ملی مسائل

دینی مدارس اور روز گار کا مسئلہ (2)   

محمد عرفان ندیم

اس ساری صورتحال کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے، اگر ارباب مدارس اور وفاق کے منتظمین کو اس کا اندازہ ہو جائے تو وہ سر پکڑ لیں۔ اس وقت صرف وفاق المدارس سے تقریبا دس سے پندرہ ہزار طلباء ہر سال فارغ ہو رہے ہیں، اتنی ہی تعداد طالبات کی ہے، سر دست ہم طلبہ کی بات کرتے ہیں۔ ان دس ہزار طلبہ میں جودرس نظامی میں ماہر، حدیث و فقہ پر عبور رکھنے والے، نصوص اور متون کو سمجھنے والے اور درس نظامی میں پڑھائے جانے والے دیگر علوم و فنون پر مہارت رکھتے ہیں ا ن کی تعداد بمشکل ایک ہزار ہوتی ہے۔ ان میں سے بھی اگر کام کے، ٹیلنٹڈ، زمانہ شناس، عصری تعلیم سے بہرہ ور، مستقبل بین، مشنری، منظم، وقت کے پابندی، کچھ کر گزرنے والے، مطالعہ کے شوقین اورملکی و عالمی حالات سے با خبر طلباء کی فہرست بنائی جائے تو یہ فہرست سمٹ کر صرف ایک سو طلباء پر آ جائے گی، گویا ہزاروں مدارس کی جملہ مساعی کا نتیجہ یہ ایک سو طالب علم ہیں۔ اگر بات یہیں پر ختم ہو جاتی تو اتنا دکھ نہ ہوتا مگر ان سو طلباء میں سے بھی صرف دس بیس ایسے ہوتے ہیں جو اپنے کام سے جڑے رہتے ہیں، باقی ستر اسی طلباء اپنے شعبے، مشن اور خدمت دین کے جذبے کو چھوڑ کر اپنا وقت اور صلاحیتیں دیگر مقامات پر ضائع کرنے لگتے ہیں اور یوں مدارس کی دس سالہ محنت پل بھر میں ضائع ہو جاتی ہے۔ یہ سارا ٹیلنٹ اور ذہین ترین دماغ کیوں ضائع ہوتے ہیں اس کی واحد وجہ صرف اور صرف روزگا ر کے مسائل ہیں اور بس۔

ان سو میں سے ستر اسی طلبا ء کس طرح دیگر جگہوں اور مقامات پر پہنچ کر اپنا وقت اور صلاحیتیں ضائع کرتے ہیں اس کی وجہ بھی بڑی دلچسپ ہے۔ اس وقت پاکستان میں اسلامی علوم، فقہی مسائل اور جدید ریاستی قوانین کے حوالے سے کئی تعلیمی اور تحقیقی پروجیکٹ چل رہے ہیں، یہ پروجیکٹ کہاں سے آتے ہیں اس کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں، مثلاکبھی نام نہاد اسکالر جدید مسائل پر ریسرچ و تحقیق کے نام سے ایسے پروجیکٹ شروع کردیتے ہیں، کہیں کوئی این جی او اس طرح کے پروگرام شروع کر دیتی ہے، کہیں مکالمہ بین المذاہب کے نام پر ایسے پروگراموں کا آغاز کر دیا جاتا ہے، کہیں انٹر نیشنل ادارے اور این جی اوز کی فنڈنگ سے ایسے پروجیکٹ شروع کر دیئے جاتے ہیں اور کہیں کسی مقامی یونیورسٹی میں اس طرح کے کورسز کا آغاز کر دیا جاتا ہے۔ یہ سب تعلیمی و تحقیقی پروجیکٹس کے نام پر کیا جاتا ہے، اس کے لیے باقاعدہ اشتہار دیا جاتا ہے، طلباء کے انٹرویوز کئے جاتے ہیں اور جوذہین ترین اور ٹیلنٹڈ اسٹوڈنٹس ہوتے ہیں انہیں اپنے اداروں میں ہائیر کر لیا جاتا ہے اور یوں مدارس کی کریم اور مغز ان جگہوں تک پہنچ جاتی ہے۔انہیں مختلف سہولتیں، اچھا روز گار، اچھا پے پیکچ اور روشن مستقبل کی نوید سنا کر مستقل طور پر اپنے ساتھ اٹیچ کر لیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی مدارس کی دس سالہ محنت اور ان کی ساری کہانی ختم ہو جاتی ہے۔ انڈیا میں آ رایس ایس ایسا کر رہی ہے جبکہ پاکستان میں اس کا طریقہ کا ر مختلف ہے، ادارہ یا طریقہ کوئی بھی ہو نتائج ایک جیسے اور ناقابل بیان حد تک پریشان کن اور افسوسناک ہیں۔

