ملی مسائل

دار القضاء معاون ہیں، چیلنج نہیں

عالم نقوی

شرعی پنچایتوں اور دار ا لقضاء کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ ملک کے قانونی عدالتی نظام کے لیے چیلنج ہیں، حد درجہ کی دروغ بیانی ہے۔ کیونکہ  کسی بھی سرکاری عدالتی نظام کے ساتھ قوت نافذہ (اکزیکیٹو پاور ) بھی ہوتی ہے جو عدالتی فیصلوں کے نفاذ کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ وطن عزیز کی کسی شرعی پنچایت یا دار ا لقضاء کے پاس ایسی کوئی ’قوت نافذہ ‘ نہیں ۔ اور ایسا اس لیے ہے کہ یہاں  ایک’ سیکولر جمہوری پارلیمانی نظام ‘رائج اور نافذالعمل ہے کوئی اسلامی شرعی نظام نہیں ۔ اس  زمینی سچائی والی صورت حال میں یہ بیان بذات خود گمراہ کن ہے کہ کوئی شرعی پنچایت یا دار ا لقضاء یا دارالافتا ءیا کوئی دار العلوم یا کوئی پرسنل لا بورڈ ملک کے رائج ا لوقت نظام عدل کے لیے چیلنج ہے۔ یہ دار القضاء اور شرعی پنچایتیں وطن عزیز کی قانونی عدالتوں کا بوجھ کم تو کر سکتے ہیں ، بڑھانے یا چیلنج بننے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

 آنجہانی ماہر قانون ایچ ڈی شوری ایک غیر سرکاری تنظیم ’کامن کاز‘ کے بانی تھے۔ سپریم کورٹ میں اس این جی او کی داخل کردہ ایک خصوصی عرضداشت (پی آئی ایل)پر،جس کا تعلق طویل عرصے سے عدالتوں میں پنڈنگ کیسوں کے بارے میں تھا، سماعت  شروع  بھی نہیں ہو سکی ہے۔ انہوں نے رضاکارانہ طور پر بغیر کوئی معاوضہ لیے عدالتوں میں مفاد عامہ کے متعدد مقدمات کی پیروی کی تھی۔ طویل عرصے سے معرض التوا میں پڑے ان کیسوں کے تعلق سے انہوں نے اپنے دوست (آنجہانی ) خوشونت سنگھ کو ایک خط لکھا تھا جس میں زبر دست، چونکا دینے والی شرمناک تفصیلات تھیں ۔ ایچ ڈی شوری نے لکھا تھا کہ آج ہماری عدالتوں میں تین کروڑ سے زیادہ  کیس پنڈنگ(معرض التواء) میں پڑے ہوئے ہیں جن میں سے دو کروڑ ستائس لاکھ کیس اضلاع کی کمشنری کی سطح کی عدالتوں میں پنڈنگ ہیں !

پینتیس لاکھ مقدمات ملک کی ہائی کورٹوں میں اور پچیس ہزار مقدمات خود سپریم کورٹ میں پنڈنگ ہیں جن کی سماعت ہونا ابھی باقی ہے۔ اور انگریزی کیوہ  زبان زد خاص وعام مثل  بھی ان کے لیے بے معنی ہے کہ ’جسٹس ڈیلیڈ از جسٹس ڈینائڈ ‘۔یعنی انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے‘‘!

 قرآن و سنت، اسلای شریعت، مسلم پرسنل لا، شرعی پنچایت اور دار القضا،اور نکاح و طلاق  وغیرہ کے قرآنی طریقوں پر پابندی کی باتیں فی الواقع وطن دشمنی اور  دہشت گردی کے فروغ پر مبنی ظلم  ہیں ۔اور ظالموں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس برے انجام سے دو چار ہو نے والے ہیں ۔ یہ ہم نہیں قرآن کہہ رہا ہے کہ۔ ۔و سیعلموا لذین ظلموا ای منقلب ینقلبون  !

حالات کتنے ہی خراب ہوں ، اللہ سے بڑا کوئی  صاحب قوت و اختیار نہیں ۔ ۔لا حول ولا قوت الا با للہ! صرف اللہ سے ڈریں ۔ ہر اُس کام سے جو اللہ کو پسند نہیں خود بھی  بچیں اور دوسروں کو بھی حسب استطاعت اور حتی ا لمقدور بچانے کی کوشش کریں ۔ ومن یتق اللہ یجعل لہ  مخرجا (الطلاق۔ ۳)اور صرف اللہ پر بھروسہ کریں کیونکہ جو اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ اُس کےلیے کافی ہے ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ(الطلاق۔ ۴) اور بارہا ایسا ہوا ہے کہ ’’اللہ کے اِذن سے کوئی قلیل گروہ کسی کثیر گروہ پر غالب آگیا ہے اور اللہ  صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (البقرہ۔۲۴۹) ‘‘ اس لیے کہ حقیقی صاحب قوت و اختیار تو صرف اور صرف اللہ ہے، عزت و ذلت، ملک و اقتدار، زندگی اور موت  سب اللہ کی طرف سے اور صرف اسی کے اختیار میں ہتے۔ لہٰذا جو اللہ سے ڈرتے ہیں دنیا میں کوئی انہیں خوفزدہ نہین کر سکتا۔ ’’تو اے ایمان والو اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اُس نے کل کے لیے کیا  آگے بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ  اللہ یقیناً تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ اور خبر دار اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جانا  جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انہیں خود اپنا نفس بھلا دیا۔ یہی لوگ فاسق اور بد کار  ہیں ۔ دوزخی اور جنّتی کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ جنت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں ‘‘(الحشر ۱۸۔۲۰)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close