ملی مسائل

جلسے و نعرے بازی ہر مسئلے کا حل نہیں!

ندیم احمد انصاری

دینِ اسلام اور اسلامی شریعت اللہ علیم و حکیم کے بنائے ہوئے ہیں، جس میں کسی عالم و جاہل اور حاکم و رعایا کو دخل اندازی کی اجازت نہیں، اس میں تبدیلی کی کوشش کرنا نہایت ناپسندیدہ عمل ہے ، جس سے ہر خاطی کو توبہ کرنی چاہیے ۔اس وقت ہندستان میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے یہ آزمائش کا دور ہے ، جس میں انھیں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنی ضرورت ہے ۔ ان حالات میں ان کی چھوٹی سی غلطی بڑی مشکل پیدا کر سکتی ہے اور چوں کہ ایمان کا آخرت سے خصوصی تعلق ہے، اس لیے خیال رہے کہ اس غلطی کے اثرات دنیا کے ساتھ آخرت میں بھی ظاہر ہوں گے ۔ اس لیے ان حالات میں ذاتی مفاد کو پسِ پشت رکھ کر صرف وہ کیا جائے جس میں قوم و ملت کا مفاد مضمر ہو۔ یہ باتیں اس لیے عرض کرنی پڑ رہی ہے کہ مسلم پرسنل لا کے حوالے سے جس چیلنج کا اس وقت مسلمانانِ ہند کو سامنا ہے ، اس میں بڑوں کی بتائی ہوئی تدبیر کے سوا بعض لوگوں نے از خود غیر ضروری یا غیر مناسب تدبیریں بھی اختیار کی ہیں، جو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں نہ سود مند۔ گلی محلوں میں اسلامی شریعت کی جامعیت و افادیت پر روشنی ڈالنے کے بہ جائے دیکھا جا رہا ہے کہ چھوٹے سے اسٹیج پر درجنوں مقررین بیٹھے ہوئے ہیں اور ہر ایک باری باری ایک ہی بات کو مختلف پیرایوں میں دہرانے کے لیے مجبور ہے ۔منتظمین سے جس کے روابط جتنے گہرے ہیں، اسے اپنی بات کہنے کا اتنا زیادہ موقع دیا جاتا ہے ، خواہ وہ پیدا شدہ مسائل سے ادنیٰ واقفیت نہ رکھتا ہو۔ کاش اس کی موقع پر اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کی کوشش کی جاتی اور مسلمانوں کو اسلام کے جامع ترین احکام آسان زبان میں سمجھائے جاتے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے حالات کم سے کم پیدا ہوں، للاکثر حکم الکل۔
مانا کہ حکومت کی بدنیتی اور بعض شرپسندوں کی کارستانی سے اس وقت اسلامی قوانین پر بے جا الزامات و اعتراضات کی بوچھار ہے، یہ بھی مان لیا کہ اس کے ذریعے وہ اسلامی شریعت میں مداخلتِ بے جا کے لیے کوشاں ہیں، لیکن یہ بات آپ کو بھی ماننی ہوگی کہ اسلامی شریعت کی افہام و تفہیم میں خود مسلمانوں نے بہت کوتاہیاں کی ہیں، یہ حالات اسی کا ثمرہ ہیں۔اس لیے اب موقع کو غنیمت سمجھیے اور پرایوں کے ساتھ جو اپنے اسلام کو محض چند عبادتوں وغیرہ میں منحصر سمجھتے ہیں انھیں بتائیے کہ اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے ، جو عقائد و عبادات، معاشرت و معاملات اور کردار و اخلاقیات سب کا مجموعہ ہے ۔جلسوں و نعروں کے ذریعے اپنے غم و غصے کا اظہار کرنا گو بعض حالات میں مناسب یا ضروری ہے لیکن ہر مسئلے کا حل نہیں اور کنایتاً و اشارتاًعرض ہے کہ اس میں جہاں عوام کا مال لگتا ہے ، وہیں ان کے جذبات کا ایک حصہ بھی صَرف ہو جاتا ہے اور ان دونوں کو موقع و ضرورت کے لیے سہیج کر رکھنا اس وقت نہایت ضروری ہے ۔