یہ تو طلباء کی بات تھی، طالبات کے مسائل ا ن سے ذرا الگ ہیں، سردست انہیں روزگار کے مسائل تو نہیں مگر مجموعی طور پر طالبات کے مدارس کی کارکردگی  کوئی تسلی بخش نہیں۔ ہر سال تقریبا دس سے سے بارہ ہزار طالبات وفا ق المدارس سے فارغ ہو رہی ہیں لیکن گزشتہ بیس تیس سال سے ملکی سطح پر کوئی ایسی عالمہ اور مبلغہ سامنے نہیں آئی جس نے خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد کو متاثر کیا ہو،ملکی سطح پر صحافت یا میڈیا میں کوئی نام پیدا کیا ہو یا دانشوری کے کسی مقام تک رسائی حاصل کی ہو۔ درس قرآن و حدیث کا کا کوئی نیٹ ورک قائم کیا ہو، خدمت دین کے حوالے سے کوئی قابل قدر خدمات سرانجام دی ہوں یا طالبات کے لیے کوئی دینی و دنیاوی تعلیم کا کوئی مثالی ادارہ قائم کیا ہو۔ جبکہ اس کے بر عکس آپ کو بہت ساری ایسی مثالیں نظر آئیں گی جن میں آپ کو نگہت ہاشمی، طیبہ خانم اور ان جیسی کئی خواتین نظر آئیں گی جو سوسائٹی میں متحرک بھی ہیں اور اپنا وسیع حلقہ بھی رکھتی ہیں۔ دوسری طرف سماج کی صورتحال یہ ہے کہ اس وقت جس قد ر دعوت و تبلیغ کی ضرورت خواتین میں ہے شاید مردوں میں اس کی اتنی ضرورت نہ ہو۔ انٹر نیٹ، موبائل، سوشل میڈیا، انڈین فلمیں، پاکستانی ڈرامہ، فحش لٹریچر، عشق و عاشقی پر مبنی فلمیں، انڈین پنجاب کی بنی پنجا بی فلمیں، یونیورسٹیوں کا آذادانہ ماحول اورشای بیاہ کے موقعہ پر ناچ گانایہ سب وہ خرافات ہیں جنہوں نے پاکستانی سماج کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس ماحول اور بے لگام آذادی سے سب سے زیادہ نوجوان نسل متاثر ہوئی ہے اور اس میں بھی خواتین اور لڑکیوں کی تعداد مردوں کی نسبت کہیں ذیادہ ہے۔ اگر آپ فیملی کورٹس کا ڈیٹا دیکھیں تو آپ کو نظر آئے گا لو میرج اور اس کے نتیجے میں طلاق کی شرح زمین سے آسمان پر چلی گئی ہے۔ اور اگر آپ اپنے ضلعے کے دار الامان کا جائزہ لے لیں تو آپ سر پکڑ لیں گے کہ اتنی ذیادہ تعداد میں لڑکیاں گھروں سے بھا گ کر یا لو میرج کے چکر میں ناکامی کے بعد دار الامان کا رخ کرتی ہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ اس وقت سوسائٹی میں جس قدر وعظ و تبلیغ کی ضرورت خواتین میں ہے مردوں میں شاید اتنی نہ ہو لیکن مجال ہے کہ کسی نے اس بارے میں سوچا ہو، ہزاروں طالبات میں سے دس بیس ہی ایسی تیار کر کے نکال دی جاتی جو سماج میں اپنا تاثر قائم کرتی، درس قرآن وحدیث کا سلسلہ شروع کر تی اور دعوت و تبلیغ کا کوئی مؤثر نیٹ ورک قائم کرتی۔ اگر اس مسئلے پر تھوڑی سی بھی توجہ دی جاتی تو موجودہ سماج کی کم از کم یہ حالت نہ ہوتی جو آج ہے۔ میں خود ایک گناہگار انسان ہوں، میں سر تا پیر گناہوں میں لتھڑا ہوا ہوں اور میرا وجود دھرتی پر بوجھ ہے۔ میں خود کچھ نہیں کر سکتالیکن میں کم از کم امت اور قوم کی اس پستی کومحسوس ضرور کر سکتا ہوں، میں اپنا درداور کرب بڑوں اور متعلقہ فریق تک ضرور پہنچا سکتا ہوں کہ شاید کسی کا عمل میرے لیے نجات کا ذریعہ بن جائے۔

