ ناممکن ہے،اگر ہم اسلامی شریعت کو چھوڑ کر عدالت میں نہ کھڑے ہوں ہمارے معاملات وہاں نہ پہونچیں کونسی طاقت ہے جو ہمارے عائلی قوانین پر ضرب لگا سکتی ہے یا یہ خیال بھی انکے ذہنوں میں پل سکتاہے،کہ یکساں سول کوڈ کے لئے سب کو تیار کیا جا سکتا ہے؟ ہم نے راستہ پیدا کیا جگہ خالی کی ہے،اس جگہ کو پر کرنا ہوگا راستہ بند کرنا ہوگا،ورنہ وہ وقت دور نہیں کہ ہماری کوتاہی اور خاموشی مدمقابل کے حوصلوں کو مہمیز کرتی رہیگی اور ہم مشکلات و مصائب میں گھرے ہونگے،1985میں جب ہم نے سول کوڈ کو تسلیم نہیں کیا تھا ہمارے علماء سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند تھے تو عرصہ دراز تک یہ خیال بھی لوگوں کے ذہنوں میں نہیں آیا تھا، ہماری مذہب بیزاری نے اس خیال کو پھر سے انکے ذہنوں میں پیدا کیا،ایک عرصہ سے میراث میں ہندو اور مسلمانوں کے یکساں فیصلہ ہورہے ہیں اور ہم خاموش ہیں انسان مرتا ہے اسکی بیوی اور بیٹوں کے درمیان زمین برابر تقسیم ہو کر آتی ہے لڑکیوں کے نام پر کچھ نہیں مگر ہم خاموش ہیں ہماری اسی خاموش نے انکے حوصلہ بلند کئے کہ آج ان مشکلات کا سامنا ہے،مگر اب ہماری نیند ٹوٹی ہے تو ہمیں آج ہی نہیں آنے والے وقت کے تعلق سے بھی غور و فکر کرنا ہے اور موزوں فیصلے کرنے ہیںورنہ وہ دن دور نہیں کہ مسائل جنم لیتے رہینگے اور ہم مستقبل کی بجائے حال کے سوالات میں الجھے رہینگے اور دفاع ہی ہمارا شیوہ بن جائیگا دیگر اقوام ہمیں اقدام کا موقع نہیں دینگی،ہماری سوچ و فکر متاثر ہوگی ،ہماری تعلیم ہمارے منصوبہ متاثر ہونگے،اس صورت حال میں جہاں عوام کی ذمہ داری یہ ہیکہ وہ دارالقضاء کا رخ کریں وہیں مسلم پرسنل لاء کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دارالقضاء کا جال پورے ملک میںپھیلے اور جس طرح ہوشمندی اور دانش مندی سے یہ جنگ لڑ رہا ہے اسے پایۂ تکمیل تک پہنچائے خطباء و مقررین کے ذریعہ دارالقضاء کی اہمیت و افادیت عوام کے قلوب میں راسخ کرائیں،چونکہ ملک میں آج بھی بہت سے ایسے افراد موجود ہیں جو اسلامی عدالتوں میں فیصلہ کرانے کہ متمنی ہیں مگر قریب نہ ہونے کیوجہ سے انکی یہ خواہش پوری نہیں ہوتی اس سلسلہ میں سنجیدگی سے قدم بڑھایا جائے،یہ ایسا شعبہ ہے اگر ہم اسے پختہ اور مضبوط کرلیتے ہیں تو کوئی طاقت نہیں جو عائلی قوانین کے نام پر ہمیں ہراساں کرسکے اور مذہبی جذبات سے کھیل سکے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close