اس لیے جو لوگ محض اخبارات وغیرہ میں اپنی تصویریں و نام چھپوانے اور سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے ان کا بے جا استعمال کر رہے ہیں، انھیں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔رہا شریعت میں حکومت کی مداخلتِ بے جا کا معاملہ تو اس کی مخالفت سے ہم منع نہیں کرتے لیکن اس کا طریقہ و نہج وہی ہونا چاہیے جو اکابرین و مفکرین کا دیا ہوا ہو۔ جیسا کہ حال ہی میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا سید رابع حسنی ندوی کی جانب سے دو ٹوک الفاظ میں بیان جاری کیا گیا کہ آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ کی طرف سے دستخطی مہم پور ے ملک میں جاری ہے اور ہمارے مسلمان بھائی بہن اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں ،اس کام میں مزید تیزی لانے اور منظم انداز میں کرنے کے سلسلے میںتمام مسلمان مَردوں اورعورتوں سے اپیل ہے کہ اس دستخطی مہم میں پوری تن دہی سے حصہ لیں اورمسلم پرسنل لا بورڈکے پیغام کوگھرگھرپہنچائیں اوراپنی صفوں میں اتحادقائم کریں اوراس بات کاعہدکریں کہ ہم اسلامی شریعت میں کسی تبدیلی کوقطعی برداشت نہیں کریں گے ،اس سلسلے میں کوئی مظاہرہ،دھرنا، بند، سیاہ پٹی اور اجلاسِ عام ابھی نہ کیا جائے ۔
ہم بھی یہ گذارشات بہت پہلے ہی عرض کرنا چاہتے تھے لیکن ہمت نہ ہوئی کہ چھوٹا منہ بڑی بات ہوتی لیکن مدبرِ اسلام کی اس وضاحت کے بعد امید کہ اصل بات سمجھنے میں آسانی ہوگی۔دراصل یہ موقع مقابلے کا نہیں، لڑائی کا نہیں، اپنی بات رکھنے کا ہے ، لیکن ہمارا مزاج مروجہ سیاست سے اتنا متاثر ہو چکا ہے کہ ہمیں ہر مسئلے کا حل جلسوں و نعروں میں نظر آتا ہے ۔واضح رہے کہ بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے بھی دستخطی مہم کی ابتدا ہی میں واضح کر دیا تھا کہ موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اپنے تمام ارکان، مختلف مسالک ، تنظیموں ، جماعتوں، اداروں اور مدرسوں سے تعلق رکھنے والے ارکان علماے کرام، اہلِ فکرودانش، ائمۂ مساجد اسکول اور کالجوں کے اساتذہ اور معلمات کوآواز دیتاہے کہ وہ تمام لوگوں کو صورتِ حال سے واقف کرائیں، آنے والے خطرات سے آگاہ کریں، اپنے اپنے علاقے سے زیادہ سے زیادہ مسلم خواتین کے دستخط آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے پتے پر رجسٹری ڈاک سے بھیجنے کی مہم چلائیں، انھوں نے ہرگز یہ نہیں کہا کہ اس کام کے لیے جلسے جلوس کیے جائیں۔ 16 اکتوبر 2016 کو بھی نئی دہلی میں انھوں نے صاف کہا تھا کہ آیندہ 18سے 20نومبر کے درمیان کولکاتہ میں بورڈ کی ایک میٹنگ ہوگی جس میں تین طلاق کو لے کرپیدا ہوئی صورتِ حال اورلا کمیشن کے معاملے پر وسیع بحث کی جائے گی،تفصیلی ایجنڈا بعد میں جاری ہوگا۔اس لیے التماس ہے کہ بے جا جذباتیت سے اوپر اٹھیں، اہلِ فکر و دانش سے استفادہ کریں، اکابرین کی باتوں پر عمل پیرا ہوں اور دور اندیشی سے کام لینے کو اپنا وطیرہ بنائیں، امید کہ تمام مسائل کافور ہو جائیں گے ۔ ان شاء اللہ

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ندیم احمد انصاری

ڈائریکٹر الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا اسلامی اسکالر و صحافی

متعلقہ

Back to top button
Close