ایک طرف حالات اس قدر گھمبیراورپریشان کن ہیں اور دوسری طرف مدارس کے ذہین ترین دماغ غم روزگار کی وجہ سے غلط جگہوں پر اپنی صلاحیتیں اور وقت ضائع کر رہے ہیں۔ آخر اس صورتحال کاذمہ دار کون ہے اور اس کی اصلاح کی کوشش کا بیڑا کون اٹھائے گا۔ جب آپ اپنے ذہین ترین دماغوں کو یوں خلاء میں کھلا چھوڑ دیں گے، انہیں اپنے ساتھ اٹیچ نہیں کریں گے اور ان کے روز گار کے مسائل حل نہیں کریں گے تو وہ بیچارے کدھر جائیں گے۔ پچھلے دنوں میں نے نوجوان نسل کے تنقیدی رویوں پر کالم لکھا تھا کہ کس طرح مدارس کے نوجوان بڑوں پر تنقید کا شوق پورا کر رہے ہیں۔ اس کالم کے جواب میں جو رد عمل سامنے آیا اس میں کہا گیا کہ بعض مدارس کے مہتممین کا رویہ بھی ٹھیک نہیں ہوتا۔ وہ مدارس کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں اور صاحبزادگان کے علاوہ کسی باصلاحیت فرد کو جگہ دینے کے لیے تیار نہیں۔ کئی باصلاحیت طلباء صرف مہتممین کے رویہ سے دلبرداشتہ ہو کر مدارس کو خیر باد کہہ دیتے ہیں۔ میرے خیال میں ہمیں اب یہ فیصلہ کرلینا چاہیئے کہ ہم کوئی تعلیمی ادارہ چلا رہے ہیں یا ہم نے کوئی فیکٹری یا مل کھول رکھی ہے۔ ہمیں یہ بھی ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ ہم اس وقت اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں اور اکیسویں صدی آذادی اظہار اور سوشل میڈیا کی صدی ہے، ہم، ہمارے مدارس، مدارس کے مسؤلین اور وفاق کے منتظمین، یہ ہر وقت ہر کسی کی نگاہ میں رہتے ہیں۔ ان کی ہر ہر پالیسی اور فیصلے پر نظر رکھی جاتی ہے اور اس پر تنقید و تبصرہ کیا جاتا ہے اس لیے انہیں روایتی طرزعمل کو چھوڑ کر خود کو بدلنا ہو گا اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہو گا۔

معاشرے میں ایک لاکھ افراد میں صرف ایک بندہ کام کا ہوتا ہے باقی سب لکیر کے فقیر اور بھیڑ بکریاں ہوتی ہیں، اسی اصول کو مدارس پر اپلائی کیا جائے تو مدارس کے کام کے افراد ان کے ہاتھوں سے نکل رہے ہیں، وجہ کچھ بھی ہو لیکن نتیجہ یہی ہے۔ کاش کوئی ایسا منظم سسٹم یا ادارہ ہوتا جو ہر سال وفاق کے سالانہ امتحان سے قبل اہم مدارس کے باصلاحیت و ذہین طلباء کا ڈیٹا اکھٹا کرتا اور فراغت کے بعد انہیں اپنے ساتھ اٹیچ کر لیتا۔ انہیں دعوت و تبلیغ، تحقیق و تصنیف اور فقہ و افتاء کے کسی میدان میں کھپاتااور اس کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتا۔ پہلے یہی ہوتا تھا، اکابرین ہر فارغ ہونے والے طالب علم کے بارے میں آگاہ ہوتے تھے اور اس کی صلاحیتوں کے مطابق اسے کام اور ذمہ داری سونپ دیتے تھے۔ آج مدارس سے ہزاروں طلباء فارغ ہو رہے ہیں نہ استاد کو معلوم نہ خود طالب علم کو پتا کہ اسے کیا کرنا ہے اور اس میں کون سے صلاحیتیں موجود ہیں۔

مولانا حبیب الرحمان اعظمیؒ دار العلوم دیوبند کے اکابر اساتذہ میں سے تھے، 1900میں پیدا ہوئے اور 1990میں وفات پائی۔ نامور اساتذہ ان کے شا گرد تھے، انہوں نے اس موضوع پر تفصیلی کلام کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ـ:’’ یہ تمام اسباب و عوامل یقینا کسی نہ کسی درجہ میں موجود ہیں جن سے انکار کی گنجائش نہیں لیکن اسی کے ساتھ واقعہ یہ ہے کہ یہ مرض کی صحیح و مکمل تشخیص نہیں۔ اصل یہ ہے کہ کردار اور شخصیت سازی کی وہ محنت و سعی باقی نہیں رہی جو حضرات اکابر کا طرہ امتیاز رہی ہے۔ موجودہ انحطاط کی سب سے بڑی وجہ ہی یہ ہے کہ افراد سازی کی مہم سے غفلت برتی جا رہی ہے۔ عرصہ دراز سے فضلاء مدارس کو ان کی صلاحیت و حیثیت کے مطابق مشغلے نہیں دیے جا رہے بلکہ ہر نو عمر فاضل کو خلا ء بسیط میں اس طرح آذاد چھوڑ دیا جاتا ہے جس کو کنٹرول کرنے والی کوئی طاقت موجود نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خلا میں گردش کرتا ہوا کسی ایسی سمت نکل جاتا ہے جہاں اس کی تمام علمی و فکری توانائیاں ضائع ہو جاتی ہیں۔ ایک زمانہ ہوتا تھا کہ حضرات اکابر ہر سال کے فضلاء پر گہری نظر رکھتے تھے اور ان کو حسب صلاحیت تدریسی، تصنیفی، ملی اورسماجی خدمات پر مامور فرمادیتے تھے، اس طرح صالح اور کار آمد عناصر کی تربیت کا کام انجام پاتا رہتا تھا۔ حضرت شیخ الہند ؒ اور مولانا حبیب الرحمان عثمانی ؒ کے طریق تربیت کو اس کی نظرمیں پیش کیا جا سکتا ہے کہ ان دونوں بزرگوں نے کس طرح افراد کی تربیت کی اور فضلاء کی صلاحیتو ں کو صحیح رخ دینے کے لیے کس طرح ان پر نظر رکھی۔ ‘‘

ایک اور جگہ پر لکھتے ہیں ’’اب صورتحال یہ ہے کہ مدارس دینیہ کی سرزمین پر جو نہال تازہ لگتا ہے یا تو جامعہ طبیہ وغیرہ میں اس کا قلم لگا دیا جاتا ہے یا معاشی استحکام کی طمع اس کو ہندوستان کے عصری اداروں اور عرب جامعات وغیرہ میں کھینچ لے جاتی ہے اور ہمارے یہاں پیدا ہونے والا ایک ایک جوہر قابل اپنی صلاحیتو ں کو دوسرے میدانوں میں منتقل کر دیتا ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ بہتر ہو گا کہ مدارس کے ذمہ دار اکابر، ماضی کے صرف بیس سال کا تفصیلی چارٹ تیار کروائیں اور یہ دیکھیں کہ مدارس سے نکلنے والے جم غفیر میں جوہر قابل کتنے تھے، پھر یہ کہ ان میں کتنے فضلاء جامعہ طبیہ کی نذر ہوگئے، کتنوں نے اپنا سفینہ جدید تعلیم کے طوفان میں ڈال دیا اور کتنے عرب جامعات وغیرہ کی طرف پرواز کر گئے اور کتنے ایسے ہیں جوہندوستان کے مسلمانوں کے علمی، دینی، ملی خدمات کا کام سر انجام دے رہے ہیں ؟پھر یہ کہ جو خدمت بخت و اتفاق سے ان کے سپر د ہو گئی ہے کیا وہ ان کی صلاحیتو کا صحیح استعمال ہے، نیز ہندوستان کے مسلمانوں کی خدمت میں مصروف فضلاء واقعتا یہ کام خدمت سمجھ کر انجام دے رہے ہیں یا ایسی مجبوریاں آ گئی کہ وہ زندگی کا رخ اور نہج تبدیل نہ کر سکے۔ ‘‘

مولانا مزید لکھتے ہیں :’’ہمیں یقین ہے کہ اس طویل مدت میں معدودے چند فضلاء ہی امت کے ہاتھ آئے ہوں گے اور وہ بھی ایسی جگہوں پر اپنی صلاحیتو ں کا استعمال کر رہے ہوں گے جو ان کے لیے موزوں نہیں۔ بس یہی ایک سب سے بڑی وجہ ہے کہ امت ان مدارس کے صحیح فائدے سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔ اس اندوہ ناک صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مردم سازی کی مہم بڑے اہتمام سے شروع کر دی جائے۔ مدارس دینیہ سے فارغ ہونے والے باصلاحیت نوجوانوں کا انتخاب، پھر ان کی صلاحیت کے مطابق کاموں کی تفویض اور نگرانی ہی دراصل اس صورتحال کو ختم کر سکتی ہے۔ ورنہ اگر نصاب تعلیم، اساتذہ اور طلباء کی خامیوں اور مدارس کا ماحول ہی پیش نظر رہا اور اصلاح کا سارا زور بس اسی جانب رہا تو اس سے صورتحال میں کسی خاطر خواہ بہتری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ کتنا اچھا ہو کہ مدارس کے ذمہ دار بالخصوص بڑے مدارس کے ارباب حل وعقد اس طرف توجہ دیں اور امت کے اجڑے ہوئے گلستان میں پھر وہی بہاریں خیمہ زن ہو جائیں جن کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ ‘‘ (جاری ہے )

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close